Legal Precedents & Providing LEGAL AID - DBA

Directions

Legal Precedents & Providing LEGAL AID - DBA Legal Services

11/10/2026
11/10/2026

️ مجسٹریٹ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی سیلنگ ختم نہیں کر سکتا!لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ:جج: جناب جسٹس غلام سرور نہنگمقدمہ: رِ...
10/10/2026

️ مجسٹریٹ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی سیلنگ ختم نہیں کر سکتا!

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ:

جج: جناب جسٹس غلام سرور نہنگ
مقدمہ: رِٹ پٹیشن نمبر 2779 آف 2025
متعلقہ قانون: پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011
فیصلے کا موضوع: ایمرجنسی پروہیبیشن آرڈر (EPO) اور فیکٹری ڈی سیل کرنے کے اختیارات

مقدمے کے حقائق

مورخہ 16 اکتوبر 2024 کو پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے بورے والا آئل مل کا معائنہ کیا، جہاں تقریباً 30,000 لیٹر رینڈرڈ فیٹ آئل موجود تھا۔ اتھارٹی کے مطابق موقع پر مطلوبہ آئل ٹیسٹنگ ریکارڈ اور تجزیاتی سرٹیفکیٹ دستیاب نہیں تھے، جس پر پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کی دفعہ 18 کے تحت ایمرجنسی پروہیبیشن آرڈر جاری کیا گیا اور متعلقہ فیکٹری کو سیل کر دیا گیا۔

بعد ازاں متعلقہ آئل مل کے مالک نے مجسٹریٹ سیکشن 30، بورے والا کے سامنے درخواست دائر کی، جس پر مجسٹریٹ نے 29 جنوری 2025 کو فیکٹری ڈی سیل کرنے اور کاروبار دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اس حکم کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

عدالت نے کیا قرار دیا؟

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:

1۔ مجسٹریٹ کے اختیارات محدود ہیں۔ محض پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت جرائم کی سماعت کا اختیار رکھنے سے مجسٹریٹ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہو جاتا کہ وہ دفعہ 18 کے تحت جاری کردہ ایمرجنسی پروہیبیشن آرڈر ختم کر دے۔

2۔ دفعہ 18(2) کے تحت متعلقہ اختیار فوڈ اتھارٹی کو حاصل ہے۔ قانون کے مطابق فوڈ اتھارٹی مقررہ طریقۂ کار کے تحت ایمرجنسی پروہیبیشن آرڈر کی توثیق، ترمیم یا تنسیخ کر سکتی ہے۔

3۔ ڈی سیل کرنے کا مجاز افسر بھی قانون میں متعین ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے سیلنگ اینڈ ڈی سیلنگ ریگولیشنز 2016 کے ریگولیشن 2(2) کے مطابق ڈی جی فوڈ اتھارٹی کو ڈی سیلنگ کے لیے مجاز اتھارٹی قرار دیا گیا ہے۔

4۔ مالی نقصان یا کاروباری مشکلات سے اختیار پیدا نہیں ہوتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی شخص کو مالی مشکلات کا سامنا ہو تب بھی عدالت ایسا اختیار استعمال نہیں کر سکتی جو قانون نے اسے دیا ہی نہ ہو۔

قانونی اصول

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 175(2) کے مطابق کوئی عدالت اس وقت تک کسی معاملے کی سماعت یا فیصلہ نہیں کر سکتی جب تک اسے آئین یا قانون کے تحت اختیار حاصل نہ ہو۔

حتمی فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے مجسٹریٹ کا 29 جنوری 2025 کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی آئینی درخواست منظور کر لی۔

تاہم، متعلقہ آئل مل کے مالک کو یہ حق دیا گیا کہ وہ پنجاب فوڈ اتھارٹی سے دفعہ 18(2) کے تحت رجوع کرے، جہاں اس کی درخواست پر قانون کے مطابق آزادانہ طور پر غور کیا جائے گا۔

اہم وضاحت: عدالت نے یہ فیصلہ نہیں دیا کہ متعلقہ تیل محفوظ تھا یا غیر محفوظ، یا فیکٹری کو سیل کرنے کا اصل اقدام میرٹ پر درست تھا یا غلط۔ فیصلہ بنیادی طور پر مجسٹریٹ کے قانونی اختیار سے متعلق تھا

10/10/2026

Bail before arrest in cross-version and non-bailable offences is a highly technical and dynamic area of criminal law in Pakistan. Under Section 498 of the Code of Criminal Procedure (CrPC), the Supreme Court of Pakistan has consistently evolved its jurisprudence to balance the state’s duty to investigate heinous crimes against an citizen's right to protection from malicious prosecution.

⚖️ Legal Insights: Pre-Arrest Bail in Cross-Version & Non-Bailable Offences
When an incident gives rise to two conflicting narratives—known as a Cross-Version or Counter-FIR case—the question of liberty becomes complex. How do courts determine who gets the extraordinary relief of pre-arrest bail when the charged offences are non-bailable?
Here is a breakdown of the latest Supreme Court principles that every practitioner and litigant must know.

1️⃣ The Cross-Version Dynamic & "Further Inquiry"
A cross-version arises when both sides file FIRs or statements accusing each other of aggression.
Determining the Aggressor: In the recent case of Muhammad Saeed v. The State (2025 SCMR 629), the Supreme Court held that when a tentative assessment of incriminating material is juxtaposed with the accused's stance in a cross-version, it prima facie points toward a case of "Further Inquiry" under Section 497(2) CrPC.
The Benefit of Doubt: Where it is initially unclear who the actual aggressor was or who acted in self-defence, the matter requires deeper trial evaluation. Under established principles like Naeem Sajid v. The State (2025 SCMR 129), courts lean toward granting bail because the determination of guilt is yet to be established through cogent trial evidence.
The Rule of Parity: If the cross-version leads to the release or acquittal of individuals on one side, the rule of consistency demands that similarly placed accused on the other side are extended the same relief, provided there are no distinct fatal variations in their roles.

2️⃣ Strict Parameters for Non-Bailable Offences
Pre-arrest bail is not a routine alternative to post-arrest bail; it is an extraordinary equity relief. In 2026 SCMR 1196, the Supreme Court reiterated the mandatory benchmarks a petitioner must meet:
The Mala Fide Threshold: The applicant must demonstrate that the intended arrest is motivated by ulterior motives or mala fide (bad faith) on the part of the complainant or the local police to cause irreparable humiliation and disgrace.
The Inevitability of Post-Arrest Bail: In a landmark ruling, Muhammad Akhtar v. The State (2025 SCMR 1631), the Supreme Court established a highly progressive principle: If an accused is otherwise inevitably entitled to post-arrest bail (e.g., the offence falls outside the Prohibitory Clause), withholding pre-arrest bail merely to force a temporary incarceration is a purposeless and unjust procedural formality.
No Useful Purpose for Custody: If the accused has already joined the police investigation and there is no need for physical recovery, denying bail simply to put them behind bars contradicts the fundamental Islamic and constitutional principles of justice.

📌 The Takeaway for Legal Practitioners
Merely registering a counter-FIR does not guarantee a shield against arrest. To successfully confirm an interim pre-arrest bail in non-bailable, cross-version cases, your defense must show:
Contradictions between medical reports and ocular accounts.
Clear indicators of malicious intent (mala fide) behind the arrest.
That keeping the accused in jail before the trial concludes serves no investigative or punitive purpose.

منشیات کے مقدمات میں بعد از گرفتاری ضمانت: غیر دستخط شدہ ریکوری میمو اور مزید انکوائری کا اصول⚖️ اہم قانونی نکتہ: منشیات...
09/10/2026

منشیات کے مقدمات میں بعد از گرفتاری ضمانت: غیر دستخط شدہ ریکوری میمو اور مزید انکوائری کا اصول

⚖️ اہم قانونی نکتہ: منشیات کے مقدمات میں ریکوری میمو پر دستخط نہ ہونا محض ایک تکنیکی نقص نہیں، بلکہ حالات کے مطابق ایسا بنیادی سقم ہو سکتا ہے جو مبینہ برآمدگی کی قانونی حیثیت اور استغاثہ کے مؤقف کی ساکھ کو متاثر کرے اور معاملے کو مزید انکوائری کے زمرے میں لے آئے۔

لاہور ہائیکورٹ نے مقدمہ محمد افضل عرف افضالی بنام سرکار وغیرہ، Crl. Misc. No. 47324/26، فیصلہ مورخہ 01-10-2026، 2026 LHC 6779 میں بعد از گرفتاری ضمانت کے اصولوں کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ اگر استغاثہ خود پولیس اہلکاروں کو ریکوری میمو کے گواہ نامزد کرتا ہے، لیکن اس دستاویز پر دستخط موجود نہیں ہوتے جسے مبینہ برآمدگی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہو، تو اس نقص کو محض رسمی یا معمولی غلطی قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے ظفر خان (2022 SCMR 864) اور قانونِ شہادت آرڈر، 1984، بالخصوص آرٹیکلز 18 اور 78، کے تناظر میں اس اصول کو واضح کیا کہ ہر مقدمے میں نجی گواہوں کی عدم موجودگی بذاتِ خود استغاثہ کے مقدمے کو ناقابلِ اعتبار نہیں بناتی۔ تاہم، اگر برآمدگی کسی عوامی مقام سے ظاہر کی گئی ہو تو استغاثہ کے لیے یہ امر اہم ہے کہ وہ آزاد اور غیر جانب دار گواہوں کو شامل کرنے کی حقیقی کوششوں کی وضاحت کرے۔ اسی طرح، مبینہ برآمدگی سے متعلق بنیادی دستاویز پر دستخطوں کا فقدان، دیگر متعلقہ حالات کے ساتھ مل کر، استغاثہ کے مقدمے میں ایسا قابلِ غور نقص پیدا کر سکتا ہے جس کے باعث مزید انکوائری کا سوال پیدا ہو۔

فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کی پابندی کو محض عدالتی کارروائی تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ تفتیش کے مرحلے پر بھی شواہد کی صحت، قابلِ تصدیق ہونے اور بروقت دستاویز بندی کے تقاضے اہمیت رکھتے ہیں۔ جرم کی سنگینی، خواہ وہ انسدادِ منشیات کے قانون کے تحت ہو، تفتیشی اداروں کو بنیادی قانونی ضمانتوں سے انحراف کی اجازت نہیں دیتی۔

مزید برآں، عدالت کی جانب سے انسپکٹر جنرل پولیس، پنجاب، کو ریکوری میمو کی تیاری اور متعلقہ تفتیشی کارروائی میں بار بار سامنے آنے والی خامیوں کے ازالے کے لیے ہدایات دینا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ صرف ایک ملزم کی ضمانت تک محدود نہیں، بلکہ تفتیشی نظام میں طریقۂ کار کی اصلاح اور قانون کے مطابق دستاویز بندی کو یقینی بنانے سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

قانونی اصول: دفعہ 497(2) ضابطۂ فوجداری کے تحت اگر دستیاب مواد سے ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کے بارے میں مزید تحقیق کی معقول گنجائش پیدا ہو تو بعد از گرفتاری ضمانت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ ریکوری میمو پر دستخطوں کی عدم موجودگی ہر صورت میں خودکار ضمانت کا باعث نہیں بنتی؛ اس نقص کا اثر مقدمے کے مجموعی شواہد، حالات اور دیگر قانونی تقاضوں کے ساتھ جانچا جائے گا۔

حوالہ:
Muhammad Afzaal alias Afzaali v. The State etc., Crl. Misc. No. 47324/26,
2026 LHC 6779
لاہور ہائیکورٹ، جسٹس عامر اعجاز ملک،
فیصلہ مورخہ 01 اکتوبر 2026،

09/10/2026

⚖️ معاہدہ بیع میں بقیہ رقم وقت پر ادا نہ کرنا - دعویٰ تعمیل مختص کیسے خارج ہوا؟ سپریم کورٹ کا تاریخی اصول
2026 SCMR | Muhammad Imran v. Ishfaq Ahmed
فیصلہ: جسٹس شاہد بلال حسن
C.Ps. No. 3649, 3650, 3639 of 2025

پراپرٹی کے معاہدوں میں صرف زبانی دعویٰ کہ "میں تیار ہوں" کافی نہیں! سپریم کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے دونوں فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

مقدمے کا پس منظر:
فریقین کے درمیان غیر منقولہ جائیداد کی فروخت کے دو معاہدے مورخہ "16.04.2014 اور 03.06.2016"کو ہوئے۔ معاہدے میں واضح طور پر لکھا تھا کہ "بقیہ زرِ ثمن 15.01.2017 تک ہر صورت ادا کرنا ہوگا"۔ یہ ذمہ داری نہ تو مشروط تھی نہ مؤخر۔

خریدار مقررہ تاریخ تک رقم ادا نہ کر سکا۔ مالک (درخواست گزار) نے معاہدہ منسوخی کا دعویٰ دائر کیا، جس کے جواب میں خریدار (جواب دہندگان نمبر 1 اور 2) نے تعمیل مختص (Specific Performance) کا دعویٰ کر دیا۔ ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹس نے خریدار کا دعویٰ ڈگری کر دیا اور مالک کا دعویٰ منسوخی خارج کر دیا۔ مالک نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

سپریم کورٹ نے 5 سنہری اصول طے کیے:

1۔ آمادگی اور رضامندی (Readiness & Willingness) زبانی نہیں، ثبوت سے ثابت ہوگی [پیرا 18]
عدالت نے قرار دیا کہ آمادگی کو ہوا میں ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے Objective Acts چاہئیں:
- پے آرڈر کی تیاری
- فنڈز کو الگ رکھنا (Segregation of Funds)
- عدالت میں فوری رقم جمع کروانا

یہ رسمی کارروائیاں نہیں بلکہ ثبوت ہیں کہ خریدار واقعی قابل عمل طور پر تیار تھا۔ اگر دعویٰ دائر کرتے وقت رقم جمع نہ کروائی جائے اور نہ ہی کوئی قابل اعتبار ثبوت دیا جائے کہ معاہدے کے مطابق رقم کا بندوبست کیا گیا تھا، تو عدالت خریدار کی نیک نیتی پر منفی رائے قائم کرنے میں حق بجانب ہے۔

2۔ باہمی ذمہ داریاں (Reciprocal Obligations) [پیرا 19]
جائیداد کے معاہدے میں مالک اور خریدار کی ذمہ داریاں عام طور پر باہمی اور ایک دوسرے پر منحصر ہوتی ہیں۔ مالک کی سیل ڈیڈ لکھنے کی ذمہ داری، خریدار کی بقیہ رقم ادا کرنے کی ذمہ داری سے مشروط ہے۔

عدالت نے "Mst. Samina Riffat v. Rohail Asghar (2021 SCMR 7)"کا حوالہ دیا اور "سیکشن 51 کنٹریکٹ ایکٹ 1872" کی تشریح کی:
"جہاں معاہدہ باہمی وعدوں کی ادائیگی پر منحصر ہو، وہاں وعدہ کرنے والے (Promisor) کو اپنا حصہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں جب تک دوسرا فریق (خریدار) اپنا باہمی وعدہ پورا کرنے کے لیے تیار اور رضامند نہ ہو۔"

لہٰذا مالک کو مجبور نہیں کیا جا سکتا جب تک خریدار اپنی تیاری کو تحریری بیان اور ثبوت سے ثابت نہ کرے۔

3۔ کیا وقت معاہدے کی روح (Essence) ہے؟ [پیرا 20]
عام اصول یہی ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کے معاملات میں وقت کو معاہدے کی روح نہیں سمجھا جاتا، لیکن فریقین واضح طور پر اس کے برعکس طے کر سکتے ہیں۔

جہاں معاہدہ خود ادائیگی کے لیے ایک یقینی وقت مقرر کرے اور ڈیفالٹ کی صورت میں نتائج (جیسے بیعانہ ضبطی) بھی لکھے ہوں، تو عدالت کو فریقین کے درمیان طے شدہ شرائط کو ویسے ہی نافذ کرنا ہوگا۔ عدالت کا اختیار معاہدے کو دوبارہ لکھنا یا ٹائم لائن کو کمزور کرنا نہیں ہے۔

عدالت نے "Fazal Ur Rehman v. Ahmed Saeed Mughal (2004 SCMR 436)"میں قرار دیا تھا:
"جب معاہدے میں خود دونوں فریقین نے طے کیا کہ وقت معاہدے کی روح ہے اور کسی قسط کی عدم ادائیگی پر بیعانہ ضبط ہو جائے گا، تو اپیل کنندہ یہ دلیل نہیں دے سکتا کہ وقت روح نہیں تھا۔"

اسی طرح "Muhammad Jamil v. Muhammad Arif (2021 SCMR 1108)"میں قرار دیا گیا تھا کہ تحریری بیان میں یہ عذر اٹھانا کہ مقررہ مدت میں بقیہ رقم ادا نہ ہونے پر معاہدہ منسوخ اور بیعانہ ضبط ہو گیا ہے، یہ خریدار کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسے فوراً عدالت میں بقیہ رقم جمع کروانے کی پیشکش کر کے اپنی نیک نیتی اور تیاری ثابت کرنی چاہیے۔

4۔ اس کیس میں کیا ہوا؟ [پیرا 21 تا 23]
ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ:
a) مقررہ مدت کے اندر بقیہ رقم کی کوئی پیشکش (Tender) نہیں کی گئی۔
b) رقم کا بندوبست کرنے کے لیے کوئی پے آرڈر، بینک گارنٹی، یا فنڈز کی علیحدگی کا کوئی ثبوت نہیں۔
c) کوئی بینک دستاویز، اسٹیٹمنٹ یا مالیاتی آلہ پیش نہیں کیا گیا کہ رقم کا بندوبست کیا گیا تھا۔
d) بقیہ رقم عدالت میں بھی مقدمہ دائر کرتے وقت جمع نہیں کروائی گئی، بلکہ عدالت کی ہدایت کے بعد اور معاہدہ کی آخری تاریخ سے بہت بعد میں جمع کروائی گئی۔ ایسا تاخیری ڈپازٹ، اگرچہ متعلقہ ہے، لیکن مقررہ وقت پر تیاری کی عدم موجودگی کا ازالہ نہیں کر سکتا۔

دعوے کی پیروی (Pleadings) میں بھی نقص تھا: دعویٰ میں "ضابطہ دیوانی کے Appendix-A کے Form-47" کے مطابق یہ واضح اور مخصوص بیان موجود نہیں تھا کہ مدعی "ابھی تک معاہدے پر عمل کرنے کے لیے تیار اور رضامند ہے"۔ جب ریلیف صوابدیدی ہو تو اس بیان کی عدم موجودگی دعوے کی بنیاد کو کمزور کر دیتی ہے۔

مزید یہ کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ درخواست گزار ہی پہلے معاہدہ منسوخی کے لیے عدالت گیا تھا، خریدار نے اس کے بعد دعویٰ تعمیل دائر کیا۔

5۔ ماتحت عدالتوں نے غلطی کی [پیرا 25-27]
ماتحت عدالتوں نے عدالت کی ہدایت پر بہت تاخیر سے جمع کرائی گئی رقم کو پہلی ڈیفالٹ کا ازالہ سمجھ لیا، اور یہ جانچ ہی نہیں کی کہ کیا مقررہ تاریخ پر تیاری موجود تھی۔ سپریم کورٹ کی طے شدہ فقہ کے مطابق تاخیری تعمیل کو مسلسل تیاری کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ اگرچہ ہم آہنگ شہادتوں (Concurrent Findings) میں عام طور پر مداخلت نہیں کی جاتی، لیکن جہاں فیصلے مادی شواہد کو نہ پڑھنے یا غلط پڑھنے کا نتیجہ ہوں یا طے شدہ قانونی اصولوں کے خلاف ہوں، وہاں مداخلت جائز ہے۔

حتمی حکم [پیرا 28-29]:
تمام دلائل کے بعد سپریم کورٹ نے درخواستوں کو اپیل میں تبدیل کر کے منظور کر لیا۔ ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار۔

- جواب دہندگان نمبر 3 اور 4 کا دعویٰ تعمیل مختص "خارج"۔
- درخواست گزاروں کا دعویٰ منسوخی معاہدہ (C.Ps. 3649, 3650 of 2025) *ڈگری*۔
- محمد عمران کا دعویٰ تعمیل (C.P. No. 3639 of 2025) خارج
- معاہدہ ہائے مورخہ 16.04.2014 اور 03.06.2016 کے تحت ادا شدہ بیعانہ کی رقم وصول کنندگان 30 دن کے اندر واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔

Order Accordingly.

تعمیل مختص کا دعویٰ جیتنے کے لیے 3 چیزیں لازمی ہیں: 1) دعوے میں Form-47 والی تیاری کا واضح بیان، 2) مقررہ تاریخ سے پہلے بقیہ رقم کا ثبوت (پے آرڈر/بینک اسٹیٹمنٹ)، 3) دعویٰ کے ساتھ ہی رقم عدالت میں جمع کروانا۔ صرف کہنا کہ "میں خریدنے کو تیار ہوں" کافی نہیں!

08/10/2026

⚖️ قانونِ وراثت: جائیداد میں خواتین کا حصہ کتنا ہے اور قانونی طریقہ کار کیا ہے؟
پاکستانی قانون اور اسلامی شریعت کے مطابق خواتین (ماں، بیوی، بیٹی، اور بہن) کا جائیداد میں حصہ فرض ہے، جسے کوئی بھی محروم نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے قانون (Prevention of Anti-Women Practices Act) کے تحت خواتین کو ان کے حقِ وراثت سے محروم کرنا ایک سنگین اور قابلِ سزا جرم ہے۔
🔹 خواتین کے بنیادی حصے (عمومی حالات میں):
1️⃣ بیوی کا حصہ: اگر شوہر کی اولاد ہو، تو بیوی کو جائیداد کا 1/8 حصہ (ساڑھے بارہ فیصد) ملتا ہے۔ اگر اولاد نہ ہو، تو 1/4 حصہ (پچیس فیصد) ملتا ہے۔
2️⃣ بیٹی کا حصہ: اگر ایک ہی بیٹی ہو اور کوئی بیٹا نہ ہو، تو اسے جائیداد کا نصف (50%) ملتا ہے۔ اگر دو یا زیادہ بیٹیاں ہوں تو وہ 2/3 حصے میں برابر کی شراکت دار ہوتی ہیں۔ اگر بیٹا اور بیٹی دونوں ہوں، تو بیٹی کا حصہ بیٹے سے آدھا (1:2 کا تناسب) ہوتا ہے۔
3️⃣ ماں کا حصہ: اگر مرنے والے کی اولاد یا بہن بھائی موجود ہوں، تو ماں کو جائیداد کا 1/6 حصہ ملتا ہے۔
📋 وراثت کی منتقلی کا قانونی طریقہ کار (Step-by-Step Process):
1️⃣ ڈیتھ سرٹیفکیٹ (Death Certificate): سب سے پہلے یونین کونسل سے مرنے والے کا کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔
2️⃣ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC): نادرا (NADRA) سے FRC بنوائیں، جو تمام قانونی وارثان کی تصدیق کرتا ہے۔
3️⃣ جانشینی کا سرٹیفکیٹ (Succession Certificate / Letter of Administration):
• منقولہ جائیداد (نقدی، بینک اکاؤنٹ، زیورات، گاڑیاں): اس کے لیے نادرا کے "سکسیشن فیسیلیٹیشن یونٹ" سے چند دنوں میں سکسیشن سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے۔ اگر نادرا میں کوئی تنازعہ ہو، تو سول کورٹ سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔
• غیر منقولہ جائیداد (پلاٹ، مکان، دکان، زرعی زمین): اراضی ریکارڈ سنٹر (محکمہ مال/پٹواری) میں وراثتی انتقال (Mutation of Inheritance) درج کروایا جاتا ہے۔ پنجاب جیسے صوبوں میں اب نادرا کے ذریعے بھی غیر منقولہ جائیداد کا وراثتی لیٹر آف ایڈمنسٹریشن حاصل کیا جا سکتا ہے۔
💡 اہم نوٹ: اگر کوئی شخص کسی خاتون کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے زبردستی دستبرداری (دستبرداری نامہ) پر دستخط کرواتا ہے، تو وہ قانوناً باطل ہے اور ایسا کرنے والے کو 5 سے 10 سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
📥 اس معلوماتی پوسٹ کو لازمی شیئر کریں تاکہ ہر خاتون اپنے قانونی حقوق سے واقف ہو سکے!

08/10/2026

🚨 پلاٹ یا مکان خرید رہے ہیں؟ ان 3 دستاویزات کے بغیر سودا ہرگز نہ کریں!
پاکستان میں پراپرٹی خریدتے وقت صرف خوبصورت لوکیشن دیکھنا کافی نہیں، بلکہ قانونی طور پر محفوظ ہونا سب سے ضروری ہے۔ جائیداد کی خریداری سے پہلے ان 3 بنیادی دستاویزات کی پڑتال لازمی کریں:

1️⃣ فرد (Fard): یہ محکمہ مال (Patwari/Land Record Authority) کا وہ سرکاری ریکارڈ ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اس وقت جائیداد کا اصل مالک کون ہے، جائیداد کا کل رقبہ کتنا ہے، اور کیا اس پر کوئی سٹے آرڈر (Stay Order) یا بینک لون تو نہیں ہے۔ ہمیشہ "فرد برائے بیع" (فروخت کے لیے فرد) چیک کریں۔

2️⃣ رجسٹری (Registry/Sale Deed): یہ وہ بنیادی خریدو فروخت کا معاہدہ ہوتا ہے جو سب رجسٹرار آفس میں ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس پر پچھلے خریدار اور بیچنے والے کے دستخط، گواہان کی تفصیلات اور جائیداد کی حدودِ اربعہ (Boundaries) لکھی ہوتی ہیں۔ یقینی بنائیں کہ رجسٹری سرکاری ریکارڈ میں درج ہو۔

3️⃣ انتقال (Intiqal/Mutation): رجسٹری ہونے کے بعد جائیداد کا نام سرکاری ریکارڈ میں تبدیل ہونا "انتقال" کہلاتا ہے۔ اگر کسی کے پاس رجسٹری ہو لیکن سرکاری ریکارڈ میں انتقال نہ ہوا ہو، تو وہ جائیداد قانونی طور پر مکمل منتقل نہیں مانی جاتی۔ اس لیے جدید کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ (PLRA) سے انتقال کی تصدیق لازمی کریں۔

💡 سنہری اصول: کبھی بھی صرف ٹوکن یا بیعانہ کی رقم دینے سے پہلے ان دستاویزات کی تصدیق متعلقہ اراضی ریکارڈ سنٹر یا پٹواری سے خود کروائیں، کسی تیسرے بندے پر بھروسہ نہ کریں۔
📥 اس پوسٹ کو محفوظ (Save) کر لیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچ سکیں!

⚠️ یہ معلومات صرف عوامی آگاہی کے لیے ہیں۔ پراپرٹی کا فائنل سودا کرنے سے پہلے دستاویزات کی تصدیق لازمی کروائیں۔

06/10/2026

ایمان مزاری کیس۔۔۔۔
ریکارڈ پیش نہ کرنے پراسلام آباد ہائیکورٹ کے جج برہم۔۔۔۔۔ جج نے ایس پی ،ڈی ایس پی کےلئے ہتھکڑی منگوالی ۔

Address

Post Office Street
Khanewal
58150

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Precedents & Providing LEGAL AID - DBA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share