08/03/2026
ایم-نائن موٹروے اور قومی شاہراہوں پر حادثات: سندھ ہائی کورٹ کا سخت نوٹس، اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم
کراچی: سندھ ہائی کورٹ کراچی نے ایم-نائن موٹروے اور سندھ کی قومی شاہراہوں پر پیش آنے والے خطرناک حادثات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے معاملے پر اہم حکم جاری کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ آئینی درخواست صفیہ لاکھو کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جبکہ صفیہ لاکھو اپنے وکیل حبیب الرحمان جسکانی، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بھنبرو نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان محسن شاہوانی پیش ہوئے، جبکہ صوبے کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ حاکم علی شیخ اپنے معاون اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کامران بلوچ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے سید یاسر احمد شاہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جبکہ این ایچ اے کے افسران عبداللطیف مہسر (ممبر ساؤتھ) ، زبیر احمد (جنرل مینیجر ایم-نائن) ، عبید اللہ عمرانی (جی ایم سندھ ساؤتھ) اور محمد حسین شیخ (جی ایم سندھ نارتھ) بھی عدالت میں موجود تھے۔
نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے آئی جی سلطان چوہدری، ایڈیشنل آئی جی منیر احمد شیخ، سید فرید علی، اے آئی جی لیگل رانا لیاقت، ڈی ایس پی اسرار تنیو، انسپکٹر عمیر اور ایس آئی پی آدرش عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ٹریفک پولیس کی جانب سے ڈی ایس پی محمد طفیل (لیگل)، ڈی ایس پی محمد سعید (ٹریفک ساؤتھ) اور ڈی ایس پی رضا میاں بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کیے گئے دعوے، جن میں سڑکوں کی بہتر حالت اور مناسب دیکھ بھال کا ذکر کیا گیا ہے، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ درخواست گزار نے اپنی درخواست کے ساتھ تصاویر اور اخباری رپورٹس بھی ریکارڈ پر پیش کی ہیں، جن سے سڑکوں کی خراب حالت واضح ہوتی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے پیش کیے گئے مواد کے مطابق 13 فروری 2026 کو کاٹھور کے قریب حادثے میں 12 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوئے، جبکہ 16 فروری 2026 کو نوشہرو فیروز کے قریب قومی شاہراہ پر حادثے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ 15 فروری 2026 کو خیرپور کے قریب قومی شاہراہ پر حادثے میں 11 افراد جاں بحق اور 18 زخمی ہوئے۔ عدالت نے کہا کہ اگر سڑکوں کی خراب حالت کے باعث ایسے حادثات پیش آتے ہیں تو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذمہ دار افسران بھی اس کے جواب دہ ہو سکتے ہیں اور انہیں ان خطرناک حادثات کی ذمہ داری سے بری نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے مطابق کمیٹی میں سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ سندھ، وفاقی وزارت مواصلات کا نمائندہ، آئی جی پولیس سندھ کے دفتر کا نمائندہ، آئی جی نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کا نمائندہ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے نامزد ایک رکن شامل ہوگا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ چیف سیکریٹری سندھ ایک ہفتے کے اندر کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے، جبکہ کمیٹی ایم-نائن موٹروے اور قومی شاہراہوں پر پیش آنے والے حادثات کے بارے میں تفصیلی تحقیقات کر کے ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ اور سفارشات عدالت میں پیش کرے گی۔
عدالت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران ایم-نائن موٹروے اور قومی شاہراہوں پر کیے گئے مرمتی اور دیکھ بھال کے کام کی مکمل تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔
عدالت نے آفس کو حکم دیا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ، چیف سیکریٹری سندھ اور سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ کو نوٹس جاری کیے جائیں اور انہیں تفصیلی رپورٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا کہا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 10 اپریل 2026 تک ملتوی کر دی ہے۔