Justice For Every One.

Call Directions Website Contact the business

Justice For Every One. VOICE OF JUSTICE

"Where justice is denied, where poverty is enforced, where ignorance prevails, and where any one class is made to feel that society is an organized conspiracy to oppress, rob and degrade them, neither persons nor property will be safe." ALL THE GREAT THINGS ARE SIMPLE, AND MANY CAN BE EXPRESSED IN A SINGLE WORD, JUSTICE, FREEDOM, HONOR, DUTY, MERCY, HOPE,
IT IS NECESSARY TO HIGHLIGHT THE INJUSTICE THROUGH SOCIAL MEDIA.

31/07/2026

سعودی عرب ابراہیمی معاہدے کے تحت اسرائیل کو مضبوط کرے گا اس کی بدولت امریکہ سول نیوکلیئر معاہدے کرے گا۔جسکی ابتدا عراق میں حملے کا ایک عکس ہے۔

31/07/2026
30/06/2026

*کبھی کبھی بے گناہ #اسیروں سے۔۔!*
*عدالت کے #کٹہرے بھی خوف کھاتے ہیں۔!*
احسن پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل تھا۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے وہ فائلوں کا بوجھ اٹھا کر گھر سے نکلتا اور شام ڈھلے تھکا ہارا واپس آتا۔
عدالت اس کی روزمرہ زندگی تھی۔
کبھی کسی بے گناہ کو انصاف دلانے کی جدوجہد، کبھی کسی غریب موکل کی امیدیں، کبھی جج صاحبان کے سخت سوالات، کبھی مخالف وکیل کی تلخ بحث، اور کبھی موکلوں کی بے صبری۔
دن بھر وہ دوسروں کے دکھ اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتا تھا۔
اس کی پیشانی پر پڑنے والی ہر شکن کسی مقدمے کی فکر ہوتی، اور آنکھوں کی ہر تھکن کسی بے بس موکل کی امید کا بوجھ۔
مگر وہ ایک ہی آس پر زندہ رہتا تھا...
"گھر پہنچوں گا تو عائشہ کی مسکراہٹ ساری تھکن اتار دے گی۔"
لیکن دروازہ کھلتے ہی اسے سکون نہیں، ایک اور خاموش عدالت ملتی۔
جہاں کوئی جج نہیں تھا، مگر فیصلہ پہلے ہی سنایا جا چکا ہوتا تھا۔
جہاں کوئی گواہ نہیں تھا، مگر وہ ہمیشہ قصوروار ٹھہرتا تھا۔

جہاں کوئی بحث نہیں ہوتی تھی، صرف عائشہ کی خاموشی ہوتی تھی، اور اس خاموشی کی سزا احسن ہر روز بھگتتا تھا۔
وہ کوٹ اتارتے ہوئے دھیرے سے پوچھتا،
"عائشہ... کیسی ہو؟"
جواب میں صرف خاموشی ملتی۔
وہ چائے خود بنا لیتا۔
کھانا بھی خاموشی سے کھا لیتا۔
پھر ایک بار ہمت کر کے اس کے پاس بیٹھ جاتا۔
"اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو بتا دو... میں معافی مانگ لیتا ہوں۔"
عائشہ کی انا کو شاید یہی جملہ سننے کی عادت پڑ چکی تھی۔
وہ جانتی تھی کہ احسن آخرکار جھک جائے گا۔
اور احسن واقعی جھک جاتا تھا...
کیونکہ وہ مقدمے ہار سکتا تھا، مگر اپنا گھر نہیں ہارنا چاہتا تھا۔
ہر رات وہ اپنے دل کا ایک حصہ قربان کر دیتا، صرف اس امید پر کہ شاید کل عائشہ پہلے کی طرح مسکرا دے گی۔
مگر عائشہ کا روز روز چھوٹی چھوٹی باتوں پر روٹھ جانا، اس کی خاموش ناراضیاں، اور ہر بات کو انا کا مسئلہ بنا دینا احسن کے دل پر آہستہ آہستہ بوجھ بنتا جا رہا تھا۔
ایک رات عدالت سے واپسی پر احسن غیر معمولی طور پر تھکا ہوا تھا۔
اس دن اس نے مسلسل پانچ مقدمات لڑے تھے۔ ایک مقدمے میں ایک غریب بیوہ کے حق میں فیصلہ آیا تھا، مگر دوسرا مقدمہ ہار جانے کی وجہ سے اس کا موکل اس پر برس پڑا تھا۔ جج کے سخت ریمارکس، کلائنٹ کی ناراضی، اور مسلسل ذہنی دباؤ نے اسے اندر سے توڑ دیا تھا۔

گھر آ کر اس نے صرف اتنا کہا،

"عائشہ... آج بہت تھک گیا ہوں۔ صرف پانچ منٹ میرے پاس بیٹھ جاؤ، مجھے کچھ نہیں چاہیے۔"

عائشہ نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔
اس کی ناراضی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
احسن نے چند لمحے اس کا انتظار کیا، پھر ایک گہری سانس لی اور آسمان کی طرف دیکھ کر دھیرے سے بولا،

"یا اللہ... میں عدالت میں ہر روز لوگوں کے رشتے بچانے کی دلیلیں دیتا ہوں، مگر اپنے ہی گھر میں اپنی محبت کے حق میں کوئی دلیل پیش نہیں کر پا رہا۔"

یہ شاید پہلی رات تھی جب احسن کی آنکھوں سے خاموشی سے آنسو بہہ نکلے۔
اس دن عائشہ جیت گئی تھی...
اور احسن کی محبت ایک بار پھر ہار گئی تھی۔

لیکن سچ یہ تھا کہ اس رات ہار صرف احسن کی نہیں ہوئی تھی۔

اس رات ان کے رشتے کا ایک اور حصہ خاموشی سے مر گیا تھا۔

اگلی صبح بھی احسن حسبِ معمول عدالت کے لیے نکلا، مگر اس کے چہرے پر وہی تھکن تھی، آنکھوں میں وہی بے بسی، اور دل میں وہی دباؤ۔

دن بھر موکلوں کی فریادیں، مقدمات کا شور، ججوں کے سوالات، اور ذمہ داریوں کا پہاڑ اس کے سینے پر رکھا رہا۔

وہ ہر کسی کے لیے کھڑا تھا، مگر خود کے لیے نہیں۔

شام کو جب وہ واپس لوٹا تو عائشہ پھر کسی معمولی بات پر روٹھ چکی تھی۔

اس نے دروازے پر کھڑے کھڑے بس اتنا کہا،

"آج بھی دیر کر دی؟"

احسن نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا،

"عدالت میں ایک غریب باپ کے بچے کا مستقبل بچا رہا تھا... اور تمہیں لگتا ہے میں بلاوجہ دیر کرتا ہوں؟"

مگر عائشہ نے بات سننے کے بجائے منہ پھیر لیا۔
احسن کے دل پر جیسے ایک اور ضرب لگی۔

وہ اندر آیا، کوٹ کرسی پر رکھا، اور صوفے پر بیٹھتے ہی سینے میں شدید درد محسوس کیا۔

پہلے اس نے سمجھا شاید تھکن ہے، مگر درد بڑھتا گیا۔

سانس اکھڑنے لگی، ہاتھ کانپنے لگے، اور پیشانی پر پسینہ آ گیا۔
وہ بمشکل اٹھا اور دھیرے سے بولا،

"عائشہ... مجھے... کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا..."

مگر عائشہ نے اس کی طرف توجہ نہ دی، جیسے یہ بھی کوئی معمولی شکایت ہو۔

احسن نے ایک قدم آگے بڑھانے کی کوشش کی، مگر اس کا جسم ساتھ نہ دے سکا۔
وہ فرش پر گر پڑا۔
اس کے ہاتھ میں فائلیں تھیں، اور آنکھوں کے سامنے عدالت، موکل، مقدمے، اور پھر صرف اندھیرا۔
عائشہ گھبرا کر اس کی طرف بڑھی، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

احسن کو ہارٹ اٹیک آ چکا تھا۔
اسے اسپتال لے جایا گیا، مگر ڈاکٹروں نے سر جھکا کر بتایا کہ احسن اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
وہ وکیل جو دوسروں کے لیے انصاف مانگتا رہا، اپنے لیے زندگی نہ مانگ سکا۔
وہ شخص جو ہر روز عدالت میں دلائل دیتا رہا، اپنے گھر میں محبت کے حق میں ایک لفظ بھی منوا نہ سکا۔
اور یوں عدالت، کلائنٹ، ذمہ داریوں کا بوجھ، اور گھر کی روز روز کی چھوٹی چھوٹی ناراضیاں مل کر اس کے دل پر اتنا بھاری پڑ گئیں کہ احسن ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد عائشہ بہت دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔
اب نہ کوئی جواب دینے والا تھا، نہ معافی مانگنے والا، نہ چائے بنانے والا، نہ اس کی خاموشی سہنے والا۔
تب اسے پہلی بار احساس ہوا کہ جس شخص کو وہ ہر روز چھوٹی چھوٹی باتوں پر روٹھ کر سزا دیتی رہی، وہ اندر ہی اندر کتنی بڑی جنگ لڑ رہا تھا۔
مگر اب پچھتاوے کے آنسوؤں سے احسن واپس نہیں آ سکتا تھا۔
وہ چلا گیا تھا...
عدالت کے بوجھ سے بھی، کلائنٹ کی فریادوں سے بھی، اور عائشہ کی روز روز کی ناراضی سے بھی بہت دور۔
احسن کے انتقال کے بعد وقت تو گزرتا رہا، مگر عائشہ کی زندگی جیسے وہیں رک گئی۔
صبح جب آنکھ کھلتی تو بے اختیار اس کی نظریں دروازے کی طرف اٹھ جاتیں، جیسے ابھی احسن ہاتھ میں فائلیں، کندھے پر وکالت کا کالا کوٹ ڈالے مسکراتا ہوا اندر داخل ہوگا اور کہے گا،
"عائشہ... ایک کپ چائے مل جائے گی؟"
مگر اب نہ دروازہ کھلتا تھا، نہ وہ مانوس آواز سنائی دیتی تھی۔
گھر کی ہر چیز احسن کی یاد دلاتی تھی۔ اس کی قانون کی کتابیں، میز پر رکھی عینک، قلم، عدالتی ڈائری اور وہ کالا کوٹ... سب خاموش تھے، مگر ان کی خاموشی عائشہ کے دل پر چیخوں کی طرح گونجتی تھی۔
ایک دن اس نے احسن کی میز کی دراز کھولی تو ایک ڈائری ملی۔
اس کے پہلے صفحے پر احسن نے لکھا تھا:

"اگر کبھی میں اس دنیا میں نہ رہوں تو میری عائشہ کو کوئی یہ ضرور بتا دے کہ میں نے اسے کبھی قصوروار نہیں سمجھا۔ میں صرف یہ چاہتا تھا کہ وہ ایک دن میری تھکن کو بھی سمجھ لے۔ محبت صرف محبت مانگتی ہے، انا نہیں۔"

یہ الفاظ پڑھ کر عائشہ کی چیخ نکل گئی۔
اس دن اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ جس شخص سے ہر بار اپنی جیت منوانا چاہتی تھی، وہ تو کبھی مقابلے میں کھڑا ہی نہیں تھا۔ وہ تو ہر بار صرف اس کا ہاتھ تھامے رکھنا چاہتا تھا۔

سال گزرتے گئے۔

رشتے دار آہستہ آہستہ اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے۔ دعوتیں آنا بند ہو گئیں، فون کم ہوتے گئے، اور وہ گھر جو کبھی محبت سے آباد تھا، خاموشی کا مسکن بن گیا۔

اب عائشہ اکثر بیوہ خواتین، نوجوان جوڑوں اور نئی دلہنوں سے ایک ہی بات کہتی تھی:

"شوہر کی تھکن کو سمجھو۔ وہ باہر کی دنیا سے لڑ کر گھر آتا ہے۔ اگر گھر بھی جنگ کا میدان بن جائے تو وہ آخر کہاں سکون تلاش کرے گا؟"
لوگ اس کی بات سنتے، مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ نصیحت کتابوں سے نہیں، ایک ٹوٹے ہوئے دل سے نکل رہی ہے۔
ہر جمعہ وہ احسن کی قبر پر جاتی، تازہ پھول رکھتی اور دیر تک خاموش بیٹھی رہتی۔
پھر آہستہ سے کہتی،
"احسن... تمہارا مقدمہ میں زندگی بھر نہ جیت سکی۔ تم محبت کے وکیل تھے اور میں اپنی انا کی قیدی۔ عدالت میں تم بہت سے مقدمے جیتے، مگر گھر میں تم نے کبھی مجھے ہرانا نہیں چاہا۔ ہار تو میں گئی... کیونکہ میں نے اس شخص کو کھو دیا جو ہر روز دنیا سے لڑ کر صرف میرے لیے زندہ رہتا تھا۔"
ہوا چلتی، درختوں کے پتے سرسراتے، مگر جواب کہیں سے نہیں آتا تھا۔
کیونکہ بعض فیصلے عدالتوں میں نہیں، وقت سناتا ہے۔

اور وقت کی عدالت میں اپیل نہیں ہوتی۔

اس دن عائشہ نے سمجھ لیا کہ انسان کی سب سے بڑی دولت محبت کرنے والا شریکِ حیات ہوتا ہے۔ اگر وہ چلا جائے تو باقی زندگی صرف سانس لینے کا نام رہ جاتی ہے، جینے کا نہیں۔

25/06/2026

12/06/2026

کورٹس میں جمعہ اور ہفتہ کی چھٹی ختم۔۔
اب کورٹس سوموار سے ہفتے تک یعنی ہفتے میں 6 دن کھلی رہیں گی

12/06/2026

ملیر کینٹ تھانہ بھتہ وصولی۔


゚

Address

Office No. 9 Beaumont Plaza Civil Line Karachi
Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 08:00 - 19:00

Telephone

+923233400018

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Justice For Every One. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Justice For Every One.:

Shortcuts

Share