YES Lawyers Forum

YES Lawyers Forum Young Energetic & Social Lawyers Forum

It is non-profitable Social Lawyers Forum.
(1)

⚖️ نکاح سے انکار اور نکاح کی قانونی حیثیت — اہم عدالتی اصولاگر کسی خاتون نے کسی شخص سے نکاح کیا ہو اور نکاح نامے پر اس ک...
23/08/2026

⚖️ نکاح سے انکار اور نکاح کی قانونی حیثیت — اہم عدالتی اصول

اگر کسی خاتون نے کسی شخص سے نکاح کیا ہو اور نکاح نامے پر اس کے دستخط بھی موجود ہوں، لیکن بعد ازاں عدالت کے روبرو وہ نکاح سے انکار کر دے، تو محض نکاح نامہ پیش کر دینا ہی ہر صورت میں فیصلہ کن نہیں ہوتا۔ ایسی صورتحال میں عدالت نکاح کے وجود، صحت اور ثبوت کا جائزہ دستیاب شہادت، دستاویزات اور فریقین کے بیانات کی روشنی میں لے گی۔

📌 اہم قانونی اصول:
نکاح کے ثبوت کے لیے نکاح نامہ، دستخط، فریقین کے عدالتی بیانات اور دیگر متعلقہ شہادت کو مجموعی طور پر دیکھا جاتا ہے۔ عدالت کسی بھی فریق کے دعوے یا انکار کو محض مفروضے کی بنیاد پر نہیں بلکہ قابلِ اعتماد شہادت کی بنیاد پر پرکھتی ہے۔

⚖️ حوالہ:
PLD 2006 Supreme Court 489

یہ اصول ان مقدمات میں خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں نکاح نامے کی حیثیت، نکاح سے انکار، اور فریقین کے عدالتی بیانات متنازع ہوں۔

🔹 قانونی معاملات میں حتمی رائے ہمیشہ مقدمے کے مخصوص حقائق اور دستیاب شہادت کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔

پنجاب میں کچی رسیدوں پر پابندیپنجاب میں ریسٹورنٹس، ہوٹلز، کافی شاپس اور میرج ہالز میں اب کچی رسیدوں کے استعمال کی اجازت ...
23/08/2026

پنجاب میں کچی رسیدوں پر پابندی

پنجاب میں ریسٹورنٹس، ہوٹلز، کافی شاپس اور میرج ہالز میں اب کچی رسیدوں کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ ٹیکس میں بے ضابطگیوں اور ہیر پھیر کی روک تھام کے لیے پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) نے EIMS کے ذریعے باقاعدہ ٹیکس رسید جاری کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔

جاری ہونے والی رسید پر PRA کا QR کوڈ اور دیگر ضروری معلومات درج ہوں گی، تاکہ ٹیکس ریکارڈ میں شفافیت اور نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔

⚖️ جہیز اور بری کی فہرست نکاح رجسٹرار کو نہ دینا — قانونی خلاف ورزی!اکثر افراد اس قانونی تقاضے سے واقف نہیں کہ نکاح کے م...
23/08/2026

⚖️ جہیز اور بری کی فہرست نکاح رجسٹرار کو نہ دینا — قانونی خلاف ورزی!

اکثر افراد اس قانونی تقاضے سے واقف نہیں کہ نکاح کے موقع پر جہیز، بری اور تحائف کی مکمل فہرست نکاح رجسٹرار کو فراہم کرنا ضروری ہے۔

🔹 Dowry and Bridal Gifts (Restriction) Act, 1976 کی دفعہ 8 کے تحت فریقین کے والدین پر جہیز، بری اور تحائف کی فہرست رجسٹرار کو جمع کرانا لازم ہے۔

🔹 دفعہ 9 کے تحت خلاف ورزی کی صورت میں چھ ماہ تک قید، 10,000 روپے تک جرمانہ، یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

🔹 اگر خلاف ورزی کرنے والا والدین میں سے خاتون ہو تو قانون کے مطابق صرف جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

🔹 اس قانون کے تحت مقدمہ فیملی کورٹ میں قابلِ سماعت ہے۔

⚖️ اہم قانونی نکتہ:
اگر جہیز کی فہرست کی نقل نکاح رجسٹرار کو فراہم نہ کی گئی ہو، تب بھی عدالتی اصولوں کے مطابق وہ فہرست خلع یا جہیز کی واپسی کے دعوے میں بطورِ شہادت لازماً ناقابلِ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی رجسٹرار کو فہرست نہ دینا ایک الگ قانونی خلاف ورزی ہو سکتی ہے، لیکن اس سے فہرست کی شہادتی حیثیت خود بخود ختم نہیں ہوتی۔

📌 نوٹ: ہر مقدمہ اپنے مخصوص حقائق اور شواہد کی بنیاد پر طے ہوتا ہے۔ قانونی رہنمائی کے لیے مستند وکیل سے مشورہ کریں۔

💬 آپ کے خیال میں کیا عملی طور پر نکاح خواں اور نکاح رجسٹرار اس قانونی تقاضے پر عمل کرتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں دیں۔

سندھ ہائیکورٹ کا اہم قانونی اصولسندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی سرکاری ملازم کی تنخواہ محض انتظامی فیصلے، غیر واضح ا...
23/08/2026

سندھ ہائیکورٹ کا اہم قانونی اصول

سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی سرکاری ملازم کی تنخواہ محض انتظامی فیصلے، غیر واضح الزام یا من مانی بنیاد پر نہیں روکی جاسکتی۔ تنخواہ روکنے یا اس کی ادائیگی معطل کرنے کے لیے متعلقہ اتھارٹی کے پاس واضح قانونی اختیار، معقول و قابلِ قبول وجہ اور قانون کے مطابق مقررہ طریقہ کار کی پابندی ضروری ہے۔

کیس کا بنیادی قانونی نکتہ

مقدمے میں درخواست گزار ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا تنازع متعلقہ لوکل کونسل کے اقدامات سے پیدا ہوا۔ جواب دہندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ اس سے قبل بھی درخواست دائر کی جاچکی تھی، اس لیے موجودہ درخواست Res Judicata (اصولِ امرِ مختومہ) کے تحت قابلِ سماعت نہیں۔

عدالت نے یہ اعتراض مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ صرف سابقہ مقدمے کی موجودگی سے ہر بعد کی کارروائی خودبخود Res Judicata کے تحت خارج نہیں ہوجاتی۔ اس اصول کے اطلاق کے لیے سابقہ اور موجودہ کارروائی میں فریقین، موضوعِ تنازع، سببِ دعویٰ اور زیرِ بحث حق کا قانونی طور پر مطابقت رکھنا ضروری ہے۔

چونکہ سابقہ کارروائی کا تعلق ملازمین کی منتقلی/واپسی سے تھا جبکہ موجودہ تنازع تنخواہ کی ادائیگی سے متعلق تھا، اس لیے دونوں معاملات کو یکساں قرار نہیں دیا جاسکتا تھا۔

تنخواہ روکنے کے حوالے سے عدالت کا اصول

عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری ملازم کی تنخواہ اس کی انجام دی گئی خدمات کے عوض واجب الادا معاوضہ ہے، اس لیے اس کی ادائیگی میں مداخلت قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بھی صورت میں تنخواہ روکنا ممنوع ہے۔ اگر متعلقہ سروس رولز، محکمانہ قوانین یا دیگر قابلِ اطلاق قانونی دفعات کسی ملازم کی تنخواہ یا اس کے کسی حصے کو روکنے کی اجازت دیتی ہوں تو مجاز اتھارٹی قانون میں مقررہ شرائط اور طریقہ کار پورا کرتے ہوئے ایسا حکم جاری کرسکتی ہے۔

اہم قانونی اصول

🔹 تنخواہ روکنے کے لیے قانونی اختیار (Legal Authority) کا موجود ہونا ضروری ہے۔

🔹 تنخواہ روکنے کے اقدام کے پیچھے قابلِ قبول، معقول اور قانونی وجہ ہونی چاہیے۔

🔹 جہاں قانون یا سروس رولز محکمانہ کارروائی، شوکاز نوٹس، سماعت یا کسی دوسرے طریقہ کار کا تقاضا کریں، وہاں اس کی پابندی لازم ہے۔

🔹 محض انتظامی سہولت، غیر ثابت شدہ الزام یا من مانی بنیاد پر تنخواہ روکنا قانونی طور پر قابلِ دفاع نہیں رہتا۔

🔹 اگر اقدام بدنیتی، امتیازی سلوک یا اختیارات کے ناجائز استعمال پر مبنی ہو تو عدالت اس کی Judicial Review کے ذریعے جانچ کرسکتی ہے۔

🔹 تاہم ہر تاخیر یا غیر مؤثر ادائیگی کو بلا ثبوت Mala Fide، Victimization یا غیر قانونی کارروائی قرار نہیں دیا جاسکتا؛ اس کے لیے مقدمے کے مخصوص حقائق اور دستیاب قانونی مواد کو دیکھا جائے گا۔

🔹 ملازم کا تنخواہ کا حق مطلق اور ہر صورت میں غیر مشروط حق نہیں بلکہ متعلقہ Service Rules، ملازمت کی حیثیت، حاضری، تعیناتی، Leave Rules اور دیگر قانونی شرائط کے تابع ہوسکتا ہے۔

🔹 آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ قانونی شرائط پوری ہونے کی صورت میں کسی سرکاری یا قانونی اتھارٹی کے اقدام، حکم یا کارروائی کا عدالتی جائزہ لے سکتی ہے اور مناسب ریلیف فراہم کرسکتی ہے۔

🔹 تاہم Article 199 کا اختیار عام اپیل کا متبادل نہیں؛ عدالت متبادل مؤثر قانونی remedy، متعلقہ سروس قوانین اور مقدمے کے مخصوص حالات کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔

عملی قانونی نتیجہ

اس فیصلے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ سرکاری ملازم کی تنخواہ کوئی ایسی رقم نہیں جسے متعلقہ اتھارٹی اپنی صوابدید سے بلاجواز روک دے۔ اگر تنخواہ روکنے کا فیصلہ کیا جائے تو اس کے پیچھے واضح قانونی اختیار، قانونی بنیاد، معقول وجہ اور مقررہ طریقہ کار موجود ہونا چاہیے۔

البتہ ہر ملازم کے معاملے میں نتیجہ اس کی سروس کی نوعیت، متعلقہ قوانین و سروس رولز، حاضری، تعیناتی، محکمانہ کارروائی اور دیگر متعلقہ حقائق کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔

اہم قانونی پیغام:

«"سرکاری ملازم کی تنخواہ روکنے کے لیے صرف انتظامی فیصلہ کافی نہیں؛ قانونی اختیار، قابلِ قبول وجہ اور مقررہ قانونی طریقہ کار ضروری ہے۔ تاہم تنخواہ کا حق متعلقہ سروس قوانین اور مقدمے کے مخصوص حقائق کے تابع رہتا ہے۔"»

Legal Point:
یہ اصول بنیادی طور پر Rule of Law، Due Process، قانون کے مطابق اختیارات کے استعمال اور Judicial Review سے متعلق ہے۔ کوئی بھی سرکاری اتھارٹی اپنے اختیارات قانون سے حاصل کرتی ہے اور ان اختیارات کا استعمال بھی قانون کی حدود کے اندر رہ کر کرنا ضروری ہے۔

نیا قانون — شادی شدہ افراد ہوشیار رہیں!📜 مجوزہ سیکشن 498-D: خواتین کی غیر قانونی بے دخلی کی ممانعتنئے قانون کے تحت اگر ش...
22/08/2026

نیا قانون — شادی شدہ افراد ہوشیار رہیں!

📜 مجوزہ سیکشن 498-D: خواتین کی غیر قانونی بے دخلی کی ممانعت

نئے قانون کے تحت اگر شوہر یا خاندان کا کوئی فرد جان بوجھ کر بیوی کو مشترکہ گھر سے بغیر قانونی اجازت یا جائز وجہ کے نکالے یا نکالنے کی کوشش کرے تو اسے جرم قرار دیا جائے گا۔

⚖️ ممکنہ سزا:
• کم از کم 3 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 6 ماہ قید
• 2 لاکھ روپے تک جرمانہ
• یا قید اور جرمانہ دونوں

🔹 خواتین کے حقوق کا تحفظ: شادی شدہ خواتین کو زبردستی گھر سے بے دخل کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی مقصود ہے۔

🔹 قانونی طریقہ کار ضروری: شوہر یا خاندان کے افراد محض اپنی مرضی سے بیوی کو گھر سے نکالنے کے بجائے قانونی طریقہ کار اختیار کرنے کے پابند ہوں گے۔

🔹 سخت مالی سزا: جرمانے کی شمولیت کا مقصد ایسے اقدام کو قانونی اور مالی طور پر بھی سنگین بنانا ہے۔

⚠️ اہم: کسی بھی قانونی معاملے میں حتمی رائے کے لیے قانون کے اصل متن اور تازہ ترین سرکاری نوٹیفکیشن کو ضرور ملاحظہ کریں۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کو الشفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیاYES Lawyers Forum
18/08/2026

سپریم کورٹ نے عمران خان کو الشفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

YES Lawyers Forum

PLD 2020 SC 508 — حقِ حضانت سے متعلق اہم اصولسپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ خلع کے بدلے ماں کی جانب سے بچے کی حضان...
14/08/2026

PLD 2020 SC 508 — حقِ حضانت سے متعلق اہم اصول

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ خلع کے بدلے ماں کی جانب سے بچے کی حضانت کے حق سے دستبرداری کا اقرارنامہ محض ایک معاہدے کی بنیاد پر بچے کے حقیقی مفاد اور ماں کے حقِ حضانت کو ختم نہیں کر سکتا۔

عدالت نے 17 جولائی 2020 کے فیصلے میں ایسے معاہدے کو غیر شرعی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بچے کو باپ سے لے کر ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ ماں کی غربت، بے بسی یا معذوری بذاتِ خود اسے حقِ حضانت سے محروم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔

خلاصہ: بچے کی حضانت کا فیصلہ کسی معاہدے یا خلع کے عوض نہیں، بلکہ بچے کی فلاح و بہبود اور قانون کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

پولیس حراست میں موت یا تشدد: لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہلاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی شخص پولیس کی تحویل میں...
14/08/2026

پولیس حراست میں موت یا تشدد: لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی شخص پولیس کی تحویل میں ہو اور دورانِ حراست موت یا فائر آرم انجری کا واقعہ پیش آئے تو ایسا معاملہ Torture and Custodial Death (Prevention and Punishment) Act, 2022 کے تحت تحقیقات کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

عدالت کے مطابق ایسے واقعات کی تحقیقات کرنا FIA کے اختیار اور ذمہ داری میں شامل ہے۔ FIA محض اس بنیاد پر تحقیقات سے انکار نہیں کر سکتی کہ اسے کوئی باقاعدہ شکایت موصول نہیں ہوئی، کیونکہ اسے suo motu تحقیقات شروع کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔

عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ متعلقہ FIRs فوری طور پر FIA کے حوالے کی جائیں تاکہ معاملے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات یقینی بنائی جا سکیں۔

خلاصہ: پولیس حراست میں موت یا تشدد کے الزام کو صرف پولیس کے مؤقف کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا؛ ایسے معاملات میں قانون کے مطابق آزادانہ اور غیر جانب دار تحقیقات ضروری ہیں۔

FBR Imposes 10% Withholding Tax on Social Media EarningsThe Federal Board of Revenue (FBR) has imposed a 10% withholding...
14/08/2026

FBR Imposes 10% Withholding Tax on Social Media Earnings

The Federal Board of Revenue (FBR) has imposed a 10% withholding tax on income earned by digital content creators and social media influencers who are not registered on the Active Taxpayers List (ATL).

The measure is effective from July 1, 2026.

Digital creators and influencers should ensure their tax status is updated to avoid the higher withholding tax on their social media earnings.

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923053133726

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when YES Lawyers Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to YES Lawyers Forum:

Shortcuts

Share