22/10/2025
میں کسی کی نوکری نہیں کرتا، میں ایک وکیل ہوں
تحریر: خلیل اللہ جکھرو ایڈوکیٹ
یہ جملہ بظاہر ضد یا انا کا اظہار لگتا ہے، مگر دراصل یہ ایک سوچ، ایک فلسفہ اور ایک طرزِ زندگی کی نمائندگی کرتا ہے۔
میں کسی کی نوکری نہیں کرتا، کیونکہ میں ایک وکیل ہوں اور وکالت محض پیشہ نہیں، بلکہ آزادی کا اعلان ہے۔
وکالت ایک ایسا پیشہ ہے جہاں انسان اپنی محنت، علم اور کردار کے بل بوتے پر کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں کسی کا ماتحت ہونا لازم نہیں، بلکہ ہر وکیل اپنی صلاحیتوں کا خود ذمہ دار ہے۔ کوئی باس نہیں، کوئی حکم نہیں صرف قانون کی بالادستی اور انصاف کا تقاضا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک شخص اپنی عزت خود بناتا ہے، اپنی پہچان خود تخلیق کرتا ہے، اور اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہ رہتا ہے۔
وکالت اختیار کرنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ یہ راستہ آسان کم، باوقار زیادہ ہے۔ میں نے یہ پیشہ اس لیے نہیں چُنا کہ عدالتوں کے چکر لگانے کا شوق تھا، بلکہ اس لیے کہ میں اپنی محنت کا مالک بنوں، اپنی عزت خود کماؤں، اور کسی کے زیرِ حکم نہیں بلکہ قانون کے تابع رہوں۔
ایک وکیل کا سرمایہ اس کا علم ہے، اس کا ہتھیار اس کی زبان، اور اس کا وقار اس کی ساکھ۔ یہ پیشہ ان لوگوں کے لیے ہے جو سچ کے لیے کھڑے رہتے ہیں، چاہے ہوا مخالف ہی کیوں نہ چلے۔
اکثر لوگ حیرت سے پوچھتے ہیں، “آپ تو کسی کے ماتحت نہیں، کیا یہ مشکل نہیں ہوتا خود پر پورا بوجھ اٹھانا؟”
میں ہمیشہ مسکرا کر جواب دیتا ہوں، “ہاں، مشکل تو ہے مگر غلامی سے بہتر ہے کہ انسان اپنی مشکل خود اٹھائے۔”
نوکری میں شاید سکون ہو، مگر وکالت میں عزت ہے، اور میرے لیے عزت ہمیشہ سکون سے زیادہ قیمتی رہی ہے۔
وکالت کا ہر دن ایک امتحان ہوتا ہے۔ ہر مقدمہ ایک نیا چیلنج، ہر عدالت ایک نیا معرکہ۔ یہاں کوئی شارٹ کٹ نہیں، کامیابی کا راستہ صرف محنت اور استقامت سے گزرتا ہے۔ لیکن جب کامیابی ملتی ہے تو وہ دیرپا ہوتی ہے، کیونکہ وہ کسی سفارش نہیں بلکہ اپنے خونِ جگر سے حاصل کی جاتی ہے۔
ایک وکیل صرف قانونی نمائندہ نہیں، بلکہ معاشرتی توازن کا محافظ ہوتا ہے۔ وہ ان مظلوموں کی آواز بنتا ہے جنہیں سننے والا کوئی نہیں، ان کمزوروں کے لیے ڈھال بنتا ہے جن پر نظام کا بوجھ ٹوٹتا ہے۔
میں جب عدالت میں کھڑا ہوتا ہوں، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں کسی کے لیے مقدمہ نہیں لڑ رہا بلکہ انصاف کے ایک اصول کی حفاظت کر رہا ہوں۔
وکالت میں کبھی راتیں جاگتی ہیں، کبھی دن فیصلے کے انتظار میں گزرتے ہیں۔ مگر یہ پیشہ اپنے اندر ایک عجیب شان رکھتا ہے۔ یہاں انسان خود اپنی دنیا بناتا ہے، خود اپنے فیصلے کرتا ہے، اور اپنی کامیابی خود لکھتا ہے۔
میں کسی دفتر کی گھڑی کے تابع نہیں، نہ کسی مالک کے موڈ کے۔
میرا وقت، میرا قلم، اور میری زبان یہ سب میرے اپنے ہیں۔
اور یہی میرا وقار ہے، یہی میری آزادی ہے۔
آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ وکالت ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، یہ ان لوگوں کا راستہ ہے جو سمجھوتہ نہیں کرتے، جو سچ کے ساتھ کھڑے رہنے کی جُرأت رکھتے ہیں، چاہے اس کی قیمت اپنی آسانی، اپنا آرام یا اپنی مقبولیت ہی کیوں نہ ہو۔
میں کسی کی نوکری نہیں کرتا کیونکہ میں آزاد ہوں، خود مختار ہوں، اور میں ایک وکیل ہوں۔
خلیل اللہ جکھرو ایڈوکیٹ