26/08/2026
⚖️ سیکشن 122 اور بینک اسٹیٹمنٹ — سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کیا کہ صرف بینک اسٹیٹمنٹ یا اس میں موجود ہر کریڈٹ انٹری کو ازخود قابلِ ٹیکس آمدن قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مقدمہ: Commissioner Inland Revenue (Special Zone for Builders & Developers), RTO Islamabad v. M/s Khudadad Heights, Islamabad
Civil Petition No. 862 of 2024
فیصلہ: 27 فروری 2025
حوالہ: 2025 SCMR 716 / 2025 PTD 582
عدالت نے قرار دیا کہ “Definite Information” کا تعین ہر مقدمے کے حقائق اور معلومات کے ماخذ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ محض بینک اکاؤنٹ میں موجود Transactions اس وقت تک ٹیکس دہندہ کی قابلِ ٹیکس آمدن ثابت نہیں کرتیں جب تک متعلقہ معلومات سے آمدن کی واضح اور قانونی بنیاد قائم نہ ہو۔
اس لیے بینک ٹرانزیکشن اور قابلِ ٹیکس آمدن کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔ ہر کریڈٹ انٹری کی نوعیت، Source of Funds، متعلقہ دستاویزات اور اس کے ٹیکس اثرات کو قانون کے مطابق جانچنا ضروری ہے۔
یہ فیصلہ سیکشن 122، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت Assessment میں ترمیم یا دوبارہ کارروائی کے معاملات میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اہم عدالتی حوالہ جات:
▪️ CIR v. M/s Khudadad Heights, Islamabad — 2025 SCMR 716
▪️ CIR Zone-I RTO Rawalpindi v. M/s Khan CNG Filling Station — 2017 SCMR 1414
▪️ CIR RTO Bahawalpur v. M/s Bashir Ahmed — 2021 SCMR 1290
قانون کا بنیادی اصول:
ہر بینک کریڈٹ آمدن نہیں، اور ہر بینک اسٹیٹمنٹ بذاتِ خود “Definite Information” نہیں ہوتی۔