19/08/2026
ستمبر 1997 میں چین کے صوبہ شینڈونگ میں گوؤ گانگ کا صرف دو سال پانچ ماہ کا بیٹا گھر کے باہر کھیل رہا تھا۔ تانگ نامی ایک خاتون نے بچے کو وہاں سے اغوا کیا، اور اپنے بوائے فرینڈ ہُو کے ساتھ بچے کو لے گئی اور بعد میں اسے ایک خاندان کو فروخت کردیا گیا۔
بیٹے کے غائب ہوتے ہی گوؤ گانگ کی زندگی بدل گئی۔ اس نے ابتدا میں مقامی سطح پر تلاش کی، لیکن کوئی سراغ نہ ملا تو اپنی نوکری چھوڑ دی۔ اس نے بیٹے کی تصویر، نام اور شناختی معلومات بڑے جھنڈوں اور پمفلٹس پر چھپوائیں، انہیں موٹر سائیکل کے ساتھ باندھا اور چین کے مختلف علاقوں میں خود اسے ڈھونڈنے نکل پڑا۔ وہ بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، شہروں، قصبوں اور دیہات میں لوگوں کو بیٹے کی تصویر دکھاتا اور ہر ممکن اطلاع کے پیچھے جاتا۔
گوؤ نے بیٹے کی شناخت کے لیے اس کی جسمانی نشانیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں بائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی پر موجود ایک خاص نشان شامل تھا، تاکہ اگر کسی نے اسے کہیں دیکھا ہو تو پہچاننے میں آسانی ہوسکے۔
یہ تلاش چند ماہ یا چند سال نہیں بلکہ پورے 24 سال جاری رہی۔ اس دوران گوؤ نے موٹر سائیکل پر تقریباً 5 لاکھ کلومیٹر کا سفر کیا، چین کے بیشتر صوبوں تک پہنچا اور تقریباً 10 موٹر سائیکلیں بدلیں۔ مسلسل سفر اور تلاش میں اس کی جمع پونجی خرچ ہوگئی اور وہ قرض میں بھی چلا گیا۔ کئی بار اسے حادثات اور خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس نے اپنے بیٹے کو تلاش کرنا بند نہیں کیا۔
وقت کے ساتھ گوؤ صرف اپنے بیٹے کی تلاش کرنے والا باپ نہیں رہا بلکہ گمشدہ اور اغوا شدہ بچوں کے والدین کی مدد کرنے والا سرگرم کارکن بھی بن گیا۔ اس نے دوسرے خاندانوں کے کیسز شیئر کیے، معلومات جمع کرنے میں مدد کی اور گمشدہ بچوں کو والدین سے ملانے والی کوششوں میں حصہ لیتا رہا۔ اس کی جدوجہد اتنی مشہور ہوئی کہ بعد میں اس سے متاثر ہوکر Lost and Love نامی فلم بھی بنائی گئی۔
دوسری طرف گوؤ اور اس کی اہلیہ کے DNA نمونے چین کے انسدادِ اغوا ڈیٹا بیس میں محفوظ کیے جاچکے تھے، لیکن کئی سال تک کوئی میچ سامنے نہ آیا۔ اس لیے صرف DNA ڈیٹا بیس پر انحصار کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوا۔
اصل پیش رفت 2021 میں ہوئی، جب چین میں پرانے اور حل نہ ہونے والے بچوں کے اغوا کے مقدمات پر دوبارہ کام شروع کیا گیا۔ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور چہرے کی شناخت کے طریقوں کی مدد سے گوؤ کے بیٹے کی بچپن کی تصاویر کو ایسے بالغ افراد کے ریکارڈ سے ملانا شروع کیا جن کے چہرے کے خدوخال ممکنہ طور پر اس بچے سے مل سکتے تھے۔
اسی عمل کے دوران پولیس کی توجہ ہینان صوبے میں رہنے والے ایک 26 سالہ شخص پر گئی۔ اس شخص کی ظاہری خصوصیات اور دستیاب معلومات مشتبہ طور پر لاپتہ بچے سے مل رہی تھیں، مگر پولیس نے صرف شکل کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا۔
اس شخص کا DNA نمونہ حاصل کرکے اسے گوؤ گانگ اور اس کی اہلیہ کے DNA سے ملایا گیا۔ ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا اور تصدیق ہوگئی کہ یہی نوجوان 24 سال پہلے اغوا ہونے والا گوؤ کا بیٹا تھا۔ جس بچے کو اس کے والدین نے آخری بار دو سال کی عمر میں دیکھا تھا، وہ اب 26 سالہ نوجوان بن چکا تھا۔
پولیس نے اس کے بعد پرانے اغوا کی تحقیقات مزید آگے بڑھائیں اور تانگ اور ہُو کو گرفتار کیا۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ یہ دونوں بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث رہے تھے اور گوؤ کے بیٹے کو بھی اغوا کرکے فروخت کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس جوڑے کو دیگر بچوں کی اسمگلنگ کے معاملات سے بھی جوڑا۔
آخرکار 11 جولائی 2021 کو پولیس کے انتظام میں گوؤ گانگ اور اس کی اہلیہ کی اپنے بیٹے سے ملاقات ہوئی۔ 24 سال پہلے جو بچہ ان سے چھینا گیا تھا، وہ اب ایک جوان شخص بن کر ان کے سامنے کھڑا تھا۔ ماں نے اسے دیکھتے ہی گلے لگا لیا اور گوؤ بھی اپنے بیٹے سے لپٹ گیا۔
یہ صرف ایک گمشدہ بچے کے ملنے کی کہانی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے باپ کی 24 سالہ جدوجہد کا اختتام تھا جس نے تقریباً پانچ لاکھ کلومیٹر سفر کیا، دس موٹر سائیکلیں بدلیں، اپنی جمع پونجی خرچ کردی اور اپنی جوانی کا بڑا حصہ ایک ہی امید پر گزار دیا۔
آخرکار جدید پولیس ٹیکنالوجی نے ممکنہ بالغ چہرہ تلاش کیا، DNA نے شناخت ثابت کردی اور 24 سال بعد ایک باپ اپنے اغوا شدہ بیٹے کو دوبارہ گلے لگانے میں کامیاب ہوگیا۔