Pakistan Lawyers Forum

Pakistan Lawyers Forum Pakistan Lawyers Forum (PLF) is exclusively to discuss,share and debate any legal issues concerning

ستمبر 1997 میں چین کے صوبہ شینڈونگ میں گوؤ گانگ کا صرف دو سال پانچ ماہ کا بیٹا گھر کے باہر کھیل رہا تھا۔ تانگ نامی ایک خ...
19/08/2026

ستمبر 1997 میں چین کے صوبہ شینڈونگ میں گوؤ گانگ کا صرف دو سال پانچ ماہ کا بیٹا گھر کے باہر کھیل رہا تھا۔ تانگ نامی ایک خاتون نے بچے کو وہاں سے اغوا کیا، اور اپنے بوائے فرینڈ ہُو کے ساتھ بچے کو لے گئی اور بعد میں اسے ایک خاندان کو فروخت کردیا گیا۔

بیٹے کے غائب ہوتے ہی گوؤ گانگ کی زندگی بدل گئی۔ اس نے ابتدا میں مقامی سطح پر تلاش کی، لیکن کوئی سراغ نہ ملا تو اپنی نوکری چھوڑ دی۔ اس نے بیٹے کی تصویر، نام اور شناختی معلومات بڑے جھنڈوں اور پمفلٹس پر چھپوائیں، انہیں موٹر سائیکل کے ساتھ باندھا اور چین کے مختلف علاقوں میں خود اسے ڈھونڈنے نکل پڑا۔ وہ بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، شہروں، قصبوں اور دیہات میں لوگوں کو بیٹے کی تصویر دکھاتا اور ہر ممکن اطلاع کے پیچھے جاتا۔

گوؤ نے بیٹے کی شناخت کے لیے اس کی جسمانی نشانیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں بائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی پر موجود ایک خاص نشان شامل تھا، تاکہ اگر کسی نے اسے کہیں دیکھا ہو تو پہچاننے میں آسانی ہوسکے۔

یہ تلاش چند ماہ یا چند سال نہیں بلکہ پورے 24 سال جاری رہی۔ اس دوران گوؤ نے موٹر سائیکل پر تقریباً 5 لاکھ کلومیٹر کا سفر کیا، چین کے بیشتر صوبوں تک پہنچا اور تقریباً 10 موٹر سائیکلیں بدلیں۔ مسلسل سفر اور تلاش میں اس کی جمع پونجی خرچ ہوگئی اور وہ قرض میں بھی چلا گیا۔ کئی بار اسے حادثات اور خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس نے اپنے بیٹے کو تلاش کرنا بند نہیں کیا۔

وقت کے ساتھ گوؤ صرف اپنے بیٹے کی تلاش کرنے والا باپ نہیں رہا بلکہ گمشدہ اور اغوا شدہ بچوں کے والدین کی مدد کرنے والا سرگرم کارکن بھی بن گیا۔ اس نے دوسرے خاندانوں کے کیسز شیئر کیے، معلومات جمع کرنے میں مدد کی اور گمشدہ بچوں کو والدین سے ملانے والی کوششوں میں حصہ لیتا رہا۔ اس کی جدوجہد اتنی مشہور ہوئی کہ بعد میں اس سے متاثر ہوکر Lost and Love نامی فلم بھی بنائی گئی۔

دوسری طرف گوؤ اور اس کی اہلیہ کے DNA نمونے چین کے انسدادِ اغوا ڈیٹا بیس میں محفوظ کیے جاچکے تھے، لیکن کئی سال تک کوئی میچ سامنے نہ آیا۔ اس لیے صرف DNA ڈیٹا بیس پر انحصار کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوا۔

اصل پیش رفت 2021 میں ہوئی، جب چین میں پرانے اور حل نہ ہونے والے بچوں کے اغوا کے مقدمات پر دوبارہ کام شروع کیا گیا۔ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور چہرے کی شناخت کے طریقوں کی مدد سے گوؤ کے بیٹے کی بچپن کی تصاویر کو ایسے بالغ افراد کے ریکارڈ سے ملانا شروع کیا جن کے چہرے کے خدوخال ممکنہ طور پر اس بچے سے مل سکتے تھے۔

اسی عمل کے دوران پولیس کی توجہ ہینان صوبے میں رہنے والے ایک 26 سالہ شخص پر گئی۔ اس شخص کی ظاہری خصوصیات اور دستیاب معلومات مشتبہ طور پر لاپتہ بچے سے مل رہی تھیں، مگر پولیس نے صرف شکل کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا۔

اس شخص کا DNA نمونہ حاصل کرکے اسے گوؤ گانگ اور اس کی اہلیہ کے DNA سے ملایا گیا۔ ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا اور تصدیق ہوگئی کہ یہی نوجوان 24 سال پہلے اغوا ہونے والا گوؤ کا بیٹا تھا۔ جس بچے کو اس کے والدین نے آخری بار دو سال کی عمر میں دیکھا تھا، وہ اب 26 سالہ نوجوان بن چکا تھا۔

پولیس نے اس کے بعد پرانے اغوا کی تحقیقات مزید آگے بڑھائیں اور تانگ اور ہُو کو گرفتار کیا۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ یہ دونوں بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث رہے تھے اور گوؤ کے بیٹے کو بھی اغوا کرکے فروخت کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس جوڑے کو دیگر بچوں کی اسمگلنگ کے معاملات سے بھی جوڑا۔

آخرکار 11 جولائی 2021 کو پولیس کے انتظام میں گوؤ گانگ اور اس کی اہلیہ کی اپنے بیٹے سے ملاقات ہوئی۔ 24 سال پہلے جو بچہ ان سے چھینا گیا تھا، وہ اب ایک جوان شخص بن کر ان کے سامنے کھڑا تھا۔ ماں نے اسے دیکھتے ہی گلے لگا لیا اور گوؤ بھی اپنے بیٹے سے لپٹ گیا۔

یہ صرف ایک گمشدہ بچے کے ملنے کی کہانی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے باپ کی 24 سالہ جدوجہد کا اختتام تھا جس نے تقریباً پانچ لاکھ کلومیٹر سفر کیا، دس موٹر سائیکلیں بدلیں، اپنی جمع پونجی خرچ کردی اور اپنی جوانی کا بڑا حصہ ایک ہی امید پر گزار دیا۔

آخرکار جدید پولیس ٹیکنالوجی نے ممکنہ بالغ چہرہ تلاش کیا، DNA نے شناخت ثابت کردی اور 24 سال بعد ایک باپ اپنے اغوا شدہ بیٹے کو دوبارہ گلے لگانے میں کامیاب ہوگیا۔

14/08/2026
ایک عام سا موٹر سائیکل سوار اپنے راستے پر جا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر سڑک کنارے آگ کے شعلوں میں لپٹی ایک وین پر پڑی۔ ہ...
02/08/2026

ایک عام سا موٹر سائیکل سوار اپنے راستے پر جا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر سڑک کنارے آگ کے شعلوں میں لپٹی ایک وین پر پڑی۔ ہر طرف چیخ و پکار تھی، آگ تیزی سے پھیل رہی تھی اور اندر پھنسے مسافروں کی زندگیاں چند لمحوں کی مہمان لگ رہی تھیں۔

یہ شخص سندھ کے ضلع تھرپارکر سے تعلق رکھنے والا پاکستانی ہندو نوجوان کمار بھیل تھا۔ اس نے ایک لمحے کی بھی دیر کیے بغیر اپنی موٹر سائیکل روکی اور اپنی جان کی پروا کیے بغیر جلتی ہوئی وین کی طرف دوڑ پڑا۔

وین کے دروازے اور کھڑکیاں بند تھیں، اس لیے کمار بھیل نے کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے اور ایک ایک کر کے مسافروں کو باہر نکالنا شروع کر دیا۔ آگ اور دھوئیں کے باوجود وہ مسلسل لوگوں کی جان بچانے میں مصروف رہا۔ اس کی بہادری کی بدولت تقریباً 18 افراد، جن میں تین خواتین ڈاکٹرز بھی شامل تھیں، محفوظ باہر آ گئے۔ اگر وہ چند لمحے بھی تاخیر کر دیتا تو یہ حادثہ ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہو سکتا تھا۔

کچھ افراد اس واقعے میں زخمی ضرور ہوئے، مگر کمار بھیل کی بروقت کارروائی نے انہیں زندہ رہنے کا موقع دیا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگ اس کی جرات کو سلام پیش کرتے رہے اور اسے “ریئل لائف ہیرو” قرار دیا گیا۔

کریم اسد احمد خان (پیدائش: 30 مارچ 1970) ایک برطانوی وکیل ہیں، جنہوں نے 2021 سے 2026 تک بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC)...
25/07/2026

کریم اسد احمد خان (پیدائش: 30 مارچ 1970) ایک برطانوی وکیل ہیں، جنہوں نے 2021 سے 2026 تک بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے چیف پراسیکیوٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ بین الاقوامی فوجداری قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے ماہر ہیں۔

20 مئی 2024 کو، کریم خان نے اعلان کیا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو، اسرائیل کے وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ، اور حماس کے رہنماؤں یحییٰ السنوار، محمد الضیف، اور اسماعیل ہنیہ کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔

نومبر 2024 میں، آئی سی سی نے نیتن یاہو، گیلنٹ اور محمد الضیف کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔ اسی ماہ میانمار کی فوجی حکومت کے سربراہ من آنگ ہلائنگ کے خلاف بھی گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست دائر کی گئی۔

فروری 2025 میں، امریکہ کے محکمۂ خزانہ نے کریم خان پر پابندیاں عائد کر دیں، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے سلسلے میں نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف وارنٹ جاری کرنے پر آئی سی سی کے حکام پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان امریکی پابندیوں کے نتیجے میں مائیکروسافٹ نے کریم خان کے سرکاری ای میل اکاؤنٹ تک ان کی رسائی بند کر دی، جس کے بعد آئی سی سی نے اپنا ڈیجیٹل نظام ایک اوپن سورس متبادل پر منتقل کر دیا۔

جولائی 2026 میں، آئی سی سی کے 125 رکن ممالک میں سے 82 ممالک نے ان کی برطرفی کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد کریم خان کو باضابطہ طور پر چیف پراسیکیوٹر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

Advocate idress Alvi Bhai or Advocate Suleman Bhai ko 2023 ki ek Jhooti FIR me  Namzad Kar k korangi me show kardia gya ...
26/06/2026

Advocate idress Alvi Bhai or Advocate Suleman Bhai ko 2023 ki ek Jhooti FIR me Namzad Kar k korangi me show kardia gya hai.

یہ محترمہ خواجہ آصف صاحب کی بھانجی خواجہ شیزا صاحبہ ہیں اور وفاقی وزیر آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن ہیں۔ انہوں نے سینیٹ می...
20/06/2026

یہ محترمہ خواجہ آصف صاحب کی بھانجی خواجہ شیزا صاحبہ ہیں اور وفاقی وزیر آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن ہیں۔ انہوں نے سینیٹ میں ایک بل پیش کیا ہے، اس بل کی شق کے مطابق اگر کوئی کمیونیکشن کمپنی آپ کے گھر، پلاٹ یا کھیت پر ٹاور لگانا چاہے تو وہ صرف 30 دن کا نوٹس تھما دے گی۔ نہ معاوضے کا ذکر، نہ مشاورت، اور اگر آپ نے انکار کیا تو جرمانہ تیار ہے 5 کروڑ روپے تک۔
سادہ مطلب یہ نکلا زمین آپ کی، فیصلہ کسی اور کا، اور قیمت بھی آپ ہی چکائیں۔ “NO” کہنے کا حق اب کہیں دب گیا ہے۔
قانون کی بنیاد یہ ہونی چاہیے کہ ریاست سڑک، اسکول یا ہسپتال جیسے سچے عوامی مقصد کے لیے زمین لے سکتی ہے، مگر مالک کو منصفانہ معاوضہ ملے اور عدالت میں سوال اٹھانے کا حق رہے۔ لیکن جب بل میں “انکار پر جرمانہ” بولڈ ہو جائے، تو یہ عوامی فلاح نہیں رہتی۔ یہ جبر ہے، بغیر رضامندی، پریشر کے ذریعے زمین چھین لینا اور جب قانون خود مالک سے “NO” کہنے کا حق چھین لے، تو وہ قانون نہیں رہتا، بلکہ اشرافیہ کے لیے عوامی زمینوں پر قبضے کا آئینی راستہ بن جاتا ہے۔

سی سی ڈی کو لگا کہ ڈاکو ہیں، مطلب ”لگا کہ ڈاکو ہیں“ تو گولیوں کی بوچھاڑ کردی، وہ تو حسب روایت بعد میں پتہ چلا کہ ڈاکو نہ...
14/06/2026

سی سی ڈی کو لگا کہ ڈاکو ہیں، مطلب ”لگا کہ ڈاکو ہیں“ تو گولیوں کی بوچھاڑ کردی، وہ تو حسب روایت بعد میں پتہ چلا کہ ڈاکو نہیں بلکہ پاکستان میں چند روز گزارنے آسٹریلیا سے آئی ہوئی فیملی ہے، بدقسمتی سے ایک نو دس سالہ بچی جاں بحق اور والدین زخمی ہوگئے۔

اب لاکھ بار معطل کرو، نوکری سے نکال دو، انکوائریاں کرو، کیا ہوسکتا ہے۔۔۔؟؟؟ کیا بچی کی زندگی واپس آسکتی ہے۔۔۔؟؟؟

ذرا اس لمحے کو سوچیں جب انتہائی سکون کے عالم میں بچی اپنے والد کے ساتھ گاڑی میں سوار سفر کر رہی ہوگی اور یکایک پیچھے سے فائرنگ شروع ہوجاتی ہے، بچی نے یقیناً سوچا ہوگا کہ کوئی گیم چل رہی ہے مگر جب گولی نے اس کے نازک جسم کو چھوا ہوگا، اس بچی نے اپنے جسم سے فوارے مارتا خون دیکھا ہوگا تب مجھے یقین ہے کہ بچی نے سوالیہ نظروں سے باپ کو دیکھنے کی ضرور کوشش کی ہوگی کہ بابا یہ کیا ہے۔۔۔؟؟؟

یہ کیسی کھلی چھوٹ ہے کہ پہلے گولی مارو بعد میں پتہ چلےگا کہ مجرم تھے یا نہیں۔۔۔؟؟؟

کراچی والوں آپ کی آسانی کہ لئے یہ چارٹ بنایا ہے اس میں موجود ایریاز اور آس پاس کہ علاقے اپنے اپنے ڈسٹرکٹ زون میں آتے ہیں...
01/04/2026

کراچی والوں آپ کی آسانی کہ لئے یہ چارٹ بنایا ہے اس میں موجود ایریاز اور آس پاس کہ علاقے اپنے اپنے ڈسٹرکٹ زون میں آتے ہیں !

یا اللّٰہ پاک ماہ رمضان کے صدقے ڈاکٹر عبد القدیر خان کے درجات بلند فرما ڈاکٹر عبد القدیر خان کو جنت الفردوس میں اعلی مقا...
10/03/2026

یا اللّٰہ پاک ماہ رمضان کے صدقے ڈاکٹر عبد القدیر خان کے درجات بلند فرما ڈاکٹر عبد القدیر خان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام انہی فرما کمنٹ میں آمین ضرور لکھیں

آج ہم ڈاکٹر عبد القدیر خان کی وجہ سے پوری دنیا کے سامنے سینہ تان کہ کھڑے ہیں آج دشمن پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے 1000 بار سوچتا ہوگا

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Lawyers Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share