Sai Law Associates

Sai Law Associates Your one-stop solution for all your legal needs in Karachi! 📜⚖️

18/01/2026

⚖️ اہم عدالتی فیصلہ – چیک ڈس آنر (489-F PPC) میں ضمانت کے اصول واضح

سندھ ہائی کورٹ کراچی نے
Bail Application No. 2370/2025
Zeeshan Uddin vs The State
میں ایک نہایت اہم اور رہنما اصولوں پر مبنی فیصلہ دیا ہے، جو چیک ڈس آنر کے مقدمات میں ضمانت (Bail) کے قوانین کو واضح کرتا ہے۔

🔹 کیس کا خلاصہ:
درخواست گزار پر الزام تھا کہ اس نے تقریباً 1 کروڑ 81 لاکھ روپے کا چیک دیا جو ڈس آنر ہوگیا، جس پر FIR دفعہ 489-F PPC کے تحت درج کی گئی۔ ملزم کی ضمانت مجسٹریٹ اور سیشن کورٹ سے مسترد ہوچکی تھی، بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

🔹 عدالت نے کن قانونی نکات پر غور کیا؟

1️⃣ FIR میں تاخیر:
چیک ڈس آنر ہونے اور FIR کے اندراج میں تقریباً ایک ماہ سے زائد کی غیر واضح تاخیر پائی گئی، جس کی کوئی تسلی بخش وضاحت ریکارڈ پر موجود نہیں تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کاروباری معاملات میں ایسی تاخیر استغاثہ کے مؤقف کو کمزور کرتی ہے۔

2️⃣ قابلِ نفاذ قانونی ذمہ داری (Legally Enforceable Liability):
عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 489-F کا بنیادی جزو یہ ہے کہ چیک کسی قانونی اور قابلِ نفاذ واجب الادا رقم کے بدلے دیا گیا ہو۔
اس مقدمے میں کروڑوں روپے کی مبینہ کاروباری لین دین کے باوجود:

کوئی تحریری معاہدہ

کوئی انوائس

کوئی بلٹی یا ڈیلیوری ثبوت

کوئی اکاؤنٹنگ ریکارڈ
ریکارڈ پر موجود نہیں تھا، جو استغاثہ کے مؤقف کو مشکوک بناتا ہے۔

3️⃣ سیکیورٹی / خالی چیک کا دفاع:
ملزم کا مؤقف تھا کہ چیک بطور سیکیورٹی دیا گیا تھا اور اسے غلط استعمال کیا گیا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ملزم نے FIR سے پہلے ہی متعلقہ درخواستیں اور شکایات دی تھیں، جس سے یہ دفاع بعد از گرفتاری گھڑا ہوا مؤقف ثابت نہیں ہوتا۔

4️⃣ دیوانی تنازعہ کو فوجداری رنگ دینا:
عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں واضح کیا کہ دفعہ 489-F کو رقم کی وصولی کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا، خاص طور پر جب اصل لین دین ہی متنازع ہو۔

5️⃣ غیر ممنوعہ جرم (Non-Prohibitory Offence):
چونکہ دفعہ 489-F کی زیادہ سے زیادہ سزا 3 سال ہے، اس لیے یہ جرم 497 CrPC کے ممنوعہ زمرے میں شامل نہیں۔
ایسے مقدمات میں اصولی طور پر ضمانت حق ہے اور جیل استثنا۔

6️⃣ Further Inquiry (دفعہ 497(2) CrPC):
عدالت نے قرار دیا کہ:

FIR میں غیر واضح تاخیر

بنیادی کاروباری دستاویزات کا فقدان

دفاع کا بادی النظر میں قابلِ غور ہونا
ان تمام وجوہات کی بنا پر مقدمہ Further Inquiry کے زمرے میں آتا ہے، جہاں ضمانت دی جاتی ہے۔

🔹 عدالتی نتیجہ:
سندھ ہائی کورٹ نے ملزم کو
✔️ 10 لاکھ روپے کے مچلکوں
✔️ ذاتی ضمانت
پر بعد از گرفتاری ضمانت دے دی، اور واضح کیا کہ یہ مشاہدات صرف ضمانت تک محدود ہیں اور ٹرائل پر اثرانداز نہیں ہوں

📌 اہم پیغام:
ہر چیک ڈس آنر کا مقدمہ خودکار طور پر فوجداری جرم نہیں بنتا۔
اگر اصل لین دین مشکوک ہو، دستاویزی ثبوت موجود نہ ہوں اور معاملہ دیوانی نوعیت کا ہو تو ضمانت ایک مضبوط قانونی حق ہے۔

⚖️ قانون کو سمجھیں، قانون کے مطابق جدوجہد کریں۔

15/01/2026

وکیلوں کی جرح
(Cross-Examination) کی 3 مخصوص ٹرکس

وکیل جرح کے دوران گواہوں سے اپنی مرضی کی بات نکلوانے کے لیے کچھ خاص تکنیک استعمال کرتے ہیں۔ ذیل میں ایسی 3 طاقتور ٹرکس کی وضاحت دی گئی ہے:
1. واضح "ہاں" والی تکنیک (The Obvious "Yes" Technique)
اس تکنیک میں آپ گواہ سے ایسے عمومی سوالات پوچھتے ہیں جن کا جواب لازمی طور پر "ہاں" ہوتا ہے۔ جب وہ مسلسل تین چار بار "ہاں" کہہ دیتا ہے، تو ایک نفسیاتی بہاؤ بن جاتا ہے، جس کے بعد آپ اپنا اصل سوال پیش کرتے ہیں۔
*مثال: کار حادثے کے کیس میں اگر گواہ ایک ہاتھ سے گاڑی چلا رہا تھا، تو وکیل براہ راست یہ نہیں پوچھے گا کہ "کیا دو ہاتھوں سے گاڑی چلانا بہتر نہیں تھا؟"
اس کے بجائے وہ مرحلہ وار پوچھے گا:
کیا آپ مانتے ہیں کہ گاڑی احتیاط سے چلانی چاہیے؟ (جواب: جی ہاں)
کیا آپ مانتے ہیں کہ ڈرائیور کو اردگرد کے ماحول سے باخبر رہنا چاہیے؟ (جواب: جی ہاں)
کیا آپ مانتے ہیں کہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے؟ (جواب: جی ہاں)
اصل سوال: تو کیا آپ اتفاق نہیں کریں گے کہ حادثے کے وقت ایک کے بجائے دو ہاتھوں سے اسٹیئرنگ پکڑنا زیادہ محفوظ ہوتا؟
2. ناگوار خاموشی کی تکنیک (The Uncomfortable Silence Technique)
انسان فطرتی طور پر خاموشی کو ناپسند کرتا ہے اور اسے کسی نہ کسی بات سے پر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وکیل گواہ سے سوال پوچھتا ہے، گواہ مختصر جواب دیتا ہے، لیکن وکیل فوراً اگلا سوال پوچھنے کے بجائے خاموش ہو کر گواہ کی طرف دیکھتا رہتا ہے جیسے وہ مزید کچھ سننے کا منتظر ہو۔
مثال: وکیل پوچھتا ہے: "آپ حادثے کے وقت ایک ہاتھ سے گاڑی کیوں چلا رہے تھے؟"
گواہ: "مجھے ٹھیک سے یاد نہیں۔"
خاموشی: وکیل کچھ نہیں بولتا اور صرف دیکھتا رہتا ہے۔
گواہ (خاموشی توڑنے کے لیے): "ویسے... میری دائیں بازو میں تھوڑی تکلیف تھی، شاید اس لیے۔"
3. تشبیہ یا اینالوجی کی تکنیک (The Analogy Technique)
اس میں آپ گواہ کو ایک ایسی صورتحال (Context) میں کسی بات پر قائل کرتے ہیں جو آپ کے کیس سے ملتی جلتی ہو لیکن اس کا براہ راست کیس سے تعلق نہ ہو، اور پھر اسے کیس کی طرف موڑ دیتے ہیں۔
مثال: وکیل گواہ سے پستول چلانے کے بارے میں پوچھتا ہے:
کیا پستول ایک ہاتھ سے چلائی جا سکتی ہے؟ (جواب: جی ہاں)
کیا دو ہاتھوں سے نشانہ زیادہ بہتر ہوتا ہے؟ (جواب: بالکل)
کیا دو ہاتھوں سے پستول پکڑنا زیادہ محفوظ نہیں ہے؟ (جواب: جی ہاں، محفوظ ہے)
* کیس کی طرف موڑنا: تو کیا آپ اتفاق نہیں کریں گے کہ اسی طرح گاڑی چلاتے وقت بھی ایک کے بجائے دو ہاتھ استعمال کرنا زیادہ محفوظ تھا؟
عملی مشق: جرح (Cross-Examination Exercise)
کیس کا منظرنامہ:
ایک شخص (مسٹر "الف") پر الزام ہے کہ وہ سیڑھیوں سے گرنے کی وجہ سے زخمی ہوا، اور اس نے کمپنی پر کیس کیا ہے کہ سیڑھیاں گیلی تھیں اور وہاں کوئی "احتیاطی بورڈ" نہیں تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسٹر "الف" گرنے کے وقت اپنے موبائل فون پر میسج کر رہے تھے۔
طلبہ کے لیے ٹاسک:
آپ کو مسٹر "الف" (گواہ) سے جرح کرنی ہے اور اوپر بیان کی گئی تینوں تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہے کہ حادثہ ان کی اپنی غفلت کی وجہ سے ہوا۔
حصہ اول: واضح "ہاں" والی تکنیک (The Obvious "Yes")
ہدایت: ایسے سوالات لکھیں جن کا جواب گواہ صرف "ہاں" میں دے سکے:
م سوال 1: کیا آپ مانتے ہیں کہ کسی بھی دفتر میں چلتے وقت احتیاط لازمی ہے؟
سوال 2: کیا آپ اتفاق کریں گے کہ سیڑھیوں کا استعمال کرتے وقت نظریں سامنے ہونی چاہئیں؟
سوال 3: کیا آپ مانتے ہیں کہ کام کے دوران اپنی حفاظت کی ذمہ داری ملازم پر بھی ہوتی ہے؟
حتمی سوال: تو کیا آپ اتفاق کریں گے کہ سیڑھیوں پر چلتے وقت موبائل فون استعمال کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ عمل ہے؟
حصہ دوم: ناگوار خاموشی کی تکنیک (The Uncomfortable Silence)
ہدایت: نیچے دیے گئے مکالمے کو مکمل کریں:
وکیل: مسٹر الف، آپ نے گرنے سے ٹھیک 10 سیکنڈ پہلے کس کو میسج بھیجا تھا؟
گواہ: میں نے تو کوئی میسج نہیں بھیجا۔
(خاموشی): وکیل خاموشی سے گواہ کی آنکھوں میں دیکھتا رہتا ہے اور 10 سیکنڈ تک کچھ نہیں بولتا۔
گواہ (خاموشی سے گھبرا کر): ............................................................................
حصہ سوم: تشبیہ یا اینالوجی کی تکنیک (The Analogy)
ہدایت: اصول کو لاگو کریں:
وکیل: کیا آپ سڑک پار کرتے وقت اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر چلیں گے؟
گواہ: بالکل نہیں، یہ تو خودکشی کے برابر ہے۔
وکیل: کیوں؟
گواہ: کیونکہ سڑک پار کرتے وقت سامنے دیکھنا ضروری ہے تاکہ حادثہ نہ ہو۔
وکیل (اینالوجی کا استعمال): اگر سڑک پر سامنے دیکھنا لازمی ہے، تو کیا سیڑھیوں پر چلتے ہوئے فون پر دیکھنا اتنا
ہی خطرناک نہیں جتنا پٹی باندھ کر سڑک پار کرنا؟

15/01/2026






13/01/2026

2025 YLR 2433

Section 540-A, Cr.P.C., mandated and allowed a Court to dispense with personal attendance of an accused if he was represented by a pleader and there were multiple accused, or if the accused was incapable of appearing before Court---In view of said provisions of law, Trial Court was justified to make an order in respect of acquittal of said accused/respondent in absentia, when otherwise, on the available record, no prima facie case was made-out against him, even if he would have been forced to face a full-fledged trial before Trial Court---More particularly, when on the same set of evidence, other nominated accused/respondents had earned a honourable acquittal during trial proceedings.

Heartiest congratulations to all the Honorable Judges of  Sindh High Court  on their confirmation and extension by the J...
13/01/2026

Heartiest congratulations to all the Honorable Judges of Sindh High Court on their confirmation and extension by the Judicial Commission of Pakistan..

09/01/2026

ہائی کوٹ نے نابالغ بیٹا کس کے حوالے کیا؟
گارڈین جج نے بیٹا باپ کے حوالے کیا
لیکن اپیلٹ کوٹ نے بیٹا ماں کے حوالے کر دیا Custody of minor son / Guardian court / welfare of minor
PLD 2003 SC 877
2025 MLD 401
2025 LHC 8135
2025 YLR 2669

----S. 25---Petition for custody filed by the father--Custody of minor---Right of father---Scope-
-Mother not re-marrying---Effect---Welfare of minor--Appellate Court set-aside order passed by Guardian Court giving findings that when a mother does not get remarried then hardly any scope is left for the father to retain custody of a child of a tender age---Validity --Record reveals that the Guardian Court, after going through the relevant record and discussing in detail each and every aspect of the matter, including welfare of the minor, allowed the petition filed by petitioner / father by chalking out a schedule for meeting of the minor with the mother, however, on appeal preferred by the respondent/mother, the Appellate Court set-aside the said order of the Guardian Court---Petitioner/father produced sufficient documentary evidence in the shape of his affidavit, proof of salary, school fee card, photos of minor whereas the respondent / mother had only tendered (got exhibited) one document in her evidence, i.e. school certificate of the minor---Admittedly, the petitioner/ father is serving as a Quran teacher at a reputed school and he is looking after his son/minor in a better way with improved lifestyle and higher quality of life, as is evident from the (exhibited)pictures, whereas the respondent/mother is residing in a village---Thus, the findings given by the Appellate Court are wrong that when a mother does not get remarried then hardly any scope is left for the father to retain custody of a child of a tender age---Paramount consideration in custody of a minor is the welfare of the minor and nothing else---Guardian Court has only/strictly considered the welfare of the minor in light of the documentary evidence produced by the petitioner/father, while dealing with the matter---High Court set-aside the impugned judgment passed by the Appellate/ District Court, being not sustainable in the eye of law---Constitutional petition, filed by father, was allowed, in circumstances.
Mst. Seema Chaudhry and another v. Ahsan Ashraf Sheikh and others PLD 2003 SC 877
and Irfan Arshad v. Mst. Zainab Noor and 2 others 2025 MLD 401 ref

Your one-stop solution for all your legal needs in Karachi! 📜⚖️

08/01/2026

PLD 2025 SC 1039

S. 5, Sched.---Constitution of Pakistan, Arts. 33, 34 & 35---Family dispute---Recovery of dower, dowry article and maintenance---Misuse of judicial process---Dignity of women---Scope---Husband disputing status of wife as a 'female' in all fora below and claiming she was unfit to bear children-Petitioner /husband assailed judgment pertaining to recovery of dower, dowery articles and maintenance by respondent/wife---Validity---Women in our society constitute a vulnerable group, whose dignity requires vigilant protection and care---Courts cannot be passive venues for perpetuation of social prejudices that harm women and subject them to one trauma after the other
Supreme Court imposed cost of Rs.500,000/- against petitioner/husband to be paid to respondent/wife, primarily as an expression of strong disapproval of Supreme Court towards misuse of judicial process by the petitioner/husband to inflict gratuitous humiliation upon respondent/wife

Your one-stop solution for all your legal needs in Karachi! 📜⚖️

08/01/2026

سوال: قانون میں Provided that سے کیا مراد ہوتی ہے؟

جواب: Provided that سے مراد ہوتی ہے کہ (فقرہ شرطیہ) ۔۔۔۔۔جیسے بچہ اسکول میں پہلی کلاس میں لازمی طور پر داخل کروانا ہوگا لیکن Provided that فقرہ شرطیہ یہ ہے کہ بچہ کی عمر 5 سے 6 سال ہوگی، تو اس کو پہلی کلاس میں داخلہ ملے گا ۔۔۔▬ یعنی قانون کا سیکشن اگرچہ بہت کچھ بیان کررہا ہوگا، لیکن وہ فقرہ شرطیہ Provided that سے مشروط ہوگا بصورت دیگر دفعہ قانون پر عمل درآمد نہ ہوسکے گا

Your one-stop solution for all your legal needs in Karachi! 📜⚖️

07/01/2026

⚖️ اہم قانونی حقائق جو سب کو معلوم ہونے چاہئیں ⚖️
1️⃣ ہر شخص کو انصاف کا حق حاصل ہے۔
2️⃣ زندگی اور آزادی کا تحفظ سب کا بنیادی حق ہے۔
3️⃣ اپنی چیزیں بیچنے یا رکھنے کا حق ہر شخص کے پاس ہے۔
4️⃣ قانون کی پابندی سب پر لازم ہے۔
5️⃣ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
6️⃣ معاہدے (Contracts) کی پاسداری قانونی طور پر لازم ہے۔
7️⃣ فوجداری اور دیوانی کیسز میں فرق جاننا ضروری ہے۔
8️⃣ عدالت میں صرف ثبوت (Evidence) کے ساتھ بات قابل قبول ہے۔
9️⃣ چوری یا ہراسانی کی صورت میں FIR درج کروانا ضروری ہے۔
🔟 اپنے اہم دستاویزات محفوظ رکھیں۔
💡 یاد رکھیں: آپ کے حقوق اور ذمہ داریاں دونوں برابر اہم ہیں۔

07/01/2026

انصاف کا حق:
ہر شخص کو عدالت میں اپنا حق لینے کا پورا حق ہے۔ کوئی بھی بغیر وجہ کے سزا یا نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

·  فوجداری اور دیوانی کارروائیاں ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ دیوانی مقدمے کی سماعت کا فوجداری کارروائی کو روکنے کیلیے کوئی جوا...
05/01/2026

· فوجداری اور دیوانی کارروائیاں ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ دیوانی مقدمے کی سماعت کا فوجداری کارروائی کو روکنے کیلیے کوئی جواز نہیں ہے۔
· غیرقانونی قبضہ ایکٹ ۲۰۰۵ کی دفعہ ۳ کے تحت کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے جو کسی قانونی مالک یا قابض سے جائیداد کا غیرقانونی قبضہ، کنٹرول یا غصب کرے۔ یہ صرف پیشہ ور زمین غاصبوں تک محدود نہیں ہے۔
· قانون "قانونی مالک" اور "قانونی قابض" دونوں کو تحفظ دیتا ہے۔ قانونی مالکیت (ٹائٹل) کی عدم موجودگی میں بھی قانونی قبضہ (جیسے لیز، سیل ایگریمنٹ وغیرہ کے تحت) تحفظ کا مستحق ہے۔
· عام اصول ہے کہ "قبضہ مالکیت کی پیروی کرتا ہے" (Possession follows title)۔ یعنی جائیداد کا قبضہ قانونی مالک کے پاس ہونا چاہیے، سوائے اس کے کہ کوئی ثابت کر دے کہ وہ طویل اور مسلسل قبضے (Adverse Possession) کے ذریعے حق رکھتا ہے۔
اپیل کی کوئی قانونی حیثیت نہیں پائی گئی۔ لہٰذا، اپیل
مسترد کر دی جاتی ہے

Address

Suit No 202, Al Mehmood Trade Center, Near City Court Gate No. 2
Karachi

Opening Hours

Monday 09:15 - 15:15
16:15 - 09:15
Tuesday 09:15 - 15:15
16:15 - 09:15
Wednesday 09:15 - 15:15
16:15 - 09:15
Thursday 09:15 - 15:15
16:15 - 09:15
Friday 09:15 - 15:15
16:15 - 09:15
Saturday 09:15 - 15:15
16:15 - 09:15

Telephone

+923118055266

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sai Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sai Law Associates:

Share