05/05/2026
*وراثت میں دوسرے وارثوں کا حق کھانا*
اسلام میں *کبیرہ گناہ* ہے۔ یہ یتیم کا مال کھانے اور ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔
*1. قرآن مجید کیا کہتا ہے*
*سورۃ النساء، آیت 10:*
إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا
*ترجمہ*: "بے شک جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔"
*سورۃ النساء، آیت 7:*
لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ
*ترجمہ*: "مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ جائیں، اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے۔"
*سورۃ النساء، آیت 14:*
وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا
*ترجمہ*: "اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدوں سے آگے بڑھے تو اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔"
یہ آیت وراثت کے احکام بیان کرنے کے فوراً بعد آئی ہے۔ یعنی وراثت میں حد سے بڑھنا جہنم کا سبب ہے۔
*سورۃ الفجر، آیت 19-20:*
وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَمًّا، وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا
*ترجمہ*: "اور تم میراث کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو، اور مال سے بے حد محبت کرتے ہو۔"
اللہ نے اسے برے لوگوں کی صفت بتایا۔
*2. احادیث مبارکہ کیا کہتی ہیں*
1. *صحیح بخاری*: نبی ﷺ نے فرمایا:
"سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو"۔ صحابہ نے پوچھا وہ کون سے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق قتل، *یتیم کا مال کھانا*، سود کھانا، جنگ سے بھاگنا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا۔"
2. *سنن ابو داؤد*: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے کسی وارث کو اس کی میراث سے محروم کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جنت کی میراث سے محروم کر دے گا۔"
3. *مسند احمد*: آپ ﷺ نے فرمایا:
"ایک بالشت زمین بھی جو کوئی ظلم سے لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔"
وراثت کی زمین دبانا بھی اس میں شامل ہے۔
4. *طبرانی*: نبی ﷺ نے فرمایا:
"وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا جو حرام سے پلا ہو۔ آگ اس کی زیادہ حقدار ہے۔"
*3. کن صورتوں میں حق مارا جاتا ہے؟*
1. *بہنوں کو حصہ نہ دینا*: کہتے ہیں "شادی کر دی، اب حصہ کیسا" - یہ صریح حرام ہے
2. *یتیم بھتیجے/بھانجے کا حصہ کھا جانا*
3. *ماں کو حصہ نہ دینا*: ماں کا 1/6 یا 1/8 حصہ مقرر ہے
4. *وصیت کا بہانہ بنا کر*: 1/3 سے زیادہ وصیت یا وارث کے حق میں وصیت باطل ہے
5. *جائیداد چھپا لینا*: کاغذات اپنے نام کروا لینا
6. *تقسیم میں تاخیر*: سالوں تک بٹوارہ نہ کرنا تاکہ دوسرے مجبور ہو جائیں
*4. اس گناہ کا انجام*
1. *دنیا میں*: برکت ختم، اولاد نافرمان، بیماریاں، مقدمے
2. *قبر میں*: پیٹ میں آگ بھر دی جائے گی
3. *آخرت میں*: جہنم، جنت سے محرومی، نماز روزہ قبول نہیں
*5. توبہ کا طریقہ*
صرف استغفار کافی نہیں کیونکہ یہ "حقوق العباد" ہے۔
1. *مال واپس کرنا*: جس کا جتنا حق بنتا تھا، وہی چیز یا آج کی قیمت واپس کریں
2. *معافی مانگنا*: جس کا حق کھایا اس سے معافی
3. *اگر وارث فوت ہو گیا*: اس کی اولاد کو دیں، وہ بھی نہ ہوں تو صدقہ کر دیں
4. *سچی توبہ*: آئندہ نہ کرنے کا پکا ارادہ
*خلاصہ*: وراثت اللہ کی تقسیم ہے۔ اس میں ردوبدل کرنا اللہ کے قانون کو چیلنج کرنا ہے۔ جو بھائی بہنوں، ماں، بیوی، بیٹی کا حق کھاتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔ دنیا کے 2-4 مرلے کے لیے آخرت برباد نہ کریں۔
اگر آپ کے خاندان میں یہ مسئلہ ہے تو کسی عالم یا دارالافتاء سے رجوع کریں اور شریعت کے مطابق تقسیم کروائیں۔
تحریر:
محمد وسیم الدین عابد شیخ
سئنیر وکیل ہائیکورٹ سندھ
ایٹ کراچی