Pakistan Legal Solutions

Pakistan Legal Solutions Pakistan Legal Solutions – Connecting you with trusted lawyers across Pakistan. Secure, professional, and result-driven legal services.

https://wa.me/923334000184

📞 0333-4000184

ایک وکیل یہ بھی ثابت کر سکتا ہے کہ…کہ ہزار سال سے اکٹھے رہنے والے ہندو اور مسلمان،اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے۔تاریخ صرف واقعا...
15/08/2026

ایک وکیل یہ بھی ثابت کر سکتا ہے کہ…

کہ ہزار سال سے اکٹھے رہنے والے ہندو اور مسلمان،
اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے۔

تاریخ صرف واقعات کا نام نہیں،
بلکہ ان واقعات کی تشریح بھی ہوتی ہے۔
اور کبھی کبھی ایک ہی تاریخ کو مختلف لوگ اپنے اپنے مفاد اور نظریے کے مطابق پیش کرتے ہیں۔

ماضی کو سمجھنا ضروری ہے، مگر نفرت کو وراثت بنانا ضروری نہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ سے سبق لیا جائے،
لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے امن، برداشت اور انسانیت کی بات کی جائے۔

اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر تاریخ کو نفرت کا ہتھیار نہیں بنانا چاہیے۔

13/08/2026

🏠 PROPERTY KHAREEDNE SE PEHLE YEH VIDEO ZAROOR DEKHEIN! ⚠️

Property khareedna zindagi ki badi investment hoti hai—sirf seller ki baat par bharosa karna aapko crores ke fraud ka shikar bana sakta hai. 😟

📌 Bayana dene ya payment karne se pehle property ke tamam documents concerned/relevant department se verify karwain.
📌 Ownership, title, record, mutation aur legal status ki proper verification zaroori hai.
📌 “Pehle payment, baad mein verification” — yeh ghalti mehngi par sakti hai!

⚖️ Qualified lawyer se legal due diligence karwana aapki investment ko protect kar sakta hai.

🎥 Video dekhein aur family & friends ke sath SHARE karein — aapki ek share kisi ko property fraud se bacha sakti hai! ❤️

📲 Legal Consultation / Assistance:
WhatsApp: 03334000184
Website: www.paklegalsolutions.com

Save ✅ | Share 🔄 | Follow ➕

⚖️ Civil Judge & Judicial Magistrate Interview — Comprehensive Preparation GuideJudicial Service Interview کی تیاری کرنے...
08/08/2026

⚖️ Civil Judge & Judicial Magistrate Interview — Comprehensive Preparation Guide

Judicial Service Interview کی تیاری کرنے والے تمام Law Graduates & Aspiring Judicial Officers کے لیے ایک اہم رہنمائی۔ 👨‍⚖️📚

اگر آپ Civil Judge & Judicial Magistrate کے انٹرویو کی تیاری کر رہے ہیں تو صرف کتابی علم کافی نہیں، بلکہ Legal Knowledge, Current Affairs, Court Procedure, Confidence & Communication Skills بھی انتہائی اہم ہیں۔

🔹 اہم تیاری کے شعبے:
• Civil & Criminal Law
• Constitution of Pakistan
• Civil Procedure Code (CPC)
• Criminal Procedure Code (Cr.P.C.)
• Pakistan Penal Code (PPC)
• Qanun-e-Shahadat Order
• Family & Special Laws
• Judicial Ethics & Conduct
• Current Legal Developments
• General Knowledge & Current Affairs

🎯 Expected Interview Questions

انٹرویو میں بنیادی قانونی تصورات، عملی عدالتی صورتحال، قانونی دفعات، Case Law، Judicial Conduct اور مختلف hypothetical situations سے متعلق سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔

💡 Interview Strategy:
✅ سوال کو غور سے سنیں اور مختصر و واضح جواب دیں۔
✅ اگر جواب معلوم نہ ہو تو غلط جواب دینے کے بجائے مؤدبانہ انداز اپنائیں۔
✅ Legal concepts کو practical examples کے ساتھ سمجھیں۔
✅ Confidence کے ساتھ professional body language برقرار رکھیں۔
✅ اہم تازہ عدالتی فیصلوں اور قانونی developments سے باخبر رہیں۔

📌 Essential Tip:

Judicial Interview صرف آپ کے Legal Knowledge کا امتحان نہیں بلکہ آپ کی Judicial Temperament, Analytical Thinking, Integrity, Confidence اور Decision-Making Ability کو بھی جانچنے کا اہم مرحلہ ہے۔

📚 محنت + مطالعہ + Practice = کامیابی

اپنے ان دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ یہ پوسٹ Share کریں جو Judicial Service Examination یا Interview کی تیاری کر رہے ہیں۔ 🤝

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

⚖️ Pakistan Legal Solutions
🌐 Website: www.paklegalsolutions.com
📱 WhatsApp: 0333-4000184
📧 Email: [email protected]

Legal Knowledge | Legal Guidance | Professional Support

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🌾 گاؤں کا ایک زمیندار اپنے بیٹے کو لاہور کے ایک انگلش میڈیم اسکول میں داخل کروانے گیا۔انٹرویو کے بعد پرنسپل نے طنزیہ اند...
08/08/2026

🌾 گاؤں کا ایک زمیندار اپنے بیٹے کو لاہور کے ایک انگلش میڈیم اسکول میں داخل کروانے گیا۔

انٹرویو کے بعد پرنسپل نے طنزیہ انداز میں کہا:

“یہ بچہ ہمارے اسکول کے قابل نہیں… بہتر ہے اس سے بھینسوں کا گوبر ہی اٹھواؤ۔”

باپ کے سامنے اپنے بیٹے کی بے عزتی برداشت نہ ہوئی۔ بیٹے نے بھی پرنسپل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:

“آج آپ مجھے اپنے اسکول کے قابل نہیں سمجھ رہے، لیکن یاد رکھنا… 8 سال بعد آپ خود مجھے ملنے کے لیے ترسیں گے!”

باپ بیٹے کو واپس گاؤں لے آیا۔

اس کے بعد وہ لڑکا روز رات کو چھت پر جا کر گھنٹوں کچھ کرتا رہتا۔ باپ نے کئی دن تک خاموشی سے دیکھا، مگر ایک رات اس سے رہا نہ گیا۔

وہ چپکے سے بیٹے کے پیچھے چھت پر پہنچا…

اور وہاں کا منظر دیکھ کر حیران رہ گیا! 😱

آخر وہ لڑکا رات رات بھر چھت پر کیا کرتا تھا؟
وہ ایسا کیا بنا رہا تھا جس نے چند سال بعد پوری دنیا کو حیران کر دیا؟

👇 مکمل کہانی اگلی پوسٹ میں…

07/08/2026

نئے صوبوں کا سب سے بڑا کیڑا ARY کو ہے ۔

اہم اطلاع برائے مستحق خانداناگر کسی ایسی بیٹی کا نکاح ہو چکا ہے لیکن والدین مہنگائی یا مالی مشکلات کی وجہ سے رخصتی نہیں ...
29/07/2026

اہم اطلاع برائے مستحق خاندان

اگر کسی ایسی بیٹی کا نکاح ہو چکا ہے لیکن والدین مہنگائی یا مالی مشکلات کی وجہ سے رخصتی نہیں کروا سکے، تو بتایا جا رہا ہے کہ وہ متعلقہ فارم پُر کر کے اپنے ضلع کے زکوٰۃ دفتر میں جمع کروا سکتی ہے۔ اہل قرار دیے جانے کی صورت میں حکومتی مالی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔

⚠️ اہم نوٹ: فارم جمع کروانے یا کسی بھی کارروائی سے پہلے اپنے متعلقہ ضلع زکوٰۃ دفتر سے اسکیم، اہلیت، مطلوبہ دستاویزات اور مالی امداد کی موجودہ تفصیلات ضرور تصدیق کریں۔

آپ کی ایک شیئر کسی مستحق بیٹی تک یہ معلومات پہنچا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ضرورت مند کی آسانی فرمائے۔ آمین۔
For further details www.paklegalsolutions.com WhatsApp 03334000184. 03013471017










⚖️ قانونی معلومات | ڈاگ ٹریکنگ (Dog Tracking) بطور ثبوتکیا صرف ڈاگ ٹریکنگ کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار دیا جا سکتا ہ...
27/07/2026

⚖️ قانونی معلومات | ڈاگ ٹریکنگ (Dog Tracking) بطور ثبوت

کیا صرف ڈاگ ٹریکنگ کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار دیا جا سکتا ہے؟

جواب: نہیں۔

عدالتوں کے مطابق Dog Tracking کا ثبوت اکیلا کسی شخص کے خلاف سزا دینے کے لیے کافی نہیں ہوتا، بلکہ یہ صرف تائیدی (Corroborative) ثبوت سمجھا جاتا ہے۔

📌 عدالت میں اس ثبوت کی اہمیت کے لیے ضروری ہے کہ:
✅ ٹریکر ڈاگ باقاعدہ تربیت یافتہ ہو۔
✅ ڈاگ ہینڈلر کی گواہی عدالت میں پیش کی جائے اور وہ جرح پر پوری اترے۔
✅ ڈاگ ٹریکنگ کا مکمل، شفاف اور قابلِ اعتماد ریکارڈ موجود ہو۔
✅ اس کی تائید دیگر مضبوط، آزاد اور قابلِ اعتماد شواہد سے بھی ہو۔

⚖️ لہٰذا صرف ڈاگ ٹریکنگ کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

📞 قانونی رہنمائی اور مشاورت کے لیے رابطہ کریں:
WhatsApp: 0333-4000184 | 0301-3471017

🌐 Website: www.paklegalsolutions.com

اگر یہ معلومات مفید لگیں تو Like 👍، Follow ✅ اور Share 📢 ضرور کریں تاکہ مستند قانونی معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔

Pakistan Legal Solutions
Advocates, Corporate & Legal Consultants

15 سال پہلے وہ اپنے گھر سے بھاگ کر شادی کر گئی تھی…اس ایک فیصلے نے صرف ایک گھر نہیں، ایک باپ کا دل بھی توڑ دیا تھا۔پندرہ...
23/07/2026

15 سال پہلے وہ اپنے گھر سے بھاگ کر شادی کر گئی تھی…

اس ایک فیصلے نے صرف ایک گھر نہیں، ایک باپ کا دل بھی توڑ دیا تھا۔
پندرہ سال گزر گئے… نہ کوئی ملاقات، نہ کوئی گلے لگانا، نہ عید کی خوشیاں، نہ بیٹی کی آواز۔

پھر ایک دن قسمت نے باپ اور بیٹی کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا…

بیٹی نے جیسے ہی اپنے بوڑھے باپ کو دیکھا، اس کے قدم لڑکھڑا گئے۔ آنکھوں سے برسوں کے آنسو بہنے لگے۔ وہ خود کو روک نہ سکی اور باپ کے گلے لگ کر یوں روئی جیسے پندرہ سال کا سارا درد ایک ہی لمحے میں باہر آ گیا ہو۔

اور باپ…
جس کے دل میں برسوں کی خاموشی دفن تھی، اس نے بھی اپنی بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔ نہ کوئی شکوہ، نہ کوئی شکایت… صرف محبت، صرف دعا، صرف باپ کا دل۔ ❤️

یاد رکھیں…
دنیا کا ہر رشتہ وقت کے ساتھ بدل سکتا ہے، مگر باپ کی محبت کبھی ختم نہیں ہوتی۔
اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو آج ہی انہیں گلے لگائیں، ان سے محبت کا اظہار کریں۔ بعض ملاقاتیں دوبارہ نصیب نہیں ہوتیں۔ 🥺🤲

اگر اس کہانی نے آپ کی آنکھیں نم کر دیں تو اپنے والدین کے نام ایک ❤️ ضرور چھوڑیں، اور یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

سیشن جج کو دفعہ 22-A/22-B Cr.P.C. کی درخواستیں ایک ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس سے دوسرے ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس کو منت...
22/07/2026

سیشن جج کو دفعہ 22-A/22-B Cr.P.C. کی درخواستیں ایک ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس سے دوسرے ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس کو منتقل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

اس مقدمہ میں سیشن جج اوکاڑہ نے ایک درخواست منظور کرتے ہوئے دفعہ 22-A(6) ضابطۂ فوجداری کے تحت دائر چھ درخواستیں، جو ایک ایڈیشنل سیشن جج/ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس کے روبرو زیرِ سماعت تھیں، دوسرے ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس کو منتقل کر دیں۔ اسی حکم کے ذریعے دو قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں بھی دوسرے ایڈیشنل سیشن جج کو منتقل کر دی گئیں۔

درخواست گزار، جو پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے، نے اس منتقلی کے حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سیشن جج کو دفعہ 22-A/22-B کی درخواستوں کی منتقلی کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں، لہٰذا یہ حکم دائرۂ اختیار سے تجاوز پر مبنی ہے۔

ریاست کی جانب سے بھی عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ دفعہ 22-A(6) کی درخواستوں کی منتقلی کا حکم قانون کے مطابق نہیں تھا، تاہم قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کی منتقلی قانون کے مطابق کی گئی تھی۔

📍قانونی نکات (Legal Points)

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس "عدالت" (Court) نہیں ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 19 اور 20 اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 6 کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے واضح کیا کہ ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس کو عدالت کا درجہ حاصل نہیں، بلکہ وہ محدود نوعیت کے نیم عدالتی (Quasi-Judicial) اختیارات استعمال کرتا ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ چونکہ دفعہ 526 اور 528 ضابطۂ فوجداری صرف عدالتوں کے درمیان مقدمات کی منتقلی سے متعلق ہیں، اس لیے ان دفعات کے تحت ایک ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس سے دوسرے ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس کو دفعہ 22-A/22-B کی درخواست منتقل نہیں کی جا سکتی۔

فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ سیشن جج انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے بھی ایسی درخواست واپس لے کر کسی دوسرے ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس کے سپرد نہیں کر سکتا، کیونکہ ایک مرتبہ درخواست کسی مجاز فورم کو تفویض ہو جائے تو سیشن جج کو اسے واپس لینے یا دوبارہ الاٹ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔

عدالت نے وضاحت کی کہ اگر کسی فریق کو یہ خدشہ ہو کہ ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس کے سامنے اسے غیر جانبدارانہ سماعت نہیں ملے گی یا اس کے قانونی حقوق متاثر ہو رہے ہیں تو اس کا مناسب قانونی علاج آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ سے رجوع کرنا ہے۔ ایسے معاملات میں "Ubi Jus Ibi Remedium" یعنی "جہاں حق ہو وہاں علاج بھی موجود ہوتا ہے" کا اصول لاگو ہوگا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ دفعہ 22-A/22-B کی کارروائی اگرچہ مکمل عدالتی کارروائی نہیں، لیکن یہ ایک اہم نیم عدالتی مرحلہ ہے، جو ایف آئی آر کے اندراج، تفتیش اور بعد ازاں فوجداری مقدمہ کے آغاز کی بنیاد بنتا ہے۔ اس لیے اس کارروائی میں بھی آئین کے آرٹیکل 4 (قانون کے مطابق سلوک) اور آرٹیکل 10-A (منصفانہ سماعت اور ڈیو پراسس) کے تقاضے پوری طرح لاگو ہوتے ہیں۔

دوسری جانب عدالت نے قرار دیا کہ قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں باقاعدہ عدالت میں زیرِ سماعت ہوتی ہیں، اس لیے سیشن جج کو دفعہ 528 ضابطۂ فوجداری کے تحت ان کی منتقلی کا اختیار حاصل ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف اس بنیاد پر کہ ایک فریق مقامی بار کا رکن یا وکیل ہے، مقدمہ منتقل نہیں کیا جا سکتا، تاہم اگر مقدمہ کے حالات، فریقین کے درمیان شدید تنازع، دھمکیوں، حملوں یا انصاف کے تقاضوں سے یہ ظاہر ہو کہ غیر جانبدار ماحول ضروری ہے تو ایسی صورت میں مقدمہ منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ انصاف نہ صرف کیا جائے بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آئے۔

📍فیصلہ (Held)

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ:

دفعہ 22-A(6) ضابطۂ فوجداری کی درخواستوں کی منتقلی کا حکم دائرۂ اختیار کے بغیر تھا، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کی منتقلی کا حکم قانونی اور درست ہونے کی وجہ سے برقرار رکھا جاتا ہے۔

اس بنا پر رٹ پٹیشن جزوی طور پر منظور اور جزوی طور پر خارج کر دی گئی۔

📍اہم قانونی اصول (Ratio Decidendi)

ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس "عدالت" نہیں ہے۔

دفعہ 526 اور 528 Cr.P.C. کا اطلاق دفعہ 22-A/22-B کی درخواستوں پر نہیں ہوتا۔

سیشن جج انتظامی بنیاد پر بھی دفعہ 22-A/22-B کی درخواست کسی دوسرے ایکس آفیشیو جسٹس آف دی پیس کو منتقل نہیں کر سکتا۔

غیر جانبداری پر حقیقی خدشہ ہو تو مناسب فورم آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ ہے۔

قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں دفعہ 528 Cr.P.C. کے تحت منتقل کی جا سکتی ہیں۔

انصاف صرف ہونا کافی نہیں بلکہ انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے۔


— with Lawyer Online.

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: بجلی کے بل، سول عدالت کے دائرۂ اختیار اور الیکٹرک انسپکٹر کی اتھارٹی۔ اس مقدمہ میں لیسکو (L...
20/07/2026

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: بجلی کے بل، سول عدالت کے دائرۂ اختیار اور الیکٹرک انسپکٹر کی اتھارٹی۔

اس مقدمہ میں لیسکو (LESCO) نے لاہور ہائیکورٹ میں سول ریویژن دائر کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے ان متفقہ فیصلوں کو چیلنج کیا جن کے ذریعے صارف کے حق میں بجلی کا تقریباً 2,05,043 روپے کا بل غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ صارف کا مؤقف تھا کہ اس کے بل میں تقریباً 19,000 اضافی یونٹس شامل کر دیے گئے ہیں، جس کی بنیاد پر بل ضرورت سے زیادہ جاری کیا گیا۔ دوسری جانب لیسکو نے مؤقف اختیار کیا کہ بل میٹر ریڈنگ اور بقایا جات کے مطابق درست تھا، صارف کئی ماہ سے ادائیگی نہیں کر رہا تھا اور بقایا رقم جمع ہونے کی وجہ سے یہ بل بنا۔ مزید یہ بھی اعتراض اٹھایا گیا کہ مقدمہ اصل صارف نے نہیں بلکہ ایک ایسے شخص نے دائر کیا جو ریکارڈ کے مطابق صارف نہیں تھا، جبکہ اصل صارف فوت ہو چکا تھا اور اس کے قانونی ورثاء کو مقدمہ میں فریق بھی نہیں بنایا گیا تھا۔

عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مقدمہ ایک فوت شدہ شخص کی طرف سے، قانونی ورثاء کو شامل کیے بغیر دائر کیا گیا، جو قانوناً قابلِ سماعت نہیں تھا۔ مزید برآں ریکارڈ پر موجود Exh.D1 سے واضح تھا کہ بل اضافی یونٹس کی بنیاد پر نہیں بلکہ مسلسل بقایا جات اور عدم ادائیگی کے باعث بڑھا تھا، لیکن ماتحت عدالتوں نے اس اہم دستاویزی شہادت کا درست جائزہ نہیں لیا۔

📍اہم قانونی نکات (Legal Points)

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ میٹر کی درستگی، میٹر کی خرابی، میٹر ٹیسٹنگ، یونٹس کی پیمائش، بجلی کے استعمال کی مقدار اور بلنگ سے متعلق تکنیکی تنازعات بنیادی طور پر الیکٹرک انسپکٹر کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ ایسے معاملات میں سول عدالتیں تکنیکی سوالات کا فیصلہ نہیں کر سکتیں کیونکہ یہ خصوصی مہارت رکھنے والے فورمز کے سپرد کیے گئے ہیں۔

عدالت نے وضاحت کی کہ Electricity Act, 1910 کی دفعہ 26(6) اور Regulation of Generation, Transmission and Distribution of Electric Power Act, 1997 کی دفعہ 38 ایک مکمل قانونی نظام فراہم کرتی ہیں، جس کے تحت پہلے الیکٹرک انسپکٹر اور بعد ازاں نیپرا کے سامنے اپیل کا حق موجود ہے۔ اگرچہ قانون میں سول عدالت کے اختیار کو ختم کرنے کی واضح شق موجود نہیں، لیکن قانون کی اسکیم سے یہ بات لازم طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ ایسے تکنیکی معاملات خصوصی فورمز ہی طے کریں گے۔

عدالت نے "Implied Exclusion Test" بھی وضع کیا اور قرار دیا کہ اگر کوئی قانون نیا حق یا ذمہ داری پیدا کرے، اس کے لیے خصوصی فورم قائم کرے، مکمل ریلیف فراہم کرے اور اس فورم کو خصوصی اختیار دے، تو ایسے معاملات میں سول عدالت کا دائرۂ اختیار بالواسطہ طور پر ختم ہو جاتا ہے۔

تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر تنازعہ دھوکہ دہی، جعلسازی، بدنیتی، جعلی انسپکشن رپورٹ، شہری حقوق، جائیداد کے حق یا معاہداتی حقوق سے متعلق ہو تو ایسے معاملات میں سول عدالت کا اختیار برقرار رہتا ہے کیونکہ یہ امور الیکٹرک انسپکٹر کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ بجلی چوری، میٹر ٹیمپرنگ، ڈائریکٹ ہکنگ یا بجلی کی غیر قانونی چوری جیسے معاملات محض میٹر تنازعہ نہیں بلکہ حقائق اور شہادت کے متقاضی ہوتے ہیں، اس لیے ان میں گواہوں کے بیانات، جرح اور دستاویزی ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔

عدالت نے یہ اصول بھی دہرایا کہ Detection Bill خود بخود کسی شخص کی ذمہ داری کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا بلکہ محض بجلی کمپنی کا دعویٰ ہوتا ہے، جسے قانونی شہادت کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی اپنے ہی مقدمہ میں خود تفتیش کار، فیصلہ ساز اور فائدہ اٹھانے والی نہیں بن سکتی کیونکہ یہ اصول Nemo Judex in Causa Sua کے خلاف ہے۔

آخر میں لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمہ تکنیکی میٹر تنازعہ نہیں بلکہ بقایا بلوں کی حسابی (Calculation) نوعیت کا معاملہ تھا، جس میں صارف کی مسلسل عدم ادائیگی ثابت تھی۔ چونکہ ماتحت عدالتوں نے ریکارڈ پر موجود تکنیکی اور دستاویزی شہادت کو غلط انداز میں پڑھا، اس لیے ان کے فیصلے قانون اور حقائق کے خلاف تھے۔ نتیجتاً لاہور ہائیکورٹ نے سول ریویژن منظور کرتے ہوئے دونوں ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔


— with Lawyer Online.

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Legal Solutions posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan Legal Solutions:

Shortcuts

Share