20/07/2026
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: بجلی کے بل، سول عدالت کے دائرۂ اختیار اور الیکٹرک انسپکٹر کی اتھارٹی۔
اس مقدمہ میں لیسکو (LESCO) نے لاہور ہائیکورٹ میں سول ریویژن دائر کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے ان متفقہ فیصلوں کو چیلنج کیا جن کے ذریعے صارف کے حق میں بجلی کا تقریباً 2,05,043 روپے کا بل غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ صارف کا مؤقف تھا کہ اس کے بل میں تقریباً 19,000 اضافی یونٹس شامل کر دیے گئے ہیں، جس کی بنیاد پر بل ضرورت سے زیادہ جاری کیا گیا۔ دوسری جانب لیسکو نے مؤقف اختیار کیا کہ بل میٹر ریڈنگ اور بقایا جات کے مطابق درست تھا، صارف کئی ماہ سے ادائیگی نہیں کر رہا تھا اور بقایا رقم جمع ہونے کی وجہ سے یہ بل بنا۔ مزید یہ بھی اعتراض اٹھایا گیا کہ مقدمہ اصل صارف نے نہیں بلکہ ایک ایسے شخص نے دائر کیا جو ریکارڈ کے مطابق صارف نہیں تھا، جبکہ اصل صارف فوت ہو چکا تھا اور اس کے قانونی ورثاء کو مقدمہ میں فریق بھی نہیں بنایا گیا تھا۔
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مقدمہ ایک فوت شدہ شخص کی طرف سے، قانونی ورثاء کو شامل کیے بغیر دائر کیا گیا، جو قانوناً قابلِ سماعت نہیں تھا۔ مزید برآں ریکارڈ پر موجود Exh.D1 سے واضح تھا کہ بل اضافی یونٹس کی بنیاد پر نہیں بلکہ مسلسل بقایا جات اور عدم ادائیگی کے باعث بڑھا تھا، لیکن ماتحت عدالتوں نے اس اہم دستاویزی شہادت کا درست جائزہ نہیں لیا۔
📍اہم قانونی نکات (Legal Points)
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ میٹر کی درستگی، میٹر کی خرابی، میٹر ٹیسٹنگ، یونٹس کی پیمائش، بجلی کے استعمال کی مقدار اور بلنگ سے متعلق تکنیکی تنازعات بنیادی طور پر الیکٹرک انسپکٹر کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ ایسے معاملات میں سول عدالتیں تکنیکی سوالات کا فیصلہ نہیں کر سکتیں کیونکہ یہ خصوصی مہارت رکھنے والے فورمز کے سپرد کیے گئے ہیں۔
عدالت نے وضاحت کی کہ Electricity Act, 1910 کی دفعہ 26(6) اور Regulation of Generation, Transmission and Distribution of Electric Power Act, 1997 کی دفعہ 38 ایک مکمل قانونی نظام فراہم کرتی ہیں، جس کے تحت پہلے الیکٹرک انسپکٹر اور بعد ازاں نیپرا کے سامنے اپیل کا حق موجود ہے۔ اگرچہ قانون میں سول عدالت کے اختیار کو ختم کرنے کی واضح شق موجود نہیں، لیکن قانون کی اسکیم سے یہ بات لازم طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ ایسے تکنیکی معاملات خصوصی فورمز ہی طے کریں گے۔
عدالت نے "Implied Exclusion Test" بھی وضع کیا اور قرار دیا کہ اگر کوئی قانون نیا حق یا ذمہ داری پیدا کرے، اس کے لیے خصوصی فورم قائم کرے، مکمل ریلیف فراہم کرے اور اس فورم کو خصوصی اختیار دے، تو ایسے معاملات میں سول عدالت کا دائرۂ اختیار بالواسطہ طور پر ختم ہو جاتا ہے۔
تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر تنازعہ دھوکہ دہی، جعلسازی، بدنیتی، جعلی انسپکشن رپورٹ، شہری حقوق، جائیداد کے حق یا معاہداتی حقوق سے متعلق ہو تو ایسے معاملات میں سول عدالت کا اختیار برقرار رہتا ہے کیونکہ یہ امور الیکٹرک انسپکٹر کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ بجلی چوری، میٹر ٹیمپرنگ، ڈائریکٹ ہکنگ یا بجلی کی غیر قانونی چوری جیسے معاملات محض میٹر تنازعہ نہیں بلکہ حقائق اور شہادت کے متقاضی ہوتے ہیں، اس لیے ان میں گواہوں کے بیانات، جرح اور دستاویزی ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔
عدالت نے یہ اصول بھی دہرایا کہ Detection Bill خود بخود کسی شخص کی ذمہ داری کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا بلکہ محض بجلی کمپنی کا دعویٰ ہوتا ہے، جسے قانونی شہادت کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی اپنے ہی مقدمہ میں خود تفتیش کار، فیصلہ ساز اور فائدہ اٹھانے والی نہیں بن سکتی کیونکہ یہ اصول Nemo Judex in Causa Sua کے خلاف ہے۔
آخر میں لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمہ تکنیکی میٹر تنازعہ نہیں بلکہ بقایا بلوں کی حسابی (Calculation) نوعیت کا معاملہ تھا، جس میں صارف کی مسلسل عدم ادائیگی ثابت تھی۔ چونکہ ماتحت عدالتوں نے ریکارڈ پر موجود تکنیکی اور دستاویزی شہادت کو غلط انداز میں پڑھا، اس لیے ان کے فیصلے قانون اور حقائق کے خلاف تھے۔ نتیجتاً لاہور ہائیکورٹ نے سول ریویژن منظور کرتے ہوئے دونوں ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔
— with Lawyer Online.