14/07/2026
⚖️ آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ
📌 مقدمہ دائر ہونے سے پہلے مدعا علیہ کی وفات ہو تو Order I Rule 10 CPC لاگو ہوگا، جبکہ مقدمہ دائر ہونے کے بعد وفات کی صورت میں Order XXII Rule 4 CPC لاگو ہوگی۔ ایک مدعا علیہ کی پہلے سے وفات پورے مقدمے کو کالعدم نہیں بناتی۔
📚 عدالتی ریکارڈ (Court Record)
عدالت: آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ (High Court of Azad Jammu & Kashmir)
جج: مسٹر جسٹس سید شاہد بہار
کیس: Pervaiz Baig v. District Judge Neelum & Others
رٹ پٹیشن نمبر: Writ Petition No. 105 of 2024
فیصلے کی تاریخ: 29 اپریل 2025
حوالہ (Citation): 2026 MLD 110
متعلقہ قانون: Code of Civil Procedure, 1908 (CPC)
اہم دفعات: Section 27، Order I Rule 10، Order XXII Rules 1 & 4 CPC
📝 فیصلے کا خلاصہ
آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے اپنے اس اہم فیصلے میں ایک نہایت اہم قانونی اصول واضح کیا ہے کہ اگر کسی سول مقدمے میں متعدد مدعا علیہان ہوں اور بعد میں معلوم ہو کہ ان میں سے ایک مدعا علیہ مقدمہ دائر ہونے سے پہلے ہی وفات پا چکا تھا، تو صرف اس وجہ سے پورا مقدمہ کالعدم (Nullity) نہیں ہوگا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر حقِ دعویٰ (Right to Sue) برقرار ہو تو مدعی کی نیک نیتی سے ہونے والی غلطی (Bona Fide Mistake) کو بنیاد بنا کر مقدمہ ختم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ عدالت Order I Rule 10 CPC کے تحت مرحوم کے قانونی ورثاء کو مقدمے میں فریق بنانے کا اختیار رکھتی ہے۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ اگر کسی فریق کی وفات مقدمہ دائر ہونے کے بعد ہو تو ایسی صورت میں Order XXII Rule 4 CPC لاگو ہوگی، جبکہ اگر وفات مقدمہ دائر ہونے سے پہلے ہو چکی ہو تو معاملہ Order I Rule 10 CPC کے تحت طے ہوگا۔
⚖️ اس فیصلے سے قائم ہونے والے اہم Golden Principles
✅ فوت شدہ شخص کے خلاف نہ مؤثر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور نہ اس کے خلاف ڈگری دی جا سکتی ہے۔
✅ متعدد مدعا علیہان میں سے صرف ایک کی پہلے سے وفات پورے مقدمے کو کالعدم نہیں بناتی۔
✅ اگر حقِ دعویٰ برقرار ہو تو مرحوم کے قانونی ورثاء کو Order I Rule 10 CPC کے تحت مقدمے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
✅ مدعی کی نیک نیتی سے ہونے والی غلطی (Bona Fide Mistake) قابلِ اصلاح ہے۔
✅ مقدمہ دائر ہونے سے پہلے وفات کی صورت میں Order I Rule 10 CPC جبکہ مقدمہ دائر ہونے کے بعد وفات کی صورت میں Order XXII Rule 4 CPC لاگو ہوگی۔
✅ عدالت کا بنیادی مقصد تکنیکی اعتراضات پر مقدمات ختم کرنا نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی ہے۔
copied
from adv Mehboob Ali page.