Hakim Ali Mallah Advocate High Court.

Hakim Ali Mallah Advocate High Court. Hakim Ali Mallah , Advocate High court. whatsp no:+923003130831
whatsp no: +923153130831

⚖️ آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ📌 مقدمہ دائر ہونے سے پہلے مدعا علیہ کی وفات ہو تو Order I Rule 10 CPC لاگو...
14/07/2026

⚖️ آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ
📌 مقدمہ دائر ہونے سے پہلے مدعا علیہ کی وفات ہو تو Order I Rule 10 CPC لاگو ہوگا، جبکہ مقدمہ دائر ہونے کے بعد وفات کی صورت میں Order XXII Rule 4 CPC لاگو ہوگی۔ ایک مدعا علیہ کی پہلے سے وفات پورے مقدمے کو کالعدم نہیں بناتی۔
📚 عدالتی ریکارڈ (Court Record)
عدالت: آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ (High Court of Azad Jammu & Kashmir)
جج: مسٹر جسٹس سید شاہد بہار
کیس: Pervaiz Baig v. District Judge Neelum & Others
رٹ پٹیشن نمبر: Writ Petition No. 105 of 2024
فیصلے کی تاریخ: 29 اپریل 2025
حوالہ (Citation): 2026 MLD 110
متعلقہ قانون: Code of Civil Procedure, 1908 (CPC)
اہم دفعات: Section 27، Order I Rule 10، Order XXII Rules 1 & 4 CPC
📝 فیصلے کا خلاصہ
آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے اپنے اس اہم فیصلے میں ایک نہایت اہم قانونی اصول واضح کیا ہے کہ اگر کسی سول مقدمے میں متعدد مدعا علیہان ہوں اور بعد میں معلوم ہو کہ ان میں سے ایک مدعا علیہ مقدمہ دائر ہونے سے پہلے ہی وفات پا چکا تھا، تو صرف اس وجہ سے پورا مقدمہ کالعدم (Nullity) نہیں ہوگا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر حقِ دعویٰ (Right to Sue) برقرار ہو تو مدعی کی نیک نیتی سے ہونے والی غلطی (Bona Fide Mistake) کو بنیاد بنا کر مقدمہ ختم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ عدالت Order I Rule 10 CPC کے تحت مرحوم کے قانونی ورثاء کو مقدمے میں فریق بنانے کا اختیار رکھتی ہے۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ اگر کسی فریق کی وفات مقدمہ دائر ہونے کے بعد ہو تو ایسی صورت میں Order XXII Rule 4 CPC لاگو ہوگی، جبکہ اگر وفات مقدمہ دائر ہونے سے پہلے ہو چکی ہو تو معاملہ Order I Rule 10 CPC کے تحت طے ہوگا۔
⚖️ اس فیصلے سے قائم ہونے والے اہم Golden Principles
✅ فوت شدہ شخص کے خلاف نہ مؤثر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور نہ اس کے خلاف ڈگری دی جا سکتی ہے۔
✅ متعدد مدعا علیہان میں سے صرف ایک کی پہلے سے وفات پورے مقدمے کو کالعدم نہیں بناتی۔
✅ اگر حقِ دعویٰ برقرار ہو تو مرحوم کے قانونی ورثاء کو Order I Rule 10 CPC کے تحت مقدمے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
✅ مدعی کی نیک نیتی سے ہونے والی غلطی (Bona Fide Mistake) قابلِ اصلاح ہے۔
✅ مقدمہ دائر ہونے سے پہلے وفات کی صورت میں Order I Rule 10 CPC جبکہ مقدمہ دائر ہونے کے بعد وفات کی صورت میں Order XXII Rule 4 CPC لاگو ہوگی۔
✅ عدالت کا بنیادی مقصد تکنیکی اعتراضات پر مقدمات ختم کرنا نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی ہے۔
copied
from adv Mehboob Ali page.

13/07/2026
یکطرفہ کارروائی ختم کرانے کے لیے صرف 30 دن نہیں، پورے 3 سال کا وقت! لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہلاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم...
30/06/2026

یکطرفہ کارروائی ختم کرانے کے لیے صرف 30 دن نہیں، پورے 3 سال کا وقت! لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ آرڈر IX رول 7 CPC کے تحت یکطرفہ کارروائی (Ex-Parte Proceedings) ختم کرانے کے لیے دائر درخواست پر 30 دن کی معیاد لاگو نہیں ہوتی۔ چونکہ قانون میں اس درخواست کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں، اس لیے آرٹیکل 181 لمیٹیشن ایکٹ لاگو ہوگا، جس کے تحت ایسی درخواست تین سال کے اندر دائر کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے اس اصول کی توثیق PLD 2024 SC 864 کے فیصلے کی روشنی میں کی۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ یکطرفہ کارروائی (Ex-Parte Proceedings) اور یکطرفہ فیصلہ (Ex-Parte Decree/Judgment) دو الگ قانونی مراحل ہیں۔ اگر مقدمہ ابھی زیرِ سماعت ہو اور کوئی فریق غیر حاضری کے بعد دوبارہ کارروائی میں شامل ہونا چاہے تو آرڈر IX رول 7 CPC کے تحت درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر عدالت پہلے ہی یکطرفہ فیصلہ صادر کر چکی ہو تو اس کے خاتمے کے لیے قانون میں دیا گیا الگ طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔

عدالت نے نگرانی (Revisional Jurisdiction) کے محدود دائرۂ اختیار پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے قرار دیا کہ ہائیکورٹ صرف اسی صورت میں مداخلت کرے گی جب ماتحت عدالت نے قانون کی واضح خلاف ورزی کی ہو، اپنے اختیار سے تجاوز کیا ہو یا قانونی اختیار استعمال کرنے میں ناکام رہی ہو۔ صرف یہ دلیل کہ کوئی دوسرا قانونی مؤقف بھی اختیار کیا جا سکتا تھا، نگرانی کے اختیار کے استعمال کے لیے کافی نہیں۔

اہم قانونی اصول: آرڈر IX رول 7 CPC کے تحت یکطرفہ کارروائی ختم کرانے کی درخواست پر 30 دن کی پابندی لاگو نہیں ہوتی بلکہ آرٹیکل 181 لمیٹیشن ایکٹ کے تحت تین سال کی معیاد دستیاب ہے۔ مزید یہ کہ Ex-Parte Proceedings اور Ex-Parte Judgment الگ قانونی تصورات ہیں، جن کے لیے الگ الگ قانونی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔

چیک کے کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہچیک کا جرم قابل ضمانت ہے ممنوعہ کلاس میں فال نہیں کرتا جرم جتنا بھی سنگین ہو یا لین دین...
25/05/2026

چیک کے کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ
چیک کا جرم قابل ضمانت ہے ممنوعہ کلاس میں فال نہیں کرتا
جرم جتنا بھی سنگین ہو یا لین دین کا معاملہ جتنا مرضی زیادہ ہو عدالت اس جرم کی سزا سے زیادہ نہیں دے سکتی
ضمانت کے وقت کم سزا کے جرم کو دیکھا جائے گا
ملزم یکم دسمبر 2024 سے جیل میں ہے
چیک میں رقم 34,60,000 روپے تھی
لیکن
صرف پانچ لاکھ کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی

Address

Karachi
75180

Telephone

00923003130831

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakim Ali Mallah Advocate High Court. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hakim Ali Mallah Advocate High Court.:

Shortcuts

Share

Category