Rubab Batool-Advocate and Tax Consultant

Rubab Batool-Advocate and Tax Consultant Email: [email protected]
Contact : 0301-9404801

Federal Budget 2026-2027 summary. Key ReliefTax measures
18/06/2026

Federal Budget 2026-2027 summary.

Key Relief
Tax measures

Landmark Tax Judgment by the Supreme Court / Federal Constitutional Court of Pakistan. In a significant development for ...
15/05/2026

Landmark Tax Judgment by the Supreme Court / Federal Constitutional Court of Pakistan.

In a significant development for taxpayers and the real estate sector, the Federal Constitutional Court of Pakistan has declared Section 7E of the Income Tax Ordinance, 2001 as ultra vires the Constitution and void ab initio.

Section 7E, introduced through the Finance Act, 2022, imposed tax on “deemed income” arising from ownership of certain immovable properties, even where no actual income was earned.

The Court has further held that:
✔️ All notices, proceedings, and actions initiated under Section 7E stand set aside.
✔️ The provision shall be treated as if it never formed part of the law.
✔️ The judgment reinforces constitutional protections against arbitrary and confiscatory taxation.

This decision is expected to have a far-reaching impact on pending tax matters, property transactions, and future taxation policies in Pakistan.

A major victory for constitutional supremacy, taxpayers’ rights, and the principle that tax can only be imposed on actual income recognized under law.

The Federal Constitutional Court has struck down Section 7E of the Income Tax Ordinance, declaring it unconstitutional and void from the outset. The ruling also sets aside all notices and proceedings initiated under the provision.

ایف بی آر کی بڑی ناکامی! فائنل ٹیکس پر سپر ٹیکس لگانے کی کوشش ناکام, ٹربیونل نے فیصلہ اڑا دیایہ کیس دراصل ٹیکس قانون کے ...
15/05/2026

ایف بی آر کی بڑی ناکامی! فائنل ٹیکس پر سپر ٹیکس لگانے کی کوشش ناکام, ٹربیونل نے فیصلہ اڑا دیا

یہ کیس دراصل ٹیکس قانون کے ایک نہایت اہم اصول کو بڑی خوبصورتی سے واضح کرتا ہے۔ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک ٹیکس دہندہ نے سال 2015 کے لیے اپنی کمرشل امپورٹس declare کیں، جن پر پہلے ہی سیکشن 148 کے تحت امپورٹ کے وقت ٹیکس کٹ چکا تھا۔ قانون کے مطابق ایسی آمدن Final Tax Regime (FTR) میں آتی ہے، اور سیکشن 169 واضح طور پر کہتا ہے کہ جہاں ٹیکس final ہو جائے، وہاں وہ آمدن دوبارہ کسی بھی ٹیکس کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی۔ یعنی ایک دفعہ ٹیکس ادا ہو گیا تو وہ معاملہ مکمل طور پر ختم سمجھا جاتا ہے۔

لیکن محکمہ نے اس معاملے کو مختلف زاویے سے دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ آمدن FTR میں ہے، مگر چونکہ ٹیکس دہندہ کی مجموعی آمدن 50 کروڑ روپے سے زیادہ ہے، اس لیے اس پر سیکشن 4B کے تحت Super Tax لاگو ہوتا ہے۔ انہوں نے “imputable income” کا حساب لگا کر یہ نتیجہ نکالا کہ ٹیکس دہندہ اس حد سے اوپر ہے، لہٰذا اسے مزید ٹیکس دینا چاہیے۔ اس بنیاد پر انہوں نے ایک نیا ٹیکس ڈیمانڈ آرڈر جاری کر دیا۔

ٹیکس دہندہ نے اس اقدام کو چیلنج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ مکمل طور پر قانون کے خلاف ہے۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ سیکشن 169(2) صاف کہتا ہے کہ FTR والی آمدن “shall not be chargeable to tax under any head”۔ یعنی نہ اسے دوبارہ taxable income میں شامل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی نیا ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ چونکہ اس نے اپنا statement فائل کیا تھا، وہ سیکشن 169(3) کے تحت خود بخود سیکشن 120 کے مطابق ایک “deemed assessment” بن گیا تھا، جسے قانون میں ایک باقاعدہ اسیسمنٹ آرڈر کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

یہاں سے کیس کا سب سے اہم قانونی پہلو سامنے آتا ہے۔ جب ایک assessment پہلے سے موجود ہو، تو اسے تبدیل کرنے کا صرف ایک ہی قانونی راستہ ہوتا ہے، اور وہ ہے سیکشن 122 کے تحت amendment۔ محکمہ نے یہ بنیادی مرحلہ مکمل ہی نہیں کیا۔ انہوں نے نہ کوئی notice دیا اور نہ assessment کو amend کیا، بلکہ سیدھا سیکشن 4B کے تحت demand create کر دی۔ ٹربیونل نے اس عمل کو “بغیر اختیار” (without jurisdiction) قرار دیا، کیونکہ قانون کا تقاضا ہے کہ پہلے existing assessment کو درست طریقے سے تبدیل کیا جائے، تب ہی کوئی نئی liability بنائی جا سکتی ہے۔

مزید یہ کہ ٹربیونل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون کو الگ الگ پڑھنے کے بجائے ایک مکمل نظام کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ محکمہ نے “income” کی وسیع تعریف کا سہارا لیا، مگر عدالت نے واضح کیا کہ سیکشن 4B کو سیکشن 148 اور 169 سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جب قانون خود کہہ رہا ہے کہ FTR والی آمدن final ہے اور اس پر مزید ٹیکس نہیں لگ سکتا، تو پھر Super Tax بھی اس اصول سے باہر نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا کیا جائے تو “finality” کا پورا تصور ہی ختم ہو جائے گا، جو قانون کی نیت کے خلاف ہے۔

ٹربیونل نے اس معاملے میں کے ایک حالیہ فیصلے پر بھی انحصار کیا، جس میں یہ اصول واضح کیا گیا تھا کہ جب ایک ریٹرن deemed assessment بن جائے، تو اسے چھیڑے بغیر کوئی نئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ اس عدالتی نظیر نے اس کیس میں ٹیکس دہندہ کے مؤقف کو مزید مضبوط کر دیا۔

آخرکار، ٹربیونل اس نتیجے پر پہنچا کہ محکمہ کی جانب سے لگایا گیا Super Tax نہ صرف قانونی طور پر غلط تھا بلکہ طریقہ کار کے لحاظ سے بھی ناقص تھا۔ انہوں نے قرار دیا کہ FTR والی آمدن پر دوبارہ ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا، اور جب تک assessment کو باقاعدہ طور پر amend نہ کیا جائے، کوئی نئی demand بنانا قانوناً ممکن نہیں۔ چنانچہ محکمہ کی اپیل کو مسترد کر دیا گیا اور پہلے والا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔

یہ فیصلہ ایک مضبوط اصول قائم کرتا ہے کہ جہاں قانون کسی آمدن کو final قرار دے دے، وہاں محکمہ اپنی تشریح کے ذریعے اسے دوبارہ ٹیکس کے دائرے میں نہیں لا سکتا۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کرتا ہے کہ قانونی طریقہ کار (procedure) صرف رسمی چیز نہیں بلکہ انصاف کا بنیادی حصہ ہے، اور اس کی خلاف ورزی پورے کیس کو کمزور کر دیتی ہے۔

Pre­si­dent Asif Ali Zardari on Monday gave assent to the seven bills passed by parliament, including some controversial...
27/01/2026

Pre­si­dent Asif Ali Zardari on Monday gave assent to the seven bills passed by parliament, including some controversial bills, turning them into laws, before leaving for the United Arab Emirates on an official tour.

Last month, the president had returned the bills unsigned when they were passed by the Senate and the National Assembly.

According to the Presidency, the approved legislation includes The National Tariff Comm­ission (Amendment) Bill, 2026; the Export Deve­lopment Fund (Amen­dment) Bill, 2026; the Transfer of Railways (Amendment) Bill, 2026; the Domestic Violence (Prevention and Prot­ection) Bill, 2026; the Daanish Schools Aut­hority Bill, 2026; the Income Tax (Amendment) Bill, 2026; and the National Commission for Human Rights (Amen­dment) Bill, 2026.

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rubab Batool-Advocate and Tax Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share