Advocate Adil Ali

Advocate Adil Ali A Seasoned Law Practitioner For Wealth Advisory, Human Rights, Civil & Criminal Cases.

24/03/2025

ہارڈ ٹاک ود ایڈووکیٹ ناصر قریشی
پاکستان کی عوام کا مسئلہ ترقی نہیں محض ایک سرکاری نوکری ہے، ہم اپنے مفادات کا سودہ کر دیتے ہیں۔۔

14/02/2024

قانون آپ کی مدد تب کر پاتا ہے جب آپ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئی ہی کوئی قدم اٹھائیں، جو قانون آپ کو انصاف حاصل کرنے کے لیے راستہ فراہم کرتا ہے وہی قانون مد مقابل کو بھی اپنے دفاع کا مکمل اختیار دیتا ہے۔
وکیل کے پاس وکالت کرنے کا قانونی لائسنس، قانون کا علم اور تجربہ ہوتا ہے جبکہ اسے صحیح فیکٹ اینڈ فگرز فراہم کرنا کلائنٹ کا کام ہوتا ہے۔
کمزور و بے بنیاد دعووں پر وکیل سے کسی معجزے کی امید نہ رکھیں کیونکہ وکیل کے مقابل بھی ایک وکیل ہی ہوتا ہے۔
ایڈووکیٹ عادل علی
مینیجنگ پارٹنر ایڈووکیٹ پاکستان

29/01/2024

اطلاع عام

اسلحہ لائسنس پر صوبہ سندھ میں تاحال پابندی ہے۔
ڈرائیونگ لائسنس اوپن ایند شٹ کیس ہے، کمپیوٹرائزد سسٹم ہے، لرننگ لیں، چالیس دن بعد جا کر ٹیسٹ دیں۔

جب حکومت خود عوام کے لیے آسانی کر رہی ہے تو عوام کو بھی شارٹ کٹ کی اپروچ سے نکل آنا چاہیے، جگاڑ کی مد میں لی اور دی جانے والی رقم رشوت کے ہی زمرے میں آتی ہے۔ کوشش کریں جتنا بچ سکتے ہیں بچیں۔

ایڈووکیٹ عادل علی
چیف ایڈیٹر روزنامہ عادلیات کراچی و سکھر
صدر صوبہ سندھ، ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان

14/01/2024

وکلاٗ پر آواز کسنا بہت آسان ہے، کرائم بڑھنے اور مستقل رہنے کی سب سے بڑی وجہ شہریوں کی جانب سے کیسز کی پیروی نہ کرنا ہے۔
ہم یہ مان بیٹھے ہیں کہ سسٹم خراب ہے لہذا اول تو ہم کمپلین درج نہیں کرواتے اور اگر کرواتے ہیں تو ہمیں کسی پر کوئی شک و شبہ ہو تو بھی ہم کمپلین نامعلوم افراد پر درج کرواتے ہیں، بعد ازاں پولیس کی جانب سے اگر کسی ملزم کے گرفتار ہونے پر شناخت کے لیے بلایا جائے تو ایسا کرنے سے بھی کتراتے ہیں۔
پولیس فقط گرفتار کر سکتی ہے، سزا دینا عدالت کا کام ہے اور عدالت ثبوت کے بنا سزا نہیں سنا سکتی۔
اگر عام شہریوں کو جرائم پیشہ افراد کے آفٹر شاکس سے ڈر لگتا ہے تو یہ ہی خطرہ وکیل اور پولیس اہلکار کو بھی لاحق ہوتا ہے۔
صرف سسٹم کو برا کہنے سے کچھ نہیں ہو سکتا، حصول انصاف کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے وکیل سے تعاون کرنا پڑتا ہے اسے شواہد حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنی پڑتی ہے اور اس سب کام کے لیے وکیل پیسے بھی لیتا ہے کیونکہ وکیل آٹا دال بیچ کر نہیں کیسز کی کمائی سے ہی اپنا دال دلیہ مینیج کرتا ہے۔
ہم گھر کے چوکیدار کو اچھی تنخواہ، اچھا کھانا اور لباس دیتے ہیں تا کہ وہ چوری نہ کرے مگر ہم اپنے محلے کے پیش امام سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ کھانا بھی دو وقت کھائے جبکہ تنخواہ بھی جو دیں اس پر گزارا کر لے، وکیل کے معاملے میں بھی ہماری کچھ ایسی ہی سوچ ہے کہ وکیل کس بات کا ہے جو اتنے پیسے مانگ رہا ہے۔۔
معذرت کے ساتھ
ایڈووکیٹ عادل علی

06/01/2024

مفت قانونی مشورہ۔۔ مگر کیوں؟
وکالت مفت نہیں ہو سکتی، وکیل کے پاس سیل ایبل پراڈکٹ اس کی قابلیت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
ہمیں لوگوں میں یہ شعور پیدا کرنا چاہیے کہ وکیل ان کے معاون ہیں اور عدالتیں انہیں مظبوط شواہد و موثر دلائل کی بنیاد پر انصاف ضرور فراہم کرینگی۔
بد قسمتی سے ہم معاشرے میں شعور پیدا کرنے کے بجائے خوف پھیلانے پر محنت کرتے ہیں، جو دوست مفت قانونی مشاورت کی مارکیٹنگ کرتے ہیں یقین جانیے انہیں ان مفت مشورہ مانگنے والوں سے شاید ہی کبھی کوئی آمدنی ہوئی ہو۔
مفت کی تلاش مطلب سہولت کی تلاش اور سہولت و آسانی سے نا تو انصاف ملتا ہے اور ناں ہی آمدنی۔۔
شاید کہ دونوں کے دل میں اتر جائے یہ بات۔۔
ایڈووکیٹ عادل علی
مینیجنگ پارٹنر - ایڈووکیٹ پاکستان / یونائیٹڈ لا آفس کراچی

03/12/2023

جن میں تنہا ابتدا کرنے کی ہمت ہوتی ہے انہی میں تنہا ہی حالات کے نتائج کی ذمہ داری لینے کا حوصلہ بھی ہوتا ہے اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو بعد ازاں کامیابی کا تمغہ بھی سینے پر سجا لیتے ہیں!
جو لوگ زندگی میں سہاروں کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں اور بنا کسی مظبوط سہارے کے کوئی قدم نہیں اٹھا پاتے، ایسے لوگ اگر جیت بھی جائیں تو بھی جیت کو مکمل محسوس کرنے سے محروم ہی رہتے ہیں۔۔۔

24/11/2023

اچھے لوگوں کی خاموشی معاشرے میں برے لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے، یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوتا کہ پورا سسٹم ہی خراب ہے۔
سسٹم افراد کا ہی مجموعہ ہوتا ہے، اگر فرد واحد بھی اپنی ذات سے بے ایمانی نکال کر ایمانداری کی راہ پر گامزن ہوجائے تو بھی ایک دن مجموعہ بن ہی جائیگا۔

ایڈووکیٹ عادل علی

28/08/2023

ایک بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے اور وہ یہ کہ ہر کام کے لیے وکیل ہائیر نہیں کیا جاتا۔
ہم شارٹ کٹ کی ماری ہوئی عوام ہیں۔ ہمارا بس نہیں چلتا ورنہ ہم نمازیں بھی پیسے دے کر ادا کروا لیتے۔
کسی نے لکھا ہے کہ اس نے اپنی خالہ کے نام کی تصحیح کروانے کے لیے رشتہ دار وکیل کو انگیج کیا۔
اب کوئی ان سے پوچھے نام چینج کروانا تھا تو بنیادی طور پر اسکول میں اندراج درست کروا کے اخبار میں اشتہار دے کر نادرا سے رجوع کر لیتے۔
اس میں وکیل یا جج صاحب نے کیا کرنا تھا؟
کوئی اور معاملہ تھا تو تفصیل بیان کریں انشااللہ حل بتادونگا۔

ایڈووکیٹ عادل علی

25/08/2023

حصول انصاف ایک طویل اور دشوار عمل ہے۔
یہ عمل اور بھی مشکل بن جاتا ہے جب آپ کا وکیل اپنے پیشے اور آپ کے ساتھ مخلص نہ ہو۔
انصاف کے دروازے پر دستک دینے سے پہلے وکیل کی شہرت اور چند حوالہ جات ضرور لے لیا کریں۔
دوران کیس وکیل بدلنے سے صرف نقصان ہی ہوتا ہے۔

ایڈووکیٹ عادل علی

24/08/2023

میں لوگوں کے تبصرے دیکھتا ہوں۔ اکثریت وکلاء و پولیس کی مخالف ہے عدلیہ کے انصاف کے تقاضوں سے متفق نہیں ہے۔ سسٹم میں خرابیاں ہیں۔
پر کیا کسی نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی؟
ہماری اپنی لا علمی۔۔۔
ہم بحیثیت شہری اپنے لیے بنائے گئے بنیادی حقوق کے قوانین تک سے نابلد ہوتے ہیں۔
جب ہم خود سرے سے ہی لاعلم ہونگے تو خواہ کوئی بھی کیوں نہ ہو وہ آپ کو اپنا کسٹمر بنائے رکھے گا اور معاملہ لٹکاتا رہیگا کیونکہ ہمارے پاس سوال کرنے جتنی بھی معلومات نہیں ہوتی۔
انصاف محض پیسوں سے نہیں ملتا۔ شعور لازم و ملزوم ہے۔

ایڈووکیٹ عادل علی

20/08/2023

Congrats, You have stepped ahead to get justice!

Address

Badar Commercial, DHA
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Adil Ali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share