11/01/2026
دلچسپ مطالعہ:
نیویارک کے میئر … مسلمان
لندن کے میئر … مسلمان
برمنگھم کے میئر … مسلمان
لیڈز کے میئر … مسلمان
بلیک برن کے میئر … مسلمان
شیفیلڈ کے میئر … مسلمان
آکسفورڈ کے میئر … مسلمان
لوٹن کے میئر … مسلمان
اولڈہم کے میئر … مسلمان
روچڈیل کے میئر … مسلمان
برطانیہ کے تمام اسکولوں میں اب صرف حلال گوشت پیش کیا جاتا ہے!
یہ سب کچھ صرف 66 ملین آبادی میں سے 4 ملین مسلمانوں نے حاصل کیا!!!
یہ واقعی آنکھیں کھول دینے والی بات ہے۔
حمزہ یکزئی نے اسلام کے بارے میں کئی مغربی فلاسفروں کے اقوال نقل کیے ہیں:
1۔ لیو ٹالسٹائی (1828–1910)
“اسلام ایک دن دنیا پر حکومت کرے گا، کیونکہ اس میں علم اور حکمت دونوں جمع ہیں۔”
2۔ ایچ جی ویلز (1846–1946)
“کتنی نسلوں کو ظلم اور تباہی جھیلنی پڑے گی یہاں تک کہ اسلام دوبارہ نافذ ہو؟ ایک دن پوری دنیا اس کی طرف متوجہ ہوگی، پھر امن ہوگا اور دنیا دوبارہ آباد ہوگی۔”
3۔ البرٹ آئن اسٹائن (1879–1955)
“میں سمجھتا ہوں کہ جو کام یہودی نہیں کر سکے، مسلمان اپنی ذہانت اور فطری بصیرت سے کرتے ہیں۔ اسلام میں وہ طاقت ہے جو امن کی طرف لے جاتی ہے۔”
4۔ ہیوسٹن اسمتھ (1919)
“اسلام وہ دین ہے جو آج ہمیں متاثر کرتا ہے اور دنیا میں ہم سے بہتر نظر آتا ہے۔ کاش ہم اپنے دل و دماغ اس کے لیے کھول دیں۔”
5۔ مائیکل نوسترادامس (1503–1566)
“اسلام یورپ کا غالب مذہب بنے گا، اور یورپ کا سب سے مشہور شہر اسلامی ریاست کا دارالحکومت بنے گا۔”
6۔ برٹرینڈ رسل (1872–1970)
“میں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور جانا کہ یہ پوری دنیا اور تمام انسانوں کا مذہب ہے۔ اسلام پورے یورپ میں پھیلے گا اور یورپ میں عظیم اسلامی مفکرین پیدا ہوں گے۔ ایک دن اسلام دنیا کے لیے اصل محرک بنے گا۔”
7۔ گستاو لی بان (1841–1931)
“اسلام صرف امن اور مفاہمت کی بات کرتا ہے۔ عیسائیوں کو اصلاحی ایمان کے ساتھ جینے کی دعوت دیتا ہے۔”
8۔ برنارڈ شا (1856–1950)
“ایک دن پوری دنیا اسلام کو قبول کرے گی، اور اگر اصل نام سے قبول نہ بھی کرے تو استعارے کے طور پر ضرور کرے گی۔ مغرب ایک دن اسلام کو قبول کرے گا، اور اسلام اہلِ علم کا مذہب بنے گا۔”
9۔ جوہان ولف گانگ گوئٹے (1749–1832)
“ہم سب کو جلد یا بدیر اسلام قبول کرنا ہوگا۔ یہی سچا دین ہے۔ اگر مجھے مسلمان کہا جائے تو مجھے برا نہیں لگتا، میں اسے درست سمجھتا ہوں۔”
الحمدللہ!!!
براہِ کرم اسے آگے شیئر کریں۔ دنیا کو بتائیں کہ یہ پیغام اُن مسلمانوں کے لیے امید ہے جو ظلم، تکالیف اور نظراندازی کا شکار ہیں۔
بس ایک کام کریں: اگر امتِ مسلمہ متحد اور نیک ہو جائے تو یہی کافی ہے۔
ان شاء اللہ!