Gilal&Co.

Gilal&Co. Find The Way To Justice

KNOW YOUR RIGHTS.🚨 عوامی آگاہی: غیر قانونی قبضہ (Illegal Dispossession) سے خود کو کیسے بچائیں؟ 🚨پاکستان میں جائیداد پر ز...
20/04/2026

KNOW YOUR RIGHTS.
🚨 عوامی آگاہی: غیر قانونی قبضہ (Illegal Dispossession) سے خود کو کیسے بچائیں؟ 🚨

پاکستان میں جائیداد پر زبردستی قبضہ کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ اس کے خلاف باقاعدہ قانون موجود ہے جسے Illegal Dispossession Act, 2005 کہا جاتا ہے۔

📌 غیر قانونی قبضہ کیا ہے؟
اگر کوئی شخص زبردستی، دھونس، دھمکی یا جعلسازی کے ذریعے کسی کی زمین، مکان، پلاٹ یا دکان پر قبضہ کر لے تو اسے غیر قانونی قبضہ کہا جاتا ہے۔

⚖️ قانون کیا کہتا ہے؟
Illegal Dispossession Act, 2005 کے تحت:
✔️ زبردستی قبضہ کرنے والا شخص جرم کا مرتکب ہوتا ہے
✔️ عدالت اسے فوری طور پر بے دخل (Evict) کر سکتی ہے
✔️ ملزم کو جرمانہ اور قید دونوں ہو سکتے ہیں

📍 قبضہ کیسے چھڑوایا جائے؟ (Step-by-Step Guide)

1️⃣ فوری ثبوت اکٹھا کریں
📄 اپنی ملکیت کے کاغذات (Registry, Sale Deed, Lease, Utility Bills) تیار رکھیں

2️⃣ پولیس میں درخواست دیں
🚓 قریبی تھانے میں FIR یا درخواست دیں اور قبضہ کی تفصیل بتائیں

3️⃣ عدالت میں کیس دائر کریں
⚖️ سیشن کورٹ میں Illegal Dispossession Act کے تحت درخواست دائر کریں
👉 عدالت فوری کارروائی کرتے ہوئے قبضہ چھڑوا سکتی ہے

4️⃣ Stay Order حاصل کریں
⛔ عدالت سے حکم امتناعی (Stay Order) لیں تاکہ مزید نقصان نہ ہو

5️⃣ قانونی مدد حاصل کریں
👨‍⚖️ کسی ماہر وکیل سے رجوع کریں تاکہ کیس مضبوط بنایا جا سکے

📢 اہم بات:
❗ خود سے طاقت کے ذریعے قبضہ واپس لینے کی کوشش نہ کریں
❗ ہمیشہ قانونی راستہ اختیار کریں تاکہ آپ محفوظ رہیں

🌆 کراچی اور سکھر کے شہریوں کے لیے خصوصی پیغام:
زمینوں اور جائیداد پر قبضہ مافیا کے خلاف آواز اٹھائیں اور اپنے حقوق کے لیے قانون کا سہارا لیں۔

💡 یاد رکھیں:
“قانون آپ کے ساتھ ہے، بس صحیح طریقے سے استعمال کریں!”

📲 اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہر شہری اپنے حق سے آگاہ ہو سکے۔

FURTHER FREE LEGAL ADVICE
CALL / WHATSAPP
03110651098
wa.me/923110651098

























📘 Public Awareness: Civil Servants Act, 1973 (Pakistan) 🇵🇰The **** is an important law that regulates the service, right...
14/04/2026

📘 Public Awareness: Civil Servants Act, 1973 (Pakistan) 🇵🇰

The **** is an important law that regulates the service, rights, and responsibilities of government employees in Pakistan.

🔹 What does this law cover?
It applies to civil servants working under the Federal Government and deals with:
✔ Appointment & recruitment
✔ Terms & conditions of service
✔ Promotions & transfers
✔ Conduct and discipline
✔ Retirement and termination

🔹 Key Protections:
✅ Ensures merit-based appointments
✅ Provides job security under defined rules
✅ Protects employees from unlawful dismissal
✅ Guarantees fair inquiry before any major penalty

🔹 Discipline & Accountability:
Civil servants must follow rules of conduct. Misconduct can lead to inquiry and penalties under the law.

⚖️ Why it matters?
This law ensures transparency, accountability, and efficiency in public service, while also safeguarding the rights of government employees.

📢 Awareness of your rights and duties helps build a stronger and fair system!

Further call / Whatsapp
03110651098

🚨 Public Awareness: How to Deal with a Fake FIR (Pakistan Law) 🚨A fake FIR (First Information Report) can cause serious ...
14/04/2026

🚨 Public Awareness: How to Deal with a Fake FIR (Pakistan Law) 🚨

A fake FIR (First Information Report) can cause serious stress and legal trouble, but the law in Pakistan provides protection against false accusations.

✅ What you should do:

1. Stay calm & don’t panic – A false FIR is not proof of guilt.
2. Apply for Pre-Arrest Bail – Immediately approach the court for protective/pre-arrest bail to avoid arrest.
3. Collect Evidence – Gather documents, witnesses, CCTV, or any proof showing your innocence.
4. File Application for Quashment – Under Section 561-A Cr.P.C., you can approach the High Court to quash a false FIR.
5. Take Action Against Complainant – You can initiate legal proceedings for false accusation (under PPC sections like 182 & 211).
6. Hire a Competent Lawyer – Proper legal guidance is essential for timely relief.

⚖️ Important: Misuse of law is itself a crime. Courts in Pakistan take false FIRs seriously and can penalize the complainant.

📢 Spread awareness so no one becomes a victim of false cases!

20/03/2026
اپنے حقوق جانیے.⚖️ سائبر کرائم کیا ہے؟ اور پاکستان میں اس کا قانونی حل کیا ہے؟آج کے دور میں موبائل، واٹس ایپ، فیس بک، ان...
24/02/2026

اپنے حقوق جانیے.
⚖️ سائبر کرائم کیا ہے؟ اور پاکستان میں اس کا قانونی حل کیا ہے؟

آج کے دور میں موبائل، واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والے جرائم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کسی کو آن لائن ہراساں کرنا، بلیک میل کرنا، ہیکنگ کرنا، فراڈ کرنا، جعلی آئی ڈی بنانا، تصاویر یا ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دینا — یہ سب سائبر کرائم کہلاتے ہیں۔
پاکستان میں سائبر کرائم کے خلاف باقاعدہ قانون موجود ہے جسے

Prevention of Electronic Crimes Act 2016 (PECA 2016) کہا جاتا ہے۔
اس قانون کے تحت مختلف جرائم پر: ✔ بھاری جرمانہ
✔ کئی سال قید
✔ دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں
📌 عام سائبر کرائم کی اقسام:
سوشل میڈیا ہراسمنٹ
آن لائن فراڈ اور اسکیمنگ
ہیکنگ اور ڈیٹا چوری
جعلی فیس بک/واٹس ایپ اکاؤنٹس
بلیک میلنگ اور پرائیویٹ تصاویر وائرل کرنا
بینکنگ اور ای کامرس فراڈ
📌 اگر آپ سائبر کرائم کا شکار ہو جائیں تو کیا کریں؟
1️⃣ فوراً تمام اسکرین شاٹس، لنکس اور چیٹ محفوظ کریں۔
2️⃣ ملزم سے مزید بحث یا ادائیگی نہ کریں۔
3️⃣ فوری طور پر شکایت درج کروائیں National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) میں۔
4️⃣ کسی ماہر وکیل سے قانونی رہنمائی حاصل کریں تاکہ آپ کا کیس مضبوط انداز میں پیش ہو سکے۔
⚠️ یاد رکھیں: خاموش رہنا مسئلے کا حل نہیں۔ قانون آپ کے ساتھ ہے۔

اگر آپ یا آپ کے عزیز آن لائن فراڈ، بلیک میلنگ یا ہراسمنٹ کا شکار ہیں تو فوری قانونی مدد حاصل کریں۔
📞 کراچی اور سکھر میں قانونی مشاورت کے لیے رابطہ کریں۔

Call / Whatsapp 03110651098
wa.me/923110651098

اپنے حقوق کا تحفظ کریں — قانون سے مدد لیں۔














KNOW YOUR RIGHTSپاکستان میں چیک ڈش آنر (Cheque Dishonour) ایک سنگین قانونی جرم ہے۔ آپ بطور وکیل اپنے فیس بک پیج پر درج ذ...
21/02/2026

KNOW YOUR RIGHTS
پاکستان میں چیک ڈش آنر (Cheque Dishonour) ایک سنگین قانونی جرم ہے۔ آپ بطور وکیل اپنے فیس بک پیج پر درج ذیل معلوماتی پوسٹ شیئر کر سکتے ہیں:
⚖️ پاکستان میں چیک ڈش آنر کا قانونی حل
اگر کسی شخص کا دیا ہوا چیک بینک سے "Insufficient Funds" یا کسی اور وجہ سے ڈش آنر ہو جائے تو یہ جرم شمار ہوتا ہے۔
📖 قانون کیا کہتا ہے؟
چیک ڈش آنر کا مقدمہ Negotiable Instruments Act 1881 کی دفعہ 489-F کے تحت درج کیا جاتا ہے۔
🔹 دفعہ 489-F PPC کے مطابق:
اگر کوئی شخص بدنیتی سے قرض یا واجب الادا رقم کی ادائیگی کے لئے دیا گیا چیک ڈش آنر کرا دے تو اسے:
تین سال تک قید
جرمانہ
یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
✅ قانونی کارروائی کا طریقہ
سب سے پہلے بینک سے چیک ریٹرن میمو حاصل کریں۔
متعلقہ شخص کو قانونی نوٹس بھیجیں (عموماً 15 دن کا وقت دیا جاتا ہے)۔
ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کروائیں۔
ساتھ ہی ریکوری کے لئے سول سوٹ بھی دائر کیا جا سکتا ہے۔
📌 اہم نکات
✔ چیک کسی قرض یا واجب الادا رقم کے بدلے دیا گیا ہو۔
✔ بدنیتی (Dishonest Intention) ثابت کرنا ضروری ہے۔
✔ اصل چیک، ریٹرن میمو اور نوٹس بطور ثبوت محفوظ رکھیں۔
اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کا چیک ڈش آنر ہوا ہے تو فوری قانونی مشورہ حاصل کریں۔

📞 قانونی رہنمائی کے لئے رابطہ کریں۔

Call / Whatsapp 03110651098

wa.me/923110651098
(کراچی، سکھر اور سندھ بھر میں خدمات دستیاب)

KNOW YOUR RIGHTS2025 YLR 2669W.P.No.3547 of 2023محمد بلال بنام حفظہ جیلانی وغیرہ اس مقدمہ میں ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ نا...
11/01/2026

KNOW YOUR RIGHTS
2025 YLR 2669
W.P.No.3547 of 2023
محمد بلال بنام حفظہ جیلانی وغیرہ
اس مقدمہ میں ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ نابالغ بچے کی تحویل
(custody)
کے معاملات میں واحد اور فیصلہ کن اصول “بچے کی فلاح و بہبود
” (welfare of minor)
ہے، نہ کہ صرف ماں یا باپ کا فطری حق یا ماں کا غیر شادی شدہ ہونا۔

عدالت نے اپیلیٹ کورٹ کے اس نظریے کو غلط قرار دیا کہ اگر ماں نے دوسری شادی نہ کی ہو تو باپ کے لیے کم سن بچے کی تحویل کا کوئی دائرہ باقی نہیں رہتا۔ عدالت کے مطابق ایسا کوئی مطلق اصول موجود نہیں، بلکہ ہر کیس اپنے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے۔ جب باپ یہ ثابت کر دے کہ وہ بہتر تعلیم، بہتر ماحول، بہتر طرزِ زندگی اور بچے کی مجموعی فلاح و بہبود فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس کے حق میں معقول دستاویزی شواہد موجود ہوں، تو محض اس بنیاد پر کہ ماں غیر شادی شدہ ہے، بچے کی تحویل اس سے نہیں چھینی جا سکتی۔

مزید برآں، چونکہ نابالغ لڑکا سات سال کی عمر کے قریب تھا، اس لیے مسلم پرسنل لا کے تحت باپ، بطور قدرتی سرپرست، تحویل کا حق بھی رکھتا ہے، بشرطیکہ بچے کی فلاح اس کے ساتھ وابستہ ہو۔ اسی بنیاد پر ہائیکورٹ نے اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر گارڈین کورٹ کا فیصلہ بحال کیا، جو کہ مکمل طور پر بچے کی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے دیا گیا تھا.






Address

I. I Chandrigar Road
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gilal&Co. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share