Trilegal Pakistan

Trilegal Pakistan The page is to create awareness
of Pakistani laws , specially sindh laws to general public Contact 03100227369

عوامی آگاہیسندھ میں پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کے اندراج کا طریقۂ کارپیدائش، وفات، شادی اور طلاق کا بروقت اندراج ہر شہر...
13/06/2026

عوامی آگاہی
سندھ میں پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کے اندراج کا طریقۂ کار
پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کا بروقت اندراج ہر شہری کا قانونی حق، خاندانی ذمہ داری اور بنیادی ضرورت ہے۔ یہ اندراج قانونی شناخت، شناختی کارڈ، پاسپورٹ، اسکول داخلہ، وراثت، پنشن، انشورنس، سرکاری سہولتوں، عدالتی معاملات اور درست سرکاری ریکارڈ کے لیے نہایت اہم ہے۔
سندھ میں یہ اندراج متعلقہ مقامی کونسل/یونین کونسل کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ مقامی کونسل کا سیکریٹری/نامزد افسر رجسٹرار کے طور پر اندراج کا ذمہ دار ہوتا ہے، جبکہ اندراج کا ریکارڈ مقامی کونسل اور مربوط کمپیوٹرائزڈ نظام میں محفوظ کیا جاتا ہے۔

قانونی بنیاد
سندھ میں پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کے اندراج کا نظام درج ذیل قانونی بنیادوں پر قائم ہے:
- سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ، 2013، دفعہ 139 مع شیڈول VIII
- ماڈل ذیلی قوانین برائے اندراج پیدائش، اموات، شادی و طلاق، 2017
- مسلم عائلی قوانین آرڈیننس، 1961
- سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ، 2013
- سندھ ہندو میرج ایکٹ، 2016، ترمیمی ایکٹ 2018
- کرسچن میرج ایکٹ، 1872
- ڈائیورس ایکٹ، 1869
- متعلقہ دیگر قوانین اور ضوابط

1. پیدائش کا اندراج
بچے کی پیدائش کا اندراج اس مقامی کونسل/یونین کونسل میں کروایا جائے جہاں بچہ پیدا ہوا ہو۔
ذمہ دار فرد
پیدائش کے اندراج کی ذمہ داری عموماً درج ذیل پر عائد ہوتی ہے:
- گھر کا سربراہ
- والدین
- قریبی رشتہ دار
- مجاز سرپرست

مدت
پیدائش کے بعد 30 دن کے اندر اندراج کروانا ضروری ہے۔

درخواست فارم
پیدائش کے اندراج کے لیے فارم "A" استعمال ہوگا۔ یہ فارم متعلقہ مقامی کونسل، بنیادی مراکز صحت، ہسپتالوں اور سرکاری اسکولوں سے مفت دستیاب ہو سکتا ہے۔

ضروری دستاویزات
- والدین/سرپرست کا شناختی کارڈ
- مکمل درخواست فارم
- درخواست دہندہ کے دستخط یا انگوٹھا
- گھر میں پیدائش کی صورت میں حلف نامہ
- دو گواہان بمعہ شناختی کارڈ
- ہسپتال میں پیدائش کی صورت میں ہسپتال سرٹیفکیٹ، برتھ سرٹیفکیٹ یا ویکسینیشن کارڈ
- متعلقہ مقامی تصدیق، اگر ضروری ہو

اندراج اور سرٹیفکیٹ
درخواست وصول ہونے کے بعد رجسٹرار پیدائش کا اندراج رجسٹر فارم "A-1” میں کرے گا۔ اس کے بعد پیدائش کا سرٹیفکیٹ فارم "C" کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔

2. پیدائش کا تاخیر سے اندراج

اگر پیدائش کا اندراج 30 دن کے اندر نہ ہو سکے تو تاخیر کے حساب سے الگ طریق

تقبل اللہ منا ومنکم وصالح الاعمالعید الاضحیٰ مبارک 🌙
27/05/2026

تقبل اللہ منا ومنکم وصالح الاعمال
عید الاضحیٰ مبارک 🌙

سندھ حکومت نے عیدالعضحیٰ کے موقع پر 26 مئی سے 29 مئی 2026 تک (چار دن) بمطابق 9 تا 12 ذی الحج 1447 ھجری کو عام تعطیل کا ا...
23/05/2026

سندھ حکومت نے عیدالعضحیٰ کے موقع پر 26 مئی سے 29 مئی 2026 تک (چار دن) بمطابق 9 تا 12 ذی الحج 1447 ھجری کو عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، اطلاق سرکاری و نجی اداروں پر یکساں ہوگا۔ نوٹیفکیشن جاری
ٹرائی لیگل پاکستان

برائیڈل گفٹس (Bridal Gifts) بیوی کی ملکیت — شوہر واپسی کا دعویٰ نہیں کر سکتا:درخواست گزار مسماۃ سمرہ عارف اور جواب دہندہ...
02/05/2026

برائیڈل گفٹس (Bridal Gifts) بیوی کی ملکیت — شوہر واپسی کا دعویٰ نہیں کر سکتا:

درخواست گزار مسماۃ سمرہ عارف اور جواب دہندہ نمبر 3 کے درمیان نکاح 09.09.2016 کو منعقد ہوا جبکہ 03.10.2018 کو طلاق واقع ہوئی۔ ازدواجی زندگی کے دوران ایک بیٹا بھی پیدا ہوا۔ طلاق کے بعد فریقین کے درمیان تنازعات پیدا ہوئے
جس کے نتیجے میں دونوں نے فیملی کورٹ میں الگ الگ دعوے دائر کیے۔جواب دہندہ (شوہر) نے 20.06.2019 کو فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا جس میں مؤقف اختیار کیا کہ اس نے منگنی اور نکاح کے موقع پر سونے کے زیورات اور ڈائمنڈ رنگ بطور تحائف (Bridal Gifts) درخواست گزار(بیوی) کو دیے،
لہٰذا وہ یا تو وہ اشیاء واپس کرے یا ان کی مالیت مبلغ 18,12,488/- روپے ادا کرے۔ اسکے برعکس درخواست گزار (بیوی) نے 12.09.2019 کو اپنا علیحدہ دعویٰ اپنے ذاتی سامان کی واپسی کے لیے دائر کیا۔

فیملی کورٹ نے دونوں مقدمات کو یکجا کر کے مشترکہ تنقیہات (Issues) مرتب کیے۔ بعد ازاں درخواست گزار کی درخواست پر اضافی قانونی تنقیہات (Issues) بھی طے کیے گئے جن میں بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا فیملی کورٹ کو شوہر کے دعویٰ برائے واپسی برائیڈل گفٹس کی سماعت کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔
فیملی کورٹ نے مورخہ 24.01.2023 کے حکم کے ذریعے یہ قرار دیا کہ برائیڈل گفٹس سے متعلق دعویٰ فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اپیلٹ کورٹ نے بھی اس مؤقف کو برقرار رکھا۔ اس پر درخواست گزار (بیوی) نے آئینی درخواست دائر کی۔

ہائیکورٹ کے روبرو بنیادی قانونی سوال یہ تھا کہ آیا شوہر برائیڈل گفٹس کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کر سکتا ہے یا نہیں۔ ہائیکورٹ نے فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے سیکشن 5 اور اس کے شیڈول کا جائزہ لیا،
جس کے مطابق فیملی کورٹ کا دائرہ اختیار صرف ان معاملات تک محدود ہے جو شیڈول میں درج ہیں۔ ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ ذاتی جائیداد اور سامان کی واپسی کا حق صرف بیوی اور اس بچے کو حاصل ہے جو اس کے ساتھ رہ رہا ہو، جبکہ شوہر کو ایسا کوئی حق حاصل نہیں۔

مزید برآں، عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلہ (PLD 2025 SC 461) پر انحصار کیا جس میں یہ اصول طے کیا گیا کہ نکاح یا منگنی کے موقع پر دلہن کو دیے گئے برائیڈل گفٹس اس کی مطلق ملکیت بن جاتے ہیں اور طلاق یا علیحدگی کے بعد بھی شوہر یا اس کے ورثاء ان پر کوئی دعویٰ نہیں کر سکتے۔ چنانچہ ایسے تحائف ناقابلِ واپسی تصور کیے جائیں گے۔

ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ چونکہ جواب دہندہ نے خود تسلیم کیا کہ مذکورہ اشیاء بطور تحفہ دی گئی تھیں، لہٰذا وہ قانونی طور پر درخواست گزار کی ملکیت بن چکی ہیں اور ان کی واپسی کا دعویٰ قانوناً ناقابلِ سماعت ہے۔ اگرچہ ضابطہ دیوانی (CPC) براہ راست فیملی مقدمات پر لاگو نہیں ہوتا، تاہم Order VII Rule 11 کے اصول کے تحت ایسا دعویٰ جو قانوناً ممنوع ہو، ناقابلِ سماعت ہوتا ہے۔

لہٰذا، ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ مذکورہ دعویٰ نہ صرف ناقابلِ سماعت ہے بلکہ فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار سے بھی باہر ہے۔ نتیجتاً ماتحت عدالتوں کے احکامات کالعدم قرار دے کر جواب دہندہ(شوہر) کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا اور فیملی کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ درخواست گزار (بیوی) کے دعویٰ پر قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے۔

یکم مئی — یومِ مزدورآج ہم اُن تمام محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو اپنی محنت سے معاشرے کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں۔...
01/05/2026

یکم مئی — یومِ مزدور
آج ہم اُن تمام محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو اپنی محنت سے معاشرے کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ انصاف اور حقوق کے اس سفر میں ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
تمام مزدوروں کو سلام! 🙌

26/04/2026
شناخت سے محرومی ختم — پشاور ہائی کورٹ کا جراتمندانہ فیصلہ، نادرا کو خاتون کا CNIC جاری کرنے کا حکم!  پشاور ہائی کورٹ نے ...
26/04/2026

شناخت سے محرومی ختم — پشاور ہائی کورٹ کا جراتمندانہ فیصلہ، نادرا کو خاتون کا CNIC جاری کرنے کا حکم!

پشاور ہائی کورٹ نے ایک مظلوم خاتون کے حق میں نہایت اصولی اور قانون کے مطابق فیصلہ صادر فرمایا۔

درخواست گزار ایک شادی شدہ خاتون تھیں جن کے والد کا شناختی کارڈ ریکارڈ پر موجود تھا، والد کی وفات ہو چکی تھی اور باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی فراہم کیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ خاتون کے پاس مستند برتھ سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا۔ اس کے باوجود نادرا حکام نہ صرف ان کی درخواست وصول کرنے سے گریزاں تھے بلکہ شناختی کارڈ کے حصول کے لیے ٹوکن جاری کرنے سے بھی مسلسل انکار کر رہے تھے، جو کہ بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی تھی۔

معزز عدالت عالیہ نے ریکارڈ کا مکمل جائزہ لینے کے بعد نادرا کو واضح ہدایات جاری کیں کہ درخواست گزار کی درخواست فوری طور پر پراسیس کی جائے اور انہیں شناختی کارڈ کے اجرا کے لیے ٹوکن فراہم کیا جائے۔

یہ فیصلہ نہ صرف ایک فرد کی کامیابی ہے بلکہ ان تمام شہریوں کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے جو نادرا یا دیگر اداروں کی غیر ضروری رکاوٹوں کا شکار ہوتے ہیں۔ قانون اور عدالت ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کو بھی اسی نوعیت کا مسئلہ درپیش ہے تو قانونی چارہ جوئی آپ کا حق ہے۔

اپنی سم کسی اور کو دینا ایک قابلِ سزا جرم ہے۔آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کے ذریعے کوئی بھی غیر قانونی سرگرمی انجام دی جا سکتی...
24/04/2026

اپنی سم کسی اور کو دینا ایک قابلِ سزا جرم ہے۔
آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کے ذریعے کوئی بھی غیر قانونی سرگرمی انجام دی جا سکتی ہے!

آپ کے شناختی کارڈ پر کتنی سمیں رجسٹرڈ ہیں:
cnic.sims.pk
یا
اپنا CNIC نمبر (بغیر ڈیش کے) 668 پر ایس ایم ایس کریں۔

کسی بھی نامعلوم یا غیر ضروری سم کو فوراً بلاک کروائیں۔

نئی سم ہمیشہ مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے ہی حاصل کریں۔

مزید معلومات کے لیے:
pta.gov.pk | 0800-55055 (ٹول فری)

ہوشیار رہیں ، محفوظ رہیں!

ورثہ کو قرض ادا کرنا ہوگا! (Recovery Case Update)لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمہ (RFA No. 63446/2020) میں واضح کر دیا ہ...
24/04/2026

ورثہ کو قرض ادا کرنا ہوگا!
(Recovery Case Update)

لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمہ (RFA No. 63446/2020) میں واضح کر دیا ہے کہ اگر کسی شخص پر قرض واجب الادا ہو، تو اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء اس قرض کی ادائیگی کے ذمہ دار ہوتے ہیں — مگر صرف ترکے (inheritance) کی حد تک۔

📌 کیس کا خلاصہ (Easy Explanation)

💰 مرحوم فرمان علی نے مدعی طاہر حیات سے 46 لاکھ روپے قرض لیا
📄 اس کے بدلے:
✔ اقرار نامہ (Agreement)
✔ پروناٹ (Pronote)
✔ مختلف چیکس جاری کیے

❌ بعد میں چیکس فنڈز کی کمی کی وجہ سے ڈس آنر ہو گئے

⚖️ ورثاء کا مؤقف کیا تھا؟

✔ ہم نے چیکس پر دستخط نہیں کیے
✔ کچھ ورثاء نابالغ ہیں
✔ اس لیے ہم ذمہ دار نہیں

🏛️ عدالت کا فیصلہ (Key Points)

✔ جب قرض کے دستاویزی ثبوت (چیکس، پروناٹ) ثابت ہو جائیں
👉 تو انکار کرنے کی ذمہ داری مدعا علیہ (ورثاء) پر ہوتی ہے

✔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کا 33 لاکھ روپے ریکوری کا فیصلہ برقرار رکھا

✔ واضح حکم:
👉 ورثاء کو قرض ادا کرنا ہوگا — مگر صرف اتنے حصے تک جتنا ترکہ ملا ہو

📚 اہم قانون

یہ فیصلہ درج ذیل قوانین کے تحت دیا گیا:
✔ Code of Civil Procedure Order 37
✔ Negotiable Instruments Act 1881

💡 اہم قانونی نکتہ (Must Know)

👉 مرنے والے کا قرض ختم نہیں ہوتا
👉 وہ اس کے ترکے کے ساتھ جڑا رہتا ہے
👉 ورثاء انکار کر کے ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے

🚨 سادہ الفاظ میں

“اگر آپ کو وراثت ملی ہے، تو اس کے ساتھ قرض کی ذمہ داری بھی آ سکتی ہے”

Address

Suit No 1 Plot No 7c Lane 8 Sehar Commercial Phase VII DHA Karachi
Karachi

Opening Hours

Monday 16:00 - 17:00
Tuesday 16:00 - 17:00
Wednesday 16:00 - 17:00
Thursday 16:00 - 17:00
Friday 16:00 - 17:00
Saturday 16:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Trilegal Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share