13/06/2026
عوامی آگاہی
سندھ میں پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کے اندراج کا طریقۂ کار
پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کا بروقت اندراج ہر شہری کا قانونی حق، خاندانی ذمہ داری اور بنیادی ضرورت ہے۔ یہ اندراج قانونی شناخت، شناختی کارڈ، پاسپورٹ، اسکول داخلہ، وراثت، پنشن، انشورنس، سرکاری سہولتوں، عدالتی معاملات اور درست سرکاری ریکارڈ کے لیے نہایت اہم ہے۔
سندھ میں یہ اندراج متعلقہ مقامی کونسل/یونین کونسل کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ مقامی کونسل کا سیکریٹری/نامزد افسر رجسٹرار کے طور پر اندراج کا ذمہ دار ہوتا ہے، جبکہ اندراج کا ریکارڈ مقامی کونسل اور مربوط کمپیوٹرائزڈ نظام میں محفوظ کیا جاتا ہے۔
قانونی بنیاد
سندھ میں پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کے اندراج کا نظام درج ذیل قانونی بنیادوں پر قائم ہے:
- سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ، 2013، دفعہ 139 مع شیڈول VIII
- ماڈل ذیلی قوانین برائے اندراج پیدائش، اموات، شادی و طلاق، 2017
- مسلم عائلی قوانین آرڈیننس، 1961
- سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ، 2013
- سندھ ہندو میرج ایکٹ، 2016، ترمیمی ایکٹ 2018
- کرسچن میرج ایکٹ، 1872
- ڈائیورس ایکٹ، 1869
- متعلقہ دیگر قوانین اور ضوابط
1. پیدائش کا اندراج
بچے کی پیدائش کا اندراج اس مقامی کونسل/یونین کونسل میں کروایا جائے جہاں بچہ پیدا ہوا ہو۔
ذمہ دار فرد
پیدائش کے اندراج کی ذمہ داری عموماً درج ذیل پر عائد ہوتی ہے:
- گھر کا سربراہ
- والدین
- قریبی رشتہ دار
- مجاز سرپرست
مدت
پیدائش کے بعد 30 دن کے اندر اندراج کروانا ضروری ہے۔
درخواست فارم
پیدائش کے اندراج کے لیے فارم "A" استعمال ہوگا۔ یہ فارم متعلقہ مقامی کونسل، بنیادی مراکز صحت، ہسپتالوں اور سرکاری اسکولوں سے مفت دستیاب ہو سکتا ہے۔
ضروری دستاویزات
- والدین/سرپرست کا شناختی کارڈ
- مکمل درخواست فارم
- درخواست دہندہ کے دستخط یا انگوٹھا
- گھر میں پیدائش کی صورت میں حلف نامہ
- دو گواہان بمعہ شناختی کارڈ
- ہسپتال میں پیدائش کی صورت میں ہسپتال سرٹیفکیٹ، برتھ سرٹیفکیٹ یا ویکسینیشن کارڈ
- متعلقہ مقامی تصدیق، اگر ضروری ہو
اندراج اور سرٹیفکیٹ
درخواست وصول ہونے کے بعد رجسٹرار پیدائش کا اندراج رجسٹر فارم "A-1” میں کرے گا۔ اس کے بعد پیدائش کا سرٹیفکیٹ فارم "C" کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔
2. پیدائش کا تاخیر سے اندراج
اگر پیدائش کا اندراج 30 دن کے اندر نہ ہو سکے تو تاخیر کے حساب سے الگ طریق