14/12/2025
خُلع کیا ہے اور خُلع لینے کا مکمل قانونی طریقہ:
اگر کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا ممکن نہ رہے اور وہ اپنی مرضی سے نکاح ختم کرنا چاہے، تو شریعت اور پاکستان کے قانون کے مطابق وہ خُلع حاصل کر سکتی ہے۔
خُلع لینے کے لیے کہاں جانا ہوتا ہے؟
خُلع کے لیے عورت کو فیملی کورٹ میں پٹیشن (درخواست) دائر کرنی ہوتی ہے۔
خُلع کی پٹیشن فائل کرنے کے لیے کن دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے؟
خُلع کی درخواست دائر کرتے وقت درج ذیل کاغذات ضروری ہوتے ہیں:
نکاح نامہ کی کاپی
اپنی موجودہ رہائش کے پتے کا ثبوت (بجلی یا گیس کا بل)
شناختی کارڈ کی کاپی
پٹیشن فائل ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے؟
عدالت خُلع کی پٹیشن فائل ہونے کے بعد شوہر کو نوٹس جاری کرتی ہے۔
شوہر کو عدالت میں جواب جمع کروانے کے لیے وقت دیا جاتا ہے۔
جواب آنے کے بعد عدالت دونوں میاں بیوی کو پیش ہونے کے لیے بلاتی ہے۔
عدالت پہلے مرحلے میں صلح کروانے کی کوشش کرتی ہے۔
اگر صلح ہو جائے؟
اگر عدالت میں میاں بیوی کے درمیان صلح ہو جائے تو:
عورت اپنی خُلع کی پٹیشن واپس لے لیتی ہے
نکاح برقرار رہتا ہے
اگر صلح نہ ہو؟
اگر صلح ممکن نہ ہو تو:
عدالت خُلع منظور (Grant) کر دیتی ہے
عدالت کے حکم سے نکاح ختم کر دیا جاتا ہے
خُلع کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہوتا ہے؟
خُلع منظور ہونے کے بعد:
عدالت کے آرڈر کی کاپی ضلعی کونسل کے دفتر میں جمع کروانی ہوتی ہے۔
ضلعی کونسل کی جانب سے تین نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔
تین ماہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد:
عورت قانونی طور پر آزاد ہوتی ہے
شناختی دستاویزات میں ازدواجی حیثیت تبدیل کروا سکتی ہے
خُلع کے اخراجات کتنے ہو سکتے ہیں؟
ایک اچھا وکیل عام طور پر 70,000 سے 150,000 روپے تک فیس لے سکتا ہے
فیس کیس کی نوعیت اور شہر پر ہوتا ہے
اہم بات
خُلع عورت کا قانونی اور شرعی حق ہے۔ اگر آپ ذہنی، جسمانی یا جذباتی طور پر ازدواجی زندگی نبھانے سے قاصر ہیں تو قانون آپ کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
مزید معلومات یا قانونی رہنمائی کے لیے آپ نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ کر سکتی ہیں:
03272346373
Call now to connect with business.