02/01/2026
مورخہ 01/01/2026 کو میرا جانا ٹریفک ہیلپ سینٹر، درِیگ روڈ ہوا، E-Challan کے حوالے سے۔ غیر معمولی رش اور طویل قطار کے باعث میں نے اپنے ساتھی کو قطار میں کھڑا رہنے کی ہدایت کی اور خود رہنمائی حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھا۔
اسی دوران میری نظر ایک ٹریفک ہیلپنگ وہیکل پر پڑی جس کی نمبر پلیٹ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چھپائی گئی تھی، جس کے نتیجے میں وہ گاڑی سرکاری ریکارڈ میں شناخت کے بغیر دکھائی دیتی ہے۔ اس نوعیت کا عمل نہ صرف شکوک کو جنم دیتا ہے بلکہ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داران کو آنکھوں میں دھول جھاڑ کر موقع سے نکل جانے کا راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔
یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ جہاں ایک طرف بالا افسران آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں، وہیں دوسری جانب عام شہریوں کے چالان کرنے میں غیر معمولی سرگرمی دکھائی دیتی ہے۔ اس دوہرے معیار نے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور عوام کا اعتماد رفتہ رفتہ دم توڑ رہا ہے۔
اگر قانون کے محافظ ہی نگاہوں سے اوجھل ہو کر قانون سے بالا تر ہو جائیں تو انصاف کا ترازو کبھی برابر نہیں رہ سکتا۔
سندھ ٹریفک پولیس پر افسوس۔