Arain Law associate Kabirwala

Arain Law associate Kabirwala ⚖️ Advocate Tariq Aziz Arain
🔍 Solve Legal Issues | Justice For All
🏛 Expert in FIR, Bail, Civil & Family Cases
📞 +92300-8737320 . . +92303-6436116

Permanently closed.
16/10/2025

پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025 — مکمل خلاصۃ۔

باب 1: ابتدائیہ اور دائرہ کار

یہ بل پنجاب بھر میں مقامی حکومتوں کے قیام، اختیارات، اور ذمہ داریوں کے تعین کے لیے بنایا گیا ہے۔

صوبے کے تمام اضلاع، تحصیلوں، اور شہری علاقوں میں یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

سابقہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 منسوخ کر دیا گیا ہے۔

باب 2: نظامِ حکومت کی تشکیل (Structure of Local Governments)

1. ضلع اتھارٹی (District Authority)

ضلع کی سطح پر “District Authority” قائم ہوگی۔

اس کا چیئرمین ڈپٹی کمشنر (DC) ہوگا۔

ضلع کے ترقیاتی اور انتظامی امور اس اتھارٹی کے تحت آئیں گے۔

منتخب نمائندوں کا کردار مشاورتی اور نگرانی تک محدود ہوگا۔

2. تحصیل کونسل (Tehsil Council)

تحصیل سطح پر عوامی نمائندوں پر مشتمل کونسل بنائی جائے گی۔

چیئرمین اور نائب چیئرمین منتخب ارکان میں سے چنے جائیں گے۔

تحصیل کونسل اپنے علاقے کے ترقیاتی منصوبوں اور سروس ڈیلیوری کی نگرانی کرے گی۔

3. یونین کونسل (Union Council)

بنیادی اکائی یونین کونسل ہوگی۔

وارڈ نظام ختم کر دیا گیا ہے۔

اب پورے یونین کونسل سے 9 جنرل ممبران براہِ راست منتخب ہوں گے۔

خواتین، نوجوان، اقلیت، کسان/مزدور کے لیے مخصوص نشستیں الگ سے دی گئی ہیں۔

4. میٹروپولیٹن اور میونسپل کارپوریشنز

بڑے شہری علاقوں (لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی وغیرہ) کے لیے میٹروپولیٹن کارپوریشن قائم ہوں گی۔

میئر اور ڈپٹی میئر منتخب ہوں گے۔

شہری سہولتوں، انفراسٹرکچر اور سروسز کے تمام امور ان کے دائرے میں آئیں گے۔

باب 3: انتخابات کا طریقہ (Election Procedure)

انتخابات پارٹی بنیادوں پر ہوں گے۔

آزاد امیدوار بعد میں کسی جماعت میں شامل ہوسکیں گے۔

چیئرمین / وائس چیئرمین کا انتخاب کونسل کے اندرونی ووٹ سے ہوگا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابی شیڈول، عملہ، اور ضابطہ کار جاری کرے گا۔

ایک یونین کونسل کی آبادی عام طور پر 22,000 تا 27,000 رکھی گئی ہے۔

مخصوص نشستیں متناسب نمائندگی (Proportional Representation) کے ذریعے بھری جائیں گی۔

باب 4: اختیارات و فرائض (Powers and Functions)

یونین کونسل:

صفائی، نکاسی آب، گلیوں کی مرمت، قبرستان، واٹر سپلائی، بلدیاتی ٹیکس جمع کرنا۔

عوامی شکایات کا اندراج اور حل۔

مقامی ترقیاتی منصوبے تجویز اور نگرانی۔

تحصیل کونسل:

مقامی ترقیاتی فنڈز کی منظوری۔

تحصیل سطح کے اداروں کی کارکردگی پر نگرانی۔

تعلیم، صحت، زراعت، ٹرانسپورٹ جیسے امور پر سفارشات۔

ضلع اتھارٹی:

تمام تحصیلوں سے آنے والے منصوبوں کی منظوری۔

ترقیاتی فنڈز کی تقسیم۔

ضلعی سطح کے محکموں (تعلیم، صحت، پولیس، ایگریکلچر) سے رابطہ۔

چیئرمین (DC) کو ایگزیکٹو اختیارات حاصل ہوں گے۔

باب 5: مالیاتی امور (Finance & Budget)

ہر کونسل اور اتھارٹی کا الگ بجٹ ہوگا۔

آمدنی کے ذرائع: مقامی ٹیکس، فیسیں، صوبائی گرانٹس، فنڈز۔

کوئی کونسل اپنے بجٹ سے باہر خرچ نہیں کرسکے گی۔

اکاؤنٹس آڈٹ Auditor General Punjab کرے گا۔

باب 6: عوامی شمولیت اور احتساب

ہر یونین کونسل میں شہری مشاورتی کمیٹی (Citizen Advisory Committee) بنائی جائے گی۔

ترقیاتی کاموں کی نگرانی اور شفافیت کے لیے اوپن بجٹ سیشنز لازمی ہوں گے۔

عوام کو اپنی کونسل کی کارکردگی کے بارے میں معلومات تک رسائی ہوگی۔

لوکل گورنمنٹ کمیشن بنایا جائے گا جو کارکردگی کی مانیٹرنگ کرے گا۔

🔹 باب 7: انتظامی پہلو اور ملازمین

لوکل گورنمنٹ کے ملازمین صوبائی سروس کا حصہ ہوں گے۔

بھرتیاں پنجاب پبلک سروس کمیشن یا لوکل گورنمنٹ سروس کمیشن کے ذریعے ہوں گی۔

چیئرمین کے پاس تعیناتی، تبادلے، اور نظم و ضبط کی محدود اتھارٹی ہوگی۔

باب 8: تحلیل، برخاستگی اور معطلی

صوبائی حکومت کسی بھی کونسل یا اتھارٹی کو غیر فعال یا معطل کرسکتی ہے اگر:

وہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو،

اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرے،

یا مالی بے ضابطگی پائی جائے۔

تحلیل کی صورت میں ایڈمنسٹریٹر (اکثر DC یا AC) مقرر کیا جائے گا۔

باب 9: ضوابط و اختیارات کی منتقلی

حکومت وقتاً فوقتاً مختلف محکموں کے اختیارات لوکل گورنمنٹ کو منتقل یا واپس لے سکتی ہے۔

تمام فیصلے صوبائی حکومت کی ہدایات کے تابع ہوں گے۔

باب 10: عبوری و متفرق شقیں

سابقہ بلدیاتی نمائندوں کے دور کے منصوبے نئے نظام کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔

جاری اسکیمیں منسوخ نہیں ہوں گی۔

پرانے ملازمین اپنی سروس برقرار رکھیں گے۔

قواعد و ضوابط کے لیے حکومت نوٹیفکیشنز جاری کرے گی۔

FOR PERA SDEOقانون کے 50 مشہور اصول📜 50 اہم قانونی ضوابط (Legal Maxims in Urdu with Explanation & Examples)---1. Ignoran...
07/10/2025

FOR PERA SDEO
قانون کے 50 مشہور اصول
📜 50 اہم قانونی ضوابط (Legal Maxims in Urdu with Explanation & Examples)

---

1. Ignorantia juris non excusat

📖 قانون کی لاعلمی عذر نہیں۔
👉 مطلب: کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے قانون کا پتہ نہیں تھا۔
🔹 مثال: اگر کوئی سگریٹ پینے پر پابندی والے علاقے میں سگریٹ پیے اور کہے کہ "مجھے قانون کا پتہ نہیں تھا"، تو یہ عذر قابل قبول نہیں۔

---

2. Audi alteram partem

📖 فریق مخالف کو سنے بغیر فیصلہ نہ دیا جائے۔
👉 مطلب: انصاف کا تقاضا ہے کہ دونوں طرف کو سننے کے بعد فیصلہ ہو۔
🔹 مثال: اگر کسی ملازم کو برطرف کیا جانا ہے تو اسے وضاحت کا موقع دینا ضروری ہے۔

---

3. Nemo judex in causa sua

📖 کوئی شخص اپنے ہی کیس کا جج نہیں۔
👉 مطلب: انصاف غیر جانبداری سے ہونا چاہیے۔
🔹 مثال: اگر کسی جج کا بیٹا کسی مقدمے میں فریق ہو تو وہ جج اس مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتا۔

---

4. Fiat justitia ruat caelum

📖 انصاف ہونا چاہیے چاہے آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے۔
👉 مطلب: انصاف ہر حال میں ہونا چاہیے، چاہے حالات مشکل ہوں۔
🔹 مثال: طاقتور شخص کے خلاف بھی قانون حرکت میں آئے گا۔

---

5. Ubi jus ibi remedium

📖 جہاں حق ہے وہاں چارہ جوئی ہے۔
👉 مطلب: ہر حق کے ساتھ اس کے تحفظ کا قانونی راستہ ہوتا ہے۔
🔹 مثال: اگر کسی کی جائیداد پر قبضہ ہو جائے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

---

6. Actus reus non facit reum nisi mens sit rea

📖 جرم تبھی ہے جب نیت بھی مجرمانہ ہو۔
👉 مطلب: صرف عمل کافی نہیں، نیت بھی دیکھنا ضروری ہے۔
🔹 مثال: غلطی سے کسی کو دھکا لگنا جرم نہیں، مگر جان بوجھ کر مارنا جرم ہے۔

---

7. Res ipsa loquitur

📖 چیز خود بولتی ہے۔
👉 مطلب: حالات خود بخود غفلت ظاہر کرتے ہیں۔
🔹 مثال: سرجری کے بعد مریض کے جسم میں کینچی رہ جانا ڈاکٹر کی غفلت ظاہر کرتا ہے۔

---

8. Nemo debet bis vexari pro eadem causa

📖 کسی کو ایک ہی معاملے میں دو بار پریشان نہیں کیا جا سکتا۔
👉 مطلب: ڈبل سزا یا ڈبل ٹرائل نہیں ہوگا۔
🔹 مثال: اگر کسی کو چوری کے الزام میں بری کر دیا گیا تو اسی الزام پر دوبارہ مقدمہ نہیں ہو سکتا۔

---

9. Caveat emptor

📖 خریدار خبردار رہے۔
👉 مطلب: خریدار کو خریداری سے پہلے جانچ کرنی چاہیے۔
🔹 مثال: اگر آپ بغیر دیکھے پرانی گاڑی خریدیں تو بعد میں خرابی پر بیچنے والا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

---

10. Lex posterior derogat priori

📖 بعد کا قانون پہلے کو ختم کر دیتا ہے۔
🔹 مثال: اگر 2020 کا قانون اور 2023 کا قانون آپس میں متصادم ہوں تو نیا قانون لاگو ہوگا۔

---

11. Injuria sine damno

📖 قانونی نقصان بغیر مالی نقصان۔
🔹 مثال: کسی کو ووٹ ڈالنے سے روکنا، چاہے مالی نقصان نہ ہو۔

---

12. Damnum sine injuria

📖 مالی نقصان بغیر قانونی نقصان۔
🔹 مثال: کوئی نئی دکان کھلنے سے پرانی دکان کا بزنس کم ہو جائے، تو پرانی دکان والے کا قانونی حق نہیں بنتا۔

---

13. Volenti non fit injuria

📖 جو راضی ہو اسے نقصان نہیں۔
🔹 مثال: کرکٹ کھیلتے وقت گیند لگ جائے تو کھلاڑی مقدمہ نہیں کر سکتا۔

---

14. Actio personalis moritur cm persona

📖 ذاتی دعویٰ مرنے والے کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔
🔹 مثال: ہتک عزت کا دعویٰ مدعی کی موت کے بعد جاری نہیں رہ سکتا۔

---

15. Delegatus non potest delegare

📖 نمائندہ مزید نمائندہ نہیں بنا سکتا۔
🔹 مثال: اگر وزیر کو اختیار دیا جائے تو وہ کسی اور کو منتقل نہیں کر سکتا۔

---

16. Ex turpi causa non oritur actio

📖 غیر اخلاقی بنیاد پر کوئی دعویٰ نہیں بنتا۔
🔹 مثال: جوا کھیلنے کا معاہدہ عدالت میں نافذ نہیں ہوگا۔

---

17. Salus populi suprema lex

📖 عوام کی بھلائی سب سے بڑا قانون ہے۔
🔹 مثال: وبا کے دوران لاک ڈاؤن لگانا۔

---

18. Lex non cogit ad impossibilia

📖 قانون ناممکن پر مجبور نہیں کرتا۔
🔹 مثال: اگر زلزلے سے دستاویزات جل جائیں تو پیش نہ کرنے پر سزا نہیں ہوگی۔

---

19. Ut res magis valeat quam pereat

📖 چیز کو بچانے کی کوشش قانون کا مقصد ہے۔
🔹 مثال: معاہدے میں چھوٹی غلطیوں کے باوجود اسے مؤثر مانا جاتا ہے۔

---

20. Lex specialis derogat legi generali

📖 خاص قانون عام قانون پر غالب ہے۔
🔹 مثال: فیملی لا، سول پروسیجر پر فوقیت رکھے گا۔

---

21. Qui facit per alium facit per se

📖 جو دوسرے سے کرائے وہ گویا خود کرتا ہے۔
🔹 مثال: آجر (Employer) ملازم کے عمل کا ذمہ دار ہے۔

---

22. Consensus ad idem

📖 ایک بات پر باہمی رضامندی۔
🔹 مثال: خریدار اور بیچنے والا ایک ہی چیز پر متفق ہوں۔

---

23. Falsus in uno, falsus in omnibus

📖 ایک بات میں جھوٹا تو سب میں جھوٹا۔
🔹 مثال: گواہ اگر ایک بات میں جھوٹ بولے تو اس کی پوری گواہی مشکوک ہو جاتی ہے۔

---

24. Lex loci contractus

📖 معاہدے کی جگہ کا قانون۔
🔹 مثال: دبئی میں معاہدہ ہو تو دبئی کا قانون لاگو ہوگا۔

---

25. Lex fori

📖 عدالت کا اپنا قانون۔
🔹 مثال: پاکستان کی عدالت میں پاکستان کا طریقہ کار ہوگا۔

---

26. Lex loci delicti commissi

📖 جرم کی جگہ کا قانون۔
🔹 مثال: سعودی عرب میں جرم ہو تو سعودی قانون لاگو ہوگا۔

---

27. Bona fide

📖 نیک نیتی سے۔
🔹 مثال: کوئی شخص ایمانداری سے کام کرے۔

---

28. Mala fide

📖 بدنیتی سے۔
🔹 مثال: کوئی افسر ذاتی دشمنی میں کسی کو سزا دے۔

---

29. Ratio decidendi

📖 فیصلے کی اصل وجہ۔
🔹 مثال: عدالت نے گواہی کے ناقابل اعتماد ہونے کی بنیاد پر فیصلہ دیا۔

---

30. Obiter dictum

📖 جج کی ضمنی رائے۔
🔹 مثال: جج کا ایسا تبصرہ جو فیصلہ کا حصہ نہ ہو۔

---

31. Consensus facit legem

📖 رضامندی قانون بناتی ہے۔
🔹 مثال: نکاح میں میاں بیوی کی رضامندی۔

---

32. Acta exteriora indicant interiora secreta

📖 ظاہری عمل نیت کو ظاہر کرتا ہے۔
🔹 مثال: چوری کرتے وقت دروازہ توڑنا نیت ظاہر کرتا ہے۔

---

33. Dur lex sed lex

📖 قانون سخت ہے مگر قانون ہے۔
🔹 مثال: ٹیکس لازمی دینا پڑے گا۔

---

34. Nullum crimen sine lege

📖 قانون کے بغیر جرم نہیں۔
🔹 مثال: جس کام پر قانون نہ ہو، اسے جرم نہیں کہا جا سکتا۔

---

35. Nulla poena sine lege

📖 قانون کے بغیر سزا نہیں۔
🔹 مثال: عدالت خود سزا ایجاد نہیں کر سکتی۔

---

36. Qui prior est tempore potior est jure

📖 جو وقت میں پہلے ہے، قانون میں مضبوط ہے۔
🔹 مثال: پہلے رجسٹری کرانے والا مالک مضبوط حق رکھتا ہے۔

---

37. Nemo dat quod non habet

📖 جو چیز اس کے پاس نہیں وہ نہیں دے سکتا۔
🔹 مثال: چوری شدہ گاڑی بیچنے والا اصل مالک نہیں۔

---

38. Pacta sunt servanda

📖 معاہدے پورے کرنا لازم ہیں۔
🔹 مثال: کرایہ داری کا معاہدہ پورا کرنا ہوگا۔

---

39. Expressio unius est exclusio alterius

📖 ایک کا ذکر دوسروں کو خارج کرتا ہے۔
🔹 مثال: اگر قانون میں "بیٹے" لکھا ہو تو بیٹیاں شامل نہیں۔

---

40. In pari delicto potior est conditio possidentis

📖 برابر قصور میں قابض کو ترجیح۔
🔹 مثال: ناجائز قبضے میں دونوں برابر ہوں تو موجودہ قابض کو برتری ملے گی۔

---

41. Qui tam pro domino rege quam pro se ipso in hac parte sequitur

📖 جو بادشاہ اور اپنے لیے ایک ساتھ دعویٰ کرے۔
🔹 مثال: عوامی مفاد میں بھی ذاتی مفاد شامل ہو سکتا ہے۔

---

42. Lex prospicit non respicit

📖 قانون آگے دیکھتا ہے، پیچھے نہیں۔
🔹 مثال: نیا قانون پرانے واقعات پر لاگو نہیں ہوتا۔

---

43. De minimis non curat lex

📖 قانون چھوٹی باتوں کی پرواہ نہیں کرتا۔
🔹 مثال: ایک روپے کا نقصان عدالت میں دعویٰ نہیں۔

---

44. Cessante ratione legis cessat ipsa lex

📖 قانون کی وجہ ختم ہو تو قانون ختم۔
🔹 مثال: پرانے حالات کے لیے بنایا گیا قانون نئے حالات میں نہیں۔

---

45. Ignorantia facti excusat

📖 حقیقت کی لاعلمی معافی ہے۔
🔹 مثال: کوئی شخص زہر سمجھ کر دوا نہ دے تو معافی ہے۔

---

46. Inter arma silent leges

📖 جنگ میں قانون خاموش ہو جاتا ہے۔
🔹 مثال: ہنگامی صورتحال میں عام قوانین معطل ہو سکتے ہیں۔

---

47. Necessitas non habet legem

📖 ضرورت کا کوئی قانون نہیں۔
🔹 مثال: آگ بجھانے کے لیے کسی کا مکان توڑ دینا۔

---

48. Nemo est supra leges

📖 کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔
🔹 مثال: صدر یا وزیراعظم بھی قانون کے تابع ہیں۔

---

49. Jus cogens

📖 ناقابل تنسیخ اصول۔
🔹 مثال: غلامی یا نسل کشی عالمی سطح پر ممنوع ہے۔

---

50. Stare decisis et non quieta movere

📖 فیصلوں پر قائم رہو اور طے شدہ بات کو نہ چھیڑو۔
🔹 مثال: عدالت اپنے پرانے فیصلوں کو بدلنے میں جلدی نہیں کرے گی۔
تحریر: ایڈوکیٹ سپریم کورٹ سکندر جونیجوقانون کے 50 مشہور اصول
📜 50 اہم قانونی ضوابط (Legal Maxims in Urdu with Explanation & Examples)

---

1. Ignorantia juris non excusat

📖 قانون کی لاعلمی عذر نہیں۔
👉 مطلب: کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے قانون کا پتہ نہیں تھا۔
🔹 مثال: اگر کوئی سگریٹ پینے پر پابندی والے علاقے میں سگریٹ پیے اور کہے کہ "مجھے قانون کا پتہ نہیں تھا"، تو یہ عذر قابل قبول نہیں۔

---

2. Audi alteram partem

📖 فریق مخالف کو سنے بغیر فیصلہ نہ دیا جائے۔
👉 مطلب: انصاف کا تقاضا ہے کہ دونوں طرف کو سننے کے بعد فیصلہ ہو۔
🔹 مثال: اگر کسی ملازم کو برطرف کیا جانا ہے تو اسے وضاحت کا موقع دینا ضروری ہے۔

---

3. Nemo judex in causa sua

📖 کوئی شخص اپنے ہی کیس کا جج نہیں۔
👉 مطلب: انصاف غیر جانبداری سے ہونا چاہیے۔
🔹 مثال: اگر کسی جج کا بیٹا کسی مقدمے میں فریق ہو تو وہ جج اس مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتا۔

---

4. Fiat justitia ruat caelum

📖 انصاف ہونا چاہیے چاہے آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے۔
👉 مطلب: انصاف ہر حال میں ہونا چاہیے، چاہے حالات مشکل ہوں۔
🔹 مثال: طاقتور شخص کے خلاف بھی قانون حرکت میں آئے گا۔

---

5. Ubi jus ibi remedium

📖 جہاں حق ہے وہاں چارہ جوئی ہے۔
👉 مطلب: ہر حق کے ساتھ اس کے تحفظ کا قانونی راستہ ہوتا ہے۔
🔹 مثال: اگر کسی کی جائیداد پر قبضہ ہو جائے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

---

6. Actus reus non facit reum nisi mens sit rea

📖 جرم تبھی ہے جب نیت بھی مجرمانہ ہو۔
👉 مطلب: صرف عمل کافی نہیں، نیت بھی دیکھنا ضروری ہے۔
🔹 مثال: غلطی سے کسی کو دھکا لگنا جرم نہیں، مگر جان بوجھ کر مارنا جرم ہے۔

---

7. Res ipsa loquitur

📖 چیز خود بولتی ہے۔
👉 مطلب: حالات خود بخود غفلت ظاہر کرتے ہیں۔
🔹 مثال: سرجری کے بعد مریض کے جسم میں کینچی رہ جانا ڈاکٹر کی غفلت ظاہر کرتا ہے۔

---

8. Nemo debet bis vexari pro eadem causa

📖 کسی کو ایک ہی معاملے میں دو بار پریشان نہیں کیا جا سکتا۔
👉 مطلب: ڈبل سزا یا ڈبل ٹرائل نہیں ہوگا۔
🔹 مثال: اگر کسی کو چوری کے الزام میں بری کر دیا گیا تو اسی الزام پر دوبارہ مقدمہ نہیں ہو سکتا۔

---

9. Caveat emptor

📖 خریدار خبردار رہے۔
👉 مطلب: خریدار کو خریداری سے پہلے جانچ کرنی چاہیے۔
🔹 مثال: اگر آپ بغیر دیکھے پرانی گاڑی خریدیں تو بعد میں خرابی پر بیچنے والا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

---

10. Lex posterior derogat priori

📖 بعد کا قانون پہلے کو ختم کر دیتا ہے۔
🔹 مثال: اگر 2020 کا قانون اور 2023 کا قانون آپس میں متصادم ہوں تو نیا قانون لاگو ہوگا۔

---

11. Injuria sine damno

📖 قانونی نقصان بغیر مالی نقصان۔
🔹 مثال: کسی کو ووٹ ڈالنے سے روکنا، چاہے مالی نقصان نہ ہو۔

---

12. Damnum sine injuria

📖 مالی نقصان بغیر قانونی نقصان۔
🔹 مثال: کوئی نئی دکان کھلنے سے پرانی دکان کا بزنس کم ہو جائے، تو پرانی دکان والے کا قانونی حق نہیں بنتا۔

---

13. Volenti non fit injuria

📖 جو راضی ہو اسے نقصان نہیں۔
🔹 مثال: کرکٹ کھیلتے وقت گیند لگ جائے تو کھلاڑی مقدمہ نہیں کر سکتا۔

---

14. Actio personalis moritur cm persona

📖 ذاتی دعویٰ مرنے والے کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔
🔹 مثال: ہتک عزت کا دعویٰ مدعی کی موت کے بعد جاری نہیں رہ سکتا۔

---

15. Delegatus non potest delegare

📖 نمائندہ مزید نمائندہ نہیں بنا سکتا۔
🔹 مثال: اگر وزیر کو اختیار دیا جائے تو وہ کسی اور کو منتقل نہیں کر سکتا۔

---

16. Ex turpi causa non oritur actio

📖 غیر اخلاقی بنیاد پر کوئی دعویٰ نہیں بنتا۔
🔹 مثال: جوا کھیلنے کا معاہدہ عدالت میں نافذ نہیں ہوگا۔

---

17. Salus populi suprema lex

📖 عوام کی بھلائی سب سے بڑا قانون ہے۔
🔹 مثال: وبا کے دوران لاک ڈاؤن لگانا۔

---

18. Lex non cogit ad impossibilia

📖 قانون ناممکن پر مجبور نہیں کرتا۔
🔹 مثال: اگر زلزلے سے دستاویزات جل جائیں تو پیش نہ کرنے پر سزا نہیں ہوگی۔

---

19. Ut res magis valeat quam pereat

📖 چیز کو بچانے کی کوشش قانون کا مقصد ہے۔
🔹 مثال: معاہدے میں چھوٹی غلطیوں کے باوجود اسے مؤثر مانا جاتا ہے۔

---

20. Lex specialis derogat legi generali

📖 خاص قانون عام قانون پر غالب ہے۔
🔹 مثال: فیملی لا، سول پروسیجر پر فوقیت رکھے گا۔

---

21. Qui facit per alium facit per se

📖 جو دوسرے سے کرائے وہ گویا خود کرتا ہے۔
🔹 مثال: آجر (Employer) ملازم کے عمل کا ذمہ دار ہے۔

---

22. Consensus ad idem

📖 ایک بات پر باہمی رضامندی۔
🔹 مثال: خریدار اور بیچنے والا ایک ہی چیز پر متفق ہوں۔

---

23. Falsus in uno, falsus in omnibus

📖 ایک بات میں جھوٹا تو سب میں جھوٹا۔
🔹 مثال: گواہ اگر ایک بات میں جھوٹ بولے تو اس کی پوری گواہی مشکوک ہو جاتی ہے۔

---

24. Lex loci contractus

📖 معاہدے کی جگہ کا قانون۔
🔹 مثال: دبئی میں معاہدہ ہو تو دبئی کا قانون لاگو ہوگا۔

---

25. Lex fori

📖 عدالت کا اپنا قانون۔
🔹 مثال: پاکستان کی عدالت میں پاکستان کا طریقہ کار ہوگا۔

---

26. Lex loci delicti commissi

📖 جرم کی جگہ کا قانون۔
🔹 مثال: سعودی عرب میں جرم ہو تو سعودی قانون لاگو ہوگا۔

---

27. Bona fide

📖 نیک نیتی سے۔
🔹 مثال: کوئی شخص ایمانداری سے کام کرے۔

---

28. Mala fide

📖 بدنیتی سے۔
🔹 مثال: کوئی افسر ذاتی دشمنی میں کسی کو سزا دے۔

---

29. Ratio decidendi

📖 فیصلے کی اصل وجہ۔
🔹 مثال: عدالت نے گواہی کے ناقابل اعتماد ہونے کی بنیاد پر فیصلہ دیا۔

---

30. Obiter dictum

📖 جج کی ضمنی رائے۔
🔹 مثال: جج کا ایسا تبصرہ جو فیصلہ کا حصہ نہ ہو۔

---

31. Consensus facit legem

📖 رضامندی قانون بناتی ہے۔
🔹 مثال: نکاح میں میاں بیوی کی رضامندی۔

---

32. Acta exteriora indicant interiora secreta

📖 ظاہری عمل نیت کو ظاہر کرتا ہے۔
🔹 مثال: چوری کرتے وقت دروازہ توڑنا نیت ظاہر کرتا ہے۔

---

33. Dur lex sed lex

📖 قانون سخت ہے مگر قانون ہے۔
🔹 مثال: ٹیکس لازمی دینا پڑے گا۔

---

34. Nullum crimen sine lege

📖 قانون کے بغیر جرم نہیں۔
🔹 مثال: جس کام پر قانون نہ ہو، اسے جرم نہیں کہا جا سکتا۔

---

35. Nulla poena sine lege

📖 قانون کے بغیر سزا نہیں۔
🔹 مثال: عدالت خود سزا ایجاد نہیں کر سکتی۔

---

36. Qui prior est tempore potior est jure

📖 جو وقت میں پہلے ہے، قانون میں مضبوط ہے۔
🔹 مثال: پہلے رجسٹری کرانے والا مالک مضبوط حق رکھتا ہے۔

---

37. Nemo dat quod non habet

📖 جو چیز اس کے پاس نہیں وہ نہیں دے سکتا۔
🔹 مثال: چوری شدہ گاڑی بیچنے والا اصل مالک نہیں۔

---

38. Pacta sunt servanda

📖 معاہدے پورے کرنا لازم ہیں۔
🔹 مثال: کرایہ داری کا معاہدہ پورا کرنا ہوگا۔

---

39. Expressio unius est exclusio alterius

📖 ایک کا ذکر دوسروں کو خارج کرتا ہے۔
🔹 مثال: اگر قانون میں "بیٹے" لکھا ہو تو بیٹیاں شامل نہیں۔

---

40. In pari delicto potior est conditio possidentis

📖 برابر قصور میں قابض کو ترجیح۔
🔹 مثال: ناجائز قبضے میں دونوں برابر ہوں تو موجودہ قابض کو برتری ملے گی۔

---

41. Qui tam pro domino rege quam pro se ipso in hac parte sequitur

📖 جو بادشاہ اور اپنے لیے ایک ساتھ دعویٰ کرے۔
🔹 مثال: عوامی مفاد میں بھی ذاتی مفاد شامل ہو سکتا ہے۔

---

42. Lex prospicit non respicit

📖 قانون آگے دیکھتا ہے، پیچھے نہیں۔
🔹 مثال: نیا قانون پرانے واقعات پر لاگو نہیں ہوتا۔

---

43. De minimis non curat lex

📖 قانون چھوٹی باتوں کی پرواہ نہیں کرتا۔
🔹 مثال: ایک روپے کا نقصان عدالت میں دعویٰ نہیں۔

---

44. Cessante ratione legis cessat ipsa lex

📖 قانون کی وجہ ختم ہو تو قانون ختم۔
🔹 مثال: پرانے حالات کے لیے بنایا گیا قانون نئے حالات میں نہیں۔

---

45. Ignorantia facti excusat

📖 حقیقت کی لاعلمی معافی ہے۔
🔹 مثال: کوئی شخص زہر سمجھ کر دوا نہ دے تو معافی ہے۔

---

46. Inter arma silent leges

📖 جنگ میں قانون خاموش ہو جاتا ہے۔
🔹 مثال: ہنگامی صورتحال میں عام قوانین معطل ہو سکتے ہیں۔

---

47. Necessitas non habet legem

📖 ضرورت کا کوئی قانون نہیں۔
🔹 مثال: آگ بجھانے کے لیے کسی کا مکان توڑ دینا۔

---

48. Nemo est supra leges

📖 کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔
🔹 مثال: صدر یا وزیراعظم بھی قانون کے تابع ہیں۔

---

49. Jus cogens

📖 ناقابل تنسیخ اصول۔
🔹 مثال: غلامی یا نسل کشی عالمی سطح پر ممنوع ہے۔

---

50. Stare decisis et non quieta movere

📖 فیصلوں پر قائم رہو اور طے شدہ بات کو نہ چھیڑو۔
🔹 مثال: عدالت اپنے پرانے فیصلوں کو بدلنے میں جلدی نہیں کرے گی

10/09/2025

سیکشن 323 تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے تحت ’’جان بوجھ کر ضرر (Hurt) پہنچانے‘‘ کا جرم بیان کیا گیا ہے۔ اس دفعہ کے تحت مجرم کو قید اور/یا جرمانہ کی سزا دی جا سکتی ہے، اور بعض صورتوں میں معاوضہ (Compensation) بھی عائد کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر جب ضرر (hurt) ایسا ہو جو ’’شجّہ‘‘ یا دیگر قسم کے جسمانی زخموں کے قریب ہو اور قصاص و دیت (Qisas & Diyat) کے دائرہ میں آتا ہو۔

تاہم، دیت کا اطلاق زیادہ تر سنگین نوعیت کے جرائم مثلاً قتل (Qatl) یا جرح (Wounds) میں ہوتا ہے، جو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 299 تا 338 میں وضاحت سے بیان کی گئی ہیں۔

دیت اور اس کی قیمت:

دفعہ 323 PPC کے مطابق (جب قصاص و دیت کے نظام کے ساتھ لاگو کیا جائے) دیت کی قیمت درج ذیل ہے:

“دیت کی قیمت تیس ہزار چھ سو تیس (30,630) گرام چاندی کے برابر ہوگی۔”

موجودہ مالی قیمت:

حکومتِ پاکستان وقتاً فوقتاً چاندی کے ریٹ کی بنیاد پر دیت کی قیمت مقرر کرتی ہے۔ 30,630 گرام چاندی (PKR 9,828,670) کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے برابر ہے، جو سرکاری طور پر بطور دیت مقرر کی گئی ہے۔

اہم نکات:

1. دفعہ 323 PPC بذاتِ خود ہر صورت میں دیت کو لازم قرار نہیں دیتی، لیکن اگر جرم قصاص و دیت کے دائرے میں آتا ہو تو عدالت دیت یا معاوضہ کا حکم دے سکتی ہے۔

2. دیت کی مقدار حکومتِ پاکستان ہر سال نوٹیفکیشن کے ذریعے طے کرتی ہے۔

3. فی الحال دیت کی مقررہ رقم تقریباً 98 لاکھ 28 ہزار 670 روپے ہے، جو 30,630 گرام چاندی کے مساوی ہے۔

10/09/2025

آرڈر 21 سی پی سی
(Ex*****on of Decrees and Orders)
یعنی جب عدالت کوئی ڈگری یا حکم دے دیتی ہے تو اس کو عملاً نافذ کرنے کا طریقہ کار آرڈر 21 میں بیان کیا گیا ہے۔

یہ آرڈر بہت لمبا ہے اور اس میں 106 سے زیادہ رولز ہیں۔ ان سب میں عدالت کے دیے گئے فیصلے کو نافذ کرنے کے مختلف طریقے بیان ہیں، مثلاً جائیداد ضبط کرنا نیلامی کرنا تنخواہ یا جائیداد سے رقم وصول کرنا، وغیرہ۔

ڈگری کا نفاذ
(Ex*****on of Decree)
جب عدالت فیصلہ دے دیتی ہے تو جیتنے والا فریق درخواست دے کر اس فیصلے پر عمل درآمد کروا سکتا ہے۔
یہ درخواست اسی عدالت میں یا کسی اور مجاز عدالت میں دی جا سکتی ہے۔

قابل نفاذ ڈگریاں
رقم کی ادائیگی والی ڈگری
جائیداد کی حوالگی والی ڈگری
قبضہ دینے یا قبضہ ختم کرنے والی ڈگری
قرض یا رقم کی وصولی کا طریقہ
قرض دار کی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد ضبط کر کے بیچی جاتی ہے۔
تنخواہ یا آمدنی کا کچھ حصہ کٹوتی کر کے وصول کیا جا سکتا ہے۔
قبضہ دلوانا
اگر جائیداد یا مکان کا قبضہ دینے کا حکم ہے تو عدالت بیلف یا افسر کے ذریعے قبضہ دلوا دیتی ہے۔
قرقی
عدالت ملزم کی جائیداد قرق کر سکتی ہے تاکہ ڈگری ہولڈر کو اس کی رقم یا حق مل سکے۔
نیلامی
ضبط شدہ جائیداد کو نیلام کر کے اس کی رقم ڈگری ہولڈر کو دی جاتی ہے۔
تیسرے فریق کے حقوق
اگر کوئی تیسرا فریق کہے کہ یہ جائیداد اس کی ہے تو وہ عدالت میں دعویٰ دائر کر سکتا ہے
اگر کوئی شخص رقم ادا نہیں کرتا اور عدالت مطمئن ہو کہ وہ ادا کر سکتا ہے لیکن جان بوجھ کر نہیں دے رہا، تو اسے قید بھی کیا جا سکتا ہے

07/09/2025

غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ رکھنے والا انصاف کیسے لے سکتا ہے؟ – سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے (2023 PLD 506 Supreme Court) میں یہ اصول وضع کیا گیا کہ اگر کسی غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے حامل شخص کو جائیداد کا قبضہ بھی دیا جا چکا ہو، تو وہ اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے۔ درج ذیل نکات اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:

1. قبضہ کی موجودگی

اگر غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے تحت جائیداد کا قبضہ خریدار کو دیا جا چکا ہو، تو وہ سیکشن 53-A، ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 کے تحت اپنی ملکیت کا تحفظ کر سکتا ہے۔

اس شق کے تحت اگر فروخت کنندہ نے جائیداد منتقل کر دی ہو، تو وہ بعد میں معاہدے سے انحراف نہیں کر سکتا۔

2. عدالتی تحفظ

اگر فروخت کنندہ یا کوئی اور فریق غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کو چیلنج کرے، تو خریدار ثبوت کے ساتھ عدالت میں مؤقف پیش کر سکتا ہے کہ اسے مکمل قیمت ادا کرنے کے بعد قبضہ دیا گیا تھا۔

عدالت ایسے معاملات میں رجسٹریشن کے تکنیکی معاملے پر نہیں بلکہ انصاف کے اصولوں پر فیصلہ کر سکتی ہے۔

3. رجسٹریشن کا متبادل

اگر رجسٹریشن ممکن نہ ہو، تو خریدار عدالت میں ڈیکلریٹری سوٹ (Suit for Declaration) دائر کر سکتا ہے تاکہ جائیداد کے مالکانہ حقوق کو تسلیم کرایا جا سکے۔

ریونیو ریکارڈ میں اپنا نام درج کروانے کے لیے بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

4. فروخت کنندہ کے بیانات

اگر فروخت کنندہ نے عدالت میں تسلیم کر لیا ہو کہ اس نے جائیداد فروخت کی تھی اور قیمت وصول کر لی تھی، تو یہ غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے حق میں ایک مضبوط ثبوت بن سکتا ہے۔

5. رجسٹریشن ایکٹ کی استثنیٰ شقیں

بعض مخصوص حالات میں غیر رجسٹرڈ معاہدہ بھی قانونی تحفظ حاصل کر سکتا ہے، خاص طور پر جب فروخت کنندہ نے جان بوجھ کر رجسٹریشن سے گریز کیا ہو۔

نتیجہ

سپریم کورٹ کے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اگر خریدار کے پاس غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ساتھ قبضہ بھی موجود ہو، تو وہ قانونی طریقوں سے اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے۔ تاہم، بہتر یہی ہے کہ ہر پراپرٹی ٹرانزیکشن کو رجسٹرڈ کرایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

07/09/2025

قبر کشائی کے قوانین اور طریقہ کار
کسی بھی مقتول کی موت کی وجہ معلوم کرنے اور تحقیات کرانے کے لیے مجسٹریٹ کو درخواست زیر دفعہ 176 ضابطہ فوجداری گزاری جاسکتی ہے جس پر مجسٹریٹ انکوائری تشکیل دینے کاحکم دے سکتا ہے
جب کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 176(2)کے تحت درخواست گزار کر قبر کشائی کراے جانے کی استدعا کی جاسکتی ہے
جس پر مجسٹریٹ درخواست منظور کرکے اپنی نگرانی پر قبر کشائی کرانے کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دے سکتا ہے تاکہ وجہ موت کا ٹھیک طرح پتہ چل سکے
اعلی عدلیہ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ قبر کشائی کی درخواست زائد المعیاد ہو تب بھی مجسٹریٹ درخواست کو خارج نہیں کرسکتا
ایک اور مقدمہ میں قرار دیا گیا ہے کہ اگرمقدمہ عدالت میں چل رہا ہو اور کوئی فریق قبر کشائی کی درخواست گزارے تو دوسرے فریق کو سنے بغیر درخواست منظور نہ کی جاے
اگر ایک بار پوسٹ مارٹم ہوجاے اور تدفین ہوجاے تو دوبارہ قبر کشائی کرنے کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جاسکتا ہے
قبر کشائی کی درخواست یا قتل کی تحقیات کی درخواست گزارنے پر کوئی معیاد لاگو نہیں ہوتی یہ درخواست کبھی بھی دی جاسکتی ہے

قبر کشائی کی درخواست اور موت کی وجوہات کی تحقیات کی درخواست کوئی بھی دے سکتا ہے حتی کہ اجنبی شخص بھی مجسٹریٹ کو درخواست دے کر قانون کو حرکت میں لاسکتا ہے
جب ایک بار مجسٹریٹ کرادے تو گورنمنٹ یا پولیس دوبارہ انکوائری نہیں کراسکتی اور نہ ہی قبر کشائی کرا سکتی ہے
ایک اور فیصلہ میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پولیس کی قید میں کوئی بھی شخص پولیس کی ذمہ داری میں پر ہوتا ہے اگر وہ قیدی کو جعلی مقابلہ میں ماردے اور اگر پولیس کے خلاف کاروائی نہ ہوئی تو یہی سمجھا جاے گا کہ ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے
References
2003 PCRLj 2000 , PLD 1998 S.C 388,1985 MLD 782,2006

04/09/2025

اسلام علیکم
ٹیکس پئیر اپکو مطلع کیا جاتا ہے کہ اپنا گوشوارہ انکم ٹیکس سال 2025 بروقت جمع کروائیں اور ایکٹو فائلر بنیں گوشوارہ داخل کرنے کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2025 ہے اپ سے گزارش ہے کہ کسی بھی دشواری سے بچنے کیلئےگوشوارہ داخل کرنے کیلئے بینک سٹیٹمنٹ 1جولائی 2024 تا 30 جون 2025 تک اور دیگر کاغزات انکم ٹیکس whatsapp کریں اور گوشوارے submit کروائیں
منجانب...ارائیں لأ ایسوسی ایٹس03008737320 . . . .. . . . . . . . . . . . 03036436116

04/09/2025

نادرا آرڈینینس 2000 دفعہ 30 پاکستان کا جعلی شناختی کارڈ بنانا، ایک سنگین جرم ہے۔ ضمانت خارج ہوئی۔
*(2016 PCrLJ 951).*

ملزم پر فیس بک ID ہیک کرکے، انٹرنیٹ پر بلا اجازت ذاتی تصاویر اپ لوڈ کرنے کا الزام تھا۔
ضمانت خارج ہوئی۔
*(2016 PCrLJ 1916).*

الیکٹرانک ٹرازیکشن آرڈیننس 2002 دفعہ 37&36 جعلی ڈگری اور ڈپلومہ جات کی آن لائن فروخت۔ دوران تفتیش ملزم سے ہونے والی برآمدگی اسے جرم سے Conntect کرتی تھی۔
ملزم ضمانت کا حقدار نہ ہے۔
*(2016 PCrLJ 1371).*

ملزم پر، مدعیہ کی فیس بک ID بنانے اور مدعیہ کی مرضی کے بغیر، اس پر مدعیہ کی تصویر اپ لوڈ کرنے کا الزام تھا۔ ضمانت خارج ہوئی۔
*(PLD 2017 PESH 10)*

فیس بک پر عورت کی برہنہ تصویر اپ لوڈ کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل کرنے کا الزام تھا ملزم اس بناء پر اضمانت کا حق دار نہ ہے کہ جرم ممنوعہ کلاز میں فال نہ کرتا ہے۔
*(2019 PCrLJ 769).

تھرڈ پارٹی کے ذریعے ریٹرن فائلنگ آپ کی شناخت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے2 ستمبر، 2025انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانا ایک سالانہ ذم...
04/09/2025

تھرڈ پارٹی کے ذریعے ریٹرن فائلنگ آپ کی شناخت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے
2 ستمبر، 2025

انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانا ایک سالانہ ذمہ داری ہے، لیکن اب بہت سے ٹیکس دہندگان شارٹ کٹ کی تلاش میں سوشل میڈیا کے اشتہارات اور غیر تصدیق شدہ ٹیکس سروس فراہم کنندگان کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ نام نہاد “سلوشن ادارے” آسان اور سستی ریٹرن فائلنگ کا وعدہ کرتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ ان کی اصل حیثیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ٹیکس سال 2025 کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں، جس کے تحت ریٹرن فائلنگ کے عمل میں حساس معلومات درکار ہوتی ہیں جیسے آپ کا شناختی کارڈ نمبر (CNIC)، نیشنل ٹیکس نمبر (NTN)، بینک اکاؤنٹس، IBANs، جائیداد کے ریکارڈ، اور ودہولڈنگ ٹیکس سرٹیفکیٹس۔
یہ معلومات کسی غیر رجسٹرڈ بیچ والے کو دینا آپ کو شناخت کی چوری (Identity Theft) کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

سوچئے ذرا: اگر آپ اپنی لاگ اِن تفصیلات اور مالی معلومات کسی تیسرے فرد کے ساتھ شیئر کرتے ہیں تو آپ کے پاس کیا ضمانت ہے کہ آپ کا ریٹرن دیانت داری سے جمع کروایا گیا ہے اور آپ کی شناخت کا غلط استعمال نہیں ہوا؟

ایف بی آر کو پہلے ہی کئی شکایات موصول ہو چکی ہیں کہ اس طرح کی سرگرمیوں کے نتیجے میں فراڈ کے واقعات پیش آئے۔

✔ محفوظ ریٹرن فائلنگ کے لیے چیک لسٹ:
• اس بات کی تصدیق کریں کہ آپ کا بیچ والا ٹیکس حکام کے ساتھ رجسٹرڈ ہے۔
• اپنی CNIC یا بینک کی تفصیلات نامعلوم افراد کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں۔
• ریٹرن فائلنگ کے لیے سرکاری ایف بی آر پورٹل یا لائسنس یافتہ کنسلٹنٹ کو ترجیح دیں۔
• یاد رکھیں: براہِ راست اپنا ریٹرن فائل کرنا سب سے محفوظ طریقہ ہے۔

اگرچہ کچھ بینکوں نے صارفین کی سہولت کے لیے ریٹرن فائلنگ کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے، لیکن یہ انتظامات بھی مکمل طور پر ڈیٹا کے تحفظ کی ضمانت نہیں دیتے۔ بالآخر احتیاط برتنا ٹیکس دہندہ کی اپنی ذمہ داری ہے۔

سہولت ذاتی شناخت کے نقصان کی قیمت پر حاصل نہیں کی جانی چاہیے۔ اپنا ریٹرن محفوظ طریقے سے فائل کرنا ہی سکون اور مطمئن تعمیل کی ضمانت ہے۔

04/09/2025

چیئرمین یونین کونسل کا کام صرف مصالحت کروانا اور طلاق کا مؤثر سرٹیفکیٹ جاری کرنا ہے۔۔۔۔۔طلاق کے جائز یا ناجائز ہونے کو جانچنا اس کے اختیارات میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

2023 MLD 354

Muslim Family Laws Ordinance ( VIII of 1961 ) --- --- S . 7 - Talaq --- Powers of Chairman Union Council --- Scope --- Chairman Union Council is only conferred with the power of bringing about reconciliation between the parties and issue a certificate of effectiveness of talaq --- Powers are not extended to declare as to whether a talaq has been pronounced . validly or otherwise which is a function reserved for a court of competent jurisdiction .

2025 YLR 962عنوانِ معاملہ (Short Title)سِیکشنز: 324, 337-H(2), 337-F(iii), 337-F(vi) اور 337-L(2) — مقدمہ برائے کوششِ قت...
01/09/2025

2025 YLR 962

عنوانِ معاملہ (Short Title)

سِیکشنز: 324, 337-H(2), 337-F(iii), 337-F(vi) اور 337-L(2) — مقدمہ برائے کوششِ قتل، لازماً خطرناک/غفلت آمیز فعل، مختلف نوعیت کے زخم (ghayr-jaifah-hashimah, munaqqilah) اور متعلقہ جزا۔

---

1. دفعات کی وضاحت (Section-wise Definitions — عمومی تشریح)

> نوٹ: ذیل میں دفعات کا خلاصہ عام فہم انداز میں دیا جا رہا ہے؛ اصل قانونی متن و جرمانہ/سزا کی تفصیل کے لیے تعزیراتِ پاکستان پڑھنا ضروری ہے۔

سیکشن 324 (Attempt to cause hurt by dangerous weapon/means)
کسی شخص کو خطرناک ہتھیار یا کسی ایسا ذریعہ استعمال کر کے جان بوجھ کر یا نیتاً چوٹ پہنچانے کی کوشش؛ عنصر — ہتھیار/خطرناک ذریعہ + ارادۂ نقصان۔

سیکشن 337-H(2)
ایسا لاپرواہ یا غفلت آمیز عمل جس سے انسانی جان یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہو؛ یعنی ایسی حرکت جس کے نتیجے میں دوسروں کی جان یا جسمانی حفاظت کو سنجیدہ خطرہ پہنچ سکے۔

سیکشن 337-F(iii) (ghayr-jaifah-hashimah)
337-F کے تحت مختلف قسم کے سنگین زخم/چوٹ کے ذیل میں آنے والی مخصوص اقسام — (iii) ایک مخصوص قسم کا شدید زخم جو باقاعدہ طور پر غیراجائز/حادثاتی نوعیت کا ہے (عدالتی اصطلاح کے مطابق مخصوص تشریحات دیکھی جاتی ہیں)۔

سیکشن 337-F(vi) (munaqqilah)
اس ذیلی شق کے تحت وہ چوٹ/زخم آتا ہے جو عضو یا ہڈی کو متاثر کر کے حرکت یا فعالیت میں خاص رکاوٹ پیدا کرے (مُنعَقِل/نقل پذیر نقصان وغیرہ)۔

سیکشن 337-L(2)
337 سلسلے کے تحت زخم پہنچانے کی مخصوص نوعیتوں کے لئے جزا و تلافی کے حوالہ جات؛ (ii) وغیرہ میں متاثرہ کو درکار قانونی ریلیف/سزا کی درجہ بندی شامل ہوتی ہے۔

> واضح رہے: اوپر دی گئی تشریحات اصطلاحی/عمومی ہیں تاکہ معاملے کی فہمی آسان ہو؛ اصل قانونی متن تفصیلی قانونی عناصر اور سزاؤں کی وضاحت کرتا ہے۔

---

2. مقدمے کا پس منظر (Background of Case — حقائق کا خلاصہ)

استغاثہ کا مؤقف: اپیل کنندہ (ملزم) اور اس کے ساتھیوں نے شکایت کنندہ کے بھائی پر فائرنگ کی، نتیجتاً وہ شدید گولیاں لگنے سے زخمی ہوا۔

زخمی کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال نہیں بلکہ تقریباً 25 کلومیٹر دور واقع ہسپتال لے جایا گیا؛ اس وجہ سے ایف آئی آر تقریباً 16 گھنٹے بعد درج ہوئی۔

مقدمے میں استدلال یہ ہے کہ واقعہ دن کی روشنی میں ہوا، زخمی نے عین وقتِ واقعہ پر ملزم کی شناخت کی اور بعد ازاں طبی معائِنے سے زخمیوں کی نوعیت ثابت ہوئی۔

پولیس نے موقعِ واردات سے خالی کارتوس/empties برآمد کیے اور دیگر تفتیشی کاروائیاں کیں۔

---

3. فریقین کا ورژن (Parties’ Versions)

استغاثہ (Prosecution)

الزام: ملزم نے زمینداری / زرعی زمین کے تنازعہ کے باعث شکایت کنندہ کے بھائی پر براہِ راست گولی چلائی (تقریباً قریب سے)، نتیجہ چار گولی لگنا اور شدید زخمی ہونا۔

شواہد: زخمی کا آنکھوں دیکھا بیان، مدعی/گواہ کا بیان، میڈیکل رپورٹ (MLC)، موقعِ واردات سے برآمد خالی کارتوس، ایف آئی آر میں نامزدگی اور معاملے کا محرک (مٹی/زرعی زمین)۔

موقف: گواہان کا بیان ایک مربوط زنجیر (chain) بنا رہا — تنازعہ → واقعہ → خالی کارتوس → علاج و بعد از علاج ایف آئی آر۔

دفاع (Defence)

تاخیر: S.161 کا بیان 13 دن بعد درج ہوا — دفاع نے تاخیر کو ظاہر کرتے ہوئے شکوک اٹھائے مگر عدالت نے متاثرہ کی حالت انگیہ رکھ کر اسے قابلِ قبول مانا۔

تضادات/تبرہ: دفاع نے پولیس شواہد اور برآمدگی کی صداقت پر سوال اٹھائے، تاہم عدالتی ریکارڈ میں پولیس گواہوں کی شہادت عدمِ تضاد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

ممکنہ دلیل: گواہوں کی نزدیکی (رشتہ دار وغیرہ) یا پروسیجرل خامیاں استغاثہ کے بیانیہ کو کمزور کرتی ہیں — مگر عدالت نے یہ دلائل مسترد کر دیے کیونکہ حقائق کی ہم آہنگی پائی گئی۔

Posted by Legal Luminaries
---

4. شواہد کا تفصیلی تجزیہ (Evidence — In Detail)

الف) تاخیرِ ایف آئی آر (16 گھنٹے)

عدالت نے دیکھا کہ ابتدائی ترجیح زخمی کی فوری طبی امداد تھی؛ زخمی کو دور کے ہسپتال لے جانا، وہاں رات گزارنا اور طبی بحالی کے بعد رجوعِ پولیس ایک معقول سبب تھا۔ اس بنا پر تاخیر کو قاتلانہ یا مخاصمانہ آئیڈیا کا ثبوت نہیں سمجھا گیا بلکہ معقول طور پر واضح و قابلِ قبول قرار دیا گیا۔

ب) عینی و زخمی گواہی (Ocular & Injured Witnesses)

زخمی خود بطور گواہ پیش ہوا اور بتایا کہ وہ قریب سے فائر کیا گیا؛ اس کی تشریح میڈیکل شواہد (گولیوں کے زخم، بلیکنگ وغیرہ) سے مطابقت رکھتی ہے۔

مدعی (complainant) اور زخمی دونوں کی بیانیہ یکساں اور غیر مزاحم ثابت ہوئی؛ عدالت نے زخمی کو عموماً زیادہ معتبر سمجھا کیونکہ وہ براہِ راست متاثر تھا۔

ج) محرک/مقصد (Motive)

تنازعِ زرعی زمین اور اسی کے سلسلے میں جاری سول مقدمات سے واضح محرک سامنے آیا — عدالت نے اسے استغاثہ کی کہانی میں طاقتور عنصر تسلیم کیا۔

د) ثبوت بر آمد (Empties & Physical Evidence)

مقامِ وقوع سے خالی کارتوس ملنا اور ان کی تفتیش عمل کا حصہ بننا مقدمے کی تصدیق کرتا ہے؛ عدالت نے اس کو مجموعی طور پر مقدمے کی زنجیر میں مددگار سمجھا۔

ہ) S.161 statements کا تاخیر سے اندراج

سِیکشن 161 کے بیانات بھلے 13 دن بعد ریکارڈ ہوئے ہوں مگر متاثرہ پہلے ہی ایف آئی آر میں نامزد تھا؛ عدالت نے طبعی حالت (علاج و بحالی) کو بنیاد بنا کر اس دیر کو قابلِ قبول قرار دیا۔

و) معمولی تضادات

شواہد میں اگر معمولی تضادات رہے تو عدالت نے کہا کہ وہ مادّی/بنیادی نوعیت کے نہیں اور مقدمے کو کمزور نہیں کرتے؛ عمومی قاعدہ یہی ہے کہ چھوٹے تضادات قدرتی ہوتے ہیں اور اعتمادِ شواہد کو مٹاتے نہیں۔

---

5. عدالت کی منطقی جانچ (Court’s Reasoning — Issue-wise)

1. کیا تاخیر ایف آئی آر کو فرسودہ کرتی ہے؟
عدالت: نہیں۔ طبی وجوہات اور فاصلے (25 کلومیٹر) کی وجہ سے تاخیر کی معقول تفضیل موجود تھی، لہٰذا تاخیر نے استغاثہ کے بیانیہ کو مٹایا نہیں۔

2. کیا عینی گواہ قابلِ اعتماد ہیں؟
عدالت: ہاں — خاص طور پر زخمی گواہ، کیونکہ اس کے بیان میں طبی شواہد سے مطابقت تھی اور کراس-ایگزامینیشن میں دفاع ناکام رہا۔ مدعی کا بیان بھی باضابطہ، غیر مزاحمت اور تسلسل پذیر تھا۔

3. کیا معمولی تضادات مادی ہیں؟
عدالت: معمولی تضادات غیر مادی قرار پائے؛ مجموعی شواہد زنجیری طور پر مستقل رہے۔

Posted by Legal Luminaries

4. کیا پولیس ثبوت یا برآمدگی میں جانبداری/جعلی کاری کا ثبوت ہے؟
عدالت: ریکارڈ میں ایسی کوئی شواہد نہیں کہ پولیس نے برآمدگی میں دخل اندازی کی ہو؛ اس لیے پولیس گواہی معتبر مانی گئی۔

5. کیا تبدیلی / متبادل (substitution) ممکن تھی؟
عدالت: منطقی طور پر ناممکن محسوس ہوا کہ متاثرہ کا بھائی اصل مرتکب کو چھوڑ کر کسی بےگناہ کو غلط طور پر نامزد کرے — اس لیے ثبوت کی بنیاد پر استغاثہ کا ورژن قابلِ یقین رہا۔

---

6. عدالتی نتیجہ (Court’s Conclusions / Order)

عدالت نے استغاثہ کا مقدمہ شکِ و شبہ سے بالا تر سمجھا۔

برقی/طبی شواہد، گواہی، مکانیکی ثبوت اور محرک کے امتزاج نے ملزم کی مجرمانہ ذمہ داری ثابت کر دی۔

نتیجہ: اپیل خارج — مقامی عدالتی فیصلے (سزا/توقیف) برقرار رکھے گئے۔

---

7. اہم قانونیاصول (Key Legal Takeaways)

1. Injured witness (زخمی شاہد) کی شہادت عموماً قابلِ اعتماد شمار ہوتی ہے، خاص طور پر جب طبی شواہد سے ہم آہنگ ہو۔

2. ایف آئی آر میں تاخیر ہر صورت میں قاتلانہ نہیں مانی جاتی — تاخیر کا جائزہ واقعاتی حالات کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔

3. چھوٹے تضادات شواہد کو کمزور نہیں کرتے جب کہ مجموعی شواہد مشترکہ طور پر ایک مستقل قصّہ قائم کریں۔

4. محرک (motive) کا ثبوت مقدمے میں استغاثت کو تقویت دیتا ہے مگر خود میں ہی مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔

5. پولیس شواہد کی صداقت تب تک مشکوک نہیں مانی جاتی جب تک اس کی شفافیت/manipulation ثابت نہ ہو۔

---

8. عملی تجاویز (For Practitioners — مختصر رہنمائی)

برائے استغاثہ

طبی ریکارڈ اور فورینِزک رپورٹس کو ابتدائی طور پر مکمل رکھیں؛ زخمی کے فوری بیانات/MLC کا ریکارڈ مرتب رکھیں۔

ایف آئی آر درج کرنے کی تاخیر کی جو بھی حقیقی وجہ ہو، اس کے ثبوت (ہسپتال داخلے، ٹرانسپورٹ رسیدیں) ساتھ رکھیں۔

موقعِ وقوع سے خالی کارتوس/فزیکل شواہد کی تفصیلی دستاویزات بنائیں (chain of custody)۔

برائے دفاع

اگر S.161 دیر سے ریکارڈ ہوئی تو اس کی وجہ طبی حالت پر زور دیں اور موقع نامناسبیت کی نشاندہی کریں۔

کسی تضاد یا پروسیجرل کمزوری کو نمایاں کریں — مِثال کے طور پر برآمدگی کا عمل، پولیس گواہوں کے بیانات میں تنسیق۔

اگر ممکن ہو تو محرک کی نوعیت، تنازعے کا تاریخی پس منظر اور ممکنہ provocation کو سامنے لائیں تاکہ سزا/تعزیر میں نرمی کے لیے دلائل دستیاب ہوں۔

---

آخر میں (Final Note)

اس فیصلہ میں عدالت نے ثبوتوں کا مجموعی تقابلی جائزہ لیا — جہاں واقعہ، طبی شواہد، گواہی اور محرک ایک مربوط کہانی بناتے ہیں تو معمولی خامیاں یا تاخیر استغاثہ کے مقدمے کو مٹا نہیں سکتیں۔ نتیجتاً، اس مقدمے میں استغاثہ کامیاب رہا اور اپیل نامنظور رہی۔

Posted by Legal Luminaries

Penal Code, 1860---

2025 YLR 962

----Ss. 324, 337-H(2), 337-F(iii), 337-F(vi) & 337-L(2)---Attempt to commit qatl-i-amd, rash and negligent act to endanger human life or personal safety of others, ghayr-jaifah-hashimah, munaqqilah, causing hurt---Appreciation of evidence---Delay of 16 hours in lodging the FIR plausibly explained---Prosecution case was that the appellant/accused along with his co-accused made firing on the brother of complainant due to which he sustained firearm injuries---Admittedly the FIR was lodged after a delay of 16 hours of the incident---However, based on the particular facts and circumstances of the case it was found that said delay had been fully explained as initially injured had to be taken to hospital for treatment which was about 25 km away and would have taken considerable time to reach where he remained overnight receiving treatment---Once injured was out of danger the complainant went to lodge the FIR at the Police Station which was again at a istance of 25 km and as such the delay was not fatal to the prosecution case---Appellant was named in the FIR with the specific role of making direct fire on injured which led to him sustaining firearm injuries---Circumstances established that the prosecution had proved its case against the appellant beyond any shadow of doubt---Appeal against conviction was dismissed, in circumstances.
[Sindh] (a)962

Posted by Legal Luminaries

;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;
2025 YLR 962
----Ss. 324, 337-H(2), 337-F(iii), 337-F(vi) & 337-L(2)---Attempt to commit qatl-i-amd, rash and negligent act to endanger human life or personal safety of others, ghayr-jaifah-hashimah, munaqqilah, causing hurt---Appreciation of evidence---Minor contradictions in evidence of witnesses---Inconsequential---Prosecution case was that the appellant/accused along with his co-accused made firing on the brother of complainant, due to which, he sustained firearm injuries---Record showed that all the witnesses were consistent in their evidence---If there were some contradictions in their evidence, the same were minor in nature and not material and certainly not of such materiality so as to effect the prosecution case and the conviction of the appellant---Evidence the witnesses provided a believable corroborated unbroken chain of events from the agricultural dispute between the appellant and injured to the appellant shooting injured and seriously injuring him to the recovery of empties at the crime scene to the appellant initially absconding before being arrested---Circumstances established that the prosecution had proved its case against the appellant beyond any shadow of doubt---Appeal against conviction was dismissed, in circumstances. [Sindh] (g) 962

;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;
2025 YLR 962

---Ss. 324, 337-H(2), 337-F(iii), 337-F(vi) & 337-L(2)---Attempt to commit qatl-i-amd, rash and negligent act to endanger human life or personal safety of others, ghayr-jaifah-hashimah, munaqqilah, causing hurt---Appreciation of evidence---Motive proved---Prosecution case was that the appellant/accused along with his co-accused made firing on the brother of complainant due to which he sustained firearm injuries---Motive for the attack on injured by the appellant had come on record through the FIR and evidence of witness---Appellant had a dispute with injured over agricultural land which was also the subject of civil litigation which the appellant wanted the injured to withdraw---Circumstances established that the prosecution had proved its case against the appellant beyond any shadow of doubt---Appeal against conviction was dismissed, in circumstances. [Sindh]

(h) 962

;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;
2025 YLR 962

Ss. 324, 337-H(2), 337-Fi(ii), 337-F(vi) & 337-L(2)---Attempt to commit qatl-i-amd, rash and negligent act to endanger human life or personal safety of others, ghayr-jaifah-hashimah, munaqqilah, causing hurt---Appreciation of evidence---Ocular account supported by medical evidence---Prosecution case was that the appellant/accused along with his co-accused made firing on the brother of complainant, due to which, he sustained firearm injuries---Ocular account of the incident had been furnished by complainant and injured witness---Complainant was not a chance witness as he was going with his injured brother to sort out their dispute with accused with a local Nekmard when the incident took place---No material improvements were found in his FIR from his evidence---Complainant was not dented during a lengthy cross-examination and he gave his evidence in a natural manner and thus his evidence was trustworthy, reliable and confidence inspiring---Eye-witness was the brother of the complainant and was fired upon by the accused---Evidence of injured corroborated the evidence of the complainant in all material respects---Injured was named as the injured eye-witness in the FIR---Injured witness stated in his evidence that he was fired upon from about 4 feet which resulted in blackening on one of his firearm wounds---Injured witness stated that he was shot at on his arms, shoulder and stomach which accorded with the medical evidence---Evidence of said witness was not materially improved on from his S.161 Cr.P.C statement---Though S.161 Cr.P.C statement of injured witness was recorded 13 days after the incident however since he was named in the promptly lodged FIR and according to his evidence he was recuperating in the hospital from his 4 bullet injuries---Evidence of an injured eye-witness was deemed more reliable than usual eye-witnesses---Injured witness was not dented during cross-examination and he also knew the accused from before---Present incident was a daylight incident and witness was injured by the accused which injury was supported by the medical evidence and his evidence was corroborated by the complainant, thus weight could be given to his evidence---Circumstances established that the prosecution had proved its case against the appellant beyond any shadow of doubt---Appeal against conviction was dismissed, in circumstances. Sindh962

;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;
2025 YLR 962
----Ss. 324, 337-H(2), 337-F(iii), 337-F(vi) & 337-L(2)---Attempt to commit qatl-i-amd, rash and negligent act to endanger human life or personal safety of others, ghayr-jaifah-hashimah, munaqqilah, causing hurt---Appreciation of evidence---Police witnesses, evidence of---Scope---Prosecution case was that the appellant/accused along with his co-accused made firing on the brother of complainant due to which he sustained firearm injuries---Record showed that there was no ill will or enmity between the police and the appellant and as such the police had no reason to falsely implicate the appellant in this case, by planting the empties at the crime scene---Under such circumstances, the evidence of police witnesses was as good as any other witness---Evidence of the Investigating Officer was not dented during cross examination---Circumstances established that the prosecution had proved its case against the appellant beyond any shadow of doubt---Appeal against conviction was dismissed, in circumstances. [Sindh]
(f) 962

;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;
2025 YLR 962
----Ss. 324, 337-H(2), 337-F(iii), 337-F(vi) & 337-L(2)---Attempt to commit qatl-i-amd, rash and negligent act to endanger human life or personal safety of others, ghayr-jaifah-hashimah, munaqqilah, causing hurt---Appreciation of evidence---Substitution---False implication of accused unlikely---Prosecution case was that the appellant/accused along with his co-accused made firing on the brother of complainant due to which, he sustained firearm injuries---As per record, it did not appeal to logic, commonsense or reason that one brother would let the real person who seriously injured his other real brother get away scot free and falsely implicate an innocent person by way of substitution---Circumstances established that the prosecution had proved its case against the appellant beyond any shadow of doubt---Appeal against conviction was dismissed, in circumstances. [Sindh]

(d) 962

---

Address

Kabirwala
58250

Telephone

+923008737320

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arain Law associate Kabirwala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Arain Law associate Kabirwala:

Share