Malak Law Firm & Immigration consultants Swat

Call Directions

Malak Law Firm & Immigration consultants Swat We offer legal services & immigration consultancy

HEARTIEST CONGRATULATIONSMalak Law Firm & Immigration Consultants extends its heartfelt congratulations to Miss Sonia Ij...
05/09/2026

HEARTIEST CONGRATULATIONS

Malak Law Firm & Immigration Consultants extends its heartfelt congratulations to Miss Sonia Ijaz on her appointment as Additional General Secretary Malakand Division KP Chapter Association of International Lawyers (AIL Global) for the year 2026.

This is a proud and well-deserved achievement. Her dedication hard work and commitment to the legal profession are truly commendable. We are confident that she will carry out her new responsibilities with sincerity professionalism and integrity.

We wish her continued success in her new role and many more achievements in her professional journey.

Malak Law Firm & Immigration Consultants
Kabal Swat

🌟 WARMEST CONGRATULATIONSMalak Law Firm & Immigration Consultants Swat proudly congratulates Mr. Kashif Ali Advocate Hig...
04/09/2026

🌟 WARMEST CONGRATULATIONS

Malak Law Firm & Immigration Consultants Swat proudly congratulates Mr. Kashif Ali Advocate High Court and Ms. Humaira Shawkat Advocate High Court on successfully clearing the interview for the Fitness Certificate required for enrollment as Advocates of the Supreme Court of Pakistan.

This is a wonderful and well-deserved achievement. Their success reflects their hard work dedication and sincere commitment to the legal profession. It is a proud moment for them and for everyone who has supported them throughout their journey.

We are truly happy to celebrate this special achievement with them. May this new milestone bring them greater opportunities respect and success in their legal careers.

May they continue to achieve greater heights and serve the cause of justice with dedication and honour.

Heartiest congratulations Kashif Ali Sahib and Humaira Shawkat! 🎉⚖️

Wishing you both a bright successful and distinguished journey ahead.

Malak Law Firm & Immigration Consultants Swat

17/08/2026

ایف آئی اے کسی کو آف لوڈ نہیں کر سکتی۔۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم:-
وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974 ایف آئی اے کو بعض مخصوص جرائم کی تحقیق (Investigation) کا اختیار دیتا ہے، مگر یہ اختیار اسے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی ایمیگریشن کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کرنے کا ریگولیٹری اختیار (Regulatory Jurisdiction) نہیں دیتا۔

حسین جمال و دیگر بنام وفاقِ پاکستان و دیگران
آئینی درخواستیں نمبر 1585 و 1587/2026 اور 5338/2025
اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد
فاضل جج: جناب جسٹس ارباب محمد طاہر
فیصلہ: 06.08.2026

آئینِ پاکستان، 1973—آرٹیکلز 4، 9، 25 اور 33—ایمیگریشن آرڈیننس، 1979—ایمیگریشن رولز، 1979—وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974—بیرونِ ملک سفر کا حق—ائیرپورٹس پر مسافروں کو آف لوڈ کرنا—ایف آئی اے امیگریشن حکام کے اختیارات—دائرۂ اختیار—مساواتِ شہری—علاقائی و جغرافیائی بنیادوں پر پروفائلنگ—اختیارات سے تجاوز۔

حقِ سفر—بنیادی حق: بیرونِ ملک سفر کرنا شہری کی آزادی کا حصہ اور آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت بنیادی حق ہے۔ بین الاقوامی سفر محض انتظامی سہولت نہیں بلکہ آزادی، روزگار، تعلیم، کاروبار اور ایک بامقصد زندگی کے حصول سے منسلک ہے۔ لہٰذا اس حق پر پابندی صرف واضح قانونی و آئینی اختیار کے تحت ہی عائد کی جاسکتی ہے۔

ایمیگریشن کلیئرنس—محافظِ تارکینِ وطن کا قانونی دائرۂ اختیار: ایمیگریشن آرڈیننس، 1979 اور اس کے تحت بنائے گئے ایمیگریشن رولز، 1979 نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی تصدیق، جانچ، پروسیسنگ اور کلیئرنس کا مکمل قانونی نظام وضع کیا ہے۔ قانون نے اس مقصد کے لیے Protector of Emigrants کو مخصوص اتھارٹی مقرر کیا ہے۔ مذکورہ اتھارٹی شہری کے روزگار، ملازمت کے معاہدے، اہلیت، دستاویزات اور دیگر متعلقہ امور کی جانچ کے بعد رجسٹریشن اور کلیئرنس جاری کرتی ہے۔

ایف آئی اے کا اختیار—تحقیق، ریگولیشن نہیں: وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974 ایف آئی اے کو بعض مخصوص جرائم کی تحقیق (Investigation) کا اختیار دیتا ہے، مگر یہ اختیار اسے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی ایمیگریشن کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کرنے کا ریگولیٹری اختیار (Regulatory Jurisdiction) نہیں دیتا۔ تحقیقِ جرم اور کسی قانونی سرگرمی کی ریگولیشن دو مختلف تصورات ہیں۔ ایمیگریشن کی ریگولیشن کا اختیار Protector of Emigrants کو دیا گیا ہے، جبکہ ایف آئی اے کا متعلقہ اختیار مخصوص جرائم کی تفتیش تک محدود ہے۔

قانونی اختیار کے بغیر انتظامی کارروائی—اختیار سے تجاوز: ہر سرکاری ادارہ قانون کی پیداوار ہے اور صرف وہی اختیار استعمال کرسکتا ہے جو قانون نے اسے صراحتاً یا لازمی طور پر تفویض کیا ہو۔ شہری کے حقوق کو متاثر کرنے والی ہر کارروائی کا کوئی نہ کوئی واضح قانونی ماخذ ہونا ضروری ہے۔ اگر قانونی اختیار موجود نہ ہو تو کارروائی اختیار سے تجاوز (ultra vires) اور بلاجواز قانونی اختیار تصور ہوگی، خواہ اسے کتنی ہی نیک نیتی سے کیوں نہ کیا گیا ہو۔

ایف آئی اے امیگریشن اسٹاف کو اپیل یا نظرِ ثانی کا اختیار حاصل نہیں: اگر Protector of Emigrants نے قانون کے مطابق کسی شہری کے کاغذات، ملازمت، ویزا اور دیگر متعلقہ امور کی جانچ کرکے اسے ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن دے دی ہو تو ایف آئی اے امیگریشن اسٹاف محض ائیرپورٹ پر موجود ہونے کی بنیاد پر اسی معاملے کو دوبارہ نہیں کھول سکتا۔ نہ ہی وہ Protector of Emigrants کے فیصلے کے خلاف اپیل یا ریویو اتھارٹی کے طور پر کام کرسکتا ہے، کیونکہ قانون میں ایسا کوئی اختیار فراہم نہیں کیا گیا۔

قانونی نظام کو بے معنی بنانے سے گریز: اگر ایف آئی اے کو Protector of Emigrants کی جانب سے پہلے ہی کی گئی جانچ کے بعد دوبارہ وہی معاملات جانچنے اور مختلف نتیجہ اخذ کرنے کا اختیار تسلیم کرلیا جائے تو اس سے Protector of Emigrants کے پورے قانونی نظام کی حیثیت بے معنی ہوجائے گی اور قانون کے تحت مقرر کردہ رجسٹریشن کا عمل محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔ قانون کی ایسی تشریح سے گریز کیا جانا چاہیے جو کسی قانونی شق یا قانونی طریقۂ کار کو بے اثر یا غیر مؤثر بنا دے۔

پیشگی یا قیاسی شبہ—بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جاسکتے: محض اس بنیاد پر کہ ماضی میں کسی مخصوص طبقے یا اسی نوعیت کے افراد نے بیرونِ ملک جا کر قانون کی خلاف ورزی کی، کسی موجودہ شہری کے بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جاسکتے۔ قانون کسی حقیقی خلاف ورزی پر کارروائی کی اجازت دیتا ہے، مگر محض قیاسی شبہ (predictive suspicion) کی بنیاد پر کسی شہری کو سفر سے روکنے کا اختیار نہیں دیتا۔

علاقائی یا جغرافیائی بنیادوں پر پروفائلنگ—آئین کے منافی: پاکستان میں آئینی طور پر صرف ایک قسم کی شہریت ہے، یعنی پاکستانی شہریت۔ صوبہ، ضلع، علاقہ، نسل، قبیلہ یا رہائش شہریوں کی الگ الگ آئینی کلاسز تشکیل نہیں دیتے۔ ہر شہری مساوی عزت، احترام اور قانونی تحفظ کا مستحق ہے۔ کسی شہری کے ساتھ محض اس کے ضلع، صوبے یا جغرافیائی تعلق کی بنیاد پر مختلف یا منفی سلوک آئین کے آرٹیکلز 4 اور 25 کی مساوات کی ضمانت اور آرٹیکل 33 میں موجود علاقائی، نسلی، قبائلی، فرقہ وارانہ اور صوبائی تعصبات کی حوصلہ شکنی کے اصول سے متصادم ہوگا۔

ہر شہری کو اس کے اپنے کردار کی بنیاد پر جانچا جائے: ریاستی ادارے کسی شہری کا جائزہ اس کے اپنے طرزِ عمل، اس کے مخصوص حقائق اور اس کے ذاتی دستاویزات کی بنیاد پر لے سکتے ہیں، لیکن اسے اس کے ضلع، علاقے یا رہائش سے منسوب عمومی تصورات اور دقیانوسی مفروضوں کی بنیاد پر مشتبہ قرار نہیں دے سکتے۔ مساوی شہریت محض آئینی خواہش نہیں بلکہ ایک قابلِ نفاذ آئینی ضمانت ہے۔

آف لوڈنگ—واضح قانونی بنیاد لازم: اگر کسی شہری کے پاس درست پاسپورٹ، درست ویزا اور Protector of Emigrants کی جانب سے قانون کے مطابق ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن موجود ہو تو اسے سفر سے روکنے یا آف لوڈ کرنے کے لیے کسی مخصوص قانونی شق کا حوالہ دینا لازم ہے۔ ایسی قانونی بنیاد کی عدم موجودگی میں آف لوڈنگ بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار سے باہر کارروائی ہوگی۔

موجودہ مقدمات میں نتیجہ: درخواست گزاروں کے پاس درست پاسپورٹ، غیر ملکی روزگار کے ویزے اور Protector of Emigrants کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن/ایمیگریشن کلیئرنس موجود تھی۔ ان کے روزگار کے معاہدوں، اسناد اور دیگر متعلقہ امور کی پہلے ہی مجاز قانونی اتھارٹی جانچ کرچکی تھی۔ وفاقی حکومت یا ایف آئی اے عدالت کے سامنے کوئی ایسی قانونی شق پیش نہ کرسکی جو ایف آئی اے امیگریشن حکام کو Protector of Emigrants کے فیصلے کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کا اختیار دیتی ہو۔ چنانچہ درخواست گزاروں کو انہی امور کی بنیاد پر آف لوڈ کرنا، جنہیں مجاز اتھارٹی پہلے ہی جانچ اور منظور کرچکی تھی، بلا قانونی اختیار قرار پایا۔

انسانی اسمگلنگ اور دیگر جرائم—قانون سازی کا حل: عدالت نے انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی ہجرت، منظم بھیک مانگنے اور بیرونِ ملک روزگار کے ذرائع کے غلط استعمال جیسے مسائل کی سنگینی کو تسلیم کیا، تاہم قرار دیا کہ اگر موجودہ قانونی نظام ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے تو اس کا حل قانون سازی اور قانونی اصلاحات ہیں، نہ کہ ایف آئی اے کی جانب سے ائیرپورٹس پر ایک متوازی اور غیر قانونی اسکریننگ نظام قائم کرنا۔

اداروں کا احتساب—آف لوڈ ہونے والا ہر شخص سوال اٹھاتا ہے: عدالت نے اہم طور پر نشاندہی کی کہ ہر آف لوڈ کیا جانے والا تارکِ وطن درحقیقت Protector of Emigrants کے نظامِ کلیئرنس کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اس کے باوجود ریکارڈ پر ایسا کچھ موجود نہیں تھا کہ متعلقہ Protector of Emigrants یا Overseas Employment Promoter کے خلاف کوئی انکوائری، محکمانہ کارروائی یا اصلاحی اقدام کیا گیا ہو۔ صرف مسافروں کو نشانہ بنانا جبکہ ان سرکاری و متعلقہ اہلکاروں کا احتساب نہ کرنا جنہوں نے کلیئرنس دی، موجودہ آف لوڈنگ پریکٹس کی قانونی حیثیت، انصاف اور افادیت پر سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔

حتمی فیصلہ: آئینی درخواستیں نمبر 1585 اور 1587/2026 منظور کی گئیں اور ان درخواست گزاروں کی آف لوڈنگ کو بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار قرار دیا گیا۔ آئینی درخواست نمبر 5338/2025 نمٹا دی گئی، جبکہ فیصلے کے متعلقہ پیراگرافس میں دی گئی آئینی و قانونی آبزرویشنز برقرار رہیں۔ عدالت نے فیصلے کی نقول سیکریٹری وزارتِ داخلہ، سیکریٹری وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو تعمیل اور ضرورت پڑنے پر قانونی اصلاحات کے لیے بھجوانے کی ہدایت بھی کی۔

قانونی اصول / Ratio Decidendi:
اگر کوئی پاکستانی شہری درست پاسپورٹ، درست ویزا اور ایمیگریشن آرڈیننس، 1979 اور ایمیگریشن رولز، 1979 کے تحت Protector of Emigrants سے باقاعدہ ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن حاصل کرچکا ہو تو ایف آئی اے امیگریشن حکام کو قانون میں واضح اختیار کے بغیر اس کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے، اس پر اپیل یا ریویو کی حیثیت سے بیٹھنے یا شہری کو آف لوڈ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ ایسی کارروائی، اگر کسی مخصوص قانونی اختیار کے بغیر کی جائے، تو شہری کے حقِ سفر اور آئینی ضمانتوں سے متصادم ہونے کے ساتھ ساتھ بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہوگی۔۔۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقاتتحصیل بار ایسوسی ایشن کبل سوات کے صدر ملک فضل قدیم خان ایڈووکیٹ نے گورنر خیبر...
09/08/2026

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

تحصیل بار ایسوسی ایشن کبل سوات کے صدر ملک فضل قدیم خان ایڈووکیٹ نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران تحصیل بار ایسوسی ایشن کبل کو درپیش مسائل، وکلاء برادری کی فلاح و بہبود، عدالتی سہولیات کی بہتری، بار کی ترقی اور دیگر پیشہ ورانہ امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

صدر تحصیل بار ایسوسی ایشن کبل نے گورنر کو بار کے اہم مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے فوری اور مؤثر حل کی درخواست کی۔ گورنر خیبرپختونخوا نے مسائل کو غور سے سنا اور متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

ملک فضل قدیم خان ایڈووکیٹ
صدر
تحصیل بار ایسوسی ایشن کبل سوات

16/07/2026
27/06/2026
20/06/2026

* جس دستاویز کی تصدیق دو حاشیہ گواہوں سے ضروری ہو، اس کی ثبوت کے لیے دونوں گواہوں کا عدالت میں پیش ہونا لازم ہے۔
* صرف ایک حاشیہ گواہ کی شہادت، قانونِ شہادت کے آرٹیکل 79 کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی۔
* کاتبِ دستاویز (Scribe) حاشیہ گواہوں کا متبادل نہیں بن سکتا۔
* دستاویز سے فائدہ اٹھانے والے شخص پر اس کی درست تنفیذ ثابت کرنے کا بوجھ (Burden of Proof) ہوتا ہے۔

قانونی مفہوم:
اگر کوئی دستاویز (مثلاً ہبہ نامہ، وصیت، یا دیگر ایسی دستاویزات جن کی قانونی طور پر تصدیق حاشیہ گواہوں سے ضروری ہو) عدالت میں بطور ثبوت پیش کی جائے، تو عام طور پر اس کے دونوں حاشیہ گواہوں کی گواہی ضروری ہوتی ہے۔ صرف کاتب یا ایک گواہ کی شہادت کافی نہیں سمجھی جاتی، جب تک قانون میں کوئی استثنا موجود نہ ہو۔

حوالہ: 2016 CLC Note 12

20/06/2026

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر بیوی بلاجواز ازدواجی زندگی جاری رکھنے سے انکار کرے اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنے سے گریز کرے، تو مخصوص حالات میں شوہر کو خلع کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔

البتہ خلع صرف اسی صورت میں دی جا سکتی ہے جب شوہر یہ ثابت کر دے کہ اس نے اپنی تمام ازدواجی ذمہ داریاں اور حقوقِ زوجیت پوری دیانت داری سے ادا کیے ہیں۔

حوالہ: PLD 2023 Supreme Court 7

، وفاقی آئینی عدالت ، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے ججز اب کسی سوشل ، ثقافتی ، سیاسی یا سفارتی تقریب میں جانے سے قبل اپنے ...
13/06/2026

، وفاقی آئینی عدالت ، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے ججز اب کسی سوشل ، ثقافتی ، سیاسی یا سفارتی تقریب میں جانے سے قبل اپنے اپنے چیف جسٹس سے اجازت لیں گے پھر ہی جا سکیں گے ، سپریم جوڈیشل کونسل نے نیا کوڈ آف کنڈکٹ جاری کر دیا

مُلک بھر کی ضلعی عدلیہ میں ہفتے میں دو چھٹیوں کی پالیسی ختم، 6 روزہ ورکنگ ویک بحال ہوگئے، چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صد...
12/06/2026

مُلک بھر کی ضلعی عدلیہ میں ہفتے میں دو چھٹیوں کی پالیسی ختم، 6 روزہ ورکنگ ویک بحال ہوگئے، چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت اجلاس میں 6 روزہ ورکنگ ویک بحال کرنے کی منظوری دی گئی۔

Address

Kabal Banda

Opening Hours

Monday 08:00 - 20:00
Tuesday 08:00 - 20:00
Wednesday 08:00 - 20:00
Thursday 08:00 - 20:00
Friday 08:00 - 20:00
Saturday 08:00 - 20:00

Telephone

+923439994008

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malak Law Firm & Immigration consultants Swat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share