25/06/2026
⚠️ فنانس بل 2026: ATL بحالی فیس میں غیر معمولی اضافہ
حکومت نے فنانس بل 2026 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 182A میں اہم ترمیم تجویز کی ہے، جس کے تحت مقررہ تاریخ تک انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے والے ٹیکس دہندگان کو Active Taxpayers' List (ATL) سے خارج کیے جانے کے بعد دوبارہ ATL میں شامل ہونے کے لیے بہت زیادہ سرچارج ادا کرنا ہوگا۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق:
🔹 کمپنیوں کے لیے ATL بحالی سرچارج 20,000 روپے سے بڑھا کر 100,000 روپے کر دیا گیا ہے۔
🔹 ایسوسی ایشن آف پرسنز (AOP) اور فرمز کے لیے یہ رقم 10,000 روپے سے بڑھا کر 50,000 روپے کر دی گئی ہے۔
🔹 انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے سب سے بڑا اضافہ کیا گیا ہے، جہاں ATL بحالی سرچارج 1,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے تجویز کیا گیا ہے۔
یہ اقدام بظاہر ٹیکس دہندگان کو مقررہ وقت پر ریٹرن فائل کرنے کی ترغیب دینے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم بہت سے ماہرین کے نزدیک یہ اضافہ خاص طور پر چھوٹے ٹیکس دہندگان کے لیے انتہائی سخت اور بوجھل ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں تاخیر غیر ارادی یا معمولی نوعیت کی ہو۔
✅ ایک اہم رعایت بھی شامل کی گئی ہے
ترمیم شدہ بل میں نیا ذیلی سیکشن (3) شامل کیا گیا ہے جس کے تحت اگر کوئی انفرادی ٹیکس دہندہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کے سامنے یہ تحریری Undertaking جمع کروا دے کہ وہ آئندہ 6 ماہ تک کسی بھی قسم کی جائیداد خریدنے، حاصل کرنے یا اس میں ملکیتی یا مفاداتی حق حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تو اس پر ATL بحالی کے لیے مذکورہ سرچارج کی شرط لاگو نہیں ہوگی۔
📌 اس ترمیم کے بعد بروقت انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تاخیر کی صورت میں نہ صرف ATL اسٹیٹس ختم ہوگا بلکہ بحالی کے لیے بھاری مالی لاگت بھی برداشت کرنا پڑ سکتی ہے۔
تمام ٹیکس دہندگان، کاروباری افراد، کمپنیوں اور پراپرٹی سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ مقررہ تاریخ سے پہلے اپنی ٹیکس ریٹرن فائل کریں تاکہ اضافی ٹیکس، ودہولڈنگ کی بلند شرحوں اور ATL بحالی کے بھاری سرچارج سے بچا جا سکے۔