ADAL LAW Associates

ADAL LAW Associates We are Specialists in Immigration, Criminal, Civil, Corporate, Taxation, Succession, Family litigati

جائیداد کے کیسز میں لوکل کمیشن کا تقرر: لاہور ہائیکورٹ کا پراپرٹی کے تنازعات پر ایک بہت بڑا اور واضع فیصلہ!اگر آپ کا زمی...
11/07/2026

جائیداد کے کیسز میں لوکل کمیشن کا تقرر: لاہور ہائیکورٹ کا پراپرٹی کے تنازعات پر ایک بہت بڑا اور واضع فیصلہ!
اگر آپ کا زمین، جائیداد یا قبضے کا کوئی کیس عدالت میں چل رہا ہے، تو یہ فیصلہ آپ کو مخالف فریق کی طرف سے کیس کو لٹکانے اور عدالت کو گمراہ کرنے کی چالوں سے بچا سکتا ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ دیوانی مقدمے میں لوکل کمیشن (عدالتی نمائندہ) مقرر کروا کر موقع کا معائنہ کروانا ان کا قانونی حق ہے، لیکن لاہور ہائیکورٹ نے اس غلط فہمی کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔
کیس کی مختصر کہانی کیا ہے؟
ایک دیوانی مقدمے میں سائلین کا مؤقف تھا کہ 111 کنال زمین کا 13 مرلہ زمین کے ساتھ تبادلہ جعلی اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ ٹرائل کورٹ نے ان کا دعویٰ خارج کر دیا۔ جب معاملہ اپیل میں گیا تو انہوں نے نو ماہ بعد درخواست دی کہ لوکل کمیشن مقرر کیا جائے جو موقع پر جا کر دیکھے کہ اس 13 مرلہ زمین پر کوئی تعمیرات ہیں یا نہیں۔ اپیلیٹ کورٹ اور پھر لاہور ہائیکورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ کیوں مسترد کی؟ ائیے اس کے پیچھے موجود 4 پکے قانونی اصول سمجھتے ہیں۔
اس فیصلے سے عام آدمی اور وکلاء کے لیے سیکھنے کی 4 بڑی باتیں:
1۔ لوکل کمیشن آپ کا حق نہیں، جج صاحب کی مرضی ہے
ضابطہ دیوانی (CPC) کے سیکشن 75 اور آرڈر 26 رول 9 میں لفظ "May" استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوکل کمیشن مقرر کرنا عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے، کسی بھی فریق کا پکا قانونی حق نہیں ہے۔ اگر جج صاحب سمجھیں گے کہ موقع کا معائنہ انصاف کے لیے ضروری ہے تو وہ کمیشن بھیجیں گے، ورنہ صاف انکار کر سکتے ہیں۔
2۔ کمیشن کا کام آپ کے لیے ثبوت جمع کرنا نہیں ہے
عدالت نے سب سے کمال کا اصول یہ طے کیا کہ لوکل کمیشن کا مقصد عدالت کی معاونت کرنا اور موقع کی اصل صورتحال کو واضع کرنا ہوتا ہے۔ لوکل کمیشن اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ آپ کے گواہوں کی جگہ لے لے، یا آپ کے کمزور کیس کو سچا ثابت کرنے کے لیے خود ثبوت اکٹھے کرنا شروع کر دے۔ اپنا کیس ثابت کرنا صرف اور صرف مدعی کی ذمہ داری ہے۔
3۔ جب دستاویزی ثبوت موجود ہوں تو کمیشن کی کیا ضرورت؟
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اصل تنازعہ فراڈ اور جعلی انتقال (Mutation) کا ہے، جو عدالت میں کاغذات، رجسٹری اور زبانی گواہیوں سے ثابت ہونا ہے، نہ کہ صرف موقع پر جا کر دیکھنے سے۔ اگر کیس کا فیصلہ گواہوں اور دستاویزی ثبوتوں سے ہو سکتا ہو، تو لوکل کمیشن مقرر کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
4۔ کیس لٹکانے کے حربے اب نہیں چلیں گے
اس کیس میں سائلین نے ٹرائل کورٹ کے دوران کبھی کمیشن کی بات نہیں کی، بلکہ اپیل دائر ہونے کے بھی نو ماہ بعد درخواست دی۔ عدالت نے پایا کہ یہ تاخیر صرف کارروائی کو لمبا کرنے اور وقت ضائع کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ ہائیکورٹ ایسے عبوری فیصلوں میں تب تک مداخلت نہیں کرتی جب تک کوئی بہت بڑی غیر قانونی بات یا سنگین ناانصافی ثابت نہ ہو۔

اگر آپ کا پراپرٹی کا کوئی کیس چل رہا ہے اور مخالف فریق صرف وقت گزاری کے لیے بار بار لوکل کمیشن کی درخواستیں دے رہا ہے، تو سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے (PLD 2009 SC 16) اور لاہور ہائیکورٹ کی ان نظائر کا حوالہ دے کر ان کی درخواست کو خارج کروائیں۔ قانون سستی کرنے والوں یا کیس لٹکانے والوں کا ساتھ نہیں دیتا۔

ناصر محمود (مدعی) نے مسماۃ عزیزاں بی بی کے خلاف (Specific Performance)، قبضہ اور مستقل حکمِ امتناعی کا دعویٰ دائر کیا۔ ا...
27/06/2026

ناصر محمود (مدعی) نے مسماۃ عزیزاں بی بی کے خلاف (Specific Performance)، قبضہ اور مستقل حکمِ امتناعی کا دعویٰ دائر کیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ 2 ستمبر 2005ء کو فریقین کے درمیان متنازعہ جائیداد کی خرید و فروخت کا معاہدہ طے پایا، جس کے مطابق کل قیمت 10 لاکھ روپے مقرر ہوئی۔ مدعی نے 2 لاکھ روپے بطور بیعانہ ادا کیے جبکہ باقی 8 لاکھ روپے 2 دسمبر 2005ء کو رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کی تکمیل کے وقت ادا کیے جانے تھے۔ معاہدے کے مطابق مدعا علیہہ نے رجسٹری سے قبل فردِ ملکیت فراہم کرنا تھی تاکہ رجسٹری کے لیے ضروری کارروائی مکمل ہو سکے، مگر اس نے یہ ذمہ داری پوری نہ کی۔ مدعی کے مطابق اسے جائیداد کا قبضہ بھی دے دیا گیا تھا اور وہ مسلسل قبضے میں رہا۔ بعد ازاں مدعا علیہہ نے جائیداد کسی اور کو فروخت کرنے کی کوشش کی، جس پر مدعی نے عدالت سے حکمِ امتناعی بھی حاصل کیا۔

مدعا علیہہ نے دعویٰ کی مخالفت کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کرایا، تاہم ٹرائل کورٹ نے شہادت ریکارڈ کرنے کے بعد 18 دسمبر 2010ء کو دعویٰ منظور کر لیا۔ اپیل 23 جنوری 2012ء کو بھی مسترد ہوگئی، جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں سول ریویژن دائر کی گئی۔

📍اہم قانونی نکات

عدالتِ عالیہ نے قرار دیا کہ آرٹیکل 17(2)(الف) قانونِ شہادت، 1984 کے مطابق مالی یا مستقبل کی ذمہ داریوں سے متعلق تحریری معاہدے کی دو مرد یا ایک مرد اور دو خواتین سے تصدیق ضروری ہے، اور موجودہ مقدمے میں یہ تقاضا پورا کیا گیا تھا۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ اگرچہ آرٹیکل 79 قانونِ شہادت ایسے دستاویز کی تنفیذ ثابت کرنے کے لیے دو گواہوں کی شہادت کا تقاضا کرتا ہے، لیکن جب دستاویز کے اجرا (Ex*****on) کا بنیادی حقیقتاً انکار نہ ہو اور فریق معاہدے کو تسلیم کرتا ہو تو اس صورت میں معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ فروخت کا معاہدہ Reciprocal Promises پر مشتمل تھا، یعنی دونوں فریقوں پر باہمی ذمہ داریاں عائد تھیں۔ چونکہ مدعا علیہہ نے معاہدے کے مطابق فردِ ملکیت فراہم نہیں کی، اس لیے وہ خود اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی اور معاہدہ نافذ نہ ہونے کا الزام مدعی پر نہیں ڈال سکتی۔ اس ضمن میں عدالت نے سیکشن 54 کنٹریکٹ ایکٹ، 1872 اور 2021 SCMR 1534 (Mst. Rehmat Case) پر انحصار کیا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ جو دستاویزات صرف "Marked" ہوں لیکن باقاعدہ شہادت کے ذریعے Exhibit نہ کی گئی ہوں، وہ قانونی شہادت نہیں بنتیں اور ان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں PLD 2010 SC 604، 2011 SCMR 1013، 2005 SCMR 152 اور 1992 SCMR 2182 کے فیصلوں پر اعتماد کیا گیا۔

آخر میں عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے متفقہ حقائق پر مبنی نتائج (Concurrent Findings) میں نہ تو شہادت کی غلط قرأت (Misreading) ثابت ہوئی اور نہ ہی عدمِ قرأت (Non-reading) اس لیے نگرانی کے محدود اختیار (Revisional Jurisdiction) میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ چنانچہ سول ریویژن مسترد کر دی گئی اور ٹرائل کورٹ و اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے گئے۔.

کیا جائیداد کے اصل مالک کی وفات کے بعد بھی اس کا مختارِ عام (پاور آف اٹارنی ہولڈر) اس کی جائیداد کسی کو بیچ کر رجسٹری کر...
23/06/2026

کیا جائیداد کے اصل مالک کی وفات کے بعد بھی اس کا مختارِ عام (پاور آف اٹارنی ہولڈر) اس کی جائیداد کسی کو بیچ کر رجسٹری کروا سکتا ہے؟ لاہور ہائیکورٹ نے رجسٹریشن ایکٹ کے ایک انتہائی اہم اور باریک مقدمے میں اس قانونی نکتے کو بالکل شیشے کی طرح صاف کر دیا ہے، جو ہر خریدار اور جائیداد کے کاروبار سے وابستہ شخص کے لیے جاننا لازمی ہے۔
کیس کی تفصیل کچھ یوں تھی کہ ایک شخص (خورشید شاہ) نے 1984ء میں جائیداد کا مختارنامہِ عام (General Power of Attorney) ایک بندے کے نام جاری کیا۔ تقریباً 19 سال بعد، 30 جنوری 2003ء کو اس مختارِ عام نے وہ جائیداد چند خریداروں کے نام بیچی اور رجسٹری کے لیے سب رجسٹرار ڈسکہ کے پاس پیش کر دی۔ سب رجسٹرار نے جب تصدیق کروائی تو پتا چلا کہ اصل مالک (موکل) وفات پا چکا ہے۔ سب رجسٹرار نے یہ کہہ کر رجسٹری سے انکار کر دیا کہ "مالک کے مرتے ہی مختارنامہ ختم ہو جاتا ہے۔" خریداروں نے اس انکار کے خلاف رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 77 کے تحت دیوانی عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا۔ یہ کیس اپیل در اپیل ہوتا ہوا جب لاہور ہائیکورٹ پہنچا، تو عدالتِ عالیہ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ الٹتے ہوئے چند زبردست قانونی اصول وضع کیے:
1۔ مالک کی موت اور مختارنامے کا خاتمہ (Section 201 Contract Act):
عدالت نے قانونِ معاہدہ (Contract Act, 1872) کی دفعہ 201 کے تحت صاف رولنگ دی کہ جیسے ہی کسی مختارنامہ دینے والے (Principal) کا انتقال ہوتا ہے، اس کا دیا ہوا تمام تر قانونی اختیار (Agency) اسی سیکنڈ خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔ مالک کی موت کے بعد مختارِ عام محض ایک عام انسان رہ جاتا ہے، وہ جائیداد منتقل کرنے یا رجسٹری پر دستخط کرنے کا کوئی قانونی مجاز نہیں رہتا۔ اس کی طرف سے کیا گیا ایسا ہر عمل قانون کی نظر میں بالکل باطل اور کالعدم (Void) ہے۔
2۔ سب رجسٹرار کا دائرہ اختیار اور فرض:
خریداروں کا مؤقف تھا کہ جب بیع نامہ پیش کیا گیا، مالک اس وقت زندہ تھا اور رات کو فوت ہوا۔ ہائیکورٹ نے ریکارڈ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا جائزہ لے کر ثابت کیا کہ وہ صبح ہی فوت ہو چکے تھے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ رجسٹریشن ایکٹ کی دفعات 32 اور 34 کے تحت سب رجسٹرار کا یہ قانونی فرض ہے کہ وہ جائیداد بیچنے والے کی اہلیت اور اختیار کی جانچ پڑتال کرے، اس لیے سب رجسٹرار کا رجسٹری روکنا اور تصدیق کروانا بالکل قانون کے مطابق تھا۔
3۔ دفعہ 77 کے تحت دعویٰ کا محدود دائرہ:
لاہور ہائیکورٹ نے ایک بہت اہم تکنیکی نکتہ سمجھایا کہ رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 77 کے تحت ہونے والے مقدمے کا دائرہ اختیار بہت محدود ہوتا ہے۔ اس میں عدالت صرف یہ دیکھتی ہے کہ رجسٹرار کا رجسٹری سے انکار درست تھا یا غلط۔ اس مقدمے میں جائیداد کی اصل ملکیت، عنوان (Title)، یا معاہدے کے سچے جھوٹے ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
خریداروں کے لیے اب اگلا قانونی راستہ کیا ہے؟
عدالت نے خریداروں کو مایوس کرنے کے بجائے ان کے لیے قانون کا ایک اور دروازہ کھولا ہے۔ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ دفعہ 77 کے تحت مقدمہ ہارنے سے خریداروں کا حق ختم نہیں ہو جاتا۔ وہ جائیداد کے اصل خریدار ہیں اور انہوں نے رقم ادا کی ہے، اس لیے وہ مرحوم مالک کے قانونی ورثاء کے خلاف "تعمیلِ مختص" (Specific Performance of Contract) کا علیحدہ سے دیوانی دعویٰ دائر کر سکتے ہیں، جہاں وہ اپنے پیسے اور سودے کو ثابت کر کے جائیداد حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ سکھاتا ہے کہ جائیداد کے معاملات میں کاغذات کی ٹائمنگ اور قانونی باریکیاں کتنی زیادہ اہمیت رکھتی ہیں!
مالک کی وفات کے بعد پاور آف اٹارنی کے خاتمے اور خریداروں کے حقوق کے تحفظ کے اس عدالتی اصول پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور اپنے دوستوں کو اس اہم قانونی نکتے سے آگاہ کرنے کے لیے پوسٹ کو شیئر کریں۔

16/06/2026
بچوں کی حضانت (Custody) کے حوالے سے گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے سیکشن 12 اور 25 کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی طلب کے م...
15/06/2026

بچوں کی حضانت (Custody) کے حوالے سے گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے سیکشن 12 اور 25 کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی طلب کے مطابق ان کی تفصیلات اور اہم عدالتی فیصلے درج ذیل ہیں:
1. سیکشن 12 (عارضی تحویل - Interim Custody)
یہ سیکشن عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کیس کے فیصلے تک بچے کی حفاظت اور تحویل کے لیے عارضی حکم جاری کرے۔
• مقصد: جب تک اصل کیس (سیکشن 25) کا فیصلہ نہیں ہوتا، بچہ کس کے پاس رہے گا یا والدین سے ملاقات کیسے ہوگی۔
• اہم نکتہ: عدالت بچے کی فوری فلاح و بہبود کو دیکھتی ہے۔
اہم ججمنٹ:
• 2021 MLD 560: اس میں قرار دیا گیا کہ باپ کو بچے سے ملنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مستقل کسٹڈی کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، تب بھی ملاقات کا شیڈول بنانا عدالت کی ذمہ داری ہے۔
2. سیکشن 25 (مستقل تحویل - Permanent Custody)
یہ سیکشن اس وقت استعمال ہوتا ہے جب ایک سرپرست (Guardian) اپنے وارڈ (بچے) کی مستقل تحویل کا مطالبہ کرتا ہے جو اس کی تحویل سے نکل چکا ہو۔
• بنیادی اصول: اس سیکشن کے تحت فیصلہ صرف اور صرف "Welfare of the Minor" (بچے کی بھلائی) کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
اہم ججمنٹس:
• PLD 2018 Supreme Court 341: سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ماں کی دوسری شادی خود بخود اسے کسٹڈی سے محروم نہیں کرتی۔ اگر بچہ ماں کے پاس خوش اور محفوظ ہے، تو کسٹڈی اسے ہی دی جائے گی۔
• 2004 SCMR 1839: عدالت نے قرار دیا کہ محض باپ کی مالی حیثیت بہتر ہونا کسٹڈی حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ بچے کا ذہنی اور جذباتی لگاؤ دیکھا جائے گا۔
3. ماں اور باپ کے حقوق اور قانونی نکات
• ماں کا حق (Hizanat): اسلامی قوانین اور عدالتی رواج کے مطابق، لڑکا 7 سال تک اور لڑکی بلوغت تک ماں کے پاس رہنے کی حقدار ہے، بشرطیکہ ماں کا کردار اور حالات بچے کے لیے سازگار ہوں۔
• باپ کا حق: باپ بچے کا قدرتی نگہبان (Natural Guardian) ہے اور تمام اخراجات کا ذمہ دار ہے۔ اگر ماں بچے کی صحیح تربیت نہ کر سکے یا وہ دوبارہ شادی کر لے (کسی اجنبی سے)، تو باپ کسٹڈی کلیم کر سکتا ہے۔
• بچے کی مرضی (Preference): اگر بچہ سمجھدار ہے (عام طور پر 9 سال سے زائد)، تو عدالت اس سے پوچھ سکتی ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے (1995 SCMR 1206).
آئینِ پاکستان اور بچوں کے حقوق
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 35 ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ "ماں اور بچے" کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔ عدالتیں اس آرٹیکل کی روشنی میں ہمیشہ "بچے کی فلاح و بہبود" (Welfare of the Minor) کو سب سے مقدم رکھتی ہیں۔ قانون کی نظر میں ماں یا باپ کے حقوق سے زیادہ بچے کا مفاد اہم ہوتا ہے۔
3. ماں اور باپ کے حقوق (قانونی نقطہ نظر)
• ماں کا حق (حقِ حضانت): اسلامی قانون اور پاکستانی عدالتی رواج کے مطابق، کم عمری میں بچہ ماں کے پاس رہنے کا زیادہ حقدار ہے (لڑکوں کے لیے 7 سال اور لڑکیوں کے لیے بلوغت تک)۔ تاہم، اگر ماں دوسری شادی کر لے (کسی اجنبی سے) یا اس کا کردار مشکوک ہو، تو یہ حق ختم ہو سکتا ہے۔
• باپ کا حق: باپ بچے کا "قدرتی نگہبان" (Natural Guardian) ہے۔ وہ بچے کے اخراجات اٹھانے کا پابند ہے۔ اگر ماں بچے کی صحیح پرورش نہ کر سکے یا وہ بچے کو باپ سے دور لے جائے، تو باپ کسٹڈی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔
4. اہم عدالتی ججمنٹس (Judgments)
الف) بچے کی فلاح و بہبود (2004 SCMR 1839)
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسٹڈی کے کیسز میں نہ تو ماں کا حق دیکھا جائے گا نہ باپ کا، بلکہ صرف یہ دیکھا جائے گا کہ بچے کا مستقبل کہاں بہتر ہے۔ اگر باپ زیادہ امیر ہے لیکن بچہ ماں سے مانوس ہے، تو بچہ ماں کو ہی ملے گا۔
ب) ماں کی دوسری شادی (PLD 2018 SC 341)
اس فیصلے میں واضح کیا گیا کہ محض دوسری شادی کر لینا ماں کو کسٹڈی سے محروم نہیں کرتا۔ اگر ماں کا دوسرا شوہر (سوتیلا باپ) بچے کے لیے شفیق ہے اور بچہ وہاں خوش ہے، تو عدالت کسٹڈی ماں کے پاس برقرار رکھ سکتی ہے۔
ج) سیکشن 12 کے تحت ملاقات کا حق (2021 MLD 560)
عدالتوں نے طے کیا ہے کہ باپ کو بچے سے ملنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اگر کسٹڈی ماں کے پاس ہے، تو باپ کو ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر عدالت کے اندر یا باہر ملاقات کا حق حاصل ہے، کیونکہ باپ سے محرومی بچے کی شخصیت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
5. قانونی نکات (Key Legal Points)
1. بچے کی ترجیح: اگر بچہ سمجھدار ہے (عام طور پر 9 سال سے اوپر)، تو جج اسے چیمبر میں بلا کر اس کی اپنی مرضی بھی پوچھ سکتا ہے۔
2. حالات کی تبدیلی: کسٹڈی کا فیصلہ کبھی "حتمی" نہیں ہوتا۔ اگر حالات بدل جائیں (مثلاً ماں بیمار ہو جائے یا باپ بیرون ملک چلا جائے)، تو کسٹڈی کا کیس دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
3. خرچہ (Maintenance): کسٹڈی چاہے جس کے پاس بھی ہو، بچے کا خرچہ اٹھانا باپ کی قانونی ذمہ داری ہے۔

بغیر پٹہ ملکیت (صوبائ حکومت والا) رقبہ کی منتقلی پر پابندی ختم---🚨 بریکنگ نیوز | بہاولپور ڈویژن 🚨🌾 سرکاری زرعی اراضی کے ...
01/06/2026

بغیر پٹہ ملکیت (صوبائ حکومت والا) رقبہ کی منتقلی پر پابندی ختم---
🚨 بریکنگ نیوز | بہاولپور ڈویژن 🚨
🌾 سرکاری زرعی اراضی کے ٹیننسی رائٹس کی منتقلی پر عائد پابندی ختم
بہاولپور ڈویژن کے کسانوں، آبادکاروں اور سرکاری زرعی زمین رکھنے والے افراد کے لیے اہم پیش رفت۔
کمشنر بہاولپور ڈویژن کی منظوری سے کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈز ایکٹ 1912 کی دفعہ 19 کے تحت جاری سابقہ پابندی ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد بہاولپور ڈویژن میں سرکاری زرعی زمین کے ٹیننسی رائٹس (Tenancy Rights) کی منتقلی دوبارہ ممکن ہو گئی ہے۔
📄 آرڈر کی اہم نکات:
✅ پابندی فوری طور پر ختم
بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان اضلاع میں سرکاری زرعی اراضی کے ٹیننسی حقوق کی منتقلی، خرید و فروخت، وراثتی انتقال اور دیگر قانونی معاملات دوبارہ شروع ہو سکیں گے۔
⚠️ اوکاڑہ سکیم متاثرین مستثنیٰ
چولستان کے علاقے میں اوکاڑہ سکیم سے متعلق متاثرین کے کیسز پر پابندی بدستور برقرار رہے گی اور تحقیقات مکمل ہونے تک منتقلی کی اجازت نہیں ہوگی۔
💻 RCMS سسٹم لازمی قرار
اب دفعہ 19 کے تحت تمام نئے کیسز اور اپیلیں صرف RCMS (Revenue Case Management System) کے ذریعے دائر کی جائیں گی۔ متعلقہ حکام کو تمام مقدمات کی ماہانہ رپورٹ بھی پیش کرنا ہوگی۔
🌱 کسانوں اور آبادکاروں کے لیے کیا فائدہ؟
✔ رکے ہوئے انتقالات اور زمینی معاملات دوبارہ شروع ہوں گے۔
✔ وراثتی تقسیم اور قانونی منتقلی کا عمل آسان ہوگا۔
✔ لینڈ ریکارڈ مزید شفاف اور ڈیجیٹل ہوگا۔
✔ غیر قانونی لین دین اور فراڈ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
📌 آرڈر نمبر: PA/158-62
📅 تاریخ اجرا: 29 مئی 2026
🏛 جاری کنندہ: اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو)، بہاولپور ڈویژن
🔹 اہم ہدایت:
کسی بھی زمینی لین دین یا منتقلی سے قبل اپنے متعلقہ تحصیل آفس، پٹواری یا ریونیو حکام سے RCMS پر کیس یا زمین کا اسٹیٹس ضرور چیک کریں تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی یا فراڈ سے بچا جا سکے۔

پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 (The Punjab Child Marriage Restraint Act 2026)، جسے پنجاب اسمبلی نے 27 اپریل 2026 کو...
01/06/2026

پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 (The Punjab Child Marriage Restraint Act 2026)، جسے پنجاب اسمبلی نے 27 اپریل 2026 کو پاس کیا اور گورنر پنجاب نے 11 مئی 2026 کو اس کی منظوری دی۔ اس قانون کا بنیادی مقصد پنجاب میں بچوں کی شادیوں کی روک تھام کرنا اور اس سے جڑے دیگر معاملات کو حل کرنا ہے۔

1۔ بنیادی تعریفیں (Definitions)
بچہ (Child): اس قانون کے تحت ہر وہ لڑکا یا لڑکی جس کی عمر 18 سال سے کم ہے، وہ بچہ شمار ہوگا۔
بچوں کی شادی (Child Marriage): ایسا نکاح یا شادی جس میں دونوں فریقین (دلہا اور دلہن) یا دونوں میں سے کوئی ایک بھی بچہ (18 سال سے کم) ہو۔
عدالت (Court): اس قانون کے تحت تمام معاملات اور کیسز کی سماعت سیشن کورٹ (Court of Sessions) میں ہوگی۔

2۔ سزائیں اور جرمانے (Punishments and Fines)
اس قانون کے تحت بچوں کی شادی میں ملوث مختلف افراد کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں:
نکاح رجسٹرار کے لیے سزا: کوئی بھی نکاح رجسٹرار کسی بچے کا نکاح رجسٹر نہیں کرے گا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اسے 1 سال تک کی قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
بالغ دلہا/دلہن کے لیے سزا: اگر 18 سال سے زائد عمر کا کوئی بالغ شخص کسی بچے سے شادی کرتا ہے، تو اسے کم از کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
سرپرست یا والدین (Guardians) کے لیے سزا: اگر کوئی سرپرست یا والدین بچے کی شادی کو فروغ دیتے ہیں، اس کی اجازت دیتے ہیں، یا جان بوجھ کر یا غفلت کی وجہ سے اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں، تو انہیں 2 سے 3 سال تک کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

3۔ چائلڈ ابیوز اور چائلڈ ٹریفکنگ (Child Abuse & Trafficking)
چائلڈ ابیوز (Child Abuse): بچوں کی شادی کے نتیجے میں 18 سال کی عمر سے پہلے کسی بھی قسم کا ساتھ رہنا (cohabitation) — چاہے وہ رضا مندی سے ہو یا بغیر رضا مندی کے — چائلڈ ابیوز (بچوں کا استحصال) کہلائے گا۔ جو شخص اس کا سبب بنے گا یا مجبور کرے گا، اسے 5 سے 7 سال تک کی قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
چائلڈ ٹریفکنگ (بچوں کی اسمگلنگ): اگر کوئی شخص اس قانون سے بچنے کے لیے کسی بچے کو پنجاب کی حدود سے باہر لے کر جاتا ہے تاکہ وہاں اس کی شادی کرائی جا سکے، تو یہ بچوں کی اسمگلنگ کا جرم ہوگا۔ اس کی سزا 5 سے 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔ جو شخص اس کام میں مدد کرے گا یا بچہ فراہم کرے گا، اسے 3 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

4۔ عدالت کا دائرہ اختیار اور طریقہ کار (Court Jurisdiction & Trial)
مقدمے کی سماعت کا وقت: سیشن کورٹ کیس کا نوٹس لینے کے بعد 90 دنوں کے اندر ٹرائل (سماعت) مکمل کرنے کی پابند ہے۔
شادی روکنے کا حکم (Injunction): اگر عدالت کو یہ اطلاع ملے کہ بچوں کی شادی کا بندوبست کیا جا رہا ہے، تو عدالت اس شادی کو روکنے کے لیے فوری حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) جاری کر سکتی ہے۔
مخبر کی حفاظت: اگر کوئی شخص ایسی شادی کی اطلاع عدالت کو دیتا ہے اور اپنی پہچان چھپانا چاہتا ہے، تو عدالت اس کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔
عدالتی حکم کی خلاف ورزی: اگر کوئی شخص عدالت کی طرف سے شادی روکنے کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اسے 1 سال تک قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ناقابلِ ضمانت جرم: اس قانون کے تحت تمام جرائم قابلِ دست اندازیِ پولیس (Cognizable)، ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) اور ناقابلِ راضی نامہ (Non-compoundable) ہیں۔ یعنی پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتی ہے، اس میں آسانی سے ضمانت نہیں ہوگی اور نہ ہی آپس میں سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔

5۔ بچے کے بہترین مفادات کا تحفظ (Best Interests of the Child)
بچہ مجرم نہیں ہے: کسی بھی بچے کو صرف اس وجہ سے مجرم نہیں مانا جائے گا کہ وہ اس شادی کا ایک فریق تھا۔
بچے کی مرضی حتمی نہیں: اگر کسی بچے کو بہلا پھسلا کر، ڈرا دھمکا کر یا اغوا کر کے شادی کے لیے لے جایا گیا ہو، تو عدالت میں بچے کا یہ بیان کہ "وہ اپنی مرضی سے بالغ شخص کے ساتھ رہنا چاہتا ہے"، حتمی نہیں مانا جائے گا۔ عدالت بچے کی حفاظت، تعلیم اور ذہنی و جسمانی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے خود آزادانہ فیصلہ کرے گی۔
بچے کا تحفظ سب سے اہم: عدالت کسی بھی روایتی رواج، رسم یا مبینہ رضامندی کے مقابلے میں بچے کی جسمانی حفاظت، ذہنی سکون، عزت اور تعلیم کو ترجیح دے گی۔

6۔ پرانے قوانین کا خاتمہ (Repeal and Saving)
اس نئے قانون کے آنے کے بعد پرانا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 اور پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 فوری طور پر ختم (Repeal) ہو گئے ہیں۔ تاہم، ان پرانے قوانین کے تحت جو فیصلے یا احکامات پہلے دیے جا چکے ہیں، وہ اسی طرح برقرار رہیں گے۔

بطور قانون دان اس ایکٹ پر اہم تنقیدی نکات (Critique) درج ذیل ہیں:
1۔ فوجداری دائرہ اختیار کی پیچیدگی (Jurisdictional Complications)
- سیشن کورٹ پر بوجھ: دفعہ 8 کے تحت اس قانون کے تمام جرائم کا ٹرائل کرنے کا اختیار براہ راست سیشن کورٹ کو دیا گیا ہے۔ عام طور پر فوجداری مقدمات کا آغاز مجسٹریٹ کی عدالت سے ہوتا ہے۔ سیشن کورٹس پہلے ہی قتل اور منشیات جیسے سنگین مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے کیس کو براہ راست سیشن کورٹ بھیجنے سے کیسز کے نمٹنے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
- 90 دن کا ٹرائل: دفعہ 11 کے تحت ٹرائل کو 90 دنوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن ہماری عدالتی روایات، پولیس تفتیش میں تاخیر اور گواہان کی عدم موجودگی کے باعث عملی طور پر اتنے مختصر وقت میں ٹرائل مکمل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔

2۔ تعزیراتِ پاکستان اور مسلم پرسنل لا سے تصادم (Conflict with Penal and Personal Laws)
- رضامندی کی قانونی حیثیت (Age of Consent): دفعہ 5 کے تحت 18 سال سے کم عمر کی شادی کے نتیجے میں ساتھ رہنے کو "چائلڈ ابیوز" قرار دیا گیا ہے، چاہے اس میں بچے کی رضا مندی ہی کیوں نہ ہو۔ مسلم پرسنل لا (شریعت) کے تحت بلوغت (Puberty) کو شادی اور رضا مندی کا معیار مانا جاتا ہے۔ عدالتوں میں اکثر یہ بحث اٹھتی ہے کہ کیا صوبائی اسمبلی کا بنایا ہوا قانون مسلم پرسنل لا پر فوقیت رکھ سکتا ہے؟ یہ تصادم مستقبل میں اعلیٰ عدالتوں (High Court/Shariat Court) میں آئینی پٹیشنز کا باعث بنے گا۔
- حدود آرڈیننس اور زنا کے قوانین کے ساتھ الجھن: دفعہ 5(2) کے تحت چائلڈ ابیوز کی سزا 5 سے 7 سال قید رکھی گئی ہے۔ قانون دانوں کے لیے یہ نکتہ تشویش ناک ہے کہ کیا اس جرم کو زنا بالجر یا تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے دیگر قوانین کے تحت دیکھا جائے گا یا صرف اسی ایکٹ کے تحت؟ قوانین کی یہ بھرمار تفتیشی افسران (IOs) کے لیے الجھن پیدا کرتی ہے۔

3۔ بچوں کی اسمگلنگ (Child Trafficking) کی مبہم تعریف
دائرہ اختیار سے باہر (Territorial Jurisdiction): دفعہ 6 کے تحت اگر کوئی شخص بچے کو پنجاب کی حدود سے باہر لے کر جائے گا تو اسے اسمگلنگ مانا جائے گا۔ لیکن اگر شادی کسی دوسرے صوبے (جیسے سندھ یا خیبر پختونخوا) میں رائج قانون کے مطابق ہو جائے جہاں شادی کی قانونی عمر یا سزائیں مختلف ہوں، تو پنجاب پولیس کے لیے دوسرے صوبے میں جا کر تفتیش کرنا اور جرم ثابت کرنا قانونی طور پر انتہائی پیچیدہ ہو جائے گا کیونکہ دوسرے صوبوں کے اپنے قوانین ہیں۔

4۔ "ناقابلِ ضمانت" جرم کا غلط استعمال (Risk of Misuse)
بلیک میلنگ کا ہتھیار: دفعہ 10 کے تحت اس قانون کے تمام جرائم کو ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) اور ناقابلِ راضی نامہ (Non-compoundable) بنا دیا گیا ہے۔ کسی بھی قانون میں جب راضی نامے کی گنجائش ختم کر دی جائے اور ضمانت انتہائی مشکل ہو، تو خاندانی دشمنیوں یا جائیداد کے تنازعات میں مخالفین کو پھنسانے کے لیے اس کا غلط استعمال بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر والدین اور سرپرستوں (دفعہ 7) کو نشانہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔

5۔ مخبر کی شناخت اور شفافیت (Anonymity vs Due Process)
حقِ دفاع متاثر ہونے کا خدشہ: دفعہ 9(1) کے تحت عدالت مخبر کی شناخت چھپا سکتی ہے۔ قانونِ شہادت (Law of Evidence) اور منصفانہ ٹرائل (Fair Trial - Article 10A of Constitution) کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ملزم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے خلاف الزام کس نے لگایا ہے تاکہ وہ جرح (Cross-examination) کر سکے۔ مخبر کی شناخت مکمل خفیہ رکھنے سے جھوٹی شکایات کا راستہ کھل سکتا ہے۔

6۔ نکاح رجسٹرار پر ضرورت سے زیادہ بوجھ
عمر کی تصدیق کا نظام: دفعہ 3 کے تحت نکاح رجسٹرار کو چائلڈ میرج رجسٹر کرنے پر سزا دی جائے گی۔ عملی طور پر، پاکستان کے دیہی علاقوں میں اب بھی نادرا (NADRA) کا نظام مکمل طور پر مربوط نہیں ہے یا لوگ جعلی برتھ سرٹیفکیٹ بنا لیتے ہیں۔ نکاح رجسٹرار کے پاس عمر کی سائنسی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ انہیں سخت سزا کا نشانہ بنانا اس وقت تک ناانصافی ہے جب تک نادرا کا بائیو میٹرک نظام نکاح کے وقت لازمی نہ کر دیا جائے۔

حاصلِ کلام (Conclusion)
بطور وکیل، میرا ماننا ہے کہ یہ قانون نیت کے لحاظ سے بہترین ہے، لیکن اس کا مسودہ (Drafting) زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے تیار کیا گیا ہے۔ جب تک اس کے ساتھ نادرا کا لازمی لنک، پولیس کی جدید خطوط پر تربیت، اور سیشن کورٹس کے بجائے فیملی کورٹس یا مخصوص مجسٹریٹس کو یہ اختیارات دینے جیسی ترامیم نہیں کی جاتیں، تب تک اس قانون کا نفاذ صرف کاغذوں تک محدود رہے گا یا پھر یہ محض انتقامی کارروائیوں کا ایک اور ٹول بن کر رہ جائے گا۔

REGISTRATION AMENDMENT ACT 2026..
29/05/2026

REGISTRATION AMENDMENT ACT 2026..

12/05/2026

Address

Jhelum
4900

Telephone

+923223123000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ADAL LAW Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share