11/07/2026
جائیداد کے کیسز میں لوکل کمیشن کا تقرر: لاہور ہائیکورٹ کا پراپرٹی کے تنازعات پر ایک بہت بڑا اور واضع فیصلہ!
اگر آپ کا زمین، جائیداد یا قبضے کا کوئی کیس عدالت میں چل رہا ہے، تو یہ فیصلہ آپ کو مخالف فریق کی طرف سے کیس کو لٹکانے اور عدالت کو گمراہ کرنے کی چالوں سے بچا سکتا ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ دیوانی مقدمے میں لوکل کمیشن (عدالتی نمائندہ) مقرر کروا کر موقع کا معائنہ کروانا ان کا قانونی حق ہے، لیکن لاہور ہائیکورٹ نے اس غلط فہمی کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔
کیس کی مختصر کہانی کیا ہے؟
ایک دیوانی مقدمے میں سائلین کا مؤقف تھا کہ 111 کنال زمین کا 13 مرلہ زمین کے ساتھ تبادلہ جعلی اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ ٹرائل کورٹ نے ان کا دعویٰ خارج کر دیا۔ جب معاملہ اپیل میں گیا تو انہوں نے نو ماہ بعد درخواست دی کہ لوکل کمیشن مقرر کیا جائے جو موقع پر جا کر دیکھے کہ اس 13 مرلہ زمین پر کوئی تعمیرات ہیں یا نہیں۔ اپیلیٹ کورٹ اور پھر لاہور ہائیکورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ کیوں مسترد کی؟ ائیے اس کے پیچھے موجود 4 پکے قانونی اصول سمجھتے ہیں۔
اس فیصلے سے عام آدمی اور وکلاء کے لیے سیکھنے کی 4 بڑی باتیں:
1۔ لوکل کمیشن آپ کا حق نہیں، جج صاحب کی مرضی ہے
ضابطہ دیوانی (CPC) کے سیکشن 75 اور آرڈر 26 رول 9 میں لفظ "May" استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوکل کمیشن مقرر کرنا عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے، کسی بھی فریق کا پکا قانونی حق نہیں ہے۔ اگر جج صاحب سمجھیں گے کہ موقع کا معائنہ انصاف کے لیے ضروری ہے تو وہ کمیشن بھیجیں گے، ورنہ صاف انکار کر سکتے ہیں۔
2۔ کمیشن کا کام آپ کے لیے ثبوت جمع کرنا نہیں ہے
عدالت نے سب سے کمال کا اصول یہ طے کیا کہ لوکل کمیشن کا مقصد عدالت کی معاونت کرنا اور موقع کی اصل صورتحال کو واضع کرنا ہوتا ہے۔ لوکل کمیشن اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ آپ کے گواہوں کی جگہ لے لے، یا آپ کے کمزور کیس کو سچا ثابت کرنے کے لیے خود ثبوت اکٹھے کرنا شروع کر دے۔ اپنا کیس ثابت کرنا صرف اور صرف مدعی کی ذمہ داری ہے۔
3۔ جب دستاویزی ثبوت موجود ہوں تو کمیشن کی کیا ضرورت؟
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اصل تنازعہ فراڈ اور جعلی انتقال (Mutation) کا ہے، جو عدالت میں کاغذات، رجسٹری اور زبانی گواہیوں سے ثابت ہونا ہے، نہ کہ صرف موقع پر جا کر دیکھنے سے۔ اگر کیس کا فیصلہ گواہوں اور دستاویزی ثبوتوں سے ہو سکتا ہو، تو لوکل کمیشن مقرر کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
4۔ کیس لٹکانے کے حربے اب نہیں چلیں گے
اس کیس میں سائلین نے ٹرائل کورٹ کے دوران کبھی کمیشن کی بات نہیں کی، بلکہ اپیل دائر ہونے کے بھی نو ماہ بعد درخواست دی۔ عدالت نے پایا کہ یہ تاخیر صرف کارروائی کو لمبا کرنے اور وقت ضائع کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ ہائیکورٹ ایسے عبوری فیصلوں میں تب تک مداخلت نہیں کرتی جب تک کوئی بہت بڑی غیر قانونی بات یا سنگین ناانصافی ثابت نہ ہو۔
اگر آپ کا پراپرٹی کا کوئی کیس چل رہا ہے اور مخالف فریق صرف وقت گزاری کے لیے بار بار لوکل کمیشن کی درخواستیں دے رہا ہے، تو سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے (PLD 2009 SC 16) اور لاہور ہائیکورٹ کی ان نظائر کا حوالہ دے کر ان کی درخواست کو خارج کروائیں۔ قانون سستی کرنے والوں یا کیس لٹکانے والوں کا ساتھ نہیں دیتا۔