ADAL LAW Associates

ADAL LAW Associates We are Specialists in Immigration, Criminal, Civil, Corporate, Taxation, Succession, Family litigati

بغیر پٹہ ملکیت (صوبائ حکومت والا) رقبہ کی منتقلی پر پابندی ختم---🚨 بریکنگ نیوز | بہاولپور ڈویژن 🚨🌾 سرکاری زرعی اراضی کے ...
01/06/2026

بغیر پٹہ ملکیت (صوبائ حکومت والا) رقبہ کی منتقلی پر پابندی ختم---
🚨 بریکنگ نیوز | بہاولپور ڈویژن 🚨
🌾 سرکاری زرعی اراضی کے ٹیننسی رائٹس کی منتقلی پر عائد پابندی ختم
بہاولپور ڈویژن کے کسانوں، آبادکاروں اور سرکاری زرعی زمین رکھنے والے افراد کے لیے اہم پیش رفت۔
کمشنر بہاولپور ڈویژن کی منظوری سے کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈز ایکٹ 1912 کی دفعہ 19 کے تحت جاری سابقہ پابندی ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد بہاولپور ڈویژن میں سرکاری زرعی زمین کے ٹیننسی رائٹس (Tenancy Rights) کی منتقلی دوبارہ ممکن ہو گئی ہے۔
📄 آرڈر کی اہم نکات:
✅ پابندی فوری طور پر ختم
بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان اضلاع میں سرکاری زرعی اراضی کے ٹیننسی حقوق کی منتقلی، خرید و فروخت، وراثتی انتقال اور دیگر قانونی معاملات دوبارہ شروع ہو سکیں گے۔
⚠️ اوکاڑہ سکیم متاثرین مستثنیٰ
چولستان کے علاقے میں اوکاڑہ سکیم سے متعلق متاثرین کے کیسز پر پابندی بدستور برقرار رہے گی اور تحقیقات مکمل ہونے تک منتقلی کی اجازت نہیں ہوگی۔
💻 RCMS سسٹم لازمی قرار
اب دفعہ 19 کے تحت تمام نئے کیسز اور اپیلیں صرف RCMS (Revenue Case Management System) کے ذریعے دائر کی جائیں گی۔ متعلقہ حکام کو تمام مقدمات کی ماہانہ رپورٹ بھی پیش کرنا ہوگی۔
🌱 کسانوں اور آبادکاروں کے لیے کیا فائدہ؟
✔ رکے ہوئے انتقالات اور زمینی معاملات دوبارہ شروع ہوں گے۔
✔ وراثتی تقسیم اور قانونی منتقلی کا عمل آسان ہوگا۔
✔ لینڈ ریکارڈ مزید شفاف اور ڈیجیٹل ہوگا۔
✔ غیر قانونی لین دین اور فراڈ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
📌 آرڈر نمبر: PA/158-62
📅 تاریخ اجرا: 29 مئی 2026
🏛 جاری کنندہ: اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو)، بہاولپور ڈویژن
🔹 اہم ہدایت:
کسی بھی زمینی لین دین یا منتقلی سے قبل اپنے متعلقہ تحصیل آفس، پٹواری یا ریونیو حکام سے RCMS پر کیس یا زمین کا اسٹیٹس ضرور چیک کریں تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی یا فراڈ سے بچا جا سکے۔

پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 (The Punjab Child Marriage Restraint Act 2026)، جسے پنجاب اسمبلی نے 27 اپریل 2026 کو...
01/06/2026

پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 (The Punjab Child Marriage Restraint Act 2026)، جسے پنجاب اسمبلی نے 27 اپریل 2026 کو پاس کیا اور گورنر پنجاب نے 11 مئی 2026 کو اس کی منظوری دی۔ اس قانون کا بنیادی مقصد پنجاب میں بچوں کی شادیوں کی روک تھام کرنا اور اس سے جڑے دیگر معاملات کو حل کرنا ہے۔

1۔ بنیادی تعریفیں (Definitions)
بچہ (Child): اس قانون کے تحت ہر وہ لڑکا یا لڑکی جس کی عمر 18 سال سے کم ہے، وہ بچہ شمار ہوگا۔
بچوں کی شادی (Child Marriage): ایسا نکاح یا شادی جس میں دونوں فریقین (دلہا اور دلہن) یا دونوں میں سے کوئی ایک بھی بچہ (18 سال سے کم) ہو۔
عدالت (Court): اس قانون کے تحت تمام معاملات اور کیسز کی سماعت سیشن کورٹ (Court of Sessions) میں ہوگی۔

2۔ سزائیں اور جرمانے (Punishments and Fines)
اس قانون کے تحت بچوں کی شادی میں ملوث مختلف افراد کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں:
نکاح رجسٹرار کے لیے سزا: کوئی بھی نکاح رجسٹرار کسی بچے کا نکاح رجسٹر نہیں کرے گا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اسے 1 سال تک کی قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
بالغ دلہا/دلہن کے لیے سزا: اگر 18 سال سے زائد عمر کا کوئی بالغ شخص کسی بچے سے شادی کرتا ہے، تو اسے کم از کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
سرپرست یا والدین (Guardians) کے لیے سزا: اگر کوئی سرپرست یا والدین بچے کی شادی کو فروغ دیتے ہیں، اس کی اجازت دیتے ہیں، یا جان بوجھ کر یا غفلت کی وجہ سے اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں، تو انہیں 2 سے 3 سال تک کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

3۔ چائلڈ ابیوز اور چائلڈ ٹریفکنگ (Child Abuse & Trafficking)
چائلڈ ابیوز (Child Abuse): بچوں کی شادی کے نتیجے میں 18 سال کی عمر سے پہلے کسی بھی قسم کا ساتھ رہنا (cohabitation) — چاہے وہ رضا مندی سے ہو یا بغیر رضا مندی کے — چائلڈ ابیوز (بچوں کا استحصال) کہلائے گا۔ جو شخص اس کا سبب بنے گا یا مجبور کرے گا، اسے 5 سے 7 سال تک کی قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
چائلڈ ٹریفکنگ (بچوں کی اسمگلنگ): اگر کوئی شخص اس قانون سے بچنے کے لیے کسی بچے کو پنجاب کی حدود سے باہر لے کر جاتا ہے تاکہ وہاں اس کی شادی کرائی جا سکے، تو یہ بچوں کی اسمگلنگ کا جرم ہوگا۔ اس کی سزا 5 سے 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔ جو شخص اس کام میں مدد کرے گا یا بچہ فراہم کرے گا، اسے 3 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

4۔ عدالت کا دائرہ اختیار اور طریقہ کار (Court Jurisdiction & Trial)
مقدمے کی سماعت کا وقت: سیشن کورٹ کیس کا نوٹس لینے کے بعد 90 دنوں کے اندر ٹرائل (سماعت) مکمل کرنے کی پابند ہے۔
شادی روکنے کا حکم (Injunction): اگر عدالت کو یہ اطلاع ملے کہ بچوں کی شادی کا بندوبست کیا جا رہا ہے، تو عدالت اس شادی کو روکنے کے لیے فوری حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) جاری کر سکتی ہے۔
مخبر کی حفاظت: اگر کوئی شخص ایسی شادی کی اطلاع عدالت کو دیتا ہے اور اپنی پہچان چھپانا چاہتا ہے، تو عدالت اس کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔
عدالتی حکم کی خلاف ورزی: اگر کوئی شخص عدالت کی طرف سے شادی روکنے کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اسے 1 سال تک قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ناقابلِ ضمانت جرم: اس قانون کے تحت تمام جرائم قابلِ دست اندازیِ پولیس (Cognizable)، ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) اور ناقابلِ راضی نامہ (Non-compoundable) ہیں۔ یعنی پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتی ہے، اس میں آسانی سے ضمانت نہیں ہوگی اور نہ ہی آپس میں سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔

5۔ بچے کے بہترین مفادات کا تحفظ (Best Interests of the Child)
بچہ مجرم نہیں ہے: کسی بھی بچے کو صرف اس وجہ سے مجرم نہیں مانا جائے گا کہ وہ اس شادی کا ایک فریق تھا۔
بچے کی مرضی حتمی نہیں: اگر کسی بچے کو بہلا پھسلا کر، ڈرا دھمکا کر یا اغوا کر کے شادی کے لیے لے جایا گیا ہو، تو عدالت میں بچے کا یہ بیان کہ "وہ اپنی مرضی سے بالغ شخص کے ساتھ رہنا چاہتا ہے"، حتمی نہیں مانا جائے گا۔ عدالت بچے کی حفاظت، تعلیم اور ذہنی و جسمانی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے خود آزادانہ فیصلہ کرے گی۔
بچے کا تحفظ سب سے اہم: عدالت کسی بھی روایتی رواج، رسم یا مبینہ رضامندی کے مقابلے میں بچے کی جسمانی حفاظت، ذہنی سکون، عزت اور تعلیم کو ترجیح دے گی۔

6۔ پرانے قوانین کا خاتمہ (Repeal and Saving)
اس نئے قانون کے آنے کے بعد پرانا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 اور پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 فوری طور پر ختم (Repeal) ہو گئے ہیں۔ تاہم، ان پرانے قوانین کے تحت جو فیصلے یا احکامات پہلے دیے جا چکے ہیں، وہ اسی طرح برقرار رہیں گے۔

بطور قانون دان اس ایکٹ پر اہم تنقیدی نکات (Critique) درج ذیل ہیں:
1۔ فوجداری دائرہ اختیار کی پیچیدگی (Jurisdictional Complications)
- سیشن کورٹ پر بوجھ: دفعہ 8 کے تحت اس قانون کے تمام جرائم کا ٹرائل کرنے کا اختیار براہ راست سیشن کورٹ کو دیا گیا ہے۔ عام طور پر فوجداری مقدمات کا آغاز مجسٹریٹ کی عدالت سے ہوتا ہے۔ سیشن کورٹس پہلے ہی قتل اور منشیات جیسے سنگین مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے کیس کو براہ راست سیشن کورٹ بھیجنے سے کیسز کے نمٹنے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
- 90 دن کا ٹرائل: دفعہ 11 کے تحت ٹرائل کو 90 دنوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن ہماری عدالتی روایات، پولیس تفتیش میں تاخیر اور گواہان کی عدم موجودگی کے باعث عملی طور پر اتنے مختصر وقت میں ٹرائل مکمل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔

2۔ تعزیراتِ پاکستان اور مسلم پرسنل لا سے تصادم (Conflict with Penal and Personal Laws)
- رضامندی کی قانونی حیثیت (Age of Consent): دفعہ 5 کے تحت 18 سال سے کم عمر کی شادی کے نتیجے میں ساتھ رہنے کو "چائلڈ ابیوز" قرار دیا گیا ہے، چاہے اس میں بچے کی رضا مندی ہی کیوں نہ ہو۔ مسلم پرسنل لا (شریعت) کے تحت بلوغت (Puberty) کو شادی اور رضا مندی کا معیار مانا جاتا ہے۔ عدالتوں میں اکثر یہ بحث اٹھتی ہے کہ کیا صوبائی اسمبلی کا بنایا ہوا قانون مسلم پرسنل لا پر فوقیت رکھ سکتا ہے؟ یہ تصادم مستقبل میں اعلیٰ عدالتوں (High Court/Shariat Court) میں آئینی پٹیشنز کا باعث بنے گا۔
- حدود آرڈیننس اور زنا کے قوانین کے ساتھ الجھن: دفعہ 5(2) کے تحت چائلڈ ابیوز کی سزا 5 سے 7 سال قید رکھی گئی ہے۔ قانون دانوں کے لیے یہ نکتہ تشویش ناک ہے کہ کیا اس جرم کو زنا بالجر یا تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے دیگر قوانین کے تحت دیکھا جائے گا یا صرف اسی ایکٹ کے تحت؟ قوانین کی یہ بھرمار تفتیشی افسران (IOs) کے لیے الجھن پیدا کرتی ہے۔

3۔ بچوں کی اسمگلنگ (Child Trafficking) کی مبہم تعریف
دائرہ اختیار سے باہر (Territorial Jurisdiction): دفعہ 6 کے تحت اگر کوئی شخص بچے کو پنجاب کی حدود سے باہر لے کر جائے گا تو اسے اسمگلنگ مانا جائے گا۔ لیکن اگر شادی کسی دوسرے صوبے (جیسے سندھ یا خیبر پختونخوا) میں رائج قانون کے مطابق ہو جائے جہاں شادی کی قانونی عمر یا سزائیں مختلف ہوں، تو پنجاب پولیس کے لیے دوسرے صوبے میں جا کر تفتیش کرنا اور جرم ثابت کرنا قانونی طور پر انتہائی پیچیدہ ہو جائے گا کیونکہ دوسرے صوبوں کے اپنے قوانین ہیں۔

4۔ "ناقابلِ ضمانت" جرم کا غلط استعمال (Risk of Misuse)
بلیک میلنگ کا ہتھیار: دفعہ 10 کے تحت اس قانون کے تمام جرائم کو ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) اور ناقابلِ راضی نامہ (Non-compoundable) بنا دیا گیا ہے۔ کسی بھی قانون میں جب راضی نامے کی گنجائش ختم کر دی جائے اور ضمانت انتہائی مشکل ہو، تو خاندانی دشمنیوں یا جائیداد کے تنازعات میں مخالفین کو پھنسانے کے لیے اس کا غلط استعمال بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر والدین اور سرپرستوں (دفعہ 7) کو نشانہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔

5۔ مخبر کی شناخت اور شفافیت (Anonymity vs Due Process)
حقِ دفاع متاثر ہونے کا خدشہ: دفعہ 9(1) کے تحت عدالت مخبر کی شناخت چھپا سکتی ہے۔ قانونِ شہادت (Law of Evidence) اور منصفانہ ٹرائل (Fair Trial - Article 10A of Constitution) کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ملزم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے خلاف الزام کس نے لگایا ہے تاکہ وہ جرح (Cross-examination) کر سکے۔ مخبر کی شناخت مکمل خفیہ رکھنے سے جھوٹی شکایات کا راستہ کھل سکتا ہے۔

6۔ نکاح رجسٹرار پر ضرورت سے زیادہ بوجھ
عمر کی تصدیق کا نظام: دفعہ 3 کے تحت نکاح رجسٹرار کو چائلڈ میرج رجسٹر کرنے پر سزا دی جائے گی۔ عملی طور پر، پاکستان کے دیہی علاقوں میں اب بھی نادرا (NADRA) کا نظام مکمل طور پر مربوط نہیں ہے یا لوگ جعلی برتھ سرٹیفکیٹ بنا لیتے ہیں۔ نکاح رجسٹرار کے پاس عمر کی سائنسی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ انہیں سخت سزا کا نشانہ بنانا اس وقت تک ناانصافی ہے جب تک نادرا کا بائیو میٹرک نظام نکاح کے وقت لازمی نہ کر دیا جائے۔

حاصلِ کلام (Conclusion)
بطور وکیل، میرا ماننا ہے کہ یہ قانون نیت کے لحاظ سے بہترین ہے، لیکن اس کا مسودہ (Drafting) زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے تیار کیا گیا ہے۔ جب تک اس کے ساتھ نادرا کا لازمی لنک، پولیس کی جدید خطوط پر تربیت، اور سیشن کورٹس کے بجائے فیملی کورٹس یا مخصوص مجسٹریٹس کو یہ اختیارات دینے جیسی ترامیم نہیں کی جاتیں، تب تک اس قانون کا نفاذ صرف کاغذوں تک محدود رہے گا یا پھر یہ محض انتقامی کارروائیوں کا ایک اور ٹول بن کر رہ جائے گا۔

REGISTRATION AMENDMENT ACT 2026..
29/05/2026

REGISTRATION AMENDMENT ACT 2026..

12/05/2026
09/06/2024

2023 MLD 20 kar

کسی غیر رجسٹرڈ شدہ دستاویزات کی منسوخی کیلئے دعوى استقرار حق بابت منسوخی دستاویزات ناقابل پیش رفت ہے۔ کیوں ایسی دستاویز نہ تو مدعا علیہ کو کوئی حقوق عطاء کرتی ہے اور نہ مدعی کو بنائے دعویٰ حاصل ہوتا ہے۔ دعوی جرمانے کیساتھ خارج۔

02/06/2024

نکاح نامہ کے چاروں پرتوں کو presumption of truth حاصل نہ ہے بلکہ نکاح نامہ کے صرف پہلے اور چوتھے پرت کو presumption of truth حاصل ہے

There is no cavil to the proposition as it has become a stone-etched legal position that nikahnama, being a public document carries with it presumption of truth as has been held by the superior courts in catena of judgments; however, such presumption of truth is available to the first and fourth pert of the nikahnama which are kept with the Nikah Khawan (in original register of nikahnamas) and forwarded to the Union Council concerned, in accordance with law, respectively, as these two pert are kept in the official custody.
Writ Petition-3075-21
EJAZ IQBAL VS
ADJ ETC
2021 LHC 9385

10/04/2024

2012 C L C 377
Section 9..Specific Relief Act,1877.
Suit for possession---Prerequisites stated.
While deciding the suit under section 9 of the Specific Relief Act, 1877, the following prerequisites must be followed for arriving at lawful conclusion:
(i) That the person suing must have been dispossessed;
(ii) That such dispossession must be of immovable property;
(iii) That such dispossession should be without consent and should be otherwise than in due course of law and
(iv) That the suit is to be brought within the period of six months from the dateof dispossession.

09/04/2024

ڈاکٹر کا عدالت میں بطور گواہ پیش ہوکر اپنی جاری کردہ۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مندرجات بیان کرنا ضروری ہے۔
Legally, Postmortem report is viewed as a documented expert opinion, therefore, its production in the evidence through primary evidence though is admissible yet contents of it cannot be read unless doctor appears as a witness to authenticate and verify that it was the report he had prepared. If doctor is not available then such report available in the Court record can be produced as secondary evidence through any person who had seen preparation of such document, knows handwriting or signature of the doctor on the report while showing a comparison with any proved document in the handwriting of such doctor, and this can also be done by production of another doctor or record keeper of the concerned hospital. This being so in the context of Article 78 of Qanun-a-Shahadat Order, 1984 which requires that ex*****on of a document must be proved through the mode and manner as suggested in law.
Thus, despite proof of ex*****on of a document by above means, truth of contents of document is to be proved. Neither the medicolegal or postmortem reports are the categories of documents as mentioned in Article 102 so as to dispense with a formal proof of its ex*****on nor in this case it was claimed to have been admitted by the parties so as to rule out necessity of formal proof.
Article 102 so as to dispense with a formal proof of its ex*****on nor in this case it was claimed to have been admitted by the parties so as to rule out necessity of formal proof.
Thus, mere production of postmortem report is not sufficient to be read in the evidence as a support to the prosecution case.
Opinion of doctor could only be deposed by the said doctor as per Article 71 of Qanun-e-Shahadat Order, 1984 which says that oral evidence must, in all cases whatever be direct, that is to say, if it refers to an opinion or to the grounds on which that opinion is held, it must be the evidence of the person who holds that opinion on those grounds.
Corresponding to section 293 of Indian Code of Criminal Procedure, 1973, in ours section 510 exists but with slight difference, which is not applicable for medical reports. Mode of recording evidence of a doctor is mentioned in Section 509 of Cr.P.C. This Section falls in Chapter XLI which contains heading as “Special Rules of Evidence”, of course an overriding effect on all other provisions, consists of four Sections 509, 510, 511 and 512 of Cr.P.C. which with some connotation to cut short the process provides an expeditious mode of recording of evidence as well as securing the evidence for trial.
According to Section 509 of Cr.P.C., deposition of a medical witness taken and attested by a Magistrate in the presence of accused or taken on Commission may be given in evidence in an inquiry, trial or other proceedings under this Code without calling the medical witness, however, Court does have a power to summon the medical witness as and when thinks fit. This section has like connotation as that of Section 164 of Cr.P.C., which also ensures securing of evidence of a witness but unfortunately Section 509 Cr.P.C., has lost sight of legal practitioners and by the learned Courts, therefore, on the eve of death of a medical witness or his migration to other country, medical evidence falls short of probative value which cannot be brought on record properly or if it is brought on record its probative value decreases due to non-availability of medical witness to depose about the nature, locale, size of injuries and other observation made at the time of examination and test/protocols performed to arrive at an opinion with respect to cause of death or other matters which are also relevant as per Article 65 of Qanun-e-Shahadat Order, 1984. Thus, this Section is must to be adhered by all the concerned in future and Criminal Prosecution Service (CPS) should attend to the provision for securing statement of medical witness at the earliest opportunity while producing him before the concerned Magistrate so that on the eve of non-availability of doctor such statement could be used during the trial before the Court concerned. Necessity and utility of Section 509 Cr.P.C., has also been highlighted in Rule 6, Chapter-18, High Court Rules & Orders, Volume III.
Before producing secondary evidence of medical reports, it is essential to prove the non-availability of doctor.

Mere abscondence of accused is not a conclusive proof of the guilt of the accused. The value of abscondence depends upon the fact of each case and abscondence alone cannot take the place of guilt unless and until the case is otherwise proved on the basis of cogent and reliable evidence. The accused persons generally disappear due to fear of police or because of the feelings of the guilt, and in this case during cross examination accused/appellants put the apprehension of their fake police encounter because son of the deceased was a police man; therefore,
Jail Appeal 82543/22
Allah Ditta etc. Vs The State
Mr. Justice Muhammad Amjad Rafiq
2024 LHC 1366
This judgment was pronounced on 18.03.2024 and after dictation and preparation it was signed on 08.04.2024

16/03/2024

"Very important citations on dismissal of a suit for specific performance"

Few Grounds for dismissal of a suit for specific performance

1. Handwriting expert reported that signature are forged. (2012 CLC 1699)
2. Two attested witnesses were not produced. (2006 CLC 571)
3. Agreement was written by unlicensed person. (2006 CLC 571)
4. Stamp paper was not issued by stamp vendor . (2012 MLD 535)
5. Dates of purchasing stamp paper and endorsement were different. (2011 YLR 404)
6. Purchaser of stamp paper was not produced as witness. (2011 MLD 404)
7. Stamp paper was issued on one date in favour of an unknown person and was executed on another date. (PLD 2008 Queta 01)
8. Payment of whole consideration was paid before ex*****on. (2006 YLR 2446)
9. Scribe was not a registered Waseeqa Navees. (2006 CLC 1444)
10. Register of scribe belongs to another person wherein various pages and serial number were missing. (2006 CLC 1444)
11. Contradiction as to vanue where bargain took place. (2006 CLC 1444)
12. Contradiction as to person who obtained stamp paper. (2006 CLC 1444)
13. Plaintiff failed to produce bank record as to payment of half money. 2006 MLD 886
14. Date, Time, Month and Place of transaction was not given in pleading or evidence. (2005 YLR 2655)
15. Number of N.I.C was different from number on agreement. (2002 CLC 942)
16. Land was situated at a place whereas stamp paper was purchased from another place. (2002 CLC 942)
17. Neither vendor of stamp paper nor scribe was produced. (2001 YLR 2145)
18. Agreement was scribed on plain paper and was written by unlicensed petition-writer whereas both were available as nearby place. ( 1996 MLD 562)
19. Stamp paper was purchased at one date and executed after one week, stamp paper neither showed name of stamp vendor nor the place from where it was purchased. (1992 CLC 2193)
20. Failure to deposit balance amount. (PLD 2002 Lah 88, 2012 CLC 1392)
21. Two marginal witnesses were not produced. (2013 YLR 903, 2009 SCMR 740)
22. Payment of consideration not proved.(2006 YLR 1039 )
23. Document was not put before witness. (2006 MLD 1622)
24. One witness was not produced without any reason/ explanation. (2006 MLD 1622)
25. Scribe admitted that alleged promisor was not present at the time of ex*****on neither he signed before him. (2006 MLD 1622)
26. Claim of plaintiff valuing 25 lac was based on a document which was not registered. (2011 CLC 309)
27. Agreement was signed twice. (2011 CLC 309)
28. Original agreement to sell not produced…loss of agreement not pleaded….no attempt was made to produce secondary evidence…plaintiff was not confronted with…Executant defendant was not identified by anyone. (2005 YLR 463)
29. National Identity Card number was not written. (2005 YLR 3163)
30. Lost of original document not proved. (1995 SCMR 1237)
31. It is doubtful that plaintiff paid whole consideration but did not insist for registered sale deed in his favour. (2006 YLR 2779)

07/03/2024

دعویٰ سامان جہیز ،ڈگری ہونے پر، طلائی زیورات کی قیمت، موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے ہو گی۔
(2013 SCMR 1049).
صرف مدعیہ کے بیان پر بھی، دعویٰ سامان جہیز، ڈگری کیا جا سکتا ہے۔
(2012 MLD 756).
طلاق کے بعد، خاوند فیملی کورٹ میں، Bridal Gifts کی واپسی کے لیے، دعویٰ دلا پانے دائر کر سکتا ہے۔ کورٹ فیس قابل ادائیگی نہ ہے۔
(2014 CLC 87).
ڈگری سامان جہیز، ایک لاکھ روپے سے کم ہونے کی صورت میں بھی، بیوی اس کے خلاف اپیل کر سکتی ہے۔ فیملی ایکٹ دفعہ 14 (2) بار نہ ہے۔
(2018 SCMR 1885).
جہیز رسیدات کی کوئی اہمیت نہ ہے دعویٰ سامان جہیز ڈگری شد۔
(2013 CLC 698).

Address

Jhelum
4900

Telephone

+923223123000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ADAL LAW Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share