Rizwan Law Associates.

Rizwan Law Associates. Legal practitioners and consultants. We deal in criminal, civil, family, FST, narcotics, cyber and IP legal cases.

29/04/2026

⚖️ 2026 P. Cr. LJ 259
​منشیات مقدمہ میں شک کا فایدہ دیتے ہوئے ملزمہ کی سزا کالعدم کرکے بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ
منشیات کے مقدمات میں استغاثہ کے لیے ثبوت کے معیار اور "چین آف کسٹڈی" (Chain of Custody) کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ محض زبانی گواہی یا لیبارٹری کی مثبت رپورٹ ملزم کو سزا دینے کے لیے کافی نہیں، جب تک کہ دستاویزی ریکارڈ سے یہ ثابت نہ ہو کہ مالِ مقدمہ ہر مرحلے پر محفوظ رہا۔


​🏛️ کیس کا پس منظر
​الزام: ملزمہ نسیم کوثر سے 2200 گرام ہیروئن (دو پیکٹ) برآمد ہوئی۔
​ٹرائل کورٹ کا فیصلہ: ایڈیشنل سیشن جج بہاولپور نے ملزمہ کو 14 سال قیدِ مشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
​اپیل: ملزمہ نے سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔

​📚 اہم قانونی نکات اور عدالتی مشاہدات
​1. دستاویزی ثبوت کی اہمیت (Importance of Documentary Evidence):
​عدالت نے قرار دیا کہ پولیس افسران کی یہ زبانی شہادت کہ "مالِ مقدمہ محفوظ تھا" کافی نہیں ہے۔ استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ درج ذیل دستاویزی ثبوت پیش کرے:

​رجسٹر نمبر 19 (Malkhana Register): مالِ مقدمہ کے تھانے میں جمع ہونے اور وہاں سے نکلنے کا مکمل ریکارڈ۔

​روڈ سرٹیفکیٹ (Road Certificate/Register No. 21): وہ دستاویز جو ثابت کرے کہ نمونہ کس کے ذریعے اور کس تاریخ کو فارنسک لیبارٹری بھیجا گیا۔

​روزنامچہ (Register No. 2): پولیس کی آمد و رفت کا ریکارڈ۔

​2. "چین آف کسٹڈی" میں ٹوٹ پھوٹ (Break in Chain of Custody):
​عدالت کے مطابق، اگر استغاثہ یہ ثابت نہ کر سکے کہ برآمد شدہ منشیات لیبارٹری تک محفوظ طریقے سے پہنچیں اور اس دوران کسی تبدیلی (Tampering) کا امکان نہیں تھا، تو فارنسک رپورٹ کی کوئی قانونی اہمیت نہیں رہتی۔ اس کیس میں پولیس رجسٹر نمبر 19 اور روڈ سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہی۔

Posted by Legal Luminaries

​3. قانونی نظائر کا اطلاق (Prospective vs Retrospective):

​عدالت نے Ahmed Ali case (2023 SCMR 781) اور Jeehand case (2025 SCMR 923) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے یہ فیصلے کہ "رجسٹر 19 اور روڈ سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی ہے"، تمام زیرِ التواء (Pending) مقدمات پر لاگو ہوتے ہیں۔ یہ محض "طریقہ کار کی غلطی" نہیں بلکہ ایک ایسی بنیادی خامی ہے جو پورے مقدمے کو مشکوک بنا دیتی ہے۔

​4. جرم کا مفروضہ (Presumption of Guilt - Section 29 CNSA):
​قانونِ منشیات (CNSA) کے تحت ملزم کے خلاف جرم کا مفروضہ تب ہی قائم ہوتا ہے جب استغاثہ بنیادی حقائق (Foundational Facts) ثابت کر دے۔ جب مالِ مقدمہ کی محفوظ منتقلی ہی ثابت نہ ہو، تو ملزم کی بے گناہی کا مفروضہ برقرار رہتا ہے اور ثبوت کا بوجھ استغاثہ سے ملزم پر منتقل نہیں ہوتا۔

​⚖️ عدالت کا حتمی فیصلہ (Final Verdict)
​عدالت نے قرار دیا کہ:
​استغاثہ مالِ مقدمہ کی محفوظ تحویل اور منتقلی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

​دستاویزی ریکارڈ (Registers) کی عدم موجودگی میں ملزمہ کو شک کا فائدہ (Benefit of Doubt) دیا جانا چاہیے۔

​نتیجہ: لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمہ کی اپیل منظور کر لی اور اسے بری کرنے کا حکم دیا۔

​📖 کلیدی نکتہ (Key Takeaway)
​"منشیات کے مقدمات میں سزا جتنی سخت ہے، ثبوت کا معیار بھی اتنا ہی سخت ہونا چاہیے۔ زبانی دعوے دستاویزی ریکارڈ (پولیس رولز کے تحت رجسٹرز) کی جگہ نہیں لے سکتے۔"
2026 P. Cr. LJ 259
Before Tariq Saleem Sheikh and Raja Ghazanfar Ali Khan, JJ

NASEEM KOUSAR---Appellant
versus

The STATE and another---Respondents
Criminal Appeal No. 351 of 2024, decided on 27th May, 2025.
(a) Control of Narcotic Substances Act (XXV of 1997)---
S. 9(c)-Possession of narcotic substances---Appreciation of evidence---Benefit of doubt---Safe custody of case property---Safe transmission of samples to laboratory not proved---Prosecution case was that 2200 grams he**in in two packets was recovered from the possession of accused-appellant---Complainant and a recovery witness deposed that on 14.05.2023 he apprehended the appellant and recovered 2200 grams of he**in; that 55 grams were separated from each packet of he**in and prepared two sealed sample parcels for chemical analysis; then complainant sealed the remaining he**in in two separate sealed parcels at the spot in the presence of witnesses and secured all four parcels vide recovery memo---When the Investigating Officer reached the spot, he handed over the case property and custody of the appellant to him---Investigating Officer testified that on his return to the police station, he entrusted the case property to Moharrar for safekceping in the police station's Malkhana---Moharrar confirmed that he kept it there and, on 16.05.2023, handed over sealed sample parcels to complainant for transmission to the Forensic Science Agency, who delivered them on the same day---Moharrar further testified that on 19.05.2023, he handed over the sealed parcels of the remaining case property to complainant for their deposit in the Malkhana, who delivered them there on the same day---Prosecution also produced the recovered narcotic in Court during the trial and exhibited them in evidence through a competent witness---However, said oral assertions and the production of case property were insufficient to establish safe custody or secure transmission unless supported by documentary evidence---Prosecution failed to produce Register Nos. II or XIX, or the Road Ce

اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کا تبادلہ، جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائی کورٹ جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ہائی کور...
28/04/2026

اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کا تبادلہ، جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائی کورٹ جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو سندھ ہائی کورٹ بھجوا دیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں کثرت رائے سے منظوری دے دی گئی جبکہ جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس خادم سومرو کے تبادلے کی سفارش واپس لے لی گئی۔

اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خالی ہونے والی آسامیوں پر نئی تعیناتی نہیں کی جائے گی بلکہ تبادلوں سے ہی آسامیاں پُر کی جائیں گی۔

28/04/2026
ترنول پھاٹک اسلام آباد  کو آبنائے ہرمز کہنے پر شہری پر مقدمہ درج ہو گیا ۔۔
25/04/2026

ترنول پھاٹک اسلام آباد کو آبنائے ہرمز کہنے پر شہری پر مقدمہ درج ہو گیا ۔۔

22/04/2026

شناختی کارڈ اور ذاتی معلومات (NADRA)

8000: شناختی کارڈ کی تصدیق (CNIC Verification)
668: نام پر رجسٹرڈ سموں کی تعداد جاننا
8300: ووٹ کی معلومات اور پولنگ اسٹیشن
8001: فیملی شجرہ کی تصدیق (Family Tree)
8008: شناختی کارڈ کی ایکسپائری ڈیٹ چیک کرنا
8005: قریبی نادرا سینٹر کا پتہ معلوم کرنا

گاڑی کی تصدیق (Excise / Vehicle Verification)

8149: پنجاب گاڑی کی رجسٹریشن چیک کریں
8521: اسلام آباد گاڑی کی رجسٹریشن

ڈراہوینگ لاسنس کی تصدیق ( Driving Licence Verification)

8147: پنجاب ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق
6040: سندھ ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق

پاسپورٹ کی تصدیق ( Passport Verification)

9988: پاسپورٹ بننے کی صورتحال (Passport Status)

مالی امداد اور صحت (Govt Schemes)

8171: بے نظیر انکم سپورٹ / احساس پروگرام میں اہلیت
8500: صحت کارڈ کی اہلیت اور ہسپتال کی معلومات
8123: مفت راشن پروگرام میں رجسٹریشن
8900: وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کی اہلیت

موبائل اور انٹرنیٹ (PTA)

8484: موبائل فون کی پی ٹی اے (PTA) سے تصدیق
* #06 #: اپنے موبائل کا IMEI نمبر معلوم کرنا
667: سم کس کے نام پر ہے؟ (سم سے 'MNP' لکھ کر بھیجیں)

ہنگامی حالات اور شکایات (Emergency)

15: پولیس مدد (Police Help)
1122: ایمبولینس اور فائر بریگیڈ
130: موٹروے پولیس ہیلپ لائن
1991: سائبر کرائم (آن لائن فراڈ) کی شکایت (FIA)
1033: اینٹی کرپشن ہیلپ لائن

Islamabad High court Declared that tomorrow I.e 22 April cause list shall stand cancelled IHC shall not conduct any judi...
21/04/2026

Islamabad High court Declared that tomorrow I.e 22 April cause list shall stand cancelled IHC shall not conduct any judicial work due to closure of Red Zone .

اسلام آباد ہائیکورٹ کل کھلی رکھنے کے فیصلے میں اہم تبدیلی ، ہائیکورٹ کل بند رکھنے کا فیصلہ ، رجسٹرار ہائیکورٹ کے مطابق ر...
20/04/2026

اسلام آباد ہائیکورٹ کل کھلی رکھنے کے فیصلے میں اہم تبدیلی ، ہائیکورٹ کل بند رکھنے کا فیصلہ ، رجسٹرار ہائیکورٹ کے مطابق ریڈزون بندش کی وجہ سے ہائی کورٹ بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس سے دو گھنٹے قبل رجسٹرار ہائی کورٹ کی جانب سے میڈیا کو آگاہ کیا گیا کہ کل ہائی کورٹ کھلی ہو گی اب رات بارہ بجے اس فیصلے میں تبدیلی کرکے کل ہائیکورٹ بند رکھنے کے فیصلے متعلق آگاہ کیا گیا ہے

Islamabad High court Declared that tomorrow I.e 20th April cause list shall stand cancelled IHC shall not conduct any ju...
19/04/2026

Islamabad High court Declared that tomorrow I.e 20th April cause list shall stand cancelled IHC shall not conduct any judicial work due to closure of Red Zone .

19/04/2026
Federal constitution court of Pakistan FCCP declared Holiday on 20th April 2026.
19/04/2026

Federal constitution court of Pakistan FCCP declared Holiday on 20th April 2026.

Heartiest congratulations to our dear brother Fawad Haider (RLA Family Member) on starting this beautiful new journey of...
19/04/2026

Heartiest congratulations to our dear brother Fawad Haider (RLA Family Member) on starting this beautiful new journey of marriage.

May Allah bless your union with love, happiness, and endless barakah. Wishing you both a lifetime filled with peace, prosperity, and togetherness.

Best wishes from the entire RLA Family 🤍

پنجاب بھر کے سائلین اور وکلاء متوجہ ہوں! 15 اپریل کے بعد ریونیو عدالتوں کا پرانا نظام ہمیشہ کے لیے دفن ہونے جا رہا ہے—اب...
14/04/2026

پنجاب بھر کے سائلین اور وکلاء متوجہ ہوں! 15 اپریل کے بعد ریونیو عدالتوں کا پرانا نظام ہمیشہ کے لیے دفن ہونے جا رہا ہے—اب انصاف صرف ڈیجیٹل ہوگا!
​ بورڈ آف ریونیو پنجاب نے ایک تاریخی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے "ریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم" (RCMS) کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اب پنجاب کی تمام ریونیو عدالتوں میں نئے مقدمات کا اندراج صرف اور صرف آن لائن پورٹل کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ 15 اپریل 2026 سے کوئی بھی دستی یا مینول درخواست قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اسے قانونی طور پر پروسیس کیا جائے گا۔ سب سے اہم اور سخت ہدایت یہ ہے کہ اب کوئی بھی اپیلٹ کورٹ ایسے کیس کو سرے سے سنے گی ہی نہیں جس کا فیصلہ نچلی عدالت نے RCMS کے ذریعے جنریٹ نہ کیا ہو۔ یہ فیصلہ ریونیو افسران کی من مانیوں کو روکنے اور عدالتی عمل کو مکمل شفاف بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو اس حکم پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا مینول کام کی صورت میں متعلقہ افسر کے خلاف سنگین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اب آپ کے زمین کے مقدمات کا پورا ریکارڈ ایک کلک پر دستیاب ہوگا جسے کوئی غائب یا تبدیل نہیں کر سکے گا۔
​سالہا سال سے ریونیو عدالتوں میں فائلیں گم ہونا اور ریکارڈ میں ٹمپرنگ کے الزامات ایک عام سی بات بن چکے تھے جس سے سائلین رل جاتے تھے۔ سائلین کو اپنے کیس کی اگلی تاریخ یا فیصلے کی نقل حاصل کرنے کے لیے کئی کئی ماہ تک سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے تھے۔ اسی فرسودہ نظام اور کرپشن کو ختم کرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو نے اب جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ اس ڈیجیٹل سسٹم کا مقصد مقدمات کے اندراج سے لے کر حتمی فیصلے تک کے تمام مراحل کو کمپیوٹرائزڈ کرنا ہے تاکہ انسانی مداخلت کم سے کم ہو۔ یہ نوٹیفکیشن ان تمام عناصر کے لیے ایک بڑی وارننگ ہے جو ریکارڈ میں ہیرا پھیری کر کے غریب سائلین کا حق مارتے تھے۔ اب پنجاب بھر کا ریونیو نظام ایک نئے، تیز رفتار اور شفاف ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہا ہے۔
​لازمی ڈیجیٹل اندراج: 15 اپریل 2026 کے بعد تمام نئے ریونیو کیسز کا اندراج صرف RCMS کے ذریعے ہوگا۔
​مینول سسٹم کا خاتمہ: ہاتھ سے لکھی درخواستوں یا پرانی فائلوں پر اب کوئی عدالتی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
​اپیل پر پابندی: اگر نچلی عدالت کا فیصلہ ڈیجیٹل سسٹم سے جاری نہیں ہوا، تو اسے کسی بھی اعلیٰ عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
​افسران کی جوابدہی: پنجاب بھر کے تمام کمشنرز اور ڈی سیز اس نئے ڈیجیٹل سسٹم پر عملدرآمد کروانے کے قانونی طور پر پابند ہوں گے۔
​اس انقلابی تبدیلی سے عام شہری کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ "پٹواری کلچر" اور عدالتی عملے کے غیر ضروری اثر و رسوخ میں واضح کمی آئے گی۔ آپ کا کیس اب کسی اندھیرے کمرے میں فائلوں کے ڈھیر تلے نہیں دبے گا، بلکہ آن لائن مانیٹرنگ کی وجہ سے متعلقہ افسران مقررہ وقت پر فیصلے کرنے کے پابند ہوں گے۔
​نظام کی ڈیجیٹلائزیشن تو خوش آئند ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے دور دراز تحصیلوں میں بیٹھا عملہ اس پیچیدہ سسٹم کو چلانے کی مکمل تربیت رکھتا ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹیکنالوجی کے نام پر سائلین کو نئے طریقے سے ہراساں کیا جائے؛ ڈیجیٹل سسٹم صرف اسی صورت کامیاب ہوگا جب اس کی مانیٹرنگ بھی اتنی ہی سخت ہو۔

Address

House No 8 , Main Nazim_UD_Din Road Beverly Center F-6/1 Islamabad
Islamabad
440001

Telephone

+923009542187

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rizwan Law Associates. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rizwan Law Associates.:

Share