12/07/2026
گوجرانوالہ کی چھ سالہ سحر کو ایک ماہ قبل ہی شہر کے معروف ادارے "ایف جی سکول" میں داخل کروایا گیا تھا۔ ایک روز بریک میں سحر ٹیچر سے اجازت لیکر واش روم گئی وہاں سکول کا چوکیدار کامران اور ایک اور ملازم موجود تھے۔ کامران بچی کو واش روم لے گیا، اپنے اور بچی کے کپڑے اتارے اور بچی سے زیادتی کرنے لگا۔ بچی کے چیخنے پر کامران نے اپنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھا، جس سے بچی کے گال پر بھی نشان پڑ گیا۔ اس وحشیانہ عمل کے نتیجے میں بچی کا خون بہنا شروع ہو گیا۔ بعد ازاں کامران نے خود کو، بچی کو اور فرش کو دھویا اور بچی واپس اپنی کلاس میں چلی گئی۔
چھٹی کے بعد جب بچی گھر اور پھر واش روم گئی تو اس نے شرمگاہ سے خون نکلتا دیکھ کر اپنی والدہ کو ساری بات بتائی۔ والدین اسے ہسپتال لے گئے جہاں لیڈی ڈاکٹر نے جنسی زیادتی کی تصدیق کی اور پولیس معاملہ قرار دیا۔ یہ 12 مئی 2017ء کا دن تھا، والدین صدمے سے سوچ بچار کرتے رہے اور بالاخر تین دن کی تاخیر کے بعد 15 مئی کو وقوعے کی FIR درج کروادی۔
مقامی سیشن کورٹ میں مقدمہ چلا۔ متاثرہ بچی، اسکے والدین و دیگر استغاثہ کے گواہان پیش ہوئے۔ ملزم کامران نے موقف لیا کہ وہ بیگناہ ہے اصل مجرمان کو بچانے کیلئے اسے پھنسایا گیا ہے۔عدالت نے 15 اپریل 2019 کو فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کامران کو عمر قید، جرمانہ اور متاثرہ بچی کو ہرجانہ ادا کرنے کی سزا سنائی۔ جس کیخلاف اس نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔
ہائیکورٹ میں ملزم کی طرف سے کہا گیا کہ وقوعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں۔ مقدمہ درج کروانے میں تین دن کی تاخیر کی گئی، ملزم کی شناخت پریڈ نہیں کروائی گئی۔ فرانزک رپورٹ میں مادہ منویہ (Sperms) کی عدم موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ زیادتی نہیں ہوئی۔ بچوں میں جھلی کافی گہری ہوتی ہے لہذا مکمل دخول ممکن نہیں، زیادہ سے زیادہ یہ صرف زیادتی کی کوشش ہو سکتی ہے۔
استغاثہ کے وکلاء نے دلائل دیے کہ جنسی زیادتی کے مقدمات میں متاثرہ فرد کا بیان ہی سزا کیلئے کافی ہوتا ہے، اور اس کیس میں تو بچی کے بیان کی تائید طبی رپورٹ سے بھی ہو رہی ہے۔ والدین اپنی بیٹی کی عزت داؤ پر لگا کر کسی بے گناہ کو نہیں پھنساتے۔ صدمے کی وجہ سے FIR میں چند دن کی تاخیر فطری ہے۔
جسٹس امجد رفیق نے دسمبر 2021 میں کیس کی سماعت کی اور فیصلہ تحریر کیا۔
ہائیکورٹ نے لکھا کہ چھ سالہ بچی نے پوری معصومیت، درستگی اور تسلسل کے ساتھ بغیر کسی تضاد کے عدالت میں واقعے کی تفصیل بتائی۔ بچی نے جرح کے دوران بھی دباؤ کا شکار ہوئے بغیر ثابت قدمی دکھائی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسکا بیان سچا ہے۔ بچی کی والدہ نے تاخیر کی تسلی بخش وضاحت کی ہے۔ ایسے حالات میں والدین کا صدمے کا شکار ہونا اور سوچ بچار کے بعد ڈاکٹر کے مشورے پر پولیس کے پاس جانا ایک فطری عمل ہے۔
بچی کی والدہ اگرچہ چشم دید گواہ نہیں تھی، لیکن بچی کا گھر آتے ہی پیشاب کے بعد خون دیکھ کر اپنی والدہ کو واقعے کی اطلاع دینا "بے ساختہ بیان" کے زمرے میں آتا ہے جسے قانون شہادت کے تحت تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیڈی ڈاکٹر کی رپورٹ سے بچی کے مخصوص اعضاء پر زخم اور جھلی کے پھٹنے کی تصدیق ہوئی۔ اس موضوع پر طبی کتب کے مطابق زیادتی کے جرم کیلئے مردانہ عضو کا مکمل طور پر داخل ہونا ضروری نہیں، بلکہ معمولی سا دخول بھی قانون کی نظر میں مکمل زیادتی تصور ہوتا ہے۔ مزید برآں، تین دن بعد بھی جھلی کے کناروں پر سوجن اور تازگی کے اثرات طبی لحاظ سے ممکن ہیں۔
چونکہ بچی ملزم کو پہلے سے پہچانتی تھی (کیونکہ وہ ایک ماہ سے سکول جا رہی تھی اور ملزم وہاں چوکیدار تھا)، اس لیے باقاعدہ شناخت پریڈ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ طبی اور فرانزک ماہرین کی کتابوں کے مطابق مادہ منویہ کی عدم موجودگی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ زیادتی نہیں ہوئی۔ ایسا عدم اخراج یا دیگر وجوہات کی بنا پر ہو سکتا ہے۔ ملزم کیخلاف الزام بلاشک و شبہ ثابت ہوتا ہے۔
عدالت نے ملزم کامران کی اپیل خارج کرتے ہوئے عمرقید سمیت تمام سزائیں برقرار رکھیں