SIDRA ISHAQ Advocate

SIDRA ISHAQ Advocate Available to serve Humanity! Chairperson - Criminal Law Reforms Committee 2021
& JPW Committee 2023

گوجرانوالہ کی چھ سالہ سحر کو ایک ماہ قبل ہی شہر کے معروف ادارے "ایف جی سکول" میں داخل کروایا گیا تھا۔ ایک روز بریک میں س...
12/07/2026

گوجرانوالہ کی چھ سالہ سحر کو ایک ماہ قبل ہی شہر کے معروف ادارے "ایف جی سکول" میں داخل کروایا گیا تھا۔ ایک روز بریک میں سحر ٹیچر سے اجازت لیکر واش روم گئی وہاں سکول کا چوکیدار کامران اور ایک اور ملازم موجود تھے۔ کامران بچی کو واش روم لے گیا، اپنے اور بچی کے کپڑے اتارے اور بچی سے زیادتی کرنے لگا۔ بچی کے چیخنے پر کامران نے اپنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھا، جس سے بچی کے گال پر بھی نشان پڑ گیا۔ اس وحشیانہ عمل کے نتیجے میں بچی کا خون بہنا شروع ہو گیا۔ بعد ازاں کامران نے خود کو، بچی کو اور فرش کو دھویا اور بچی واپس اپنی کلاس میں چلی گئی۔

چھٹی کے بعد جب بچی گھر اور پھر واش روم گئی تو اس نے شرمگاہ سے خون نکلتا دیکھ کر اپنی والدہ کو ساری بات بتائی۔ والدین اسے ہسپتال لے گئے جہاں لیڈی ڈاکٹر نے جنسی زیادتی کی تصدیق کی اور پولیس معاملہ قرار دیا۔ یہ 12 مئی 2017ء کا دن تھا، والدین صدمے سے سوچ بچار کرتے رہے اور بالاخر تین دن کی تاخیر کے بعد 15 مئی کو وقوعے کی FIR درج کروادی۔

مقامی سیشن کورٹ میں مقدمہ چلا۔ متاثرہ بچی، اسکے والدین و دیگر استغاثہ کے گواہان پیش ہوئے۔ ملزم کامران نے موقف لیا کہ وہ بیگناہ ہے اصل مجرمان کو بچانے کیلئے اسے پھنسایا گیا ہے۔عدالت نے 15 اپریل 2019 کو فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کامران کو عمر قید، جرمانہ اور متاثرہ بچی کو ہرجانہ ادا کرنے کی سزا سنائی۔ جس کیخلاف اس نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

ہائیکورٹ میں ملزم کی طرف سے کہا گیا کہ وقوعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں۔ مقدمہ درج کروانے میں تین دن کی تاخیر کی گئی، ملزم کی شناخت پریڈ نہیں کروائی گئی۔ فرانزک رپورٹ میں مادہ منویہ (Sperms) کی عدم موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ زیادتی نہیں ہوئی۔ بچوں میں جھلی کافی گہری ہوتی ہے لہذا مکمل دخول ممکن نہیں، زیادہ سے زیادہ یہ صرف زیادتی کی کوشش ہو سکتی ہے۔

استغاثہ کے وکلاء نے دلائل دیے کہ جنسی زیادتی کے مقدمات میں متاثرہ فرد کا بیان ہی سزا کیلئے کافی ہوتا ہے، اور اس کیس میں تو بچی کے بیان کی تائید طبی رپورٹ سے بھی ہو رہی ہے۔ والدین اپنی بیٹی کی عزت داؤ پر لگا کر کسی بے گناہ کو نہیں پھنساتے۔ صدمے کی وجہ سے FIR میں چند دن کی تاخیر فطری ہے۔

جسٹس امجد رفیق نے دسمبر 2021 میں کیس کی سماعت کی اور فیصلہ تحریر کیا۔

ہائیکورٹ نے لکھا کہ چھ سالہ بچی نے پوری معصومیت، درستگی اور تسلسل کے ساتھ بغیر کسی تضاد کے عدالت میں واقعے کی تفصیل بتائی۔ بچی نے جرح کے دوران بھی دباؤ کا شکار ہوئے بغیر ثابت قدمی دکھائی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسکا بیان سچا ہے۔ بچی کی والدہ نے تاخیر کی تسلی بخش وضاحت کی ہے۔ ایسے حالات میں والدین کا صدمے کا شکار ہونا اور سوچ بچار کے بعد ڈاکٹر کے مشورے پر پولیس کے پاس جانا ایک فطری عمل ہے۔

بچی کی والدہ اگرچہ چشم دید گواہ نہیں تھی، لیکن بچی کا گھر آتے ہی پیشاب کے بعد خون دیکھ کر اپنی والدہ کو واقعے کی اطلاع دینا "بے ساختہ بیان" کے زمرے میں آتا ہے جسے قانون شہادت کے تحت تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیڈی ڈاکٹر کی رپورٹ سے بچی کے مخصوص اعضاء پر زخم اور جھلی کے پھٹنے کی تصدیق ہوئی۔ اس موضوع پر طبی کتب کے مطابق زیادتی کے جرم کیلئے مردانہ عضو کا مکمل طور پر داخل ہونا ضروری نہیں، بلکہ معمولی سا دخول بھی قانون کی نظر میں مکمل زیادتی تصور ہوتا ہے۔ مزید برآں، تین دن بعد بھی جھلی کے کناروں پر سوجن اور تازگی کے اثرات طبی لحاظ سے ممکن ہیں۔

چونکہ بچی ملزم کو پہلے سے پہچانتی تھی (کیونکہ وہ ایک ماہ سے سکول جا رہی تھی اور ملزم وہاں چوکیدار تھا)، اس لیے باقاعدہ شناخت پریڈ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ طبی اور فرانزک ماہرین کی کتابوں کے مطابق مادہ منویہ کی عدم موجودگی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ زیادتی نہیں ہوئی۔ ایسا عدم اخراج یا دیگر وجوہات کی بنا پر ہو سکتا ہے۔ ملزم کیخلاف الزام بلاشک و شبہ ثابت ہوتا ہے۔

عدالت نے ملزم کامران کی اپیل خارج کرتے ہوئے عمرقید سمیت تمام سزائیں برقرار رکھیں

After the removal of Tariq Mahmood Jahangiri from the position of Islamabad High Court judge, proceedings have begun on ...
18/06/2026

After the removal of Tariq Mahmood Jahangiri from the position of Islamabad High Court judge, proceedings have begun on petitions for the removal of two more judges, Justice Arbab Muhammad Tahir and Justice Saman Riffat Imtiaz.

Justice Khadim Hussain Soomro of Islamabad High Court ordered the Federation and Ministry of Law to submit their replies by June 30 on the petitions seeking removal of both judges.

The court, while fixing the case for June 30, directed the Assistant Attorney General to start arguments and also issued a Section 27-A notice to the Attorney General to assist the court.

29/05/2026

محمد عباس، جو اپنے دل میں روشن مستقبل کے خواب سجائے 31 جنوری 2026 کی ایک سرد صبح سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا۔ اس کے پاس نائجیریا کا جائز ویزا، واپسی کا کنفرم ٹکٹ اور تمام سفری دستاویزات موجود تھیں۔ ایئرلائن کے کاؤنٹر سے اسے بورڈنگ کارڈ جاری ہو چکا تھا اور یہاں تک کہ امیگریشن کے عملے نے بھی اس کے پاسپورٹ پر روانگی کی مہر ثبت کر دی تھی
محمد عباس کے قدم جیسے ہی جہاز کی طرف بڑھے، اسے لگا کہ اب وہ اپنے بہنوئی ناصر فاروق سے ملنے نائجیریا پہنچ جائے گا، جو وہاں ہوٹل اور باربر شاپس کا کاروبار کرتے تھے اور جن کی دستاویزات عباس نے اپنے ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔وہ پرامید تھا کہ اپنوں کے پاس جا کر وہ اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دے گا، لیکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ وہ مایوس ہونے والا ہے۔
امیگریشن ڈپارٹمنٹ کا شفٹ انچارج اچانک سامنے آیا اور اس نے محمد عباس کو روک لیا۔ بغیر کسی واضح وجہ کے، عباس کو جہاز پر سوار ہونے سے روک کر آف لوڈ کر دیا گیا۔اس پر یہ مبہم سا الزام لگایا گیا کہ وہ نائجیریا جانے کے بہانے دبئی میں ہی رک جائے گا اور پاکستان واپس نہیں آئے گا۔اس کے بعد اس کے ہاتھ میں ایک آف لوڈنگ پروفارما تھما دیا گیا جس پر صرف دو لکیریں لکھی تھیں: "ناپائیدار مالی حالات" اور "سفر کا غیر واضح مقصد"۔ عباس نے گڑگڑا کر کہا کہ اس کا بہنوئی وہاں موجود ہے، وہ اس کی کفالت کا ذمہ دار ہے، لیکن امیگریشن حکام نے اس کی ایک نہ سنی۔وہ کروڑوں روپے کے مالی نقصان، ذہنی اذیت اور مسافروں کے سامنے ہونے والی اس شدید ذلت کے ساتھ ایئرپورٹ سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ معاملہ صرف ایک مسافر کے رکنے کا نہیں تھا، بلکہ یہ ریاست کے ایک طاقتور ادارے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے اس لامحدود اور بے لگام اختیار کا سوال تھا جو وہ ایئرپورٹس پر استعمال کرتا ہے۔ محمد عباس نے اس ناانصافی کے خلاف ہتھیار ڈالنے کے بجائے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا اور اپنے وکیل کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر 27534/2026 دائر کر دی۔عدالت عالیہ کے جج، جسٹس راحیل کامران کے سامنے جب یہ کیس سماعت کے لیے آیا، تو قانون اور انتظامی طاقت کے درمیان ایک بڑا معرکہ شروع ہو گیا۔
عدالت کے کمرے میں سسپنس اس وقت بڑھ گیا جب وفاق کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نعمان خالد نے FIA کا دفاع کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ امیگریشن حکام کے پاس یہ قانونی حق ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت اور ویزے کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کسی بھی مسافر کی مالی حیثیت اور سفری مقصد کی جانچ پڑتال کریں ، انہوں نے دلیل دی کہ عباس کے پاس خاطر خواہ رقم نہیں تھی، اس لیے اسے روکنا قانون کے دائرے میں تھا۔
دوسری طرف، عباس کے وکیل نے آئین پاکستان کے آرٹیکلز 4، 9، 10-A اور 15 کا حوالہ دیتے ہوئے گرجدار آواز میں کہا کہ ملک کے کسی بھی شہری کو قانون کے بغیر اس کے سفر کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ نہ تو عباس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں تھا، نہ ہی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں، اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی مجرمانہ انکوائری زیر التوا تھی، تو پھر کس قانون کے تحت ایک شہری کی آزادی کو سلب کیا گیا؟
جسٹس راحیل کامران نے دونوں فریقین کے دلائل کو انتہائی غور سے سنا اور ریکارڈ کا معائنہ کیا۔ جج نے جب ریمارکس دیے تو FIA کے حکام کے پسینے چھوٹ گئے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ "ناپائیدار مالی حالات" کا فیصلہ کس ترازو میں کیا گیا؟ کیا حکومت نے نائجیریا جانے کے لیے کسی رقم کی حد مقرر کر رکھی ہے؟ اگر نہیں، تو امیگریشن افسر نے اپنی ذاتی پسند ناپسند پر ایک شہری کو کیسے روک دیا؟ جج نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں صوابدیدی اختیارات کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہیں کہ جسے جب چاہا، جیسے چاہا گھما دیا، بلکہ جنرل کلازز ایکٹ 1897 کی دفعہ 24-A کے تحت ہر سرکاری افسر کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے فیصلے کی ٹھوس اور معقول وجوہات تحریر کرے۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں محمد عباس کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے FIA کے اس اقدام کو مکمل طور پر غیر قانونی، من مانا اور آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔ عدالت نے نہ صرف عباس کو مستقبل میں تمام قانونی تقاضے پورے کر کے دوبارہ سفر کرنے کی اجازت دی، بلکہ اسے یہ حق بھی دیا کہ وہ اپنی اس ذلت اور مالی نقصان کے خلاف دیوانی عدالت سے ہرجانے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ اس کیس میں جسٹس راحیل کامران نے مستقبل کے لیے ایک تاریخی گائیڈ لائن جاری کر دی، جس کے تحت اب ایئرپورٹ پر کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرنے سے پہلے افسر کو تمام سوال و جواب تحریری یا الیکٹرانک شکل میں محفوظ کرنے ہوں گے، ٹھوس وجوہات لکھنی ہوں گی اور اس کی ایک کاپی فوری طور پر مسافر کو فراہم کرنی ہوگی تاکہ آئندہ کوئی بھی افسر کسی دوسرے محمد عباس کے خوابوں کو ایئرپورٹ کے لاؤنج میں پامال نہ کر سکے۔
Dr. M. Tariq Ali Goheer ASC
Islamabad.

17/02/2026

حکومت نے زکوٰۃ کا نصاب 5 لاکھ 3 ہزار 529 روپے مقرر کر دیا
اسلام آباد: Ministry of Poverty Alleviation and Social Safety نے زکوٰۃ سال 1446-47 ہجری کے لیے نصاب مقرر کرتے ہوئے باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق رواں سال بینک اکاؤنٹس پر زکوٰۃ کی کٹوتی کے لیے نصاب 5 لاکھ 3 ہزار 529 روپے (Rs. 503,529) مقرر کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق زکوٰۃ کی کٹوتی درج ذیل اکاؤنٹس سے کی جائے گی:
سیونگ بینک اکاؤنٹس
پرافٹ اینڈ لاس شیئرنگ (PLS) اکاؤنٹس
اسی نوعیت کے دیگر منافع بخش ڈپازٹ اکاؤنٹس
اگر یکم رمضان المبارک 1447ھ کو کسی اکاؤنٹ میں موجود رقم مقررہ نصاب سے کم ہوگی تو زکوٰۃ کی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔

کٹوتی کی متوقع تاریخ
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یکم رمضان المبارک 1447ھ، جو چاند کی رویت سے مشروط ہے، 19 یا 20 فروری 2026 کو متوقع ہے۔ اسی تاریخ کو "ڈیڈکشن ڈیٹ" قرار دیا گیا ہے اور اسی روز اہل اکاؤنٹس سے زکوٰۃ منہا کی جائے گی۔

اسٹیٹ بینک کو ہدایات
تمام زکوٰۃ کلیکٹنگ و کنٹرولنگ ایجنسیوں (ZCCAs) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر کٹوتی یقینی بنائیں اور منہا کی گئی رقم فوری طور پر State Bank of Pakistan میں قائم سنٹرل زکوٰۃ اکاؤنٹ (CZ-08) میں جمع کرائیں۔ ساتھ ہی فارم CZ-08 (A & B) کے ذریعے رپورٹ بھی وزارت کو ارسال کی جائے گی۔

قانونی بنیاد
یہ اقدام زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کے تحت کیا گیا ہے، جس کے مطابق ہر سال یکم رمضان کو بینکوں میں موجود قابلِ زکوٰۃ رقوم پر سرکاری سطح پر کٹوتی کی جاتی ہے، بشرطیکہ رقم مقررہ نصاب سے زائد ہو۔

منظوری
اعلامیہ ایڈمنسٹریٹر جنرل زکوٰۃ/سیکرٹری وزارت کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے۔

عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17 سال قید اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔فیصلے کے...
24/01/2026

عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17 سال قید اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

فیصلے کے مطابق پیکا ایکٹ کی سیکشن 9 کے تحت دونوں ملزمان کو پانچ، پانچ سال قید اور پچاس، پچاس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
اسی طرح پیکا ایکٹ کی سیکشن 10 کے تحت دونوں کو دس، دس سال قید اور تیس، تیس ملین روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
جبکہ پیکا ایکٹ کی سیکشن 26-A کے تحت دونوں کو دو، دو سال قید اور ایک، ایک ملین روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

عدالتی فیصلے کی کاپی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ارسال کر دی گئی۔

Address

The Suits, 1st Floor, Elaf Arcade, Street 35, G10/1
Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+92512222887

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SIDRA ISHAQ Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to SIDRA ISHAQ Advocate:

Shortcuts

Share