SIDRA ISHAQ Advocate

SIDRA ISHAQ Advocate Available to serve Humanity! Chairperson - Criminal Law Reforms Committee 2021
& JPW Committee 2023

17/02/2026

حکومت نے زکوٰۃ کا نصاب 5 لاکھ 3 ہزار 529 روپے مقرر کر دیا
اسلام آباد: Ministry of Poverty Alleviation and Social Safety نے زکوٰۃ سال 1446-47 ہجری کے لیے نصاب مقرر کرتے ہوئے باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق رواں سال بینک اکاؤنٹس پر زکوٰۃ کی کٹوتی کے لیے نصاب 5 لاکھ 3 ہزار 529 روپے (Rs. 503,529) مقرر کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق زکوٰۃ کی کٹوتی درج ذیل اکاؤنٹس سے کی جائے گی:
سیونگ بینک اکاؤنٹس
پرافٹ اینڈ لاس شیئرنگ (PLS) اکاؤنٹس
اسی نوعیت کے دیگر منافع بخش ڈپازٹ اکاؤنٹس
اگر یکم رمضان المبارک 1447ھ کو کسی اکاؤنٹ میں موجود رقم مقررہ نصاب سے کم ہوگی تو زکوٰۃ کی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔

کٹوتی کی متوقع تاریخ
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یکم رمضان المبارک 1447ھ، جو چاند کی رویت سے مشروط ہے، 19 یا 20 فروری 2026 کو متوقع ہے۔ اسی تاریخ کو "ڈیڈکشن ڈیٹ" قرار دیا گیا ہے اور اسی روز اہل اکاؤنٹس سے زکوٰۃ منہا کی جائے گی۔

اسٹیٹ بینک کو ہدایات
تمام زکوٰۃ کلیکٹنگ و کنٹرولنگ ایجنسیوں (ZCCAs) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر کٹوتی یقینی بنائیں اور منہا کی گئی رقم فوری طور پر State Bank of Pakistan میں قائم سنٹرل زکوٰۃ اکاؤنٹ (CZ-08) میں جمع کرائیں۔ ساتھ ہی فارم CZ-08 (A & B) کے ذریعے رپورٹ بھی وزارت کو ارسال کی جائے گی۔

قانونی بنیاد
یہ اقدام زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کے تحت کیا گیا ہے، جس کے مطابق ہر سال یکم رمضان کو بینکوں میں موجود قابلِ زکوٰۃ رقوم پر سرکاری سطح پر کٹوتی کی جاتی ہے، بشرطیکہ رقم مقررہ نصاب سے زائد ہو۔

منظوری
اعلامیہ ایڈمنسٹریٹر جنرل زکوٰۃ/سیکرٹری وزارت کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے۔

عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17 سال قید اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔فیصلے کے...
24/01/2026

عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17 سال قید اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

فیصلے کے مطابق پیکا ایکٹ کی سیکشن 9 کے تحت دونوں ملزمان کو پانچ، پانچ سال قید اور پچاس، پچاس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
اسی طرح پیکا ایکٹ کی سیکشن 10 کے تحت دونوں کو دس، دس سال قید اور تیس، تیس ملین روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
جبکہ پیکا ایکٹ کی سیکشن 26-A کے تحت دونوں کو دو، دو سال قید اور ایک، ایک ملین روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

عدالتی فیصلے کی کاپی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ارسال کر دی گئی۔

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گی...
20/12/2025

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گیا۔ بھکر کی عدالت نے کہا کہ زنا بالجبر ثابت ہوتا ہے اور ملزم کو 20 سال قید بامشقت اور متاثرہ کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنا دی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ عدالت نے اپیل خارج کر دی اور ملزم کی سزا برقرار رکھی۔ ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ زنا بالجبر نہیں، زنا بالرضا کا کیس تھا۔ ملزم کی سزا کم کر کے 5 سال قید بامشقت اور جرمانہ 5 لاکھ سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا۔ وجوہات جن کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا۔
1۔ مدعیہ نے واقعہ ہونے کے 7 ماہ بعد جرم کو رپورٹ کیا۔
2۔ مدعیہ کے مطابق وہ صبح ساڑھے 5 بجے کھیتوں میں گئی تو وہاں ملزم پہلے سے چھپا ہوا تھا۔ اس نے ریپ کر دیا۔ جہاں کا وقوعہ ہے وہاں ساتھ ہی آبادی بھی ہے۔ مدعیہ نے کسی قسم کا شور نہیں کیا۔ اس کے جسم پر مزاحمت کے کوئی نشان نہ تھے۔ کوئی زخم یا خراش کا نشان نہ تھا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے کپڑے جمع نہیں کروائے کہ اس سے پتہ چلتا کہ وہ پھٹے ہوئے تھے یا نہیں۔ ان پر کوئی سیمن تھا یا نہیں۔ خاتون 7 ماہ تک خاموش رہی۔ مبینہ وقوعہ کے بعد جس وقت وہ گھر آئی اس کے مطابق اس کے بھائی اور باقی گھر والے گھر پر موجود تھے۔ اس نے 7 ماہ تک اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا۔ ملزم کو کیسے پتہ تھا کہ وہ اس وقت وہاں اکیلی آئے گی۔
3۔ اگرچہ پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا ہے لیکن یہ ریپ نہیں بلکہ زنا بالرضا کا واقعہ ہے۔ ریپ ہوتا تو مزاحمت، شور، زخم، خراش کچھ نہ کچھ تو ہوتا۔
4۔ میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹر نے یہ ضرور بتایا کہ ٹو فنگر ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اسے بھی کسی زخم وغیرہ کا کوئی پرانا نشان نہیں ملا۔
قانون کے طالبعلموں کیلئے: اگرچہ اس کیس میں 376 (ریپ) کی ایف آئی آر ہوئی تھی اور چارج بھی اسی دفعہ کے تحت فریم ہوا تھا لیکن سزا 496 بی (زنا بالرضا) میں تبدیل کر دی گئی۔ جو کہ اس جنرل اصول کی خلاف ورزی ہے کہ جس جرم کا چارج فریم ہو سزا بھی اسی میں ہو۔ اس اصول کی استثنی کیلئے آپ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 238(2) اور سپریم کورٹ کی ایک ججمنٹ 2006SCMR 1170 پڑھ لیں۔

نوٹ: شیئر کردہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی لارجر بینچ جسٹس شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس صلاح الدین پنہور نے دیا ہے۔ جسٹس صلاح الدین نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور اپنا اختلافی نوٹ جاری کیا جس کی تفصیل ذیل میں ہے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں جہاں اکثریتی معزز جج صاحبان نے ایک ریپ کے مقدمے میں سزا کم کرتے ہوئے جرم کی نوعیت میں تبدیلی کی، وہیں محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کا اختلافی نوٹ قانون، انصاف اور سماجی حقیقتوں کی ایک مضبوط اور باوقار ترجمانی کرتا ہے۔ یہ اختلاف محض قانونی نکات تک محدود نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی دباؤ اور فوجداری قانون کے بنیادی اصولوں پر ایک گہری اور بصیرت افروز دستک ہے۔

یہ مقدمہ ایک تقریباً 24 سالہ غیر شادی شدہ خاتون سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزم اور متاثرہ خاتون اس بچے کے حیاتیاتی والدین ثابت ہوئے۔ اکثریتی فیصلے میں سات ماہ کی تاخیر سے درج ایف آئی آر اور جسم پر تشدد کے نشانات کی عدم موجودگی کو بنیاد بنا کر ریپ کے الزام کو کمزور قرار دیا گیا، تاہم محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے نہایت مدلل، قانونی اور انسانی بنیادوں پر اس سوچ سے اختلاف کیا۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب واضح کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ریپ اور جنسی ہراسانی کے واقعات اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ جرم کی عدم موجودگی نہیں بلکہ خوف، بدنامی، کردار کشی اور خاندانی دباؤ ہوتا ہے۔ ایک متاثرہ خاتون کو عدالت سے پہلے اپنے ہی گھر میں اپنے کردار کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں تاخیر کو بدنیتی یا رضامندی سے تعبیر کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

خصوصاً اس مقدمے میں متاثرہ خاتون کم عمر، غیر شادی شدہ، والدین سے محروم اور اپنے بڑے بھائی پر انحصار کرنے والی تھی۔ ریکارڈ پر دھمکیوں کے شواہد بھی موجود تھے۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کے مطابق ایسے حالات میں خاموشی ایک فطری انسانی ردعمل ہے، نہ کہ جرم سے انکار۔ ان کے بقول یہ خاموشی اس وقت تک برقرار رہنا بالکل فطری تھا جب تک متاثرہ خاتون کو اپنے حمل کا علم نہ ہو سکا۔

جسم پر تشدد کے نشانات نہ ہونے کے نکتے پر بھی محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے ایک اہم قانونی اصول اجاگر کیا۔ اگر ملزم مسلح ہو تو مزاحمت نہ کرنا انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ مزید یہ کہ سات ماہ بعد ہونے والا طبی معائنہ کسی جسمانی مزاحمت کے آثار محفوظ نہیں رکھ سکتا، جیسا کہ عدالتی نظائر میں بھی تسلیم کیا جا چکا ہے۔

ڈی این اے رپورٹ کے حوالے سے محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے سائنسی بنیادوں پر اکثریتی فیصلے کی کمزوری واضح کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی میں ڈی این اے کو بروقت extract کر کے محفوظ کیا جاتا ہے، جو برسوں تک قابلِ اعتماد رہتا ہے۔ محض buccal swab کے مبینہ طور پر ضائع ہونے کے امکان کو بنیاد بنا کر ڈی این اے رپورٹ کو مشکوک قرار دینا نہ سائنسی ہے اور نہ ہی قانونی طور پر درست۔

اختلافی نوٹ کا سب سے اہم اور حساس پہلو وہ ہے جہاں اکثریتی فیصلے میں ریپ (دفعہ 376 PPC) کو رضامندی پر مبنی فعل (دفعہ 496-B PPC) میں تبدیل کیا گیا۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ یہ دونوں الگ الگ جرائم ہیں جن کے اجزاء مختلف ہیں۔ اگر رضامندی ثابت نہیں تو محض سزا کم کرنے کے لیے جرم کی نوعیت بدلنا قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ریپ ثابت نہ ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ رضامندی خودبخود ثابت ہو گئی۔

انہوں نے نہایت اہم سوال اٹھایا کہ اگر ڈی این اے رپورٹ ریپ کے الزام کے لیے ناقابلِ اعتبار سمجھی جا رہی ہے تو اسی رپورٹ کو رضامندی پر مبنی جرم کے لیے کیسے قابلِ قبول مانا جا سکتا ہے؟ قانون مفروضوں پر نہیں بلکہ ناقابلِ تردید ثبوت پر عمل کرتا ہے۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے اپنے اختلافی نوٹ کا اختتام انسانی وقار کے قرآنی تصور پر کیا، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی عزت اور حرمت ہر قانونی بحث سے بالاتر ہے۔ یہ اختلافی نوٹ دراصل صرف ایک فیصلے سے اختلاف نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ایک مضبوط اعلان ہے جو مظلوم کی خاموشی کو اس کے خلاف ثبوت بنا دیتی ہے۔

یہ اختلافی رائے مستقبل کے لیے ایک واضح رہنما اصول ہے کہ انصاف صرف شکوک و شبہات کی بنیاد پر نہیں بلکہ سماجی حقیقتوں، انسانی نفسیات اور قانون کے مسلمہ اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دیا جانا چاہیے۔ اگر خاموشی کو جرم اور کمزوری کو رضامندی سمجھا جائے تو یہ انصاف نہیں بلکہ خوف کی توثیق ہو گی۔

اختلافی رائے والے پیرا گرافس کاپی کیے ہیں۔

Justice Tariq Mehmood Jahangiri appeared before the Islamabad High Court (IHC) on Monday, presenting arguments in his de...
15/12/2025

Justice Tariq Mehmood Jahangiri appeared before the Islamabad High Court (IHC) on Monday, presenting arguments in his defence against challenges to the legitimacy of his law degree and appointment as a judge while also raising objections over the division bench hearing the case.

The controversy surrounding the IHC judge’s law degree originated from a letter that began circulating last year on social media, purportedly from the University of Karachi’s (KU) controller of examinations.

Subsequently, a complaint pertaining to his allegedly fake degree was submitted to the Supreme Judicial Council — the top forum for judicial accountability that probes allegations of misconduct against judges — last year in July and a petition challenging his appointment was also filed in the IHC earlier this year by lawyer Mian Dawood.

A two-member IHC bench, led by Chief Justice Sardar Muhammad Sarfraz Dogar and also comprising Justice Muhammad Azam Khan, took up the matter on Monday in a packed courtroom.

The same bench had declared Dawood’s plea maintainable at the last hearing on December 9, issuing a verdict that was reserved in July last year. It had also barred Justice Jahangiri from judicial work in September, but the order was later set aside by the Supreme Court (SC).

Arguing his case, Justice Jahangiri raised the preliminary objection that the division bench was “inappropriate” to hear the case as a separate petition concerning its members was pending.

This, apparently, was a reference to challenges to Justice Dogar’s appointment as the IHC CJ.

“We have filed a petition against you. You cannot hear this case,” Justice Jahangiri asserted.

Moving on to defending his qualification, he contended that the case was based on a 34-year-old educational record.

“I am ready to take an oath on the Holy Quran that my degree is genuine,” he contended. The judge also argued that the KU never declared his degree fake.

He also took an exception to the “haste” in which proceedings were being held, arguing against the issuance of a three-day notice to address a decades-old matter.

At the last hearing, the CJ Dogar-led bench had gra­nted Justice Jahangiri thr­ee days to respond to the facts unearthed in the case till date. The registrar’s office had served the notice at Justice Jahangiri’s chamber due to time constraints, and sources had told Dawn that court staff of the judge received the notice and submitted it to his chamber.

After raising objections in this regard on Monday, Justice Jahangiri also criticised the earlier IHC directive barring him from work.

“Never in the judicial history of Pakistan and India has such a thing happened […] Not even a patwari (revenue official) was stopped from work the way I was,” he remarked.

The judge sought an adjournment to be able to hire a lawyer for himself and acquire the complete case record, stating, “So little time has been given. I have to get a lawyer and prepare.”

On the other hand, petitioner Dawood requested the court to hear the case on a daily basis.

The court adjourned the hearing until December 18 (Thursday), summoning the KU registrar in person and seeking the record of Justice Jahangiri’s degree.

The IHC judge was also given time until then to engage a lawyer.

CJ Dogar assured Justice Jahangiri that he would receive justice.

Throughout the hearing, CJ Dogar also repeatedly instructed lawyers, who attended the hearing in large numbers, to return to their seats, emphasising, “Honourable Justice Jahangiri has come to me … I want to hear him.”

Protracted legal trajectory
The controversy around Justice Jahangiri’s law degree has followed a protracted legal trajectory since Sept 16, when the same IHC division bench first took up the petition and issued an interim order restraining Justice Jahangiri from performing judicial functions until the maintainability of the petition could be decided.

The decision, made without issuing prior notice to the judge, had sparked debate within the legal community over whether a high court could suspend a sitting judge through an interim order. On Sept 29, the SC intervened, setting aside the restraining order.

A five-member constitutional bench, headed by Justice Aminuddin Khan, held that a high court could not bar a judge from performing judicial functions while hearing a quo warranto petition.

The ruling clarified that it addressed only the legality of the interim order and not the merits of the allegations. The SC later directed the IHC to decide all preliminary objections and proceed with the matter in accordance with law.

We, in collaboration with Sindh Insurance, are proud to announce our sponsorship of the IIUI all-female team participati...
11/12/2025

We, in collaboration with Sindh Insurance, are proud to announce our sponsorship of the IIUI all-female team participating in the 23rd Willem C. Vis International Commercial Arbitration Moot, the world’s largest and most prestigious moot court competition, taking place in Hong Kong in March 2026.
The Vis Moot serves as a truly global platform, bringing together 2,500+ students, 400+ universities, and participants from over 90 jurisdictions, all united in their pursuit of excellence in international commercial arbitration. It is a space where students, academics, and practitioners engage with complex and evolving issues in an emerging field that continues to shape the future of global dispute resolution. Yet, despite its worldwide impact, female representation in arbitration remains significantly limited.
By supporting this exceptional all-female team, we aim to break barriers, challenge norms, and inspire greater female participation in this highly technical and rapidly expanding area of law. The talented participants from IIUI embody not only academic excellence but also the resilience, determination, and leadership required to pave the way for future generations of women in arbitration.

Alhamdulillah! The Suits is now an ACCA Gold Level Approved Employer – Trainee Development.ACCA, a globally respected bo...
29/09/2025

Alhamdulillah!
The Suits is now an ACCA Gold Level Approved Employer – Trainee Development.

ACCA, a globally respected body of professional accountants, is represented in over 180 countries. With this achievement, The Suits is now authorized to train future Chartered Certified Accountants (ACCA) and Certified Accounting Technicians (CAT).

All credit goes to Dr. Jawad Zafar for leading this milestone. InshaAllah, we will continue to shape the profession by combining the expertise of Attorneys and Chartered Accountants to deliver exceptional solutions in corporate consultancy, taxation, and allied professional and legal services.

This milestone also reflects our broader vision for the future, to integrate legal and financial excellence, nurture professional talent, and contribute meaningfully to the evolving business landscape.

26 اور 27 ستمبر 2025 کو ایف بی آر نے اُن افراد کو پیغامات بھیجے ہیں جنہوں نے ٹیکس ایئر 2025 کے دوران پراپرٹی خریدی۔ ان پ...
27/09/2025

26 اور 27 ستمبر 2025 کو ایف بی آر نے اُن افراد کو پیغامات بھیجے ہیں جنہوں نے ٹیکس ایئر 2025 کے دوران پراپرٹی خریدی۔ ان پیغامات میں خریدار کا نام اور خریداری کی قیمت درج ہے، جو ان کے ڈیکلیئر کیے گئے ڈی سی ریٹ یا ایف بی آر ریٹ کے مطابق ہے۔

یہ نہ صرف خریدار کو یاد دہانی ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا گوشوارہ (Income Tax Return) بروقت جمع کروائیں بلکہ اس بات کی بھی واضح ہدایت ہے کہ خریدی گئی پراپرٹی کو اپنے گوشوارے میں لازمی ظاہر کریں۔

اس اقدام سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ایف بی آر نے اپنے سسٹم کو ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے منسلک کر لیا ہے جہاں پراپرٹی کی خرید و فروخت رجسٹر ہوتی ہے۔ اب ایف بی آر کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کس نے سال کے دوران کون سی پراپرٹی خریدی۔

مستقبل میں ہم یہ بھی توقع کر سکتے ہیں کہ اسی طرح کے انضمام (integration) کریڈٹ کارڈز اور ڈیبٹ کارڈز کے ساتھ بھی ہوں، جس سے ایف بی آر کو کسی بھی شخص کی آمدنی اور اخراجات کا بہتر اندازہ ہو سکے گا۔ یعنی اگر کوئی شخص اپنی آمدنی کم ظاہر کرے مگر اخراجات زیادہ کرے، تو یہ فوراً ایف بی آر کے ریڈار پر آ سکتا ہے۔

اس لیے یہ وقت ہے کہ آپ سنجیدگی سے اپنا انکم ٹیکس ریٹرن صحیح اور مکمل معلومات کے ساتھ جمع کروائیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی مستند اور ماہر پروفیشنل کے ذریعے کروائیں تاکہ مستقبل میں نوٹسز یا قانونی پیچیدگیوں سے بچ سکیں۔

یاد رکھیں: ٹیکس ریٹرن جمع کروانا صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ اپنی دولت اور مستقبل کو محفوظ بنانے کا ایک اہم قدم ہے۔

اے وطن میرے آباد رہے تو 🇵🇰
14/08/2025

اے وطن میرے آباد رہے تو 🇵🇰

Completed a course on UNCITRAL International Commercial Arbitration, gained key insights into cross-border dispute resol...
30/05/2025

Completed a course on UNCITRAL International Commercial Arbitration, gained key insights into cross-border dispute resolution, arbitral procedures, and enforcement under the UNCITRAL framework.

Attended the Pakistan Minerals Investment Forum 2025 at Jinnah Convention Center, Islamabad. A big step towards making P...
09/04/2025

Attended the Pakistan Minerals Investment Forum 2025 at Jinnah Convention Center, Islamabad.
A big step towards making Pakistan a mining powerhouse.
Great insights on unlocking Pakistan’s mineral potential, especially in copper, gold & lithium. PM emphasized local processing to boost the economy. Exciting to see global interest, including Barrick Gold’s $2B+ financing plan for Reko Diq.

Grateful to Islamabad High Court Bar Association - look forward to serve IA
10/03/2025

Grateful to Islamabad High Court Bar Association - look forward to serve IA

Address

The Suits, 1st Floor, Elaf Arcade, Street 35, G10/1
Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+92512222887

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SIDRA ISHAQ Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to SIDRA ISHAQ Advocate:

Share