Kamran Arshad Advocate Federal Service Tribunal & High Court

Kamran Arshad Advocate Federal Service Tribunal & High Court Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Kamran Arshad Advocate Federal Service Tribunal & High Court, Lawyer & Law Firm, Office No. 12, 2nd Floor, Silver City Plaza, G-11 Markaz, Islamabad.

محکمانہ انکوائری میں جرح کا حق لازمی — سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہسپریم کورٹ نے سروس میٹر میں ایک نہایت اہم فیصلہ سناتے ہ...
18/02/2026

محکمانہ انکوائری میں جرح کا حق لازمی — سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

سپریم کورٹ نے سروس میٹر میں
ایک نہایت اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ محکمانہ انکوائری میں گواہوں پر جرح (Cross-Examination) کا حق دینا لازمی ہے، بصورتِ دیگر پوری کارروائی قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہوگی۔

کیس کا پس منظر
یہ فیصلہ CPLA No.706/2021 میں جسٹس Muhammad Ali Mazhar اور جسٹس Musarrat Hilali پر مشتمل بینچ نے سنایا۔

درخواست گزار محمد عابد، جو محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خیبر پختونخوا میں نائب قاصد تعینات تھے، کو مبینہ غیر حاضری کی بنیاد پر محکمانہ انکوائری کے بعد ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ:
انکوائری خیبر پختونخوا سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2011 کے مطابق نہیں کی گئی
گواہوں کے بیانات ان کی موجودگی میں ریکارڈ نہیں کیے گئے
انہیں گواہوں پر جرح کا موقع نہیں دیا گیا

سپریم کورٹ کا قانونی مؤقف
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ:
شو کاز نوٹس کا مقصد ملازم کو مؤثر دفاع کا موقع دینا ہے۔

اگر انکوائری میں گواہ پیش کیے جائیں تو ملزم کو لازمی طور پر ان پر جرح کا حق دیا جائے۔
جرح کا حق "قدرتی انصاف" (Natural Justice) اور آرٹیکل 10-A (حقِ منصفانہ ٹرائل) کے تحت بنیادی حق ہے۔

اگر یہ حق نہ دیا جائے تو پوری کارروائی مشکوک اور کالعدم ہو سکتی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ محکمانہ انکوائری میں سقم یا جان بوجھ کر قانونی تقاضے پورے نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ ایک سرکاری ملازم کا پورا کیریئر اور روزگار داؤ پر لگا ہوتا ہے۔

📖 سابقہ نظائر کا حوالہ
عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں:
Federation of Pakistan v. Zahid Malik
Ghulam Murtaza Sheikh v. Chief Minister Sindh
کا حوالہ دیتے ہوئے اعادہ کیا کہ:
بغیر جرح کے کوئی بھی الزام ثابت تصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جرح ہی وہ قانونی ذریعہ ہے جس سے سچ اور جھوٹ کا تعین ہوتا ہے۔
حتمی حکم
سپریم کورٹ نے:
سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا

اہم قانونی نکتہ
یہ فیصلہ تمام سرکاری ملازمین اور محکمانہ اتھارٹیز کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ:
✔️ محکمانہ کارروائی میں شفافیت
✔️ جرح کا مکمل حق
✔️ منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کی پابندی
لازمی ہے، ورنہ کارروائی عدالت میں برقرار نہیں رہ سکتی۔

12/02/2025
08/02/2025
09/09/2021

اظہار الحق صاحب کا سید علی گیلانی پر لکھا گیا نہایت شاندار کالم۔........

سید علی گیلانی نے وہ راستہ چنا جو ٹیپو سلطان نے چنا تھا۔ جو امام شامل نے چنا تھا۔ جو نیلسن منڈیلا نے چنا تھا۔ انہوں نے وہ راستہ چنا جو ان کے آبائواجداد نے امویوں اور عباسیوں کے عہد میں چنا!

وہ سید تھے۔ سادات کے راستے پر چلے! سادات کا راستہ زنداں کا راستہ ہے یا شہادت کا! کربلا تو محض آغاز تھا! اس کے بعد کیا کیا نہیں ہوا۔

امام حسنؓ کے پوتے امام عبداللہؒ کا انتقال جیل میں ہوا۔ حافظ ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ آپ کی موت زنداں میں طبعی نہیں تھی!

امام نفس ذکیہؒ کے ایک درجن سے زیادہ قریبی اعزہ کو محبوس رکھا گیا، شہادت کے بعد آپ کا سرِ مبارک کاٹ کر عباسی حکمران کو بھیجا گیا۔ امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ نے امام نفس ذکیہؒ کی حمایت کی تھی۔

امام باقرؒ کو امویوں نے جیل میں ڈالا۔ جب قیدی آپ سے متاثر ہونے لگے تو رہا کر دیا مگر ان کے راستے میں پڑنے والے شہروں کے بازار بند کرا دیے تا کہ اشیائے خور و نوش نہ خرید سکیں۔

امام موسیٰ کاظمؒ کا انتقال جیل میں ہوا۔

علی گیلانی سیّد تھے۔ انہوں نے سیّد ہونے کا حق ادا کیا۔ انہوں نے تخت کا نہیں تختے کا راستہ چنا۔

لوگ سادات سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں مگر سادات کی اتباع نہیں کرتے‘ اس لیے کہ سادات کی سنت سر جھکانا نہیں، سر کٹانا ہے۔ آخری گیارہ سال تو سید علی گیلانی مستقل نظر بند رہے۔ا س سے پہلے بارہا قید رہے۔ ان کی قید اور نظر بندی کا کُل عرصہ انتیس سال پر محیط ہے۔ ایک سال کم تیس سال! نیلسن منڈیلا کا عرصۂ اسیری ستائیس برس بنتا ہے۔ منڈیلا کے لیے ایک دنیا نے شور برپا کیا۔ سید علی گیلانی مسلمان تھے، کشمیری تھے! اس لیے دنیا نے اغماض برتا! بانوے سال کے ضعیف اور نحیف انسان کو بھارتی استعمار نے ہر اس سہولت سے محروم رکھا جو کسی بھی انسان کا بنیادی حق ہے۔ پوتوں اور نواسوں، پوتیوں اور نواسیوں سے نہ ملنے دیا۔ پاسپورٹ معطل رکھا، مواصلات سے، رسل و رسائل سے، ملنے ملانے سے، احباب اور متعلقین سے، غرض پوری دنیا سے کاٹ کر رکھا! یہاں تک کہ فرشتے آئے اور سعید روح کو حفاظت سے لے گئے۔
فرشتے لے چلے سوئے حرم تابوت میرا
کفِ افسوس ملتے رہ گئے بد خواہ میرے
غاصب بھارتی حکومت کے ہاتھ ان کا جسد خاکی لگا۔ رات کے اندھیرے میں تدفین کر دی۔ اعزہ و اقارب کو شریک نہ ہونے دیا۔ جتنے راستے ان کے گھر کو جاتے تھے، سب پر پہرے اور ناکے لگا دیے۔ وفات کے بعد بھی بھارتی حکومت کے خوف کا یہ عالم تھا کہ فوج کی پلٹنوں کی پلٹنیں کھڑی کر دیں۔ اس بزدلانہ حرکت کو علی گیلانی آسمانوں سے دیکھ کر مسکر ائے ہوں گے۔
ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے

سید علی گیلانی کی طویل قید اور قید میں بے بسی کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔ یہ خدا کی سنت ہے۔ اس کے ہاں قربانی اور ایثار کا حساب رکھا جاتا ہے۔ کشمیر پر برستی ہوئی آگ ایک دن پھولوں میں تبدیل ہو گی۔ سیب اور انار کے درخت اُس آنے والے دن جو پھل دیں گے‘ اُن پھلوں تک غاصب بھارتی حکومت کے ہاتھ نہیں پہنچ سکیں گے۔ یہ ہاتھ آج طاقت ور اور لمبے دکھائی دے رہے ہیں مگر یہ ہاتھ ٹوٹ جائیں گے۔ کنول کے خوبصورت پھول کشمیر کی جھیلوں کو ڈھانپ لیں گے۔ انگور کے خوشوں تک صرف کشمیریوں کے ہاتھ پہنچیں گے۔ بنفشی اور ارغوانی رنگ کشمیر کے مہکتے باغوں کو بہشت میں تبدیل کر دیں گے۔

علی گیلانی کی قبر پر پھول کھلیں گے۔ جگنو دیے جلائیں گے۔ کرنیں اتریں گی۔ تتلیاں قبر کا طواف کریں گی۔ آسمان پر لگے ہوئے دریچوں سے علی گیلانی کشمیر کو آزاد ہوتا دیکھیں گے!
چاندنی اور دھوپ کو کبھی کوئی روک پایا ہے؟
خوشبو کو کبھی کوئی ختم کر سکا ہے؟

07/10/2017
04/10/2017

Office: 2, 3rd Floor, Silver City Plaza, G-11 Markaz, Islamabad
Cell: 0310-5259326

27/07/2017
23/07/2017

Citation Name : 2017 PLC(CS) 115 ISLAMABAD
Side Appellant : Syed IJAZ HUSSAIN
Side Opponent : FEDERATION OF PAKISTAN
Arts. 199 & 212---Service Tribunals Act (LXX of 1973), S.4(1)(b)---promotion of an employee---Determination of eligibility and fitness---Constitutional petition---Maintainability---Service Tribunal had no jurisdiction on the controversy of determination of fitness and suitability of a person for a job and for promotion ---Constitutional petition would be maintainable when criteria on the basis of which the fitness for promotion was determined had been challenged.

23/07/2017

Citation Name : 2017 PLC(CS) 900 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
Side Appellant : KAMRAN AHMAD
Side Opponent : CHIEF EXECUTIVE GEPCO.
Art. 199---Constitutional petition---Maintainability---Employer and employee--- Non-statutory rules--- Effect--- Petitioner employee challenged the proceedings of promotion by the employee Company and sought consideration of his promotion ---Validity---promotion of petitioner employee being not governed by statutory rules, could not be enforced through constitutional jurisdiction of High Court---Constitutional petition was dismissed in circumstances.

30/08/2016

To consult a service matter, everyone is welcomed to contact me at 03105259326. Regards, Advocate Kamran Arshad Chaudhary

Address

Office No. 12, 2nd Floor, Silver City Plaza, G-11 Markaz
Islamabad

Telephone

+923105259326

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kamran Arshad Advocate Federal Service Tribunal & High Court posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kamran Arshad Advocate Federal Service Tribunal & High Court:

Share