Legal Forum

Legal Forum Corporate, Tax, IPRs, Commercial, Banking, Service, Labour, Real Estate and Immigration

19/08/2023
07/09/2022

جنگل کی طرح آزادی
تیسری دنیا کو دوسری جنگ عظیم کے بعد آزادی تو دے دی گی مگر اب بھی فیصلے خوف کی بنیاد پر ہوتے ہیں کبھی پڑوسیوں کا خوف تو کبھی ڈالر کا خوف جیسے جنگل میں آزادی تو ہوتی ہے مگر کوی شکار کر لیتا ہے تو کوی شکار ہو جاتا ہے اور سارے فیصلے خوف کی بنیاد پر ہوتے ہیں

یوسف زئ روحیلہ

05/09/2022

ہمیں پچیس سالہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے
ہمارے ارد گرد کہ ممالک اپنی مستقل منصوبہ بندی کی وجہ سے ہم سے بہت آگے نکل گے لہذا اب اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہماری بھی کوئ مستقل منصوبہ بندی ہو اور اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ پاکستان کی سب چھوٹی بڑی جماعتیں مل کر قوم کو ایک مشترکہ پچیس سالہ منصوبہ دیں اور عوام سے یہ عہد کریں کہ کسی کی بھی حکومت ہو وہ اس طے شدہ منصوبے پر عمل درآمد کریں گے اور ان پچیس سالوں کو پانچ مرحلوں میں تقسیم کر دیا جاے

یوسف زئ روحیلہ

04/09/2022

پاکستان ایک واش بیسن کی طرح ہے
ہمیں اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان ایک واش بیسن کی طرح ہے جس میں ارد گرد کہ ممالک سے پانی آتا ہے یہ ممالک اپنی پانی کی ضروریات پہلے پورا کرتے ہیں پھر ہمیں پانی دیتے ہیں اور جب سیلاب آتا ہے تو اپنے ڈیم بچانے کہ لیے اضافی پانی چھوڑ دیتے ہیں اسطرح آدھا سال ہم پانی کی کمی کا جبکہ آدھا سال سیلاب کا شکار رہیں گے ۔ دوسروں پر الزام دینے سے ہمیں کوی فائیدہ نہ ہوگا ہمیں لاتعداد چھوٹے ڈیم بنانے پڑیں گے

یوسف زئ روحیلہ

30/08/2022

قیادت کی دعایں
اچھے وقتوں میں قیادت اپنی قوم کی بھلائ کے لیں دعائیں کرتی تھی۔ جب کشمیر کا زلزلہ آیا تو ایک مقامی سیاستدان کہنے لگا کاش ایسا زلزلہ پنجاب میں بھی آتا اور ہمیں بھی فنڈز ملتے۔ میں کشمیر کے کچھ ٹھیکیداروں سے ملا تو وہ کہنے لگے ہم سارا سال برسات کا انتظار کرتے ہیں تاکہ لینڈ سلائیڈنگ ہو اور سڑکیں ٹوٹیں پل تباہ ہوں تو ہمیں ٹھیکے ملیں ۔ میں نے پوچھا کشمیر اسمبلی میں جو لوگ ہوتے ہیں وہ کیا کاروبار کرتے ہیں کہنے لگا وہ بھی سارا سال ان ٹھیکوں کا انتظار کرتے ہیں۔ اب ذرا سوچیں سیلاب کس کی دعاؤں کا نتیجہ ہے اور باکستان جو دنیا سے بھیک مانگ رہا ہے تو ٹھیکے کس کو ملیں گے۔

یوسف زئ روحیلہ

27/08/2022

سیلاب اور اندھے کونیں
آبادی سے ہٹ کر جنگلوں اور نشیبی علاقوں میں کنویں کھودے جاتے تھے تاکہ مسافروں کو پانی کی تلاش نہ کرنی پڑے اور جو کونیں خشک ہو جاتے تھے انھیں بھی بند نہیں کیا جاتا تھا تاکہ برسات کہ دنوں میں اضافی پانی زمین میں چلا جاے اور سیلاب کی شکل اختیار نہ کرے ۔ نہ جانے آج کہ دور میں ٹاون پلاننگ کن اصولوں پر رکھی جاتی ہے۔

یوسف زئ روحیلہ

26/08/2022

سیلاب اور اندھے کونیں
آبادی سے ہٹ کر جنگلوں اور نشیبی علاقوں میں کنویں کھودے جاتے تھے تاکہ مسافروں کو پانی کی تلاش نہ کرنی پڑے اور جو کونیں خشک ہو جاتے تھے انھیں بھی بند نہیں کیا جاتا تھا تاکہ برسات کہ دنوں میں اضافی پانی زمین میں چلا جاے اور سیلاب کی شکل اختیار نہ کرے ۔ نہ جانے آج کہ دور میں ٹاون پلاننگ کن اصولوں پر رکھی گی ہے۔

یوسف زئ روحیلہ

25/08/2022

سیلاب میں صرف غریب لوگ ہی کیوں بے گھر ہوتے ہیں
زمانہ قدیم سے وادی سندھ کے لوگ اونچی جگہ پر بستی بساتے تھے تاکہ بارش کے موسم میں سیلاب سے بچا جاسکے مگر انگریز دور میں با اختیار لوگوں نے اونچی جگہ پر قبضہ کر لیا جس میں سردار، جاگیردار، وڈیرے اور چودھری شامل تھے اور کمزور لوگوں کو نشیبی علاقوں میں دکھیل دیا۔ لہذا ہر سال لوگوں کا نقصان ہوتا ہے مگر اشرافیہ پر جوں نہیں رینگتی اور میڈیاقومی قیادت کی ناکامی چھپانے کے لیے اسے اللہ کا عذاب قرار دے دیتا ہے تو یہ کیسا عذاب ہے جو ظالموں کو تو چھوڑ دیتا ہے اور مظلوموں کا صفایا کر دیتا ہے

یوسف زئ روحیلہ

22/08/2022

فرقے وقت کی ضرورت ہیں
کالج کہ زمانے میں مجھے شوق ہوا مدرسہ پڑھنے کا لہذا میں مدرسہ فریدیہ چلاگیا۔ پہلا دن تھا اور ایک ہال میں بٹھا کر میرا امتحان لیا جا رہا تھا کہ دفعتا منتظم صاحب تشریف لاے اور کچھ اساتذہ بھی ساتھ آگے ایک استاد نے سوال کیا کہ ہم دیوبندی دو حصوں میں تقسیم ہیں ایک فضل الرحمان گروپ کہلاتا ہے تو دوسرا سمیع الحق گروپ۔ لوگ کہتے ہیں کہ مولوی سب کچھ ایک ہونے کہ باوجود اکھٹے نہیں رہ سکتے تو ملک کی قسمت کیسے سوارنیں گے، ہمارے پاس اس کا کوی جواب بن نہیں پڑتا۔ منتظم صاحب کہنے لگے اس میں مسئلے کی کوی بات نہیں اگر کوی فضل الرحمان سے ناراض ہوگا تو سمیع الحق کے پاس چلاجاے گا اور اگر کوی سمیع الحق سے ناراض ہو گا تو فضل الرحمان کے پاس چلا جاے گا مودودی تو نہیں بنے گا۔ تقسیم کرو لڑاو اور حکومت کرو

یوسف زئ روحیلہ

18/08/2022

دیانت داری کی پاداش
بطور پراسیکیوٹر جب میں نے ایک فائل پڑھی تو اندازہ ہو کہ کچھ غلط ہوا ہے لھذ جب اگلی مرتبہ ملزم جیل سے لایا گیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ تو نے صرف اسی ہزار روپے کا پٹرول چوری کیا اور چار سال سے جیل میں بند ہے کرپشن کرنی ہی تھی تو اربوں روپے کی کرتا تو وہ رو پڑا اور کہنے لگا کہ وہ این ایل سی میں ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرتا تھا تو اس کہ افسر نے اس سے کہا کہ سرکاری گاڑی سے پٹرول نکال کر اس کی پرائیوٹ گاڑی میں ڈال دوں ۔اس نے کہا صاحب ایسا نہں ہو سکتا گاڑی کی ریڈنگ کیسے بدلوں گا وہ اس سے سارہ دن گاڑی چلوا لے مگر یہ کام نہ کرواے تو افسر نے کہا وہ ایسا کام کرے گا کہ اس کی نسلیں یاد رکھیں گی لہذا افسر نے اس کے خلاف ایک درخواس لکھی اور اعلی افسر سے دستخط کرواے اور ایف ائی اے کو بھیج دیا ایف ائی اے والے دوسرے دن آے اور ہتھکڑی پہنا کر لے گے۔ صاحب یہ کیسا نظام ہے نہ افسر اعلی نے تحقیق کی ، نہ ایف ای اے نے تحقیق کی ، نہ جج صاحب نے تحقیق کی ،نہ پراسیکوٹر صاحب تحقیق کرنے کہ لیے تیار ہٰیں۔اور مقدمہ چلاے بغیر میں چار سال سے سزا کاٹ رہا ہوں۔

یوسف زئ روحیلہ

Address

House No. 303 B, Main Double Road, G-11/3
Islamabad
4400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share