Legal Service

Legal Service poetry is the voice of heart ,,, poetry is the only thing which you can say the thinking of heart not the mind .
(384)

This page is created only for the persons who love and like poetry .. who can understand the feelings of heart and who wants to share their feelings and thoughts .

24/01/2026
عمیری میرے نال نکاح کر لے۔۔۔۔۔۔۔۔مینوں کسے دا ڈر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے ویڈیو سب نوں بھیج دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب الفاظ اس نا زیبا ویڈ...
06/01/2026

عمیری میرے نال نکاح کر لے۔۔۔۔۔۔۔۔مینوں کسے دا ڈر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے ویڈیو سب نوں بھیج دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب الفاظ اس نا زیبا ویڈیو کے ہیں جو آج کل پاکستان میں Top Trend بنی ہوئی ہے۔ میں چاہتا تھا کہ میں اس پر لکھ کر اپنی Newsfeed کو گندہ نہ کرو لیکن کیا ہم اس سب پر بس کڑھتے ہی رہیں گے؟؟بول نہیں سکتے؟؟ گندگی صاف کرنے کیلئے گند میں کودنا ہی پڑتا ہے اور اپنا لباس بھی گندہ کرنا ہی پڑتا ہے اسی سوچ کو سامنے رکھتے ہیں اس مدعے کو لکھ رہا ہوں۔
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو لے کر ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہے ایک کثیر تعداد ان بدتہذیب اور بے ضمیر لوگوں کی ہے جو صرف اپنے حوس کی تسکین کیلئے اس ویڈیو کو ہر حال میں حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے ہیں کہ جیسے تیسے بھی یہ ویڈیو ان کو مل جائے اور وہ اپنی آنکھوں کا زنا کر لیں اور ان لوگوں میں شامل ہو جائیں جنہوں نے اس ویڈیو کو دیکھنے کا معرکہ مار لیا ہے اور پھر Video Available کا اشتہار لگا دیں یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ اسی تاڑ میں رہتے ہیں کہ کب انکو کوئی ایسا مواد ملے اور وہ خود بھی اسکو دیکھ کر گناہگار ہوں اور پھر آوازیں لگا لگا کر لوگوں کو بتائیں کہ میں تو یہ گند دیکھ لیا ہے اب جو کوئی اور دیکھنا چاہتا ہے تو وہ اسی طرح کا کوئی اور گند مجھ تک پہنچائے یا اسکے بدلے میں پیسے مانگے جاتے ہیں اور یا پھر وہی حوس کی تسکین کیلئے ویڈیو کہ بدلے لڑکیوں سے دوستی کے مطالبے۔۔۔۔۔۔ یہ ہے ہماری آنے والی نسل اور پاکستان کا آنے وال کل۔۔افسوس🥲🥲🥲
اب اس ویڈیو کو لے کر ہمارے ملک کے بے حیاء So Called Famines کا ٹولا بہت متحرک نظر آتا ہے جو ہمیشہ عورت کارڈ کھیلنے اور مرد کو لتاڑنے کیلئے ہمیشہ موجود رہتے ہیں اب اس ویڈیو کی آڑ میں ایک نئی بے حیائی اور بے غیرتی (مردانہ کمزوری) جو کہ ہمارے ہی نیم حکماء نے برسوں سے پھیلا رکھی ہے پر واویلا شروع کیا ہوا ہے کہ ایک عورت کی تسکین کیلئے شادی سے پہلے اس کے ہونے والے شوہر کا Fitness Test لازمی ہو۔ اب اس سب کا مقصد نئی نسل کو ایک نئی بے حیائی کی طرف راغب کرنا ہے کہ عورت کی تسکین بس اسی میں رکھی ہوئی ہے اور جو پہلے ہی "میرا جسم میری مرضی" اور "No Means No" جیسے واحیات مقولے عوام میں پھیلا رکھے ہیں ان میں ایک نئی چیز یہ بھی ایڈ کر دی جائے تاکہ اس اسلامی ملک میں جہاں اذدواجی تعلق مخفی رکھا جاتا تھا وہ اب زبان زدِ عام ہو۔ حالانکہ ان So Called Famines کو یہ علم نہیں کہ اس ویڈیو میں ایک مرد ایک شادی شدہ عورت کو نشے میں دھت کر کے زنا بالجبر کر رہا ہے اور وہ عورت اس نشے کی حالت میں بدزبانی کر رہی ہے اور وہ وہ الفاظ ادا کر رہی جو کہ ہوش میں آنے کے بعد اسے خود ہی نازیبا اور گھٹیا لگیں گے (اگر اس میں غیرت کا کوئی قطرہ بچا ہوا تو) لیکن یہ Famines اس ویڈیو میں ادا کیے گئے الفاظ کو مدعا بنا کر اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
اور اب جو سوشل میڈیا پر بے غیرت مرد عورتوں کے نام سے Id's بنا کر فحش پوسٹ کرتے ہیں اور ان پوسٹ میں (Size and Timings) پر باتیں لکھتے ہیں یا پوچھتے،بتاتے ہیں یہ اصل میں "ذہنی مریض" لوگ ہیں جو کہ P**n دیکھ دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہیں اور ایسی باتیں لکھ کر خود کو سکون پہنچاتے رہتے ہیں کہ یہ مسائل بس ان کے ساتھ ہی ہیں یا باقی لوگ بھی ایسے ہی ہیں تاکہ ان جیسی جسمانی صحت رکھنے والے لوگوں کو دیکھ کر انکی دل کی تسلی پہنچ سکے وہ ایک مثل مشہور ہے کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے لیکن اس معاملے میں الٹا ہو گیا کہ یہاں مرد ہی مرد کا دشمن بنا ہوا۔۔۔۔
ایسی ویڈیوز دیکھنا ہی گناہِ کبیرہ ہے لیکن لوگ ان پر دھندہ کر رہے کوئی بیچ رہا ہے تو کوئی Exchange Policy کھیل رہا ہے یہ نہیں سمجھتے کہ جس بے حیائی کا خاتمہ کرنا چاہیئے یہ اسی بے حیائی کو ہی فروغ دے رہےہیں انتہائی بے شرم ہوچکی ہے یہ عوام۔ بس اللہ ہمارے حال پر رحم کرے

19/08/2025

مرزا غالب

10/05/2025

پاکستان کے JF-17 کا بھارت کی فضاؤں میں رقص
سلام پاکستان ایئر فورس 🫡

16/04/2025

*فوجداری_مقدمہ_کے_مراحل*
(ایف آئی آر سے فیصلہ مقدمہ تک)

https://whatsapp.com/channel/0029Vb5jwG8J3jv4VMKSz92P

ایف آئی آر 𝐅𝐈𝐑:
جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے تو سب سے پہلے پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے اگر وہ جرم قابلِ دست اندازی ہو تو پولیس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟓𝟒 کے تحت 𝐅𝐈𝐑 درج کرتی ہے(قابل دست اندازی جرم وہ ہوتے ہیں ہیں جن میں پولیس کسی بھی ملزم کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر سکتی ہے) ایف آئی آر کا مقصد فوجداری قانون کو حرکت میں لانا ہوتا ہے اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تو پولیس کے اس عمل کے خلاف آپ 𝐃𝐒𝐏 یا 𝐒𝐏 کو درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر پھر بھی ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی تو جسٹس آف پیس (𝐣𝐮𝐬𝐭𝐢𝐜𝐞 𝐨𝐟 𝐩𝐞𝐚𝐜𝐞) کے پاس پٹیشن (𝐩𝐞𝐭𝐢𝐭𝐢𝐨𝐧) دائر کی جاتی ہے۔ یہ پٹیشن ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟐𝟐𝐀 اور 𝟐𝟐𝐁 کے تحت دائر کی جاتی ہے۔ جسٹس آف پیس کے اختیارات سیشن ججز کے پاس ہی ہوتے ہیں۔ مطلب کہ یہ درخواست سیشن جج (𝐬𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐣𝐮𝐝𝐠𝐞) کے پاس درج کی جائے گی اور وہ پولیس کو 𝐝𝐢𝐫𝐞𝐜𝐭 کرے گا کہ اس وقوعہ کی ایف آئی آر درج کرے۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس استغاثہ (𝐩𝐫𝐢𝐯𝐚𝐭𝐞 𝐜𝐨𝐦𝐩𝐥𝐚𝐢𝐧𝐭) کا راستہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ کسی بھی جرم (چاہے وہ قابل دست اندازی پولیس ہو یا نہ ہو) کے متعلق علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دی جا سکتی ہے۔

ضمانت قبل از گرفتاری:
ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد اگر شخص سمجھتا ہے کہ اسے جان بوجھ کر ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور وہ بے گناہ ہے تو وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟒𝟗𝟖 کے تحت سیشن کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے درخواست دائر کر سکتا اور گرفتار ہونے سے بچ سکتا ہے۔

تفتیش:
ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد پولیس دفعہ 𝟏𝟓𝟔 کے تحت اس کے متعلق تفتیش شروع کرتی ہے۔ جائے وقوعہ پر جا کر کر ثبوت اکٹھے کرتی ہے۔ دفعہ 𝟏𝟔𝟏 کے تحت گواہوں کے بیان ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔

ملزمان کی گرفتاری:
پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ دوران تفتیش قابلِ ضمانت یا ناقابلِ ضمانت کیس میں ملزمان کو گرفتار کرے۔ اس کے علاوہ دفعہ 𝟏𝟔𝟗 کے تحت پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ملزم کو بے گناہ پا کر چھوڑ بھی سکتی ہے۔
مجسٹریٹ کے سامنے پیشی:
تفتیش کے دوران پولیس 𝟐𝟒 گھنٹوں کے اندر اندر گرفتار شدہ ملزمان کو علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کی پابند ہے۔
جب پولیس گرفتار ملزمان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتی ہے تو اس وقت تک کی گئی تفتیش بھی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنی ہوتی ہے اور اگر 𝟐𝟒 گھنٹوں میں تفتیش مکمل نہ کی گئی ہو تو ملزم کے جسمانی یا جوڈیشل ریمانڈ کی درخواست دی جاتی ہے اور دوسری جانب مجسٹریٹ کے سامنے پیشی پر ملزم ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے درخواست دیتا ہے۔

ریمانڈ:
ریمانڈ دو طرح کا ہوتا ہے۔ جب پولیس نے ملزم سے کوئی برآمدگی کرنی ہو تو وہ دفعہ 𝟏𝟔𝟕 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرتی ہے کہ ملزم کو واپس پولیس کے حوالے کیا جائے۔ اگر پولیس کو ملزم کی حراست کی ضرورت نہ ہو تو وہ دفعہ دفعہ 𝟑𝟒𝟒 کے تحت ریمانڈ جوڈیشل کی درخواست کرتی ہے۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟔𝟕 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی زیادہ سے زیادہ میعاد 𝟏𝟓 دن ہے لیکن مجسٹریٹ کبھی بھی 𝟏𝟓 دن کا ریمانڈ ایک ساتھ نہیں دیتا بلکہ دو دو یا چار چار دن کا ریمانڈ جسمانی دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اب اگر دو دن کا ریمانڈ دیا گیا ہو تو پولیس اس شخص کو دو دن کے بعد دوبارہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گی۔ اس دوران جو بھی تفتیش کی ہوتی ہے وہ مجسٹریٹ کے سامنے رکھے گی اور دوبارہ سے ریمانڈ کے لیے درخواست دے گی۔ اس طرح وقفے وقفے سے مجسٹریٹ ٹوٹل 𝟏𝟓 دن کا جسمانی ریمانڈ پر ملزم کو پولیس کے حوالے کر سکتا ہے لیکن اگر ریمانڈ کی درخواست دیتے وقت مجسٹریٹ کو لگے کہ کہ پولیس نے کوئی خاص تفتیش نہیں کی تو مجسٹریٹ جسمانی ریمانڈ نہیں دیتا بلکہ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیتا ہے۔

ضمانت بعد از گرفتاری:
اب ہم دیکھتے ہیں کہ کہ ایف آئی آر درج ہوگئی ملزم گرفتار ہوا اور ہم نے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔ ملزم اب بعد از گرفتاری ضمانت کیلئے درخواست دائر کرسکتا ہے اور اگر عائد کردہ جرم قابل ضمانت ہو تو ضمانت ملزم کا حق ہے۔ ناقابلِ ضمانت جرم میں اگر ملزم بے گناہ ہو اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو اور مزید تفتیش کی ضرورت ہو تو بھی ملزم کو ضمانت مل سکتی ہے۔

چالان (𝐏𝐨𝐥𝐢𝐜𝐞 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭):
اب اگلا مرحلہ چالان جمع کروانے کا ہوتا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟕𝟑 ایف آئی آر درج ہونے کے بعد 𝟏𝟒 دن کے اندر اندر مجسٹریٹ کے پاس چالان جمع کروانا ہوتا ہے اگر 𝟏𝟒 دنوں میں پولیس نے چالان جمع نہیں کرایا تو تین دن کے اندر عبوری چالان جمع کرائے گی۔ مطلب کہ پولیس کے پاس چالان جمع کرانے کے لیے 𝟏𝟒+𝟑 دن کا وقت ہوتا ہے اس دورانیہ میں پولیس نے ہر حال میں مکمل یا نامکمل چالان جمع کرانا ہوتا ہے ( نامکمل چالان اس صورت میں جمع ہوتا ہے جب 𝐟𝐨𝐫𝐞𝐧𝐬𝐢𝐜 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭 تیار نہیں ہوتی اور اس کے آنے میں ابھی وقت ہوتا ہے) تاکہ جتنے بھی ثبوت اکٹھے ہوئے ہیں جتنی بھی تفتیش ہوئی ہے اس کی بنیاد پر عدالت ٹرائل چلا سکے لیکن عدالت کا اختیار ہے کہ وہ مکمل چالان کے بعد بھی ٹرائل شروع کر سکتی ہے۔

چالان کے کالم:
چالان کے 𝟕 کالمز ہوتے ہیں۔ پولیس نے ابھی تک جتنی بھی کارروائی کی ہوتی ہے اس چالان فارم پر لکھتی ہے۔
پہلے کالم میں نام و پتہ مستغیث درج ہوتا ہے
دوسرا کالم اشتہاری ملزمان کا ہوتا ہے
تیسرے کالم میں زیر حراست ملزمان کے کوائف درج ہوتے ہیں چوتھا کالم ان ملزمان کے متعلق ہوتا ہے جو ضمانت پر رہا ہوتے ہیں
پانچویں کالم میں مال مقدمہ کی تفصیل درج ہوتی ہے مثلاً ملزمان سے کوئی ہتھیار یا چرس برآمد ہوئی ہو تو اس کا ذکر ہوتا ہے
چھٹے کالم میں استغاثہ کے گواہان کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ ساتویں کالم میں پوری تفتیش کا خلاصہ لکھا ہوتا ہے۔
چالان کے ساتھ مختلف ڈاکومنٹ بھی لف ہوتے ہیں جن میں ایف آئی آر کی کاپی، میڈیکل رپورٹ، فرد مقبوضگی اور نقشہ موقع شامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مستغیث اور گواہان کے بیانات جو کہ پولیس نے 𝟏𝟔𝟏 کے تحت ریکارڈ کیے ہوں شامل ہوتے ہیں۔

مجسٹریٹ کے پاس چالان جمع ہونے پر اگر مجسٹریٹ کو لگے کہ وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟗𝟎 کے مطابق اس کیس کے ٹرائل کا اختیار رکھتا ہے تو ٹرائل شروع کرتا ہے اور اگر اسے لگے اس کیس میں ٹرائل شروع کرنے کا اختیار سیشن کورٹ کے پاس ہے تو وہ اس کیس کو سیشن جج کے پاس بھیج دیتا ہے۔ ضابطہ فوجداری میں دونوں عدالتوں کے ٹرائل کی الگ الگ وضاحت کی گئی ہے۔ لیکن یہاں ہم ٹرائل کو عام نقظہ نظر سے دیکھیں گے۔

ملزم کو دستاویزات کی فراہمی:
اگر تو ملزمان ضمانت پر رہا ہیں تو پولیس کے ذریعے انہیں بلایا جائے گا اگر تو وہ جیل میں ہیں تو بذریعہ جیل سپرانٹنڈنٹ انہیں بلایا جائے گا۔ جب ملزمان حاضر ہو جاتے ہیں تو چالان، گواہوں کے بیان اور جو بھی متعلقہ ڈاکومنٹ چالان کے ساتھ لف ہوتا ہے ان سب کی کاپیاں بغیر معاوضہ کے انھیں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ ڈاکومنٹس فرد جرم عائد ہونے سے کم از کم 𝟕 دن پہلے دینا لازم ہے تاکہ ملزم کو پتہ چل سکے کہ اس کے خلاف کیا کیس ہے اور کیا کیا ثبوت اکٹھے ہو چکے ہیں۔

ٹرائل کا آغاز:
اب ٹرائل کا مرحلہ آتا ہے۔ ٹرائل کا آغاز ملزم پر فرد جرم عائد کرنے سے ہوتا ہے۔ عدالت ملزم کو بتاتی ہے تمہارے اوپر یہ الزام ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ اقبال جرم کرتا ہے یا جوابدہی کرے گا۔ ٹرائل کے دوران اگر تو ملزم اقبال جرم کر لے تو عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس کو سزا سنا دے۔ لیکن اگر عدالت کو لگے کہ وہ جھوٹا اعترافی بیان دے رہا ہے تو عدالت اس کے بیان کو رد بھی کر سکتی ہے۔
اگر ملزم اعترافی بیان نہیں دیتا تو پھر باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہوتا ہے اس کے بعد پرازیکیوشن(𝐩𝐫𝐨𝐬𝐞𝐜𝐮𝐭𝐢𝐨𝐧) کے گواہوں کے بیان ریکارڈ ہوتے ہیں اور ملزم کا وکیل ان پر جرح کرتا ہے۔ پرازیکیوشن کے پاس دو طرح کے گواہ ہوتے ہیں ایک تو پرائیویٹ گواہ ہوتے ہیں جو کہ مستغیث کے گواہ ہوتے ہیں مثلاً کہ چشم دید گواہ وغیرہ۔ دوسرے پولیس کے گواہ ہوتے ہیں جیسا کہ ایف آئی آر درج کرنے والا پولیس افسر۔
جب پرازیکیوشن کے گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو جاتے ہیں اس کے بعد ملزم کا 𝟑𝟒𝟐 کا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ جو کہ ہر حال میں لازم ہے۔ ملزم سے مختلف سوال پوچھے جاتے ہیں مثلاً اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے خلاف یہ کیس کیوں بنایا گیا ہے یہ گواہ آپ کے خلاف گواہی کیوں دے رہے ہیں۔ ملزم ان سوالوں کا عموماً یہ ہی جواب دیتا ہے کہ میرے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا اور میں بے گناہ ہوں۔ اس کے علاوہ ملزم سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ اپنی صفائی میں کوئی ڈاکومنٹ یا کوئی گواہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ان سوالوں میں ایک سوال یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ کیا وہ اپنے حق میں گواہی دینا چاہتا ہے اگر وہ کہے کہ میں اپنا گواہ بنتا ہوں تو 𝟑𝟒𝟎 کے تحت وہ حلف اٹھا کر اپنے ہی گواہ کے طور پر پیش ہوتا ہے اور بیان دیتا ہے اور پرازیکیوشن اس پر جرح کرتی ہے۔ لیکن عام طور پر ملزمان 𝟑𝟒𝟎 کے تحت اپنا ہی گواہ نہیں بنتے اور نہ ہی اپنے حق میں کوئی گواہ پیش کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ اپنا ہی گواہ خود بنے یا اپنے حق میں کوئی اور گواہ پیش کرے تو مخالف وکیل کو اس پر اور اس کے گواہ پر جرح کا حق ہوگا اور اس جرح میں ملزم پھنس سکتا ہے۔

بحث:
اب اگلا مرحلہ آرگومنٹ کا آتا ہے دونوں اطراف سے دونوں پارٹیز کے وکیل بحث کرتے ہیں۔

فیصلہ:
عدالت کیس کے متعلق فیصلہ سناتی ہے۔ فیصلہ کے لیے ضروری ہے کہ جج پہلے اسے لکھے اور پھر اس فیصلے کو عدالت میں سنائے۔ فیصلہ میں مجرم کو بری کر دیا جاتا ہے یا سزا سنائی جاتی ہے۔ اگر تو فیصلہ اس کی سزا کا ہے تو ملزم کو اپیل دائر کرنے کے لیے اس فیصلہ کی ایک نقل بلا اجرت دی جاتی ہے۔

29/10/2023

روٹھے ہو تو مجھ پر، کوئی تہمت نہ لگانا
کس کس کو بتاؤں گا_میں ایسا تو نہیں ہوں۔

03/08/2023

قاضی فائز عیسی صاحب کا ایک بہترین فیصلہ۔
بھائی نے بہن کے خلاف دعوی کیا ہے وہ اسکی بہن نہیں ہے بلکہ اسکے مرحوم باپ نے اسے adopt کیا تھا۔لہزا adopted child ہونے کی وجہ سے وہ اس کے باپ کی جائیداد کی وارث نہیں ہے۔۔
ساتھ ہی بھائی نے بہن جسکا نام لیلی تھا اسکے DNA کروانے کے لئے عدالت میں درخواست دائر کردی جو کہ منظور ہو گی کہ اسکا ڈی این کو اسکے بھائی اور ماں سے compare کیا جائے۔۔ثرائل کورٹ نے درخواست منظور کرلی جو فیصلہ ہائی کورٹ تک برقرار رہا۔۔جب ان فیصلوں کے خلاف بہن سپریم کورٹ آئی تو قاضی فاز عیسی نے مندرجہ زیل گراونڈز کو ڈسکس کرتے ہوئے بھائی کا دعوی ہی بھاری جرمانے کے ساتھ خارج کر دیا۔۔پوائنٹس درج زیل تھے۔
1 کسی کو اسکی مرضی کے بغیر ڈی این اے کروانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جو کہ right of privacy آرٹیکل 14 آئین پاکستان کے خلاف ہے۔۔
2۔ نادرہ کے تمام ڈاکومنٹس یہ بتا رہے ہیں کہ لیلی عبدلقیوم یعنی مرحوم کی بیٹی ہے ۔۔اور آرٹیکل 128 قانون شہادت آرڈر کی اسے protection حاصل ہے۔
کوئی یہ تو دعوی کر سکتا ہے کہ میرا ڈی این اے میرے باپ سے میچ کروایا جائے کہ میں اسکی اولاد ہوں ۔۔لیکن کوی یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں فلاں کی اولاد نہیں ہے اسکا ڈی این اے کروایا جائے۔۔لہزا بچوں کو سوشل stigma سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ایسے دعوی جات کو بھاری جرمانے سے خارج کیا جائے۔۔reference
PLD 2018 SC 149

Address

Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 20:00 - 05:00
Tuesday 20:00 - 05:00
Wednesday 20:00 - 05:00
Thursday 20:00 - 05:00
Friday 20:00 - 05:00
Saturday 20:00 - 05:00
Sunday 20:00 - 05:00

Telephone

03315255357

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Service posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Legal Service:

Share

Category