25/06/2025
شہادت قلمبند کرتے وقت جج کی ذمہ داریاں:
لاہور ہائیکورٹ نے ایک نہایت اہم اور رہنما فیصلہ جاری کرتے ہوئے پنجاب بھر کے تمام ججز کو یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ جب بھی کسی گواہ کی شہادت انگریزی زبان میں قلمبند کی جائے، تو اسی وقت اُس شہادت کا اُردو ترجمہ بھی گواہ، جج اور ملزم کی موجودگی میں تحریری طور پر تیار کیا جائے۔ اگر انگلش میں ریکارڈ کی گئی شہادت میں کوئی ابہام یا تضاد سامنے آئے، تو اُردو ترجمہ کی روشنی میں فوری طور پر اُس ابہام کو دور کیا جانا چاہیئے۔
عدالت نے واضح کیا کہ قانون اجازت نہیں دیتا کہ عدالت شہادت کے پورے مواد میں سے صرف ایک جملہ منتخب کرے اور اسی کی بنیاد پر اپیل کنندہ کے حق میں فیصلہ سنا دے، جبکہ باقی شہادت کو نظر انداز کر دے۔
اس مقدمہ میں گواہ کی جرح کے دوران بیان کردہ ایک لائن میں لفظ "us" کا ذکر ایک ٹائپنگ کی غلطی قرار دیا گیا، جو کہ عدالت کے جج کی لاپرواہی یا غیر سنجیدہ رویے کا نتیجہ تھا۔ گواہ نے اپنے بیانِ شہادت میں واضح طور پر کہا تھا کہ ملزم نے سیدھی فائرنگ کی، جس سے مقتول کے بائیں جانب پیٹ اور کندھے پر گولیاں لگیں، اور وہ زمین پر گر گیا۔ گواہ اور دیگر چشم دید افراد نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
جرح کے دوران جب گواہ سے وقوعہ کی جگہ اور وہاں موجود لوگوں کے بارے میں سوالات کیے گئے تو اُس نے جواب دیا کہ “none from us is eye witness in this case”۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ سوال محض اردگرد کے رہائشیوں کی موجودگی سے متعلق تھا، اور شکایت کنندہ اور دیگر چشم دید گواہوں کی موجودگی کو چیلنج نہیں کیا گیا۔ لفظ "us" کا استعمال ایک غلطی تھی، جس کی درستگی اُس وقت ہونی چاہیئے تھی۔
عدالت نے مزید کہا کہ چونکہ پنجاب کے اکثر گواہ اردو میں شہادت دیتے ہیں اور ملزمان بھی اردو زبان سمجھ سکتے ہیں، لہٰذا جب شہادت انگریزی میں لکھی جائے تو اس کا اردو ترجمہ ساتھ ساتھ تحریر کیا جانا لازمی ہے۔ اس عمل سے نہ صرف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 360 کی مکمل پاسداری ممکن ہو گی بلکہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ ٹرائل کا حق بھی محفوظ رہے گا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ:
"پنجاب کی تمام سیشن عدالتوں اور خصوصی عدالتوں کے معزز ججز اس بات کو یقینی بنائیں کہ جب بھی کسی گواہ کی شہادت انگریزی میں ریکارڈ کی جائے، تو اُس کا اردو ترجمہ بھی اُسی نشست میں، گواہ، ملزم اور جج کی موجودگی میں، تحریری شکل میں ساتھ ساتھ مکمل کیا جائے۔ نیز دفعہ 360 ضابطہ فوجداری کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ شہادت کے کسی بھی حصے میں اگر ابہام پیدا ہو تو وہ فوری طور پر اردو ترجمہ کی مدد سے دُور کیا جا سکے۔"