JUI Digital

JUI Digital Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from JUI Digital, Islamabad.

JUI Digital is the official digital media platform of Jamiat Ulema-e-Islam Pakistan, dedicated to presenting the party’s vision, activities, policies, and organizational updates through authentic and responsible digital communication.

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا جمعیۃ علماء اسلام خیبر پختونخواہ کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن سے خطاب*23 اگست ...
23/08/2026

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا جمعیۃ علماء اسلام خیبر پختونخواہ کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن سے خطاب*

23 اگست 2026

الحمدللہ، الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھدیھم اھتدی۔ أَمَّا بَعْدُ. فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلَامُ۔ صدق الله العظيم

سب سے پہلے میں آپ تمام احباب سے اور تمام شرکاء مجلس سے معذرت خواہ ہوں کہ میں بیٹھ کر آپ سے بات کر رہا ہوں، مجھے امید ہے کہ آپ عذر کو قبول فرمائیں گے۔
ہمارے پیچھے جو ساتھی بیٹھے ہیں ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ہم آپ کو دیکھ نہیں پا رہے، لیکن میرے خیال میں اگر نماز میں امام کی تلاوت سنائی نہ دے تو کوئی فرق نہیں پڑتا، تو یہاں تو پھر بھی آپ کو آواز پہنچ رہی ہے۔
میرے محترم رفقاء نے مجھ سے پہلے جو ارشاد فرمایا میں سوچ رہا ہوں کہ میں اس پر کیا اضافہ کر سکوں گا، لیکن ہمارے اکابر اور اسلاف نے جماعتی اور سیاسی جدوجہد کے لئے جو ہمیں تعلیمات دی ہیں اور وہ تعلیمات قرآن و سنت سے اخذ کیے گئے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ آج بھی ہمیں اسے سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس پر عمل کرنے کے ہم محتاج ہیں۔ ایک اچھی ترتیب قائم کی ہے کہ ہر فرد کے لئے اولین چیز اس کا ایمان، اس کے دل میں امانت و دیانت و عبدیت، اللہ کے ذات کی اور اس کے بھیجے ہوئے دین کی، تو شخص سے ابتدا ہوتی ہے اور شخص کی اصلاح یہ بنیادی چیز ہے۔ اگر ہمارے اندر امانت نہیں ہے، دیانت نہیں ہے اور ہمارا دل دین و ایمان سے خالی ہے تو پھر ہم عادل نہیں ہو سکتے، ہم اپنی شخصی زندگی میں بھی ظالم ہیں، ایسے اشخاص پر مشتمل ایک گروہ اگر غلبہ حاصل کر لے تو پھر قوم پر بھی ایک ظلم ہی مسلط ہوگا، جبکہ دین اسلام کا جو مقصود ہے وہ معاشرے کو عدل فراہم کرنا ہے، بعض علماء کا یہ قول ہے کہ عدل کے ساتھ کافر حکومت بھی برقرار رہ سکتی ہے اور ظلم کے ساتھ مسلمان کی حکمرانی بھی برقرار نہیں رہ سکتی ہے۔ دوسری چیز جب ہم تعبیر بن جائیں؛
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ کہ
تو پھر اگلا مرحلہ آتا ہے؛
وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا،
آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، دین کا مکمل ہونا بے بہ اعتبار تعلیمات کے اور احکامات کے ہے، لیکن پھر فرمایا وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي، میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کر دی، اب اس نعمت کا مصداق کیا ہے ہمارے اکابر نے جو تعبیر کی ہے وہ یہ کہ اتمام نعمت اس کامل اور مکمل دین کی حکومت و اقتدار کا نام ہے۔ تو ملی اور مملکتی زندگی میں اللہ کے نظام عدل کا قیام یہ وہ بڑی نعمت ہے اور علماء یہ بھی فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص جب ان کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس لائی گئی اور آپ کے چہرے پہ ڈالی گئی اور آپ کی بینائی واپس آگئی تو فوراً پوچھا کہ یوسف کو کہاں چھوڑ آئے؟ تو جواب دیا ملک مصر، وہ تو مصر کا بادشاہ بن گیا ہے۔ پھر پوچھا کس دین پر آپ چھوڑ کے آئے ہیں ان کو؟ تو جواب دیا اسلام کے نظام کے ساتھ اس کو چھوڑ کے آئے، تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے جواب دیا الان تمت نعمت اب نعمت تمام ہوگئی، یعنی کسی دین کا مملکتی نظام بن جانا، اسی حوالے سے تاریخ اسلام میں سیاست و حکومت پر پانچ سو سے زیادہ تصنیفات ہیں، مملکتی نظام کے حوالے سے اتنی بڑی رہنمائی اور کسی دوسرے مذہب میں نہیں ہے۔ لیکن ہم نے اس پہلو کو اہمیت نہیں دی، علمی اعتبار سے ہم نے اس کو فروغ نہیں دیا اور کچھ عرصہ پہلے جب کراچی میں وفاق المدارس العربیہ کا اجلاس تھا تو میں نے وہاں علماء کی موجودگی میں تجویز دی کہ سیاست شرعیہ پر باقاعدہ کورس ہونے چاہیے، ہم معروضی سیاست میں اس طرح پھنس جاتے ہیں کہ بس ہمیں وہی دین نظر آتا ہے، وہی حکمران نظر آتا ہے، اس کی موافقت نظر آتی ہے، اس کی مخالفت نظر آتی ہے اور اس کے علاوہ ہمیں اصول سے اور علمی اعتبار سے اس نظام سے کوئی وابستگی نہیں، میں نے جتنے آئمہ اور مفکرین کی تعریفات دیکھی ہیں اس کا خلاصہ ایک جملہ ہے القيامُ على الشيءِ بما يُصلِحُهُ، کسی چیز کا اس طرح وجود پذیر کرنا کہ وہ اصلاح کا ذریعہ بنے اور میں آپ علماء کرام کے سامنے بھی جو میرے ذہن میں تعبیر آئی ہے وہ بھی آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں تاکہ اگر اس میں کوئی اصلاح کی ضرورت ہو تو آپ کر سکے کہ مملکتی زندگی کا ایسا انتظام و انصرام کہ جو دنیوی زندگی میں امن اور معاشی خوشحالی کا سبب بنے اور اُخروی زندگی میں نجات کا سبب بنے، کیونکہ دین اسلام صرف مبداء پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ معاد کو ضروری سمجھتا ہے کہ نتائج وہاں ہوں گے۔
تو اس اعتبار سے جمعیۃ علماء اسلام ایک جماعت ہے اور چونکہ انسان مدنی طبع ہے مل جل کر رہنے کا اس کا مزاج ہے اور طبیعت ہے تو باہم شریک زندگی کے لیے قوانین کا محتاج ہے، نظام کا محتاج ہے، حکومت کا محتاج ہے، ایک دوسرے کے ساتھ حقوق وابستہ ہیں، ان انسانی حقوق کے تحفظ کا سوال ہے، اس اعتبار سے جماعتیں بنتی ہیں، نظریات وجود میں آتے ہیں، منشور سامنے آتے ہیں اور پھر اس کے بعد اس کو قوم کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، یہ دعوت کا مرحلہ ہے، دعوت کے مرحلے میں جو تعلیمات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں اور اللہ رب العالمین نے جو تعلیمات دی ہیں؛
اُدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ،
حکمت و دانائی کے ساتھ دعوت دیا کرو، شائستہ انداز گفتگو کے ساتھ، گالم گلوج، تلخ لب و لہجہ یہ داعی کا انداز نہیں ہے، یہ منکر کا انداز ہے اور اگر کسی معاملے میں بحث چھڑ جائے جھگڑا پڑ جائے تو اس جھگڑے کو بھی شائستہ انداز کے ساتھ انجام تک پہنچاؤ، اس میں وہ اخلاقی پہلو سامنے آتا ہے کہ جس اخلاقی کردار کے ساتھ آپ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا سکیں گے اور اگر عوام اس کو قبول کر لیتے ہیں اور وہ آپ کی جماعت کا حصہ بن جاتے ہیں تو پھر ہمارے ملکی نظام میں اسی کو حکومت کرنے کا حق ہے۔
جمہوریت یہ ایسی اصطلاح نہیں ہے جو علماء کے نظر میں کوئی انجانی سی اصطلاح ہے، ہم اپنی کتابوں میں جمہور علماء کا یہ قول ہے، جمہور علماء کی یہ رائے ہے، اس قسم کی باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن تعجب اس بات پر ہے کہ اسلام اور جمہوریت کو برابر قرار دے دیا گیا ہے یا اسلام یا جمہوریت کے، سب سے بڑی کم فہمی یہ ہے کہ ہم مقصد اور ذریعے میں فرق نہیں کر سکتے، مقصد اسلام ہے، ذرائع مختلف ہو سکتے ہیں۔ ایک زمانے میں بھی ذرائع مختلف ہو سکتے ہیں اور زمانوں کے تواتر کے ساتھ ایک زمانے میں ایک اور ذریعہ دوسرے زمانے میں اور ذریعہ، کبھی تلوار اور تیر کے ساتھ ہم جنگ لڑتے تھے، آج ہم ٹینک اور توپ کے ساتھ جنگ لڑتے ہیں، جہـاد تو وہی ہے لیکن ذرائع تبدیل ہو جاتے ہیں، اب اس میں ایک مغرب کا تصور ہے اور ایک جو پاکستان کے آئین نے اس کا تعین کیا ہے، مغرب میں تو پبلک جیسے چاہے معاشرہ جیسے مطالبہ کرے، معاشرہ کی جو خواہش ہو اس کے مطابق قانون سازی کی جائے، تو یہ خواہشات کے اتباع ہے۔ لیکن ہمارا آئین کہتا ہے کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، یعنی پارلیمنٹ بھی نہیں بنا سکے گی اور پابند ہوگی پارلیمنٹ کہ وہ ہر قانون قرآن و سنت کے مطابق بنائے، یہ سارے اصول طے ہیں، جمہوریت کو پابند کیا گیا ہے کہ یہاں اگر اکثریت بھی قرآن و سنت کے خلاف رائے دے گی تو قبول نہیں کی جائے گی، وہ قانون سازی نہیں کر سکے گی، ابتدا میں قوائد و ضوابط یہ تھے کہ اگر اسمبلی کے چالیس فیصد اراکین کہہ دیں کہ یہ مسئلہ اسلامی نظریات کونسل میں جائے گا، تو پھر لازم تھا کہ وہ اسلامی نظریات کونسل میں جائے گا، لیکن چھبیسویں ترمیم میں ہم نے یہ اصول بنوا لیا ان سے کہ چالیس فیصد نہیں اگر بائیس فیصد اراکین کہہ دیں کہ وہاں جائے گا تو پھر اس قانون کو وہاں اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیجا جائے گا۔
اب عقیدے کی بنیاد پر تو معاملہ طے ہے، اب آگے ہے عمل درآمد، تو عمل درآمد نہیں ہو رہا، اب ایک انسان مسلمان ہے، کلمہ پڑ چکا ہے، نماز اس پر فرض ہے پڑتا نہیں، روزہ اس پر فرض ہے رکھتا نہیں، حج فرض ہو گیا جاتا نہیں، تو مسلمان تو اس کو کہیں گے کافـر تو نہیں کہیں گے، تو اگر ہمارے اکابر کی جدوجہد اور رہنمائی سے آئین طے ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ پھر ملک مسلمان ہے، اب حکمران اگر عمل نہیں کرتے تو یہ ان کے کوتاہی ہے اور ہم ان کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ پھر اس نظام کے تحفظ کے لئے تیسرا مرحلہ آتا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں جتنا تمہارے بس میں ہے اپنی قوت تیار کرو، جنگی ساز و سامان تیار کرو، کیوں؟ اسلامی سلطنت اور اسلامی حکومت کے حدود کا تحفظ بھی تو کرنا ہے، دشمن حملہ آور ہو جائے سارا کچھ آپ کا بگاڑ دے تو اس کے لئے ایک دفاعی قوت کی بھی ضرورت ہے، اب ایک دفاعی قوت وہ ہے کہ جو ہمارے عوام نے کرنا ہے، تو آج کے دور میں ایک طالب علم کی حیثیت سے میں سوچتا ہوں کہ قوت میں عموم ہے اور جس لفظ کے معنی میں عموم ہو اس کو عوام کی طرف کر دو، لہذا جو قوت مہیا ہو سیاسی قوت ہے، مدرسے کی قوت ہے، علم کی قوت ہے، تصریف کی قوت ہے، تبلیغ کی قوت ہے، دعوت کی قوت ہے، جو قوت عوام کے اختیار میں ہے وہ حاصل کرے، کیونکہ آج تو ہر ایک فوجی نہیں ہے، آج تو عوام عوام ہے، فوج ایک ادارہ ہے، وَمِن رِبَاطِ الْخَيْلِ، آپ علماء کرام خود کہتے ہیں کہ جہاں عطف آجائے تو وہ دلالت کرتا ہے مغائرت پر، تو یہاں عموم خصوص کی مغائرت ہے، تو جنگی ساز و سامان میں آپ بنائے ایٹم بم اور پھر یہ بھی بتا دیا کہ ایک ہے قوت کا حصول اور ایک ہے قوت کا استعمال، سو یہاں اللہ رب العزت نے قوت کے حصول پر ترغیب دی ہے تاکہ آپ کی دھاک دشمن پر بیٹھی رہے؛ تُرہِبُونَ بِهِ عَدُوَ اللَّهِ وَعَدُوَكُمْ، یہ نہیں فرمایا کہ تُقاتِلُونَ بِهِ عَدُوَ اللَّهِ وَعَدُوَكُمْ، استعمال میں احتیاط ہے۔
تو اس کا معنی یہ ہے کہ شخصی زندگی میں ایمان و دیانت، مملکتی زندگی میں ایک سیاسی نظام، معاشی نظام، اقتصادی نظام، بین الاقوامی تعلقات، یہ سارے اس سیاست میں آتی ہے، اور پھر اس کے حفاظت کیلئے ایک دفاعی قوت، لہذا ہم کوئی دفاعی قوت کی منکر نہیں ہیں، دفاعی قوت تو ایک ضرورت ہے، ملک کی ضرورت ہے، ریاست کی ضرورت ہے، لیکن اگر میں ایک سیاسی کارکن ہوں اور میں فوج کی ادارے بھی مداخلت نہیں کر سکتا کیونکہ وہ میرا دائرہ اختیار بھی نہیں، دائر کار بھی نہیں ہے، تو پھر میرا یہ بھی نظریہ ہے کہ فوج کو بھی سیاست میں مداخلت کرنے کا حق حاصل نہیں، ازروئے شریعت میں سمجھتا ہوں۔ تو تیسری چیز ہے دفاعی قوت کا حصول، مضبوط دفاعی قوت، ہم پاکستان کے مضبوط دفاعی قوت کے قائل ہیں، لیکن ہم سیاست میں ان کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں، اس سے ہمارا اتفاق نہیں ہے۔
ہمارے ملک میں جو قانون سازیاں ہوتی ہیں، ابھی تازہ قانون سازی ہوئی ہے جس میں اس تیزی کے ساتھ قانون سازی کی گئی ہے کہ بعد میں جب ہم نے اس کو مطالعہ کیا نہ تو وہاں بحث ہوئی، میرے خیال میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی اس کو باریکی سے نہیں دیکھا، لیکن جو اس کی شکل سامنے آ رہی ہے اس سے اندازہ لگ رہا ہے کہ یہ قانون سازی آئین کی بھی خلاف ہے، آئین سے متصادم ہے، یہ بھی کہا گیا ہے اس میں کہ یہ قانون کہ جس میں فوج کے اندر کے نئے انتظام اور ان کے اختیارات کا ذکر کیا گیا ہے اس میں وزیراعظم کے انتظامی اختیارات جو ان اداروں میں ہونے چاہیے چاہے بری فوج کے اندر ہو، چاہے فضائی کے اندر ہو، چاہے بحری کے اندر وہ بھی وہاں ایک شخص کے اندر مرتکز کر دی گئے اور پھر یہ قانون تمام قوانین پر بالا تر ہوگا، یعنی اگر کسی قانون کو اس قانون سے تصادم ہوگا وہ غیر مؤثر ہو جائے گا، اب پہلے غیر مؤثر تو بناو نا، غیر مؤثر بھی نہیں بنایا وہ اپنی جگہ پر ایگزٹ کر رہے ہیں، وہ دفعات بھی موجود ہیں اپنی جگہ پر اور نیا قانون لا کر کہہ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی دفعہ اور شق اس قانون سے متصادم ہوگا تو غیر مؤثر ہوگا، لیکن اب تک اس کو نہ نشاندہی کی گئی ہے، نہ اس کو غیر مؤثر کیا گیا، نہ اس پر ترمیم کی گئی۔ آپ بتائیں کہ یہ ایک قانونی تضاد ہے یا نہیں، اور یہ قانون سب پر بالاتر ہوگا۔ اب پتہ نہیں یہ تو قانون دان جانے کہ کیا قانون کی دنیا میں اس طرح کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں، لیکن میں آئین کے حوالے سے جانتا ہوں کہ جس زمانے میں پارلیمنٹ میں یہ بات آئی کہ قرآن و سنت سپریم لا ہونی چاہیے اور بالاتر قانون ہونا چاہیے قرآن و سنت، تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب نسیم حسن شاہ مرحوم نے یہ فیصلہ دیا کہ نہیں آئین کے تمام دفعات برابر ہیں اور کوئی ایک دفعہ بھی دوسرے دفعہ پر بالا دست نہیں ہوسکتا، شریعت کے حوالے سے تو تمام دفعات آئین کے برابر ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ اور مقتدرہ کو میں طاقت اور اختیارات کا ارتکاز اور پھر تمام قوانین پر اس کی بالا دستی اس کے لئے قانون سازی ہو گئی، پاکستان اس لئے بنا تھا آپ اپنی ادارے کے اندر انتظامی تبدیلیاں لائیں، اس سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں، آپ آرمی چیف بھی ہو، آپ چیف آف ڈیفینس فورسز بھی ہو، آپ فیلڈ مارشل بھی ہو، اس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں، لیکن وہ اختیارات جو پارلیمنٹ کے ہونے چاہیے وہ مقتدرہ کے اندر ایک فرد کو دے دئیے گئے ہیں، اب اس کا اختیار اپنے بری افواج پر بھی، فضائیہ پر بھی اور بحریہ پر بھی تسلط کر دیا گیا ہے اور وہاں وہ تمام اختیارات رکھے گا کسی کو برخواست کرنے کا، کسی کی ملازمت میں اضافہ کرنے کا، کسی کی استعفیٰ کو منظور کرنا نہ کرنا، تمام اختیارات اس کو دے دئیے گئے ہیں، جبکہ یہ کنٹرول، یہ کمانڈ یہ فیڈرل گورنمنٹ کا ہوا کرتا تھا اور فیڈرل گورنمنٹ نے اپنے اختیار ان کے حوالے کر دیا ہے اور پھر آگے کہتے ہیں کہ اگر کسی قانون سازی کی ضرورت ہوگی تو فیصلہ فیڈرل گورنمنٹ کرے گی، یعنی اس میں پارلیمنٹ کو بھی نکال دیا گیا ہے۔
تو قانون سازی اور اس حوالے سے آئین میں ترمیم اور تبدیلی اور اس قسم کی چیزیں وہ بھی گورنمنٹ کے حوالے کر دی گئی ہیں کیونکہ گورنمنٹ کو اپنے راستے پہ لانا اور بوٹ کی نیچے دبانا ان کے لیے شاید آسان ہے، ہم چیزوں پر اختلاف کر رہے ہیں، ہم اصولی اختلاف کر رہے ہیں، ہم کسی کو گالی تو نہیں دے رہے، کسی کے ساتھ جھگڑا تو نہیں ہے ہمارا، لیکن اگر ہم پارلیمنٹ کے اندر ہیں تو ہمیں پارلیمنٹ کے اندر تو اس پر میں مزید بھی کام کرنا چاہتا ہوں اور اسی وجہ سے میں لیڈر آف اپوزیشن کے دفتر میں گیا اور میں نے ان کو سمجھایا کہ اگر ہم اس طرح بکھرے بکھرے نظر آئیں گے اور پارلیمنٹ کے اندر بھی ہماری کوئی مشترکہ حکمت عملی نہیں ہوگی تو پھر یہ سب کچھ ہوتا رہے گا، تو اس بنیاد پر ہم نے پارلیمنٹ کے اندر ایک پارلیمانی کردار کے لیے ایک جائنٹ اپوزیشن کی تجویز دی ہے، کیوں؟ ہمیشہ حکومت جب بنتی ہے تو اتحادی جماعتیں اس میں شامل ہوتی ہیں پہلے اتحاد کرتی ہیں پھر اس کے بعد وہ قائد ایوان منتخب کرتی ہیں، لیکن جو پارٹی بھی حکومت میں نہ ہو وہ اپوزیشن بنچوں میں بیٹھتی ہیں، تو اپوزیشن بنچوں میں اتحاد کا کوئی بنیاد نہیں ہوتی، بعد میں ان کو پھر لیڈر آف دی اپوزیشن کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مشترکات کی بنیاد پر اپوزیشن کو اکٹھے بٹھائے، مشاورت کرے، معاملات میں شراکت داری ہو آپس میں، تب جاکر پھر جاکر اپوزیشن مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔
تو یہاں پر اس کا فقدان تھا اور پارلیمنٹ کے اندر اس کے نقصانات کو ہم دیکھ رہے تھے، تو یہ ہم نے ان کو تجویز دی ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر تو کم از کم ان چیزوں پر نظر رکھیں، کتنی بڑی خرابی کر دی انہوں نے اور ہمیں پتہ ہی نہیں ہے کہ کیا ہو گیا، نہ کوئی بحث ہے اس کے اوپر، نہ کوئی اور ایک منٹ کے اندر اندر وہ قانون سینٹ میں چلا گیا اور میرے خیال میں آدھے گھنٹے میں سارا کچھ تمام ہوگیا اور ہم خوش ہیں کہ ہم نے واک آؤٹ کر دیا، تو ان کے لئے ضرورت تھی کہ ہم اپوزیشن کا ایک مربوط کوئی نظام اندر بنائیں تاکہ ہم کچھ معاملات پر کم از کم اسمبلی میں قانون سازیاں ہوتی ہیں پھر بھلا ہم واک آؤٹ کریں، ہم بائیکاٹ کریں، ہم جھگڑا کریں، ہم اختلاف رائے کریں، ہم ووٹ مخالفت میں ڈالیں، کچھ تو ہم حکومت کو مجبور کریں کہ ہماری بات سنی جائے۔
تو یہ جو آج کل میٹنگیں ہماری ہو رہی ہیں وہ اس حوالے سے چل رہی ہیں، تو مجھے آج کے اس اجلاس سے یہ موقع مل رہا ہے کہ کچھ چیزیں آپ کے سامنے میں نے رکھ لی ہیں، ان کو سیاسی جماعتیں بہت بری لگتی ہیں اور کہتے ہیں ہارڈ سٹیٹ ہونی چاہیے سخت حکومت، بھئی سخت حکومت بھی تم مسلمان ہو، ہمارے دین اسلام میں سیاست اور حکومت دونوں کیلئے یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ التعامل بین اللطف والعنف، سختی اور نرمی کے درمیان کے روئیوں کا نام سیاست ہے اور اس کا نام حکومت ہے، بالکل بھی اگر سخت نظام آپ چلائیں گے تو گھٹن پیدا ہوگی اور لوگ متنفر ہو جائیں گے اور اگر بالکل بھی آپ نرمی کریں گے تو نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، بدنظمی آ جاتی ہے، تو دنیا کو بتا رہے ہیں کہ آپ مورڈریٹ بنیں یعنی اعتدال پسند بنیں، تو اس اعتدال پسندی کا اعلان تو قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے کیا ہے وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطا، ہم نے تمہیں ایک میانہ رو امت بنایا ہے، تو یہاں پر بھی ایک شخص کے خیالات چلتے ہیں، شورائیت نہیں ہے۔ تو میں بڑے ادب و احترام کے ساتھ اپنے سپہ سالار سے بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ اگر سپہ سالار ہیں تو اس منصب کے حوالے سے بھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے کچھ رہنمائی لیں، غزوہ احد پر جانے کے لئے مشاورت ہوئی تھی اور نوجوان اکثریت انہوں نے کہا ہم میدان میں جنگ لڑیں گے، جب کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ رائے نہیں تھی، لیکن اکثریت کا مان لیا اور کہا چلتے ہیں، جب نقصان ہوا، ستر صحابہ کرام شہیـد ہوئے، آپ کے چچا شہیـد ہوگئے، آپ کو خود زخم آئے، آپ کو غار میں پناہ لینی پڑی، تو میں جب اپنے طور پر سوچتا ہوں کہ یہ منظر دیکھ کر بہ تقضائے بشریت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس کرب سے گزرے ہوں گے، اور امکان ہے کہ ان کو یہ بھی خیال آیا کہ میں نے ان سے مشورہ کیوں کیا، میں تو خود پیغمبر ہوں جو میں فیصلہ کروں ان کو ماننا پڑے گا، تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے وحی اتاری؛
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ،
یہاں صحابہ کرام کی سفارش ہو رہی ہے، اس سے مبارک جماعت کائنات میں اور ہو سکتی ہے کہ جس کے لئے رسول اللہ ﷺ سے اللہ سفارش کر رہے ہیں ان کی، کہ ہم نے تو آپ کو ان کے لئے نرم پیدا کیا ہے اگر آپ سخت رویوں والے ہوتے تو یہ تو آپ سے بھاگ جاتے، کون آپ کے سامنے صاف بات کرتا، یہ تو بکھر جاتے، آپ کے نور اور آپ کے برکات سے محروم رہ جاتے، آپ کے تعلیمات سے محروم رہ جاتے، اب ایسا کرو کہ ان کو معاف بھی کر دو، ان کے لئے بخشش بھی مانگو اور ان سے مشور بھی کیا کرو۔
تو ہم اس لئے مسلمان ہیں کہ ہم اللہ کے قرآن سے اور رسول اللہ ﷺ کے تعلیمات سے رہنمائی لے اور پھر عمل کریں، یہاں میں طاقتور ہوں اور بس میں طاقتور ہوں، تو پھر میں جیسے چاہو کروں، تو یہ نہیں چلے گا، تو ہمیں رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی، آج مغرب ہمیں کہتا ہے اعتدال، جبکہ اعتدال کے اولین تعلیم قرآن کریم نے دی ہے اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اسلامی امت اور مسلمانوں اور مذہبی لوگوں کو آج شـدت پسند اور انتہـا پسند کہا جا رہا ہے، تو ایسے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں، کیا مغربی دنیا میں وہ لوگ نہیں ہیں جو مسـلح جنگ لڑتے رہے ہیں، لیکن اُس کا ذکر نہیں ہوگا، اسـرائیل کیا مظالم کر رہا ہے، فلسـطینیوں کا کیا قتـل عام ہوا، اس کا ذکر نہیں ہوگا، فلسـطینیوں پر الزام لگے گا تمہیں غیر مسـلح کرنا ہے، پہلے ناجائز حکومت کو غیر مسـلح کرو، ظالم حکومت کو سزا دو، اگر دو شہروں میں تشـدد کے واقعات کے نتیجے میں صدام حسین کو پھانسی لگائی جا سکتی ہے تو پھر نیـتن یاہو پر کیوں مقدمہ نہیں چل سکتا اور عالمی عدالت انصاف نے اس کو ملزم بھی قرار دیا اور اس کے باوجود پوری دنیا کے دورے کر رہا ہے، امریکہ بیس سال تک اور نیٹو بیس سال تک افغـانستان میں بمباریاں کرتا رہا، کوئی نہیں کہتا کہ بھئی یہ ظلم کیوں کیا گیا، ہم تو آمن کے لئے آئے ہیں، دہشـت گردوں سے لڑ رہے ہیں کہ آپ ایک ملک پر بمباریاں کر رہے ہیں اور پاکستان بھی نہیں ٹھہر سکا، اس نے بھی تمام پالیسیاں تبدیل کی، یوٹرن لے لیا، امریکہ کا اتحادی بن گیا اور ابھی تک ہم اس کی اتحادی ہیں اور ڈالر لے رہے ہیں، دہشـت گردی کی خلاف لڑائی کی قیمت وصول کر رہے ہیں، تو کیا دہشـت گردی ختم ہو گئی ہے، آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں اس کے پورے طول و عرض پہ آپ ایک نظر ڈال لیں کہیں پر آمن ہے اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے، لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں، پولیس جو ہے وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنے آمن کمیٹیاں بنا لی ہیں اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے اور کانسٹیبل جو ہے وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لے ہوئے ہیں، نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ اور آپ کو میں لطیفہ بتاؤں، پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے وہ ایک کانسٹیبل نے کلوز کی ہے، ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو آجاؤ واپس، یہ حالت ہے۔
اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے، وہ ایک چڑیا ہے وہ کہتا ہے کہ بلوچستان تو ایک تھانے دار کی مار ہے بس، تو تمہارے تھانے داروں کا کیا حشر کر دیا، تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا، کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ، تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہو نا، اب شہباز شریف بیچارہ وزیراعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے اور اگر وہ قابل قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا، بھئی تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو، اسی پر گزارہ کر رہے ہو، فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہا ہے، بھلا یہ ساری چیزیں، ہاں کوئی جائز کام ہے اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا جمعیۃ نے سپورٹ کیا، اگر اس میں ترکی شامل ہو گیا ہم سپورٹ کرتے ہیں، جمعیۃ علماء اسلام کا منشور ہے ایک اسلامی بلاگ کا قیام، اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں اور یہ در حقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرتے ہیں اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا، اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں تو آپ کیوں جا رہے ہیں، آپ تو نمائندہ نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے، پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے صرف آئینی عہدے لیے ہوئے ہیں، گلگت میں الیکشن ہے ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا، کشمیر میں الیکشن ہے ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے تو وہ کہتے ہیں ناں کہ سانپ جب چلتا ہے تو ٹیڑھا میڑھا چلتا ہے لیکن جب غار کے قریب پہنچ جاتا ہے تو سیدھا ہو جاتا ہے، تو اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے، ایک جبر کا ماحول ہے اور ہم اس ماحول کے اندر وقت گزار رہے ہیں۔ حضرت اسلام میں جبر کی کوئی اجازت نہیں ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛
سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَعَنَهُمْ كُلُّ نَبِيٍّ مُجَابُ الدَّعْوَةِ،
جو طاقت کی بنیاد پر مسلط ہوتا ہے، قوم کی مرضی نہیں ہے، طاقت کی بنیاد پر جو قوم پر مسلط ہوگا اور عزت والوں کو بے عزت کرے گا، جیسے ابھی دو چار روز پہلے بلوچستان سے معززین بلائے گئے اور یہاں پر جو ہماری مقتدرہ نے ان سے خطاب کی اور گفتگو کی جو انتہائی توہین آمیز تھی، تم باعزت لوگوں کو ذلیل کرو گے اور جو دو ٹکے کے لوگ نہیں ہیں وہ ہمارے وزراء اور منسٹر ہم پر حکومت کریں گے، یہ بھی تو ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اپنی مرضی کی اور آپ کے وفادار ہو سکتے ہیں وہ قابل انعام ہیں، اگر پاکستان کا وفادار ہے تو وہ غدار ہے۔
تو یہی سیاست تو انگریز کی تھی کہ انگریز کا وفادار کو وفادار کہا جاتا تھا، ہنـدوستان کے وفادار کو غدار کہا جاتا تھا، آج وہی رویے ہمارے ملک کے اندر ہم دیکھ رہے ہیں نہ حکمرانوں کی کوئی حیثیت ہے نہ ہمارے ملک کے نظام میں کوئی بہتری آ رہی ہے، سی پیک کا پورا علاقہ جو ہے اس وقت مسـلح گروہوں کے ہاتھ میں ہے وہاں گوادر تک، اور اب نئی بحث چھڑ گئی کہ ہم صوبے بنائیں گے، میں نے کہا کوئی عقل بھی ہے تمہارے اندر کم بختو! سوچو تو سہی، ایک گھر ہے اس کے ایک حصے میں آگ لگی ہوئی ہے، دوسرے حصے میں آگ لگی ہوئی ہے کیا اس ماحول میں بھائی بیٹھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آئیے ذرا مکان گھر جو ہے اس کو تقسیم کر لیں، ان شعلوں کے اندر آپ صوبوں کی بات کر رہے ہیں، صوبے بنتے رہتے ہیں دنیا میں بھی بنتے ہیں، انـڈیا میں بھی بنتے ہیں، لیکن نہ ماحول اس وقت موجود ہے نہ تیاری ہے، بس ایک ادارہ اور ایک ادارہ کے سربراہ کی خواہش ہے اور وہ جبرا قوم پر مسلط کر رہا ہے۔ تو ہم نے اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ فاٹا انضمام پر ہم چیخ رہے تھے کہ وقت نہیں ہے، ابھی تم تیار نہیں ہوں، ماحول نہیں ہے، آپ نے کہا نہیں بن کے رہے گا، تو مجھے تو اس وقت بھی پتا ہے کہ اس کی پیچھے امریکہ تھا تو میں کیسے کہوں گا کہ آج صوبوں کے تقسیم اور ملک کے اندر یہ افرا تفری اس کے لیے بیرونی دباؤ نہیں ہوگا اور تم خود اتنے تگڑے ہو کہ ملک کے اندر یہ رسک لے رہے ہو اور صوبوں کو کیوں توڑا جا رہا ہے؟ اس لیے نہیں کہ اصولی طور پر یونٹ بنتے ہیں اور پورے دنیا میں ہو رہے ہیں اور انـڈیا میں بھی ہو رہا ہے، اس لیے کہ اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ آئینی طور پر طے ہوا کہ محصولات میں صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا جا سکے گا اور کمی نہیں کی جا سکے گی اور اس وقت شاید انچاس فیصد محصولات کا صوبوں کے لیے تھا، بڑھتے بڑھتے شاید چھپن ستاون فیصد تک ہوگی، یہ ہے وہ چیز جس کے لیے وہ صوبوں کو توڑنا چاہتے ہیں تاکہ از سر نو ہم نیا این ایف سی ایوارڈ کریں گے۔ اب پشتو میں کہتے ہیں کہ جوئے کے لیے ساری رضائی جلا دی۔
تو ایک اس چیز کے لیے اور دوسرا یہ کہ جو صوبوں کے اندر معدنی ذخائر ہیں ان پر صوبوں کے عوام کا حق ہے، اٹھارویں ترمیم کے تحت وہ صوبوں کی ملکیت ہے، ان معدنی ذخائر کے لیے وہ ہمارے قبائل کو، ہمارے صوبوں کے عوام کو، عام آدمی کو مالک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، ان کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں، ان دو مقاصد کے لیے صوبوں کو تقسیم کرنا بڑا ناگزیر ہو گیا ہے، بڑا ناگزیر ہو گیا ہے۔ تو ہم نہ ہی ایسی چیز کی حمایت کر سکتے اور نہ ہی آپ کی بس میں ہے کہ آپ جبرا قوم کے اوپر فیصلے مسلط کریں گے اور ہم اس کو مانتے رہیں گے، یہ کیسے ہوگا؟ بلوچستان میں آپ کی گرفت نہیں ہے، ہنہ اوڑک اور اس کے پہاڑ یہ چھاؤنی کے بالکل اوپر ہے اور وہاں لوگ چڑھ گئے اور لوگوں کو شہید کیا، زیارت میں یہ ہوا، آج جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کا جو اجلاس کراچی میں ہو رہا تھا بلوچستان کی جماعت کی درخواست پر پشاور میں لایا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کراچی نہیں پہنچ سکتے، ہمارے راستے نہیں ہے اس قابل، کبھی ہم نے آج سے کسی جماعت نے اس حوالے سے کوئی عذر نہیں پیش کیا، میں خود پورے بلوچستان میں پھرا ہوں، ایک گاڑی کے اندر پھرتا رہا ہوں، مکران تک گیا ہوں، تربت تک گیا ہوں، پنجگور تک گیا ہوں، پسنی تک گیا ہوں، گوادر تک گیا ہوں، آج وہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، کراچی کوئٹہ شاہراہ غیر محفوظ ہے، ہمارے ہاں کے شاہراہوں پر گھنٹوں گھنٹوں کے ناکے لگے ہوتے ہیں، ہم کیا زندگی گزار رہے ہیں، ہمیں ٹھنڈی زمین تو دو، ہمیں امن تو دو۔
تو صوبوں کے حوالے سے بھی ہم ان کو خیر خواہانہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اس وقت صوبوں کو توڑنا، اس کو نئے صوبوں میں تبدیل کرنا اور پھر لوگوں کو لالچ دیتے ہیں پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی، جیسے ہم حکومت کی بھوکے ہیں ایک شہر کی حکومت سہی لیکن مل جائے ہمیں، لیکن میرے خیال میں نہ تیری حکومت ہوگی نہ میری حکومت ہوگی کسی اور کی ہوگی، تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں، بلوچ علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پشتونخواہ میں جنگ ہے، کشـمیر میں راولاکوٹ میں تین مہینے ہو گئے ہیں لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، کیا مقاصد ہے رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خود مختار کشـمیر کی بات کرتے ہیں، جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے، کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟ یہ کہنا کہ ہم ملک کے محافظ ہیں کسی کا باپ بھی اس ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، مانتے ہیں آپ بڑے طاقتور ہیں لیکن مجھے یاد ہے اور شاید کوئی بزرگ ایسے ہوں جو ان کو بھی یاد ہو، جب دسمبر انیس سو اکہتر میں ہتھیار ڈالنے سے ایک دن پہلے جنرل یحییٰ خان نے قوم سے خطاب کیا اور کہا ہم لڑیں گے، گلی گلی میں لڑیں گے، صحراؤں میں لڑیں گے، کھیتوں میں لڑیں گے، کارخانوں میں لڑیں گے، پہاڑوں میں لڑیں گے اور ان کے خلاف ہم جنگ لڑیں گے، یہ بڑے بڑے بول تو ہم نے اس وقت بھی سنے، ملک کو اور عوام کو کیوں امتحان میں ڈال رہے ہو، کیوں مزے لے رہے ہو جب آپ کی پبلک اس کرب سے گزر رہی ہے اور آج دو ہزار چھبیس ہے، انیس سو اناسی میں جب افغـانستان میں انقلاب آیا اور جنگ شروع ہوئی اب آپ بتائیں کہ پینتالیس چھیالیس سال ہو رہے ہیں ایک ہی خط کے اوپر اتنے نصف صدی کے قریب خون بہہ رہا ہے اس طرح کا خون جب بہتا ہے تو پھر وہ جغرافیائی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے، تو پھر ہمیں اپنی ارادوں سے آگاہ تو کر دیجئے، ہم تو سہہ رہے ہیں اور سہتے رہیں گے، چلتا رہے گا معاملہ،
چند روز اور مری جان، فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دَم لینے پہ مجبور ہیں ہم
اک ذرا اور ستم سہہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے، معذور ہیں ہم

جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں
اک ذرا صبر، کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں
عرصہ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں
ہم کو رہنا ہے پہ یونہی تو نہیں رہنا ہے
اجنبی ہاتھوں کا بے نام گرانبار ستم
آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے

تو ان شاءاللہ العزیز جی اب ذرا میں عرض کروں آپ سے کہ پندرہ اکتوبر کو ملتان میں مفتی محمود کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے اور انیس بیس اکیس مارچ دو ہزار ستائیس کو سکھر میں امن عالم کانفرنس کا انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے بہت بڑی کانفرنس ہوگی ان شاءاللہ، تو آپ حضرات بھی اس سے باخبر رہے، پوری قوم کو بھی باخبر بنائیں اور اس کے لیے پوری تحریک کو آگے بڑھائیں ان شاءاللہ العزیز ہم عوام کے پاس جائیں گے، عوام سے ملیں گے اور اگر آپ غلط بات قوم سے کہتے ہیں، ایک جھوٹا بیانیہ قوم سے کہتے ہیں، تو ہمارا فرض ہے کہ ہم سچا بیانیہ قوم تک پہنچائیں اور ان شاءاللہ وہ چلے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم فرمائے۔ آپ حضرات کا بہت بہت شکریہ

ضبط تحریر: #محمدریاض
‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز

23/08/2026

ایک علمی ونظریاتی خطاب:

تحریر: مفتی محمد عمران اسلام آباد

آج پشاور میں میں ورکرز کنونشن سے مولانا فضل الرحمن صاحب نے ایک وقیع علمی ونظریاتی خطاب فرمایا، جس میں انہوں نے اسلامی تراث سے حوالہ دیتے ہوئے سیاست اسلامیہ کا تصور پیش کیا، اور اسلامی سیاست پر علمی کام کی طرف اشارہ فرمایا، عہد جدید کے علماء کو اسلامی سیاست کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی، اس خطاب میں انہوں نے ملک میں سیاسی ابتری پر بھی روشنی ڈالی اور ملٹری سے متعلق حالیہ قانون سازی پر آئینی روح کو مد نظر رکھ کر سوالات اٹھائے، آخر میں اپنے ورکرز کو پارلیمان میں اپوزیشن جماعتوں کے باہم مشترک ایشوز پر سیاسی اتحاد کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔
ذیل میں چند چیدہ چیدہ امور پر حضرت نے جو روشنی ڈالی اس کو تحریر کیا جاتا ہے:

فرمایا: اسلامی تاریخ میں اسلامی سیاست پر پانچ سو سے زائد کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔

اس موضوع کی اہمیت کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا:
کچھ عرصہ پہلے وفاق المدارس العربیہ کے اجلاس میں ہم نے تجویز رکھی کہ اسلامی سیاست پر ہمارے نصاب میں کتابیں ہونی چاہیے تاکہ علمائے کرام کو اسلامی سیاست کا علم ہو۔

اسلامی سیاست کی حضرت نے ایک الگ تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
سیاسۃ اسلامیہ کی لوگوں نے مختلف تعریفیں کی ہیں ایک تعبیر میں بھی کرتا ہوں وہ آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں تاکہ اگر اس میں کوئی اصلاح کا پہلو ہو تو اس کی اصلاح ہوسکے۔
میرے نزدیک اسلامی سیاست کی تعریف یہ ہے
ایک ایسا مملکتی انتظام وانصرام جس سے دنیاوی زندگی میں امن وخوشحالی آئے اور اخروی زندگی میں نجات وکامیابی حاصل ہو۔

عام طور پر جمہوریت کے حوالے سے اسلامی معاشروں میں جو اعتراض پایا جاتا ہے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمانے لگے:
ہم لوگ ذریعہ اور مقصد میں فرق نہیں کرتے ہیں جہاد ایک ہے اس کے ذرائع مختلف ہوسکتے ہیں پہلے ہم تلواروں سے جہاد کرتے تھے اب جدید اسلحے سے اسی طرح مقصد اسلامی نظام ہے اس کے لیے کسی وقت کوئی ذریعہ اختیار کیا گیا اور کسی اور وقت کوئی اور طریقہ۔

اسلامی سیاست میں جمہوریت ایک اجنبی اصطلاح ہوگی لیکن جمہوریت کا ایک مفہوم وہ ہے جس کو مغربی دنیا بیان کرتی ہے اور ایک مفہوم وہ ہے جو پاکستان کے آئین میں اس کی وضاحت ہے کہ عوام کی حکمرانی جس میں قرآن وسنت سپریم لاء ہوگا۔ اگر اکثریت بھی اس کو ختم کرنا چاہے تو ختم نہ کرسکے۔

ملٹری کے حوالے سے حالیہ قانون سازی پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا:

کہ اس قانون سازی سے پارلیمنٹ کے اختیارات سلب ہوئے ہیں اور فوج سے متعلق حکومتی انتظامی اختیارات مقتدرہ کے ایک شخص کی طرف منتقل کردیے گئے ہیں۔ اور یہاں تک اس میں لکھا گیا ہے کہ اگر کوئی اور قانون اس قانون سے متصادم ہوا تو وہ تمام قوانین غیر مؤثر ہونگے اور یہ قانون بالا دست ہوگا، اسلامی دفعات کے حوالے سے تو ایک فاضل جج نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ آئین کے تمام دفعات برابر ہونگے اسلامی شقوں کو کوئی بالا دستی حاصل نہیں ہوگی جبکہ اسٹبلشمنٹ سے متعلق قانون کو بالا دست قرار دیا جا رہا ہے کیا پاکستان اس لیے بنا تھا؟

یہ جو کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ہارڈ اسٹیٹ ہوگا، اس پر اسلامی تعلیمات سے روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: کہ اسلام میں سیاست وحکومت کا رویہ التعامل بین اللطف والعنف بیان ہوا ہے یعنی اسلامی حکومت نرمی اور سختی کے درمیان چلتی رہے گی نہ مکمل نرم نہ مکمل سخت، لہذا ہارڈ اسٹیٹ کا تصور اسلامی تعلیمات میں موجود نہیں ہے۔

مولانا صاحب نے سپہ سالار کو بھی اپنے رفقا سے باہمی مشاورت کا مشورہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مشاورت کا اور اپنے لوگوں کے ساتھ نرمی کا درس دیا جا رہا ہے تو ہمیں بھی اپنے منصب کے لحاظ سے ان تعلیمات سے سیکھنا چاہیے۔

مولانا صاحب کا یہ خطاب ورکرز کے لیے اور اسلامی سیاست کے طلبہ کے لیے نہایت نظریاتی اور علمی وفکری تربیت کا حامل مطالعہ ہے اس خطاب سے ان شاء اللہ طلبہ کرام کے لیے مطالعے کے نئے جہات واضح ہونگے۔

جمہوری جدوجہد کا فکری منہج✍️ *حافظ محمد اسامہ پسروری* مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست کو محض انتخابی سیاست کے دائرے میں سمجھ...
23/08/2026

جمہوری جدوجہد کا فکری منہج

✍️ *حافظ محمد اسامہ پسروری*

مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست کو محض انتخابی سیاست کے دائرے میں سمجھنا درست نہیں۔ ان کا سیاسی منہج ایک ایسی روایت سے جڑا ہوا ہے جس میں مذہبی اقدار، آئینی جدوجہد، پارلیمانی عمل اور عوامی رابطہ ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔ ان کے نزدیک سیاست اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنے نظریے اور عوامی مؤقف کو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے مؤثر انداز میں پیش کرنے کا نام ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ اختلافِ رائے کو سیاسی عمل کا حصہ سمجھتے ہیں، لیکن اختلاف کو ریاستی اداروں یا قومی استحکام کے خلاف تصادم میں تبدیل کرنے کے بجائے مذاکرات، پارلیمنٹ اور عوامی تحریکوں کے ذریعے اپنے مؤقف کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی طویل سیاسی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں بھی اپنے مؤقف کو دلیل کے ساتھ پیش کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔

ان کے سیاسی منہج میں جماعتی نظم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وہ کارکن کی وفاداری کو کسی فرد یا عہدے سے زیادہ جماعتی فیصلوں اور تنظیمی ڈھانچے سے وابستہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلسل تربیت، مشاورت اور نظم و ضبط پر زور دیتے ہیں تاکہ سیاسی جدوجہد شخصیات کے بجائے ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار رہے۔

اسی طرح مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست میں مذہبی شناخت اور قومی سیاست کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی کوشش نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ دینی مدارس، آئینی معاملات اور عوامی مسائل پر اپنی جماعت کا مؤقف سیاسی اور پارلیمانی فورمز پر پیش کرتے رہے ہیں۔ ان کے حامی اسے اصولی سیاست قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین بعض فیصلوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔ یہی اختلاف جمہوری سیاست کا فطری حصہ ہے۔

آج کے دور میں جب سیاست اکثر فوری مقبولیت اور جذباتی نعروں تک محدود ہوتی جا رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن کا سیاسی منہج ایک منظم جماعت، مسلسل سیاسی عمل، مکالمے اور آئینی جدوجہد پر زور دیتا ہے۔ کسی بھی سیاسی شخصیت کے بارے میں رائے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن ان کی سیاست کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے دہائیوں تک پارلیمانی سیاست، تنظیمی استحکام اور عوامی رابطے کو اپنی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون بنایا ہے۔

Address

Islamabad
720000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JUI Digital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to JUI Digital:

Shortcuts

Share