23/09/2026
پروگرام کی کامیابی کا اصل معیار
تحریر:
سہیل سہراب ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کانٹینٹ جنریٹر رائٹرز گروپ
کسی بھی تنظیمی پروگرام، خواہ وہ تربیتی کنونشن ہو، ڈیجیٹل میڈیا کا پروگرام ہو یا کوئی تحصیلی و ضلعی اجلاس، اس کی کامیابی کا معیار محض ہجوم اکٹھا کرنا، تصاویر بنوانا یا سوشل میڈیا پر تصاویر کی بھرمار کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ جس مقصد کے لیے پروگرام منعقد کیا گیا تھا، ہم اس مقصد کے حصول میں کس حد تک کامیاب رہے اور شرکاء نے اس پروگرام سے کیا سیکھا، کیا سمجھا اور اپنے عملی کام کے لیے کیا حاصل کیا۔
اس کے بعد ہماری ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ پروگرام میں شریک ہر ڈیجیٹل میڈیا کارکن اپنے تاثرات، اہم نکات اور حاصل مطالعہ کو ویڈیو یا تحریری صورت میں دیگر دوستوں کے ساتھ شیئر کرے، تاکہ جو احباب اس پروگرام میں شریک نہیں ہو سکے، وہ بھی اس کی مفید باتوں سے استفادہ کر سکیں۔ یوں ایک پروگرام کا فائدہ چند سو شرکاء تک محدود رہنے کے بجائے ہزاروں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔
میرا اپنا مزاج یہ ہے کہ کسی بھی پروگرام میں مختلف مقررین کی گفتگو کے دوران ان کے چیدہ چیدہ نکات نوٹ کرتا رہتا ہوں، خواہ وہ تحصیل یا ضلع کا اجلاس ہو یا کوئی تربیتی کنونشن۔ کوشش ہوتی ہے کہ پروگرام کے اختتام کے فوراً بعد ان اہم نکات کو دوست احباب کے ساتھ فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر شیئر کر دوں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دوستوں تک بروقت اور مفید معلومات پہنچ جاتی ہیں اور وہ انہی معلومات کی روشنی میں اپنی ترجیحات اور آئندہ کی حکمت عملی کا تعین کر سکتے ہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں بعض اوقات پروگرام تو بڑے اہتمام سے منعقد ہوتے ہیں، لیکن ان میں مقصدی اور فکری گفتگو کو اجاگر کرنے کے بجائے تصاویر کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پروگرام کے بعد کا وہ قیمتی وقت، جب شرکاء اور کارکنان کی توجہ اسی پروگرام پر مرکوز ہوتی ہے اور اس کی باتیں تازہ ہوتی ہیں، ہم صرف تصاویر شیئر کرنے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ یوں پروگرام کا اصل مقصد، اس کا پیغام اور اس سے حاصل ہونے والی فکری و تربیتی روشنی پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
میری دوستوں سے بس اتنی سی عاجزانہ گزارش ہے کہ اپنی محنت کو کیش کرنا سیکھیں۔ مہینوں کی تیاری، وقت، وسائل اور محنت سے منعقد ہونے والے ایک پروگرام کے ثمرات کو چند تصاویر تک محدود نہ کریں۔ مقررین کی اہم باتیں نوٹ کریں، ان پر غور کریں، انہیں تحریری اور ویڈیو صورت میں دوسروں تک پہنچائیں اور کوشش کریں کہ آپ کے پروگرام کی افادیت پروگرام ختم ہونے کے ساتھ ختم نہ ہو، بلکہ اس کا پیغام مسلسل آگے بڑھتا رہے۔
کیونکہ ایک کامیاب پروگرام وہ نہیں جس کی تصاویر سب سے زیادہ ہوں، بلکہ وہ ہے جس کا مقصد سب سے زیادہ لوگوں تک پہنچے، جس سے سب سے زیادہ لوگ سیکھیں اور جس کے اثرات پروگرام کے اختتام کے بعد بھی محسوس ہوتے رہیں۔