Nargis Chohan

Nargis Chohan رونقِ زیست سے ____ تلخیِ حیات تک
Advocate supreme court , Human rights activist

‏الڑ بلڑ باوے دا🩶🌿باوا کنک لیاوے داباوی بہہ کے چھٹے دیماں پونیں وٹے دی باوی من پکاوے دی باوا بیٹھا کھاوے داکاکا کھڑ کھڑ ...
04/05/2025

‏الڑ بلڑ باوے دا🩶🌿
باوا کنک لیاوے دا
باوی بہہ کے چھٹے دی
ماں پونیں وٹے دی
باوی من پکاوے دی
باوا بیٹھا کھاوے دا
کاکا کھڑ کھڑ ہسے دا
‏الڑ بَلڑ باوے دا
باوا کنک لیاوے گا
بیوی بہہ کے چهٹے گی
سو روپہیا وٹےّ گی
اِک روپہیا کهوٹا
اودها لیاندا لوٹا
لوٹے وِچ پانی
ماں تیری رانی
پیو تیرا راجا
سونے دا دروازه
چاندی دیاں پَہوڑیاں
سَتے پِہناں گوریاں
اِک پِہن کالی
اُوہو کرماں والی🩶🌿

اج کل ٹوینکل ٹوینکل لے کے بہہ گیا اے 😠

24/04/2025

خلع کی صورت میں مہر کے حوالے سے عدالت عالیہ لاہور کا ایک انتہائی اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل اور مقدمے کے حقائق کی طرف جانے سے پہلے اس کیس میں عدالت عالیہ کے سامنے مندرجہ ذیل اہم سوال تھا کہ :

سوال : کیا خلع کی صورت میں لازمی ہے کہ بیوی اپنا حق مہر شوہر کے حق میں بطور بدل خلع معاف یا واپس کرے گی ؟

عدالت عالیہ کے سامنے موجود اہم سوال کی وضاحت کے بعد اس مقدمے کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ:

اقراء سعید نامی مدعیہ کی جانب سے اپنے شوہر آصف محمود کے خلاف تنسیخ نکاح، دلا پانے نان و نفقہ ، مہر مبلغ دو لاکھ روپے اور سامان جہیز جس کی کل قیمت تقریباً تین لاکھ اکہتر ہزار روپے کے لئے ضلع ساہیوال کی مقامی عائلی عدالت سے رجوع کرتی ہے جس کا جواب آصف محمود یعنی مدعا علیہ کی جانب سے جواب دعویٰ جمع کرنے کی صورت میں کیا جاتا ہے لیکن یاد رہے کہ زوجین کے درمیان ابتدائی مصالحت ناکام ہونے کے بعد عائلی عدالت کی جانب سے پچیس مئ دو ہزار بائیس کو فیملی کورٹس ایکٹ کے دفعہ دس ( پانچ ) کے تحت تنسیخ نکاح بر بنیاد خلع کا فیصلہ صادر کر دیتی ہے جبکہ باقی تنقیحات پر فریقین کی جانب سے باقاعدہ شہادت کے بعد چھبیس اکتوبر دو ہزار تئیس کو یہ فیصلہ سنایا جاتا ہے کہ آصف محمود اپنی بیوی یعنی اقرا سعید کو پانچ ہزار روپے ماہانہ بطور نان نفقہ صرف عدت کے دورانئے کے لئے اور جبکہ سامان جہیز کی مد میں ایک لاکھ روپے ادا کرے گا لیکن بدقسمتی سے عائلی عدالت نے مہر کے حوالے سے کوئ فیصلہ نہیں دیا جس کے خلاف اپیل کی صورت میں ضلعی جج اس کیس کو دوبارہ عائلی عدالت کی طرف واپس ان ہدایات کے ساتھ بھیجتے ہیں کہ تمام تنقیحات پر فیصلہ سنایا جائے جس پر عائلی عدالت بالآخر آٹھ مارچ دو ہزار چوبیس کو فیصلہ سناتے ہیں جس میں مختصراً پہلے سنائے جانے والے فیصلے کے ساتھ ساتھ مدعیہ یعنی اقرا سعید کو مہر مؤجل یعنی دو لاکھ روپے کا بھی حق دار قرار دے دیتی ہے۔ یاد رہے کہ عائلی عدالت کے مندرجہ بالا فیصلے کے خلاف مدعا علیہ یعنی آصف محمود ضلعی عدالت سے اپیل کی صورت میں رجوع کرتا ہے لیکن شومئی قسمت وہاں سے بھی مورخہ دو ستمبر دو ہزار چوبیس کو کوئ ریلیف ملے بغیر اس کی اپیل خارج ہو جاتی ہے جس کے بعد آخر کار یہ مقدمہ آئینی درخواست یعنی رٹ پٹیشن کی صورت میں عدالت عالیہ لاہور پہنچ جاتا ہے۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے کا آغاز درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے پیش کئے جانے والے دلائل سے کیا ہے جس کے مطابق چونکہ زوجین کے درمیان تنسیخ نکاح بر بنیاد خلع ہوئ ہے تو ایسی صورت میں بیوی یعنی اقرا سعید کو مہر کے لئے دعویٰ نہیں کرنا چاہیے تھا اور اپنے اس نکتے کے لئے انھوں نے سپریم کورٹ کے مشہور فیصلے محمد عارف بنام صائمہ نورین وغیرہ پر انحصار کیا ہے جبکہ سامان جہیز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ چونکہ شہادت کے دوران یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اقرا سعید کے والدین کی معاشی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ اپنی بیٹی کو جہیز دلا پاتے۔یہاں پر یاد رہے کہ اقرا سعید یعنی بیوی کی جانب کوئ بھی پیش نہیں ہوا تو بدیں وجہ ان کی غیر موجودگی میں یہ مقدمہ یکطرفہ چلایا گیا۔

عدالت عالیہ نے درخواست گزار یعنی آصف محمود کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد فیصلے کی ابتداء سامان جہیز والے قضیے سے کی اور یہ قرار دیا کہ چونکہ جہیز کی ادائیگی کی رسم ہمارے ہاں بہت زیادہ سرایت کر چکی ہے اور والدین چاہے ان کی معاشی حالت کیسی بھی ہو لیکن پھر بھی وہ جہیز ادا کرتے ہیں اور چونکہ درخواست گزار خود بھی جواب دعویٰ میں کچھ چیزوں کی بابت اقرار کر چکا ہے تو اس لئے نچلی عدالتوں کی جانب سے سامان جہیز کی مد میں ایک لاکھ روپے کا فیصلہ بالکل مناسب ہے اور اسی لئے اس کو برقرار رکھا ہے۔

سامان جہیز کا قضیہ حل کرنے کے بعد عدالت عالیہ نے مقدمے کے سب سے اہم مسئلے یعنی حق مہر کا رخ کیا ہے اور اس بابت یہ واضح کیا ہے کہ نکاح کے وقت اقرا کا حق مہر دو لاکھ روپے مہر مؤجل طے ہوا تھا لیکن مہر کے حوالے سے درخواست گزار یعنی آصف محمود نے پہلے تو یہ کہا کہ وہ ادا کر چکا ہے لیکن دوران شہادت اس میں ناکامی کے بعد درخواست گزار نے اب یہ التجا سامنے رکھی ہے کہ خلع کی صورت میں مدعیہ مہر کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ یہاں پر عدالت نے فیملی کورٹس ایکٹ کے دفعہ دس ( پانچ ، چھ ) کے حوالے سے لکھا ہے کہ چونکہ مندرجہ بالا دونوں دفعات صوبہ پنجاب میں دو ہزار پندرہ سے نافذ العمل ہیں لیکن یاد رہے کہ وفاقی شرعی عدالت اپنے تاریخ ساز فیصلے عمران انور خان کیس میں ان دونوں دفعات کو خلاف اسلام ہونے کی وجہ سے کالعدم قرار دے چکی ہے لیکن یہ فیصلہ یعنی عمران انور خان کیس کا فیصلہ یکم مئ دو ہزار بائیس کو آیا ہے جب کہ موجودہ کیس میں خلع کا فیصلہ پچیس مئ دو ہزار بائیس کو آیا ہے یعنی کہ جس قانون کے تحت خلع دیا گیا وہ فیصلے کے وقت کالعدم تھا۔ اس کے بعد فاضل عدالت نے ایک بحث طلاق اور خلع کے درمیان فرق پر باندھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر خلع محض نا پسندیدگی کی بنیاد پر مانگی جا رہی ہو تو پھر حاصل شدہ حق مہر قابل واپسی ہو جاتا ہے لیکن اگر خلع کسی بنیاد پر مانگی جا رہی ہو تو پھر یہ لازمی نہیں ہے کہ عورت حق مہر واپس کرے گی بلکہ عدالت اس بات کا تعین کرے گی کہ کتنا حق مہر واپس کرنا چاہئے۔ یاد رہے کہ مندرجہ بالا بحث کے بعد عدالت عالیہ نے نکاح نامے کی حیثیت کا رخ کر کے یہ لکھا ہے کہ مہر مؤجل کی ادائیگی شوہر کی زمہ داری ہے اور اس زمہ داری سے ابراء کے لئے قطعا یہ کافی نہیں ہے کہ عورت خلع مانگے تو شوہر مہر سے بری ہو جائے گا۔ یہاں پر عدالت نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ خلع کی صورت میں حق مہر کا دار و مدار عورت کی جانب سے خلع مانگنے کے طریقہ کار کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اگر کہیں عورت بغیر کسی وجہ کے یعنی فقط نا پسندیدگی کی بنیاد پر خلع مانگے تو ایسی صورت میں عورت مہر کا حق کھو دیتی ہے لیکن اگر عورت خلع شوہر کے برتاؤ کی وجہ سے مانگے تو وہ مہر مؤجل کی حق دار ہوگی اور چونکہ اس کیس میں بھی عورت کے خلع کی وجہ سے شوہر کا برتاؤ ہے اور یہ بات جا بجا شہادت سے بھی ثابت ہورہی ہے تو اس لئے بیوی مکمل حق مہر مؤجل کے حصول کی حق دار ہے۔ یاد رہے کہ اس کے بعد عدالت عالیہ نے محمڈن لا پر انحصار کر کے یہ بات بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ زوجین کے درمیان مہر کی ادائیگی خلوت صحیحہ کے ساتھ ہی لازم ہو جاتی ہے اور چونکہ اس مقدمے میں بھی زوجین کے درمیان رشتہ نو سال تک رہا ہے اور اس دوران بیوی نے حقوق زوجیت بھی ادا کئے ہیں تو اس لئے عدالت نے شوہر یعنی آصف محمود کے آئینی درخواست کو خارج کرتے ہوئے بیوی یعنی اقرا سعید کو مہر مؤجل کا حق دار قرار دے دیا۔

اس انتہائی اہم فیصلے کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کہیں عورت بغیر کسی وجہ کے یعنی فقط نا پسندیدگی کی بنیاد پر خلع مانگے تو ایسی صورت میں عورت مہر کا حق کھو دیتی ہے لیکن اگر عورت خلع شوہر کے برتاؤ کی وجہ سے مانگے تو وہ مہر مؤجل کی حق دار ہوگی۔

یہ انتہائی اہم فیصلہ عدالت عالیہ لاہور کے جج؛ جسٹس راحیل کامران نے لکھا ہے اور اس کو Writ Petition No. 68712 of 2024 پر پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے۔

24/04/2025

Very informative

👇👇👇👇👇👇👇👇👇
وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار:

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.

(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.

(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے

(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:

(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.

(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.

(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.

(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.

(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.

(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:

(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.

(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.

(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.

(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے

(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.

(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.

(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(4): ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.

(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.

(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے.

(5): بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.

(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.

(6): بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.

(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.

(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گ

(7): کلالہ:

کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.

(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے، یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.

(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو.

(8): اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں:

(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.

(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.

(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.

(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ اسکا جوکہ عورت کیلئے ہے.

الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اور ہر ترکہ کیلئے جو ماں باپ اور عزیز و اقارب چھوڑیں ہم نے وارث قرار دئیے ہیں اور جن سے تم نے عہد کر لئے ہیں ان کا حصہ ان کو دیدو بیشک الله ہر شے پر گواہ ہے. (4:33)

مردوں کیلئے اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں ایک حصہ ہے اور عورتوں کیلئے بھی اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں تھوڑا یا زیادہ مقرر کیا ہوا ایک حصہ ہے. (4:7)

اور جب رشتہ دار و یتیم اور مسکین تقسیم کے موقع پر حاضر ہوں تو انکو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے نرمی کے ساتھ کلام کرو. (4:8)

الله تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے اور اگر فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو ترکے کا دو تہائی (2/3) ان کا ہے اور اگر وہ ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے نصف (1/2) ہے اور والدین میں سے ہر ایک کیلئے اگر متوفی کی اولاد ہو تو ترکے کا چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کیلئے ترکہ کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور اگر متوفی کے بہن بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے بعد تعمیل وصیت جو وہ کر گیا ہو یا بعد اداۓ قرض کے تم نہیں جانتے کہ تمہارے آباء یا تمہارے بیٹوں میں سے نفع رسانی میں کون تم سے قریب تر ہے یہ الله کی طرف سے فریضہ ہے بیشک الله جاننے والا صاحب حکمت ہے. (4:11)

اور جو ترکہ تمہاری بے اولاد بیویاں چھوڑیں تمہارے لئے اس کا نصف (1/2) حصہ ہے اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے اس ترکہ کا جو وہ چھوڑیں چوتھائی (1/4) حصہ ہے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کی ادائیگی کے بعد اور اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو جو ترکہ تم چھوڑو ان عورتوں کیلئے اس کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور اگر تمہارے اولاد ہو تو ان عورتوں کا اس ترکہ میں آٹھواں (1/8) حصہ ہے جو تم چھوڑو بعد از تعمیل وصیت جو تم نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے اور اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر وہ تعداد میں اس سے زیادہ ہوں تو بعد ایسی کی گئی وصیت کی تعمیل جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو یا ادائیگی قرض کے وہ سب ایک تہائی (1/3) میں شریک ہونگے یہ وصیت منجانب الله ہے اور الله جاننے والا بردبار ہے. (4

تجھ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دے کہ الله تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا آدمی ہلاک ہوجاۓ جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو پس اس کی بہن کیلئے اس کے ترکہ کا نصف (1/2) حصہ ہے. (اگر عورت ہلاک ہوجاۓ) اگر اس عورت کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر اس کی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے اس کے ترکہ کا دو تہائی (2/3) ہے اور اگر بھائی بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کیلئے دوگنا حصہ اس کا جو کہ عورت کیلے ہے الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

زندگی میں کچھ لوگ خوشبو کی مانند ہوتے ہیں...🌹ساتھ نہیں ہوتے...!پاس نہیں ہوتے......!نظر بھی نہیں آتے.....!لیکن...!ان کی ...
02/12/2024

زندگی میں کچھ لوگ خوشبو کی مانند ہوتے ہیں...🌹
ساتھ نہیں ہوتے...!
پاس نہیں ہوتے......!
نظر بھی نہیں آتے.....!
لیکن...!
ان کی چاہت..!💕
ان کا خلوص...! ✨
ان کی باتیں....!
تا عمر ہماری سوچ میں....!💭
ہمارے الفاظ میں...! ❣️
زندگی کے ہر پہلو میں مہکتی رہتی ہیں....!"

اس عدالت سے ڈرنا چاہیےجس میں نہ وکیل ہوگا نہ گواہ اور نہ دلائل صرف ایک اعلان ہوگاوَامۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡ...
02/12/2024

اس عدالت سے ڈرنا چاہیےجس میں نہ وکیل ہوگا نہ گواہ اور نہ دلائل صرف ایک اعلان ہوگا

وَامۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ

’’جب روحوں کو ملا دیا جائے گا۔‘‘✿۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں :﴿وَإِذَا ٱلنُّفُوسُ زُوِّجَتۡ﴾.’’جب نفوس کو ملا دیا جائے گا۔‘‘...
04/10/2024

’’جب روحوں کو ملا دیا جائے گا۔‘‘

✿۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں :
﴿وَإِذَا ٱلنُّفُوسُ زُوِّجَتۡ﴾.
’’جب نفوس کو ملا دیا جائے گا۔‘‘ [التكوير: ٧]
⇚سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا :
«يُقْرَنُ بَيْنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ مَعَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ، وَيُقْرَنُ بَيْنَ الرَّجُلِ السُّوءِ مَعَ الرَّجُلِ السُّوءِ فِي النَّارِ».
’’نیک بندے کو جنت میں نیک کے ساتھ ملا دیا جائے گا اور برے کو جہنم میں برے کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔‘‘
(المصنف لابن أبي شيبة - ت الحوت ٧/‏٩٩ وسندہ حسن)
⇚عکرمہ مولی ابن عباس فرماتے ہیں :
«يُقْرَنُ الرَّجُلُ بِقَرِينِهِ الصَّالِحِ فِي الدُّنْيَا فِي الْجَنَّةِ، وَيُقْرَنُ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ السَّيِءَ بِصَاحِبِهِ الَّذِي كَانَ يُعِينُهُ عَلَى ذَلِكَ فِي النَّارِ».
’’بندے کا دنیا میں جو نیک دوست تھا اسے جنت میں اس کے ساتھ ملا دیا جائے گا اور برے عمل والے کو جہنم میں اس کے دوست کے ساتھ ملا دیا جائے گا جو برے عمل میں اس کی مدد کیا کرتا تھا۔‘‘
(معاني القرآن للفراء : ٣/ ٢٤٠ وسنده صحیح)
⇚امام قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
«لَحِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ بِشِيعَتِهِ، الْيَهُودُ بِالْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى بِالنَّصَارَى».
’’ہر انسان اپنے گروہ کے ساتھ جا ملے گا۔ یہودی، یہودیوں کے ساتھ اور عیسائی، عیسائیوں کے ساتھ۔‘‘
(تفسير الطبري، ط هجر ٢٤/‏١٤٣ وسنده حسن)
⇚امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
«أُلْحِقَ كُلُّ امْرِئٍ بِشِيعَتِهِ».
’’ہر بندے کو اس کے گروہ سے ملا دیا جائے گا۔‘‘
(تفسير الطبري، ط هجر ٢٤/‏١٤٣ وسنده حسن)
✿اس معنی کی تائید دیگر دلائل سے بھی ہوتی ہے جیسا کہ
⇚اللہ تعالی فرماتے ہیں :
﴿اَلْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ﴾.
’’اس دن پرہیزگاروں کے علاوہ سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔‘‘ (الزخرف : ٦٧)
⇚نیز فرمایا :
﴿اُحْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ﴾
’’ان ظالموں کو اور ان کے ہم جنسوں کو اور (معبودوں کو) سب کو اکٹھا کرو جس کی یہ اللہ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے۔‘‘ (سورة الصافات : ٢٢)
⇚سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ».
’’بندہ اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے۔‘‘
(صحیح بخاري : ٦١٧٠، صحیح مسلم : ٢٦٤١)
⇚سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
«الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ».
’’بندہ اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، تم میں سے ہر کوئی دیکھ لے کہ کس سے دوستی لگا رہا ہے۔‘‘
(سنن أبي داود : ٤٨٣٣، سنن الترمذي : ٢٣٧٨)
⇚اس آیت کریمہ کا دوسری تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ جسموں کو روحوں سے ملا دیا جائے گا۔ امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں تفاسیر میں سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ تفسیر زیادہ صحیح ہے۔ (تفسير الطبري- ط هجر ٢٤/‏١٤٤)
... حافظ محمد طاھر

شاید ترے لفظوں سے کوئی جی اُٹھےاپنا سخن خیرات کر، کچھ بات کر!!!!اقبال قمر
04/10/2024

شاید ترے لفظوں سے کوئی جی اُٹھے
اپنا سخن خیرات کر، کچھ بات کر!!!!

اقبال قمر

کبھی دلبر کبھی دشمن کبھی دلدار ہو جاناکہاں سے تم نے سیکھا ہے بڑا بیزار ہو جانا...کبھی مل کر رقیبوں سے ہمارے حال پہ  ہنسن...
04/10/2024

کبھی دلبر کبھی دشمن کبھی دلدار ہو جانا
کہاں سے تم نے سیکھا ہے بڑا بیزار ہو جانا...
کبھی مل کر رقیبوں سے ہمارے حال پہ ہنسنا
کبھی میری مُحَبت میں گُل و گُلزار ہو جانا..

اپنے پانچ حواس کسی ایسے شخص پر ضائع نہ کریں جس نے آپ کو محسوس کرنے کے لیے ایک بھی احساس استعمال نہیں کیا ہو_
04/10/2024

اپنے پانچ حواس کسی ایسے شخص پر ضائع نہ کریں جس نے آپ کو محسوس کرنے کے لیے ایک بھی احساس استعمال نہیں کیا ہو_

04/10/2024

سچیاں گلاں

04/10/2024

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nargis Chohan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share