NKM Advocates & Legal Consultants

NKM Advocates & Legal Consultants Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from NKM Advocates & Legal Consultants, Legal Service, Islamabad.
(3)

Reliable Legal Guidance in Islamabad

For effective representation before courts and professional resolution of your legal matters, please feel free to contact:

0305-5292488 ☎️

مدعا علیہان کو ان کی ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ اپنے مورث کے قانونی نمائندہ کے طور پر فریق بنایا گیا ہے، اور ان کی ذمہ دار...
17/04/2026

مدعا علیہان کو ان کی ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ اپنے مورث کے قانونی نمائندہ کے طور پر فریق بنایا گیا ہے، اور ان کی ذمہ داری صرف اس حد تک ہے جس حد تک انہوں نے متوفی کی جائیداد وراثت میں حاصل کی ہو۔ یہ ایک دیوانی ذمہ داری ہے جو موت کے بعد بھی برقرار رہتی ہے۔
“Whether a summary suit under Order ###VII CPC is maintainable against the legal heirs of a deceased signatory of negotiable Instrument(s) who are neither signatory(s), indorser(s), or maker(s) of the same.”

I have perused the relevant provisions as well as the judgments cited by the Appellants/Defendants and not inclined to subscribe to the interpretation sought to be made by the Appellants/Defendants for contending that the summary Suit under Order ###VII CPC was not proceedable against them. It is fall to be noted that in the Suit in hand, the Appellants/Defendants have not been impleaded in their capacity as makers, drawers, indorsers or acceptors of the Cheques nor it is alleged by the Respondents/Plaintiffs that the same was signed by the Appellants/Defendants, instead, the Appellants/Defendants have been impleaded/sued in their representative capacity as legal heirs of the deceased Farman Ali and will indeed be liable to satisfy the Decree, only to the extent of estate or assets if so inherited by them from the deceased Farman Ali; the Suit did not seek to impose any personal liability upon the Appellants/Defendants as drawers, indorsers or acceptors of the Cheques. It is pertinent to note that the Respondent/Plaintiff has successfully proved by the dint of evidence produced during the course of trial that the Cheques were issued by the deceased Farman Ali; the same were issued against due consideration and were dishonored on being presented for encashment during his lifetime, thus, the cause of action had matured in the lifetime of Farman Ali Deceased, in favour of the Respondent/Plaintiff and against the deceased Farman Ali, which accrued cause of action continued to exist and survives against the legal heirs and representatives of the deceased despite 3 Adil Khan Bazai v. Election Commission of Pakistan and another PLD 2025 SC 319RFA No. 63446 of 2020 8his death; it was not a personal liability attached to the ‘person’, which may be declared to have extinguished at the event of his death; instead it was a liability of a civil claim, which survives the death of the person and exists/continues against the legal representatives of such a person to the extent of the assets and estate(s) inherited by such legal representatives.

RFA No. 63446 of 2020
Sughra Bibi etc. VERSUS Tahir Hayat
2026LHC2448
Announced in open Court on 08.04.2026.

15/04/2026
یہ لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) کا ایک اہم فیصلہ ہے جو رٹ پٹیشن نمبر 8895 آف 2025 میں سنایا گیا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی خ...
09/04/2026

یہ لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) کا ایک اہم فیصلہ ہے جو رٹ پٹیشن نمبر 8895 آف 2025 میں سنایا گیا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی خلاصہ اور قانونی نکات درج ذیل ہیں:

پٹیشنر کا شناختی کارڈ (CNIC) ایک سول کورٹ کے حکم پر بلاک کر دیا گیا تھا تاکہ اسے ایک عدالتی کارروائی میں پیش ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ پٹیشنر نے اس اقدام کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔

1. شناختی کارڈ کی قانونی حیثیت
عدالت نے قرار دیا کہ شناختی کارڈ (CNIC) حامل کی منقولہ جائیداد (Movable Property) نہیں ہے۔
نادرا آرڈیننس 2000 کے سیکشن 18 کے تحت، شناختی کارڈ وفاقی حکومت کی ملکیت ہے، یہ شہری کی ذاتی جائیداد نہیں جسے ضبط یا قرق کیا جا سکے۔
2. کارڈ بلاک کرنے کا اختیار
عدالت نے واضح کیا کہ صرف نادرا (تعین کردہ شرائط کے تحت) کارڈ منسوخ یا ضبط کر سکتا ہے۔
سول کورٹس کے پاس یہ قانونی اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی شخص کی حاضری یقینی بنانے کے لیے اس کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیں۔ ایسا کرنا نادرا آرڈیننس کے سیکشن 18(2) کی خلاف ورزی ہے۔
3. شناختی کارڈ بطور شناختی دستاویز
سیکشن 19(4) کے تحت، کارڈ صرف ایک شناختی ثبوت ہے۔ اسے نہ تو بیچا جا سکتا ہے، نہ منتقل کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی یہ وراثت میں منتقل ہوتا ہے۔ چونکہ یہ جائیداد کے زمرے میں نہیں آتا، اس لیے اسے قانونی چارہ جوئی کے طور پر بلاک نہیں کیا جا سکتا۔
4. نادرا کی ذمہ داری
نادرا کا کام شہری کو رجسٹر کرنا اور اسے شناخت فراہم کرنا ہے۔ اگر کوئی عدالت غیر قانونی طور پر کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیتی ہے، تو نادرا کا اس پر عمل کرنا بھی غیر قانونی تصور ہوگا۔

Noor Khalid
Advocate High Court
Serving Islamabad and surrounding areas
📞 Contact: 0305-5292488

If you are looking for a trusted, skilled, and top lawyer in Islamabad, NKM Advocates & Legal Consultants provide reliable legal representation and expert legal solutions.

Specialized in:
⚖ Family Law Cases
⚖ Civil Litigation
⚖ Criminal Defense
⚖ Property and Revenue Matters
⚖ Corporate Legal Advisory
⚖ Legal Documentation and Court Representation
⚖ Marriage, Divorce, and Custody Matters
⚖ Legal Consultation and Case Strategy

As an Advocate High Court, I am committed to delivering professional, result-oriented, and client-focused legal services with dedication to justice and law.

✅Best Lawyer in Islamabad
✅ Professional Legal Solutions
✅ Strong Court Advocacy
✅ Client Confidentiality
✅ Practical Legal Strategy

🌐 Available for legal consultation and case handling in Islamabad and nearby areas.

📞 Contact today for expert legal assistance: 0305-5292488

07/04/2026

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ دیوانی مقدمات میں یکطرفہ ڈگری کے خلاف سات(07) مختلف قسم کی قانونی دادرسی حاصل کی جا سکتی ہے
The remedies available against ex parte decree are:- (2000 SCMR 296)

👉1- An application under Order 9, Rule 13

👉2- A review application u/s 114

👉3- An appeal u/s 96

👉4- A proceeding to set aside the decree on the ground that it has been obtained by fraud etc. u/s 12

👉5- An application for re-hearing of the matter on the ground of violation of the principles of natural justice(PLD 1972 Lah. 603 FB)

👉6- A revision may also lie (1995 CLC 516)

👉7- In appropriate cases the inherent powers of a court may also be attracted (PLD 2003 SC 625) or a writ maylie (1986 CLC 2515)

سوشل میڈیا انفلوئنسرز خبردار! اب ٹیکس سے بچنا آسان نہیںایف بی آر نے نیا فریم ورک متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت YouTubers, ...
04/04/2026

سوشل میڈیا انفلوئنسرز خبردار! اب ٹیکس سے بچنا آسان نہیں
ایف بی آر نے نیا فریم ورک متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت YouTubers, TikTokers, Instagram Influencers سب کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے۔
(1) برانڈ ڈیلز، اسپانسرشپس اور ایڈز سے کمائی اب مکمل طور پر ٹیکس کے دائرے میں
(2) کم از کم آمدن کا تعین فارمولا کے تحت
(3) صرف 30% اخراجات کی اجازت
(4) سہ ماہی ایڈوانس ٹیکس لازمی
📉 اگر آپ نے بروقت پلاننگ نہ کی تو جرمانے اور قانونی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

دفعہ 249-A اور دفعہ 265-K ضابطہ فوجداری کے مابین قانونی فرق:ضابطہ فوجداری، 1898 کی دفعہ 249-A اور دفعہ 265-K دونوں عدالت...
02/04/2026

دفعہ 249-A اور دفعہ 265-K ضابطہ فوجداری کے مابین قانونی فرق:

ضابطہ فوجداری، 1898 کی دفعہ 249-A اور دفعہ 265-K دونوں عدالتوں کو یہ اختیار فراہم کرتی ہیں کہ وہ مناسب حالات میں ملزم کو مقدمہ کے کسی بھی مرحلہ پر بری کر سکتی ہیں، تاہم دونوں دفعات کے دائرہ کار، اطلاق اور قانونی بنیاد میں واضح فرق موجود ہے۔
دفعہ 249-A ضابطہ فوجداری ان مقدمات پر لاگو ہوتی ہے جو مجسٹریٹ کے روبرو باب XX کے تحت قابلِ سماعت ہوں۔ اس دفعہ کے تحت مجسٹریٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ استغاثہ اور ملزم کو سننے کے بعد، وجوہات قلمبند کرتے ہوئے، کسی بھی مرحلہ پر ملزم کو بری کر دے اگر (i) الزام بے بنیاد (groundless) ہو، یا (ii) ریکارڈ پر موجود مواد و شہادت کی بنیاد پر ملزم کے خلاف سزا کا کوئی امکان موجود نہ ہو۔ لہٰذا دفعہ 249-A کا دائرہ کار وسیع ہے کیونکہ اس میں “الزام کے بے بنیاد ہونے” کو بھی بریت کی بنیاد کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

اس کے برعکس، دفعہ 265-K ضابطہ فوجداری ان مقدمات پر لاگو ہوتی ہے جو عدالتِ سیشن کے روبرو باب XXII-A کے تحت قابلِ سماعت ہوں۔ اس دفعہ کے تحت عدالتِ سیشن بھی کسی بھی مرحلہ پر ملزم کو بری کر سکتی ہے، بشرطیکہ استغاثہ اور ملزم کو سننے کے بعد یہ قرار دے کہ ریکارڈ پر موجود مواد و شہادت کی روشنی میں ملزم کے خلاف سزا کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ تاہم، اس دفعہ میں “الزام کے بے بنیاد ہونے” کو بطور علیحدہ بنیاد شامل نہیں کیا گیا، بلکہ صرف “عدم امکانِ سزا” (no probability of conviction) کو ہی معیار بنایا گیا ہے۔

مزید برآں، قانون ساز نے دانستہ طور پر یہ امتیاز رکھا ہے کہ چونکہ مجسٹریٹ کے دائرہ اختیار میں آنے والے جرائم نسبتاً کم سنگین نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے اسے وسیع اختیارات دیتے ہوئے یہ اجازت دی گئی کہ اگر الزام ہی سرے سے بے بنیاد ہو تو وہ ابتدائی مرحلہ پر ہی ملزم کو بری کر دے۔ اس کے برعکس، عدالتِ سیشن کے دائرہ اختیار میں آنے والے جرائم عموماً سنگین اور سزائیں سخت ہوتی ہیں، اس لیے استغاثہ کو مکمل موقع فراہم کرنا ضروری سمجھا گیا ہے، جیسا کہ دفعہ 265-F(2) ضابطہ فوجداری میں بھی اس امر کی تائید موجود ہے کہ استغاثہ اپنے گواہان پیش کرے۔

تاہم، اگر کسی بھی مرحلہ پر عدالتِ سیشن اس نتیجہ پر پہنچ جائے کہ ریکارڈ پر موجود شواہد اس نوعیت کے ہیں کہ مزید کسی بھی قسم کی شہادت ملزم کی سزا کا باعث نہیں بن سکتی، تو ایسی صورت میں دفعہ 265-K کے تحت ملزم کو بری کیا جا سکتا ہے۔

لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ دفعہ 249-A میں دو بنیادیں (الزام کا بے بنیاد ہونا یا سزا کا عدم امکان) موجود ہیں، جبکہ دفعہ 265-K میں صرف ایک بنیاد (سزا کا عدم امکان) کو تسلیم کیا گیا ہے، جو دونوں دفعات کے درمیان بنیادی اور نمایاں قانونی فرق کو واضح کرتا ہے۔

(حوالہ: فوجداری اپیل نمبر 18965/26، خالد محمود بنام ریاست، فیصلہ مؤرخہ 31-03-2026، لاہور ہائیکورٹ)

علم پھیلانا صدقہ جاریہ ہے۔ قانون سے آگاہی نہ صرف آپ کا حق ہے بلکہ آپ کی ذمہ داری بھی ہے۔ خود سیکھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ مزید قانونی معلومات کے لیے پیج کو فالو اور شیئر کریں۔

Noor Khalid
Advocate High Court
Serving Islamabad and surrounding areas
📞 Contact: 0305-5292488

If you are looking for a trusted, skilled, and top lawyer in Islamabad, NKM Advocates & Legal Consultants provide reliable legal representation and expert legal solutions.

Specialized in:
⚖ Family Law Cases
⚖ Civil Litigation
⚖ Criminal Defense
⚖ Property and Revenue Matters
⚖ Corporate Legal Advisory
⚖ Legal Documentation and Court Representation
⚖ Marriage, Divorce, and Custody Matters
⚖ Legal Consultation and Case Strategy

As an Advocate High Court, I am committed to delivering professional, result-oriented, and client-focused legal services with dedication to justice and law.

✅Best Lawyer in Islamabad
✅ Professional Legal Solutions
✅ Strong Court Advocacy
✅ Client Confidentiality
✅ Practical Legal Strategy

🌐 Available for legal consultation and case handling in Islamabad and nearby areas.

📞 Contact today for expert legal assistance: 0305-5292488

29/03/2026

Mst. Amara Waqas vs Muhammad Waqas Rasheed (W.P. No. 365/2023, Islamabad High Court)
اہم قانونی نکات، observations اور principles

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس Mohsin Akhtar Kayani نے اس مقدمہ میں بنیادی طور پر جہیز، ذاتی سامان، مشترکہ ازدواجی جائیداد (matrimonial property) اور بیوی کے مالی و غیر مالی کردار کے قانونی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ عدالت کے سامنے اصل تنازع یہ تھا کہ آیا بیوی اپنے جہیز کے متبادل معاوضہ، ذاتی سامان اور شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد میں حصہ لینے کی حق دار ہے یا نہیں، اور کیا اپیلٹ کورٹ نے ثبوت کا درست جائزہ لیا یا نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ اصولی طور پر جہیز اور بیوی کے ذاتی استعمال کی اشیاء اس کی مکمل ملکیت ہوتی ہیں اور اگر وہ اصل حالت میں واپس نہ کی جائیں تو ان کی متبادل مالیت کی وصولی کا حق حاصل ہوتا ہے، تاہم اس حق کے حصول کیلئے entrustment، existence اور retention کا ثبوت ضروری ہوتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اپیلٹ کورٹ نے محض اس بنیاد پر دعویٰ مسترد کیا کہ بیوی نے اپنے والدین کو بطور گواہ پیش نہیں کیا، جبکہ کیس کے مخصوص حالات میں یہ تقاضا لازمی نہیں تھا کیونکہ سرکاری ملازمت کرنے والی خواتین کو عموماً نقد رقم دی جاتی ہے تاکہ وہ بعد میں ضرورت کے مطابق گھریلو سامان خرید سکیں۔

عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ شوہر نے اپنے بیان میں خود یہ تسلیم کیا کہ اس نے گھر کے متعدد قیمتی سامان جیسے اے سی، فریج، واشنگ مشین اور دیگر سہولیات فراہم کیں، جس سے یہ inference نکلتا ہے کہ یہ سامان ازدواجی زندگی کے دوران مشترکہ استعمال اور ممکنہ مشترکہ وسائل سے حاصل کیا گیا، لہٰذا اپیلٹ کورٹ کا اس پہلو کو نظر انداز کرنا درست نہیں تھا۔ مزید یہ کہ بیوی کے بینک اکاؤنٹ سے ماہانہ تنخواہ نکلنے کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ وہ گھریلو اخراجات میں حصہ ڈال رہی تھی، جس سے مشترکہ مالی شراکت کا قرینہ پیدا ہوتا ہے۔

عدالت نے Dowry and Bridal Gifts (Restriction) Act, 1976 کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ جہیز صرف وہ سامان نہیں جو شادی کے وقت دیا جائے بلکہ شادی کے بعد بھی والدین یا خود بیوی کی طرف سے خریدا گیا سامان جہیز کے زمرے میں آ سکتا ہے اور اس پر بیوی کا مکمل حق برقرار رہتا ہے۔ عدالت نے متعدد عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جہیز کی موجودگی اور ملکیت ثابت کرنے کیلئے بیوی کا بیان بذات خود کافی ہو سکتا ہے کیونکہ فیملی کورٹ میں Qanun-e-Shahadat Order کا اطلاق سختی سے نہیں ہوتا۔

عدالت نے جہیز کی اشیاء کی مالیت کے تعین کیلئے اہم اصول بھی وضع کئے جن میں استعمال کی مدت، مارکیٹ ویلیو، اشیاء کی اوسط عمر، جذباتی اہمیت، افراط زر، اور آن لائن مارکیٹ پلیٹ فارمز جیسے OLX وغیرہ سے قیمتوں کا اندازہ لگانے کی اجازت شامل ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ عام حالات میں استعمال شدہ اشیاء کی قیمت کم از کم نصف مارکیٹ ویلیو سے کم نہیں ہونی چاہیے۔

اس مقدمہ میں عدالت نے پہلی مرتبہ پاکستان کے تناظر میں matrimonial property کے تصور پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر شادی کے دوران کوئی جائیداد مشترکہ کوششوں سے حاصل کی جائے تو اس میں بیوی کے غیر مالی کردار جیسے گھریلو ذمہ داریاں اور بچوں کی دیکھ بھال بھی قابلِ قدر شراکت شمار ہوں گی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ پاکستانی قانون میں ابھی تک شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد میں بیوی کو خودکار حصہ حاصل نہیں ہوتا، لیکن جہاں مالی یا غیر مالی شراکت ثابت ہو جائے وہاں عدالت equitable basis پر حق تسلیم کر سکتی ہے۔

اسلامی قانون کے حوالے سے عدالت نے قرار دیا کہ میاں بیوی علیحدہ قانونی شخصیات ہوتے ہیں اور شادی بذات خود ملکیت میں شرکت پیدا نہیں کرتی، تاہم شریعت میں partnership (شراکت) کے اصول کے تحت مشترکہ سرمایہ کاری یا شراکت کی صورت میں مشترکہ ملکیت تسلیم کی جا سکتی ہے۔ مزید برآں قرآن مجید کی آیات اور فقہی اصولوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ خواتین کے معاشی تحفظ کیلئے قانون سازی میں کوئی شرعی رکاوٹ موجود نہیں۔

عدالت نے تقابلی اسلامی ممالک جیسے ملائیشیا، انڈونیشیا، ایران، مصر اور ترکی کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ان ممالک میں شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد کو مشترکہ تصور کیا جاتا ہے اور غیر مالی شراکت کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ مغربی ممالک میں بھی equitable distribution کا اصول اپنایا جا چکا ہے۔

عدالت نے اس مقدمہ میں خاص طور پر گاڑی Suzuki Cultus کو matrimonial property قرار دیتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ اگر بیوی نے اس کی خریداری میں seed money فراہم کی ہو تو وہ اس میں حصہ لینے کی حق دار ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ کیس میں بیوی چونکہ پاکستان ایئر فورس میں ملازم تھی اور گھریلو اخراجات میں حصہ ڈال رہی تھی، اس لئے اسے کم از کم 50 فیصد تحفظ کا حق حاصل ہونا چاہیے تھا۔

تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آئینی اختیارِ سماعت (constitutional jurisdiction) کے تحت ہائی کورٹ براہ راست relief میں اضافہ نہیں کر سکتی، اس لئے ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے کر کیس دوبارہ فیملی کورٹ کو دو ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کیلئے واپس بھجوا دیا گیا۔

فیصلے کے آخر میں عدالت نے حکومت پاکستان کو سفارش کی کہ ایسی قانون سازی کی جائے جس کے تحت شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد کو equitable basis پر تقسیم کیا جا سکے، گھریلو خاتون کی خدمات کو قانونی طور پر معاشی شراکت تسلیم کیا جائے، اور نکاح نامہ میں ایسی شق شامل کی جائے جس کے ذریعے بیوی کو شادی کے بعد حاصل ہونے والی جائیداد میں حصہ دینے کی شرط درج کی جا سکے۔

Noor Khalid
Advocate High Court
Serving Islamabad and surrounding areas
📞 Contact: 0305-5292488

If you are looking for a trusted, skilled, and top lawyer in Islamabad, NKM Advocates & Legal Consultants provide reliable legal representation and expert legal solutions.

Specialized in:
⚖ Family Law Cases
⚖ Civil Litigation
⚖ Criminal Defense
⚖ Property and Revenue Matters
⚖ Corporate Legal Advisory
⚖ Legal Documentation and Court Representation
⚖ Marriage, Divorce, and Custody Matters
⚖ Legal Consultation and Case Strategy

As an Advocate High Court, I am committed to delivering professional, result-oriented, and client-focused legal services with dedication to justice and law.

✅Best Lawyer in Islamabad
✅ Professional Legal Solutions
✅ Strong Court Advocacy
✅ Client Confidentiality
✅ Practical Legal Strategy

🌐 Available for legal consultation and case handling in Islamabad and nearby areas.

📞 Contact today for expert legal assistance: 0305-5292488

Noor Khalid Advocate High Court Serving Islamabad and surrounding areas📞 Contact: 0305-5292488If you are looking for a t...
29/03/2026

Noor Khalid
Advocate High Court
Serving Islamabad and surrounding areas
📞 Contact: 0305-5292488

If you are looking for a trusted, skilled, and top lawyer in Islamabad, NKM Advocates & Legal Consultants provide reliable legal representation and expert legal solutions.

Specialized in:
⚖ Family Law Cases
⚖ Civil Litigation
⚖ Criminal Defense
⚖ Property and Revenue Matters
⚖ Corporate Legal Advisory
⚖ Legal Documentation and Court Representation
⚖ Marriage, Divorce, and Custody Matters
⚖ Legal Consultation and Case Strategy

As an Advocate High Court, I am committed to delivering professional, result-oriented, and client-focused legal services with dedication to justice and law.

✅Best Lawyer in Islamabad
✅ Professional Legal Solutions
✅ Strong Court Advocacy
✅ Client Confidentiality
✅ Practical Legal Strategy

🌐 Available for legal consultation and case handling in Islamabad and nearby areas.

📞 Contact today for expert legal assistance: 0305-5292488

Defamation دفعہ 499ت پ کے مطابق اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے بارے میں ایسا بیان کرے جس سے اس کی عزت یا شہرت کو نقصان پہ...
27/03/2026

Defamation
دفعہ 499ت پ کے مطابق اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے بارے میں ایسا بیان کرے جس سے اس کی عزت یا شہرت کو نقصان پہنچے، تو یہ ہتکِ عزت کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ بیان کسی بھی شکل میں ہو سکتا ہے، چاہے وہ زبانی ہو، تحریری ہو، اشارہ ہو یا تصویر وغیرہ۔ تاہم قانون نے اس میں کچھ استثنیات بھی رکھی ہیں، مثلاً اگر الزام سچ ہو اور اس کا مقصد عام فلاح یا نفعِ عامہ ہو، یا کسی عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ ہو، تو یہ جرم نہیں مانا جائے گا۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ مرحوم شخص، ادارہ یا کسی گروہ کے خلاف بھی ایسے الزامات ہتکِ عزت تصور کیے جا سکتے ہیں۔
دفعہ 500 میں ہتکِ عزت کے جرم پر سزا کی وضاحت کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص دفعہ 499 کے تحت قصوروار ثابت ہو جائے تو اسے دو سال تک قید، جرمانہ، یا دونوں کے ساتھ سزا ہو سکتی ہے۔
Noor Khalid
Advocate High Court
Serving Islamabad and surrounding areas
📞 Contact: 0305-5292488

If you are looking for a trusted, skilled, and top lawyer in Islamabad, NKM Advocates & Legal Consultants provide reliable legal representation and expert legal solutions.

Specialized in:
⚖ Family Law Cases
⚖ Civil Litigation
⚖ Criminal Defense
⚖ Property and Revenue Matters
⚖ Corporate Legal Advisory
⚖ Legal Documentation and Court Representation
⚖ Marriage, Divorce, and Custody Matters
⚖ Legal Consultation and Case Strategy

As an Advocate High Court, I am committed to delivering professional, result-oriented, and client-focused legal services with dedication to justice and law.

✅Best Lawyer in Islamabad
✅ Professional Legal Solutions
✅ Strong Court Advocacy
✅ Client Confidentiality
✅ Practical Legal Strategy

🌐 Available for legal consultation and case handling in Islamabad and nearby areas.

📞 Contact today for expert legal assistance: 0305-5292488

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حالیہ فیصلہ (SCMR 2016 36) میں واضح کیا کہ مخصوص ادائیگی کا ریلیف ایک صوابدیدی (discretionary) ...
23/03/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حالیہ فیصلہ (SCMR 2016 36) میں واضح کیا کہ مخصوص ادائیگی کا ریلیف ایک صوابدیدی (discretionary) اور equitable relief ہے، جو صرف اسی فریق کو دیا جا سکتا ہے جو عدالت کے سامنے مکمل دیانتداری اور درست بیانی کے ساتھ آئے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر مدعی بیعانہ کی ادائیگی ثابت نہ کر سکے، یا دعویٰ میں غلط بیان کرے، یا معاہدہ کی شرائط پر مقررہ مدت میں عمل نہ کرے تو وہ مخصوص ادائیگی کے ریلیف کا مستحق نہیں رہتا۔

مزید برآں عدالت نے قرار دیا کہ جہاں معاہدہ میں واضح طور پر یہ درج ہو کہ مقررہ مدت میں ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں معاہدہ ختم تصور ہوگا، وہاں وقت معاہدہ کی بنیادی شرط (time is essence of contract) سمجھا جائے گا۔ ایسی صورت میں مقررہ مدت کے اندر ذمہ داری پوری نہ کرنے والا خریدار مخصوص ادائیگی کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ تجارتی نوعیت کے معاملات میں خصوصاً غیر منقولہ جائیداد کے لین دین میں جہاں قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہوں وہاں عدالت مخصوص ادائیگی کا حکم جاری کرتے وقت مزید احتیاط سے کام لیتی ہے تاکہ کسی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ مخصوص ادائیگی کے مقدمات میں عدالت معاہدہ کی صرف لفظی تعبیر نہیں بلکہ فریقین کی نیت، حالات اور معاہدہ کی مجموعی نوعیت کو مدنظر رکھتی ہے۔ تاہم جہاں معاہدہ میں وقت کو واضح طور پر بنیادی شرط بنایا گیا ہو وہاں عدالت اس کے برعکس کوئی مفروضہ قائم نہیں کر سکتی

حکم (ORDER)

جسٹس شکیل احمد — یہ اپیل لاہور ہائی کورٹ لاہور (ہائی کورٹ) کی جانب سے سول ریویژن نمبر 2220 آف 2016 میں صادر کردہ فیصلہ و ڈگری مورخہ 17.10.2018 کے خلاف دائر کی گئی ہے، جس کے ذریعے ماتحت عدالتوں کے متفقہ فیصلوں اور ڈگریوں کو کالعدم قرار دیا گیا۔ جبکہ اپیل کنندہ کا دعویٰ خارج کرتے ہوئے اسے یہ حق دیا گیا کہ وہ ٹرائل کورٹ کے عبوری حکم مورخہ 07.07.2011 کی تعمیل میں جمع کروائی گئی رقم مبلغ 7,00,000/- روپے واپس حاصل کرے۔

2. موجودہ اپیل میں تنازع مورخہ 17.02.2009 کے ایک معاہدہ کی مخصوص تعمیل کے دعویٰ سے پیدا ہوا۔ دعویٰ کے مندرجات کے مطابق جواب دہندگان (جنہیں آئندہ فروخت کنندگان کہا جائے گا) نے ایک دکان (جس کی تفصیل دعویٰ کے عنوان میں دی گئی ہے) اپیل کنندہ (جسے آئندہ خریدار کہا جائے گا) کو کل مبلغ 8,00,000/- روپے میں فروخت کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ طے پایا کہ خریدار 31.10.2010 تک مکمل رقم ادا کرے گا، جس کے بعد اس کے حق میں بیع نامہ تحریر کیا جائے گا۔ بصورت دیگر، خریدار، جو پہلے ہی متنازعہ دکان پر بطور کرایہ دار قابض تھا، اس کا قبضہ فروخت کنندگان کے حوالے کر دے گا۔ خریدار کا دعویٰ تھا کہ اس نے دو اقساط میں مبلغ 2,00,000/- روپے ادا کیے، لیکن فروخت کنندگان نے معاملہ کو تاخیر کا شکار رکھا اور بالآخر بیع نامہ تحریر کرنے سے انکار کر دیا۔ ٹرائل کورٹ نے مورخہ 26.11.2013 کو دعویٰ اس شرط کے ساتھ منظور کیا کہ 31.10.2010 سے 8 فیصد سالانہ منافع کے ساتھ مبلغ 8,00,000/- روپے جمع کروائے جائیں۔ اس سے غیر مطمئن ہو کر جواب دہندگان نے اپیل دائر کی، جو مورخہ 16.03.2016 کے فیصلہ و ڈگری کے ذریعے خارج کر دی گئی۔ ماتحت عدالتوں کے ان فیصلوں اور ڈگریوں سے غیر مطمئن ہو کر جواب دہندگان نے ہائی کورٹ کے روبرو سول ریویژن درخواست دائر کی، جو کہ مورخہ 17.10.2018 کے زیرِ اعتراض فیصلہ کے ذریعے منظور کر لی گئی، جس کے نتیجہ میں ماتحت دونوں عدالتوں کے فیصلے اور ڈگریاں کالعدم قرار دے دی گئیں اور اپیل کنندہ کا دعویٰ خارج کر دیا گیا۔ تاہم اسے یہ حق دیا گیا کہ وہ ٹرائل کورٹ کے عبوری حکم مورخہ 07.07.2011 کی تعمیل میں جمع کروائی گئی رقم مبلغ 7,00,000/- روپے واپس حاصل کرے۔ چنانچہ یہ اپیل دائر کی گئی۔

3. دونوں جانب کے دلائل سنے گئے اور ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔

4. ریکارڈ کا جائزہ لینے پر ہم اس رائے کے ہیں کہ موجودہ معاملہ دو بنیادی سوالات کے گرد گھومتا ہے:
(i) آیا خریدار نے دعویٰ میں اہم حقائق کو غلط طور پر پیش کیا؛ اور
(ii) آیا وقت معاہدہ کی بنیادی شرط تھا۔
ان سوالات کو مورخہ 17.02.2009 کے معاہدہ، خریدار کے دعویٰ کے مندرجات، خصوصاً دعویٰ کے پیرا نمبر 2، اور بطور PW-1 اس کے بیان کی روشنی میں بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

5. یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مورخہ 17.02.2009 کو تحریر کردہ فروخت کے معاہدہ کے ذریعے فروخت کنندگان نے متنازعہ دکان اس میں درج شرائط و ضوابط کے مطابق فروخت کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ دعویٰ کے پیرا نمبر 2 میں خریدار نے حسبِ ذیل مؤقف اختیار کیا:
مندرجہ بالا کے سادہ مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خریدار نے ابتدا میں مبلغ 1,00,000/- روپے فروخت کنندگان کو ادا کیے اور پھر ان کے مطالبہ پر متنازعہ دکان کی فرد کی نقل حاصل کرنے کے لیے مزید مبلغ 1,00,000/- روپے ادا کیے۔ اس طرح دعویٰ کے مطابق مبلغ 2,00,000/- روپے ادا کیے گئے۔ اس کے برعکس، جب وہ بطور PW-1 گواہ کے کٹہرے میں پیش ہوا تو اس نے حسبِ ذیل بیان دیا:
6. خریدار کے دعویٰ اور اس کی شہادت کا تقابل کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ رقم فروخت کنندگان کو بطور بیعانہ ادا نہیں کی گئی۔ حتیٰ کہ فروخت کا معاہدہ (Ex.P1) بھی اس طرح کی کسی ادائیگی کے بارے میں مکمل طور پر خاموش ہے۔ جرح کے دوران خریدار نے تسلیم کیا کہ اس نے فروخت کنندگان کو کوئی بیعانہ ادا نہیں کیا، جو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اس نے بیعانہ کی ادائیگی کے بارے میں دعویٰ میں غلط بیان کیا تھا۔ اس مرحلہ پر اس مسلمہ اصولِ انصاف کو دہرانا مناسب ہے کہ جو شخص انصاف کا طالب ہو اسے صاف ہاتھوں کے ساتھ عدالت میں آنا چاہیے۔ اس ضمن میں عدالت نے جسٹس خورشید کے مقدمہ میں بیان کردہ مذکورہ بالا اصول کو لاگو کرتے ہوئے واضح طور پر قرار دیا کہ ایسے فریق کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا جو غیر صاف ہاتھوں کے ساتھ عدالت سے رجوع کرے یا غیر اخلاقی یا غیر مستحق فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ لہٰذا ہائی کورٹ نے درست طور پر مشاہدہ کیا کہ خریدار صاف ہاتھوں کے ساتھ عدالت میں نہیں آیا تھا اور اس لیے وہ صوابدیدی ریلیف کا مستحق نہیں تھا۔

7. یہ بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ فروخت کے معاہدہ میں 31.10.2010 کو لین دین کی تکمیل کے لیے آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ مزید یہ کہ اس میں یہ بھی درج تھا کہ خریدار کی جانب سے خلاف ورزی کی صورت میں معاہدہ منسوخ تصور ہو گا۔ یہ بھی تسلیم شدہ امر ہے کہ معاہدہ مورخہ 17.02.2009 کو تحریر کیا گیا تھا، جس کے ذریعے خریدار کو مکمل فروختی رقم 31.10.2010 تک ادا کر کے لین دین مکمل کرنے کے لیے بیس ماہ سے زائد کا وقت دیا گیا تھا۔ مقررہ مدت کے اندر خریدار کی جانب سے اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنا اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا فروخت کنندگان یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ چونکہ وقت معاہدہ کی بنیادی شرط تھا، اس لیے عدالت ایسے خریدار کے حق میں مخصوص تعمیل کا حکم جاری نہیں کر سکتی جس نے طے شدہ مدت کے اندر معاہدہ کے تحت اپنی ذمہ داری پوری نہ کی ہو۔

8. یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ مخصوص تعمیل کے مقدمات میں، انصاف کے اصول جو فریقین کے حقوق کو منظم کرتے ہیں، معاہدہ کی صریح شرائط کی سختی سے پابندی نہیں کرتے۔ بلکہ عدالت معاہدہ کی اصل روح کا جائزہ لیتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا فریقین کی نیت یہ تھی کہ تعمیل ایک مخصوص مدت کے اندر مکمل کی جائے اور آیا حقیقتاً فریقین کی نیت یہ تھی کہ لین دین مناسب مدت کے اندر مکمل ہو۔

9. موجودہ مقدمہ میں معاہدہ کی تکمیل سے قبل اس کی شرائط دونوں فریقین کے درمیان زیر بحث آئیں اور دونوں کو پڑھ کر سنائی گئیں۔ خریدار نے رضامندی سے معاہدہ میں مقررہ مدت کے اندر کلیئرنس حاصل کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔ اس حکم میں پہلے بیان کی گئی معاہدہ کی شرائط کا سادہ مطالعہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ وقت معاہدہ کی بنیادی شرط تھا، اور یہ بات دونوں فریقین سمجھتے تھے، خصوصاً اس وجہ سے کہ خریدار کی جانب سے معاہدہ کی شرائط کی عدم تعمیل کی صورت میں نتائج بھی مذکورہ معاہدہ میں واضح طور پر درج تھے۔ لہٰذا خریدار کی ایسی کوتاہی اس کے دعویٰ کے لیے مہلک ثابت ہوئی۔ اس ضمن میں فضل الرحمن کے مقدمہ پر انحصار کیا جا سکتا ہے، جس میں اس عدالت نے قرار دیا کہ:

(یہاں اصل فیصلہ میں انگریزی اقتباس بطور نظیر درج ہے — اسے جوں کا توں برقرار رکھا گیا ہے کیونکہ عدالت نے اسے بطور حوالہ نقل کیا ہے)

10. موجودہ مقدمہ واضح طور پر ایک تجارتی لین دین سے متعلق معاہدہ سے تعلق رکھتا ہے اور عدالت اس حقیقت کا عدالتی نوٹس لے سکتی ہے کہ جائیداد کی قیمت مسلسل بڑھ رہی تھی۔ معاہدہ کی شرطوں سے ظاہر ہونے والی فریقین کی واضح نیت یہ تھی کہ وقت کو معاہدہ کی بنیادی شرط تصور کیا جائے۔ ایسے حالات میں خریدار کے حق میں اختیار استعمال کرنا جبکہ جائیداد کی نوعیت یا دیگر حالات اس اختیار کے استعمال کو ناانصافی کا سبب بنا سکتے ہوں، انصاف کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہوگا۔

11. مذکورہ بالا اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت فریقین سے مختلف نیت منسوب نہیں کر سکتی اور ایسے خریدار کے کہنے پر معاہدہ کی مخصوص تعمیل کا حکم جاری نہیں کر سکتی جس نے مقررہ مدت کے اندر معاہدہ کے تحت اپنی ذمہ داری پوری نہ کی ہو۔ ماتحت دونوں عدالتیں مقدمہ کے مذکورہ بالا قانونی اور حقائق کے پہلوؤں کو مدنظر رکھنے میں ناکام رہیں اور اس طرح اپیل کنندہ کے دعویٰ کو منظور کرتے ہوئے غلط نتیجہ پر پہنچیں، تاہم ہائی کورٹ نے درست طور پر ان پہلوؤں کا نوٹس لیتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلے اور ڈگریاں کالعدم قرار دیں۔

12. مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر ہم اس اپیل میں کوئی وزن نہیں پاتے؛ چنانچہ اسے خارج کیا جاتا ہے۔ اخراجات کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا جاتا۔

Noor Khalid
Advocate High Court
Serving Islamabad and surrounding areas
📞 Contact: 0305-5292488

If you are looking for a trusted, skilled, and top lawyer in Islamabad, NKM Advocates & Legal Consultants provide reliable legal representation and expert legal solutions.

Specialized in:
⚖ Family Law Cases
⚖ Civil Litigation
⚖ Criminal Defense
⚖ Property and Revenue Matters
⚖ Corporate Legal Advisory
⚖ Legal Documentation and Court Representation
⚖ Marriage, Divorce, and Custody Matters
⚖ Legal Consultation and Case Strategy

As an Advocate High Court, I am committed to delivering professional, result-oriented, and client-focused legal services with dedication to justice and law.

✅Best Lawyer in Islamabad
✅ Professional Legal Solutions
✅ Strong Court Advocacy
✅ Client Confidentiality
✅ Practical Legal Strategy

🌐 Available for legal consultation and case handling in Islamabad and nearby areas.

📞 Contact today for expert legal assistance: 0305-5292488

خلع کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی اور قانونی طور پر وہ بغیر حلالہ کے بھی دوبارہ نکاح ...
23/03/2026

خلع کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی اور قانونی طور پر وہ بغیر حلالہ کے بھی دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، کیونکہ خلع کی صورت میں نکاح ختم ہو جاتا ہے اور اگر عدت مکمل ہونے کے بعد دونوں کی رضامندی ہو تو نیا نکاح کر کے دوبارہ ازدواجی زندگی شروع کی جا سکتی ہے۔ اس عمل کے لیے حلالہ ضروری نہیں ہوتا بلکہ باہمی رضامندی، نیا نکاح اور گواہوں کی موجودگی میں شرعی طریقہ کار کے مطابق نکاح دوبارہ کیا جا سکتا ہے۔

After Khula, if husband and wife wish to reconcile and live together again, they can remarry through a new Nikah without Halala. In Islamic and legal terms, Khula dissolves the marriage, and once the waiting period (iddat) is completed, both parties can remarry each other with mutual consent through a fresh Nikah in the presence of witnesses. Halala is not required in this situation; a new Nikah contract is sufficient to restart the marital relationship.

Khula law Pakistan, remarriage after khula, khula and halala difference, new nikah after khula, reconciliation after khula, Islamic family law Pakistan, Muslim marriage law, legal advice khula Pakistan

Noor Khalid
Advocate High Court
Serving Islamabad and surrounding areas
📞 Contact: 0305-5292488

If you are looking for a trusted, skilled, and top lawyer in Islamabad, NKM Advocates & Legal Consultants provide reliable legal representation and expert legal solutions.

Specialized in:
⚖ Family Law Cases
⚖ Civil Litigation
⚖ Criminal Defense
⚖ Property and Revenue Matters
⚖ Corporate Legal Advisory
⚖ Legal Documentation and Court Representation
⚖ Marriage, Divorce, and Custody Matters
⚖ Legal Consultation and Case Strategy

As an Advocate High Court, I am committed to delivering professional, result-oriented, and client-focused legal services with dedication to justice and law.

✅Best Lawyer in Islamabad
✅ Professional Legal Solutions
✅ Strong Court Advocacy
✅ Client Confidentiality
✅ Practical Legal Strategy

🌐 Available for legal consultation and case handling in Islamabad and nearby areas.

📞 Contact today for expert legal assistance: 0305-5292488


Address

Islamabad
051

Opening Hours

Monday 09:00 - 22:00
Tuesday 09:00 - 22:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 22:00
Friday 09:00 - 22:00
Saturday 09:00 - 22:00
Sunday 11:00 - 14:00

Telephone

+923055292488

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NKM Advocates & Legal Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to NKM Advocates & Legal Consultants:

Share

Category