Advocate Awais Haider Awan

Advocate Awais Haider Awan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Advocate Awais Haider Awan, Lawyer & Law Firm, Office No. F1, 1st Floor, Elaf Arcade, Opposite Family Courts(Old Islamabad High court), Street 35, G-10/1, Islamabad.

Advocate High Court ⚖️
Experienced Legal Practitioner Specialized in Constitutional, Civil,Criminal, Cooperative & Family Laws | Committed to Justice and Client Advocacy in Islamabad Courts.

14 August Independence Day Celebrations.Team THE SUITS.Happy Independence Day 🇵🇰Pakistan Zindabad ✊
14/08/2025

14 August Independence Day Celebrations.
Team THE SUITS.

Happy Independence Day 🇵🇰
Pakistan Zindabad ✊

26 ویں آئینی ترامیم میں شامل کردہ آرٹیکلز👇  26 ویں آئینی ترامیم میں شامل کیے گئے آرٹیکلز کو سینٹ میں پیش کردیا گیا, ...
20/10/2024

26 ویں آئینی ترامیم میں شامل کردہ آرٹیکلز👇

26 ویں آئینی ترامیم میں شامل کیے گئے آرٹیکلز کو سینٹ میں پیش کردیا گیا, جسے سینٹ کی جانب سے منظور کرلیا گیا ۔

آرٹیکل38
آرٹیکل38 میں ترمیم منظوری کیلئے سینٹ میں پیش کردی گئی، ترمیم جے یو آئی ایف کے کامران مرتضیٰ نے پیش کی ، حکومت نے جے یو آئی ف کی ترمیم کی حمایت کی۔ ترمیم کے مطابق آرٹیکل 38 کے پیراگراف ایف میں ترمیم کے مطابق سودی نظام کاخاتمہ جتناجلدی ممکن ہوکیاجائے گا۔ آرٹیکل 38میں ترمیم سینیٹ سے ہوگئی۔
26 ویں ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظورہو گئی ہے

آرٹیکل 48
آرٹیکل 48میں ترمیم سینٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، جس کے مطابق وزیراعظم اورکابینہ کی جانب سے صدر کو بھیجی جانیوالی کسی بھی ایڈوائس پر کوئی ادارہ کوئی ٹریبونل اورکوئی اتھارٹی کارروائی نہیں کرسکے گی. سینیٹ سے آرٹیکل 48میں ترمیم کثرت رائے سے منظور کرلی گئی ۔

آرٹیکل 81
آرٹیکل 81میں ترمیم سینٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ آرٹیکل 81میں آ رٹیکل 81میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اور سپریم جوڈیشل کونسل شامل کردیئے گئے۔ سینیٹ سے آرٹیکل 81میں ترمیم کثرت رائے سے منظور کی گئی ۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 175اے سینیٹ سے کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔

آرٹیکل 175A
آرٹیکل 175Aمیں ترمیم سینٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، آرٹیکل 175Aمیں ترمیم کے تحت سپریم کورٹ ہائی کورٹ ججز تقرری کیلئے کمیشن کاقیام عمل میں لایاجائے گا، ججز تقرری سے متعلق کمیشن 13ممبران پر مشتمل ہوگی، چیف جسٹس آف پاکستان کمیشن کے سربراہ ہوں گے، چارسنیئرججز وفاقی وزیرقانون اٹارنی جنرل اور سنیئروکیل پاکستان بارکونسل کمیشن کا حصہ ہوں گے۔ کمیشن میں دواراکین اسمبلی اور دواراکین سینٹ شامل ہوں گے جو حکومت اوراپوزیشن سے لئے جائیں گے، قومی اسمبلی اورسینٹ کے قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈرممبران کونامزدکریں گے۔

آرٹیکل 175 اے کی شق3اے کے تحت 12ممبران پر مشتمل خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں قومی اسمبلی سے8جبکہ سینیٹ سے چار اراکین کو لیا جائے گا، قومی اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں تمام ممبران سینیٹ سے ہوں گے، خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کو متناسب نمائندگی ہوگی۔ پارلیمانی لیڈر خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں ممبران اسپیکر قور چیئرمین سینیٹ کو دینے کے مجاز ہوگی ، اسپیکر قومی اسمبلی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جا ری کرینگے ۔

ترمیم کے تحت چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے 14روز قبل سنیارٹی لسٹ فراہم کرنے کے پابند ہونگے، چیف جسٹس آف پاکستان خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو سنئیر ترین ججز کے نام بھجوائیں گے۔ پارلیمانی کمیٹی تین ناموں میں سے ایک کاانتخاب کرکے وزیراعظم کو ارسال کرے گی، وزیراعظم چیف جسٹس کی تقرری کیلئے نام صدرکو ارسال کریں گے۔ سنیارٹی لسٹ میں موجود نامز د ججز کے انکار پر پارلیمانی کمیٹی اگلے سنیئر ترین جج کے نام پر غور کریگی۔ پارلیمانی کمیٹی نامزدگیوں پر اس وقت تک جائزہ لیگی جب تک چیف جسٹس کا تقرر نہ ہوجائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے منظوری کے بعد چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے تین روز قبل نام پارلیمانی کمیٹی کو بجھوانے نے پابند ہونگے ۔
ترمیم کے مطابق خصوصی پارلیمانی کا اجلاس ان کیمرہ ہوگا ۔قومی اسمبلی تحلیل ہوجانے کی صورت میں 2اراکین سینٹ سے لئے جائیں گے۔ آرٹیکل 68کا اطلاق چیف جسٹس تقرری سے متعلق قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی پروسیڈنگ پر نہیں ہوگا۔ سپریم جودیشل کمیشن کو ہائی کورٹ کے ججز کی سالانہ بنیاد وں پر کارگردگی کا جائزہ لینے کا اختیار ہوگا ۔ ہائی کورٹ جج کی تقرری غیر تسلی بخش ہونے پر کمیشن جج کو کارگردگی بہتر بنانے ٹائم فریم دیگا ۔ دی گئی ٹائم فریم میں جج کی کارگردگی دوبارہ غیر تسلی بخش ہونے پر رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بجھوائی جائیگی ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ ، چیف جسٹس ہائی کورٹس یا کمیشن میں موجود ججز کی غیر تسلی بخش کارگردگی کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل دیکھے گی ۔ سپریم کورٹ اورہائی کورٹ کے جج کو مذکورہ ترمیم کے تحت ہٹایا جا سکے گا ۔ کونسل جسمانی یا ذہنی معذوری ،غلط برتاو، اور دفتری امور بہتر انجام نہ دینے پر کمیشن کی رپورٹ یا صدر کی درخواست پر انکوائری کریگا ۔ سپریم جوڈیشل کونسل بنا تاخیر کے6ماہ کے اندرمتعلقہ ججز سے متعلق انکوائری مکمل کرنے کا پابندی ہوگا ۔

جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں فرائض کی انجام دہی میں قاصر ، بد تمیزی یا غیر تسلی بخش کاگردگی کے مرتکب ہونے کا صدر مملکت کو کاروائی کا اختیار ہوگا۔ صدر مملکت جوڈیشل کونسل کی رپورٹ پر سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے کسی بھی جج عہدے سے ہٹانے کا اختیار ہوگا ۔ ججز تقرری سے متعلق کمیشن کا اجلاس ایک تہائی ممبران کی درخواست پر بلایاجاسکے گا۔ چیئرمین کمیشن کسی بھی درخواست پر پندرہ دن کے اندرکمیشن کا اجلاس بلانے کا پابند ہوگا

آرٹیکل 177
آرٹیکل 177میں ترمیم سینیٹ میں پیش کی گئی، جسے منظور کرلیا گیا۔ آرٹیکل177میں ترمیم کے تحت دوہری شہریت کا حامل کوئی بھی شخص سپریم کورٹ کا جج نہیں بن سکے گا ، آرٹیکل177میں ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کاجج بننے کیلئے ہائی کورٹ میں بطورجج پانچ سال کام کرنے کی حدمقرر کی گئی، کسی بھی وکیل کا سپریم کورٹ جج بننے کیلئے بطور وکیل 15سال کی پریکٹس لازم ہوگی۔

آرٹیکل179
آرٹیکل179میں ترمیم سینٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، آرٹیکل179کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر تین سال کیلئے ہوگا،چیف جسٹس آف پاکستان 65سال کی عمرمیں ریٹائرڈ ہوں گے۔ آرٹیکل 179میں ترمیم بھی منظور کرلی گئی ۔

آرٹیکل184
آرٹیکل184 میں ترمیم سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کی گئی، آرٹیکل 184کے تحت سپریم کورٹ کا ازخودنوٹس کا اختیار ختم کردیا گیا، آرٹیکل 184کے تحت سپریم کورٹ دائر درخواست کے مندرجات یا اختیارات سے ماورااز خود کوئی فیصلہ یا ہدایت نہیں دیگا ۔ آرٹیکل 184 میں ترمیم منظور کرلی گئی۔

آرٹیکل 186
آرٹیکل 186 اے منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کردیا گیا، جس کے تحت ہائی کورٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی فیس 50ہز ار سے بڑھا کر10لاکھ کر دی گئی ۔ آرٹیکل 186میں ترمیم کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

آرٹیکل187
آرٹیکل187منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کردی گئی، آرٹیکل187کے تحت سپریم کورٹ کے زیر اختیار اور استعمال کردہ دائرہ اختیار کی پیروری کے علاوہ کوئی حکم منظور نہیں کیا جائیگا ۔ آرٹیکل 187 اضافی ترامیم کے ساتھ منظور کرلی گئی ۔

آ رٹیکل 191اے
آئین میں آ رٹیکل 191اے شامل کرنے کی ترمیم منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کردی گئی، آرٹیکل191کے تحت آئینی بنچز کی تشکیل عمل میں لائی جائیگی، سپریم کورٹ میں ایک سے زیا دہ آئینی بینچز کی تشکیل کی جا سکے گی، سپریم جوڈیشل کونسل آئینی بنچز کے ججز اور انکی مدت کا تعین کرے گی، آئینی بنچز میں تمام صوبوں کے ججز کی مساوی نمائندگی ہو گی ۔ اس شق کے تحت کوئی حکم سپریم کورٹ کے زیراختیار اوراستعمال کردہ کسی دائرہ اختیار کی پیروی کے علاوہ منظور نہیں کیاجائے گا، آئینی بینچ کے علاوہ سپریم کورٹ کاکوئی بنچ درج ذیل دائرہ اختیار کو استعمال نہیں کرے گا، آئینی بنچ کم سے کم پانچ ججز سے کم ججز پر مشتمل ہوگا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے تین سنیئر ججز آئینی بینچزکی تشکیل دینگے ۔ترمیم کے تحت زیرالتوا اور زیر سماعت تمام آئینی مقدمات ، نظرثانی اور اپیلیں آئینی بنچز کو منتقل کیے جائیں گے ۔ آرٹیکل 199اے میں ترمیم سینیٹ سے منظور کرلی گئی۔

آرٹیکل193
آرٹیکل193میں ترمیم منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کی گئی، جس کے تحت دوہری شہریت کا حامل کوئی بھی شخص ہائی کورٹ کاجج نہیں بن سکتا، آئینی ترمیم میں ہائی کورٹ جج کیلئے40سال عمر، 10 سال تجربے کی حد مقرر کردی گئی ہے ۔ آرٹیکل 193 میں ترمیم سینیٹ سے منظور کرلی گئی ۔

آرٹیکل 199
آرٹیکل 199میں ترمیم سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کردی گئی، جس کے تحت ہائی کورٹ دائر درخواست کے مندرجات سے باہر ازخود کوئی حکم یا ہدایت کا اختیار نہیں ہوگا ۔ آرٹیکل 199میں ترمیم سینیٹ سے منظور کرلی گئی ۔

آرٹیکل209
آرٹیکل209میں ترمیم سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کردی گئی ، آرٹیکل209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے گا، سپریم جوڈیشل کونسل 5ممبران پر مشتمل ہوگی ۔ چیف جسٹس آف پاکستان سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراء ہونگے، جبکہ سپریم کورٹ کے دو سنیئر جج،اور ہائی کورٹس کے دو سنیئر ججز کونسل کا حصہ ہونگے ۔ آرٹیکل 209میں ترمیم سینیٹ سے منظور کرلی گئی ۔

اسلام آبار بار کونسل ،اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور اسلام آباد بار  کی جانب سے آئین پاکستان کے تحفظ ، قانون کی حکمرانی یق...
07/10/2024

اسلام آبار بار کونسل ،اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور اسلام آباد بار کی جانب سے آئین پاکستان کے تحفظ ، قانون کی حکمرانی یقینی بنانے، عدلیہ کی آزادی اور حکومت کی جانب سے لائی جانے والی آئینی ترمیم کے خلاف منعقد کی گئی آل پاکستان وکلاء کنونشن میں شرکت۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍﷺجشن ظہور پُرنور آقائے دوجہاں، امام انبیاء، رحمت العالمین ، حضرت محمدﷺ۔۔ ...
16/09/2024

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍﷺ
جشن ظہور پُرنور آقائے دوجہاں، امام انبیاء، رحمت العالمین ، حضرت محمدﷺ۔۔
جشنِ عید میلاد النبی ﷺ مبارک ہو۔۔۔💐

پی ٹی آئی کے آزاد اراکین اور مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ۔۔۔الیکشن کمیشن کے سارے ابہام اور شک دور کر دیے...
14/09/2024

پی ٹی آئی کے آزاد اراکین اور مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ۔۔۔
الیکشن کمیشن کے سارے ابہام اور شک دور کر دیے گئے۔

‏جسٹس منصور علی شاہ سمیت 7 ججز نے ابہام دور کردیا، پی ٹی آئی کا کوئی رُکن قومی اور صوبائی اسمبلی میں آزاد نہیں ہوگا، وہ پاکستان تحریک انصاف کا حصہ سمجھا جائے گا۔

فیصلے میں ایک بار پھر کہا گیا کہ تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت تھی اور ہے۔۔۔

LHC Ruling Sets New Precedent on Filing Suits Under Order ###VIIorLHC Sets Groundbreaking Precedent on Cheque Misuse in ...
13/09/2024

LHC Ruling Sets New Precedent on Filing Suits Under Order ###VII
or
LHC Sets Groundbreaking Precedent on Cheque Misuse in Summary Suits

In a pivotal ruling, the Divisional Bench of the Lahore High Court's Rawalpindi Bench, comprising Justice Muhammad Sajid Mehmood Sethi and Justice Jawad Hassan, ruled that no suit under Order ###VII of the Code of Civil Procedure (CPC), 1908 can be filed without a clear agreement; whether written or oral, express or implied, between the parties. Justice Jawad Hassan, authoring the Judgment, clarified that Order ###VII Rule 2 of the CPC only permits filing a summary suit based on bills of exchange, hundies, or promissory notes.

The judgment further emphasized that a cheque is a negotiable instrument under the Negotiable Instruments Act, 1881, but without "negotiation of the parties on an agreement," such a suit cannot be initiated. This ruling addresses the common misuse of Order ###VII suits in Pakistan, where cheques and other negotiable instruments are often coerced from weaker parties and later used to exert pressure or cause harm.

The case in question, reported as 2024 LHC 3895, involved an appellant who was an employee of Maple Leaf Cement Factory Limited. Allegedly accused of misappropriating funds, the appellant issued a cheque for Rs. 70,000,000 during the proceedings. The Court noted that the respondent presented only a copy of the F.I.R. and the cheque, without any accompanying agreement or proof of a contractual relationship.

Citing Section 6 of the Negotiable Instruments Act, which defines a cheque as "a bill of exchange drawn on a specified banker and not expressed to be payable otherwise than on demand," the court reiterated that a suit under Order ###VII must be supported by a negotiable instrument arising from a contractual relationship; whether express, implied, written, or oral.

The High Court accepted the appellant's leave to defend, setting a significant precedent that will curb the misuse of cheques in legal disputes. This decision is expected to offer protection to vulnerable workers and individuals, ensuring they are not subjected to undue harassment through coerced cheques.

This ruling reinforces the need for a valid agreement as a condition precedent for filing such suits, offering relief to many and promoting fairness in Pakistan's legal system

اللًّهُــمَ صَّــلِ عَــلَى مُحَمَّــدٍ وَ آلِ مُحَمَّــَد
05/09/2024

اللًّهُــمَ صَّــلِ عَــلَى مُحَمَّــدٍ وَ آلِ مُحَمَّــَد

24/08/2024

PLD 2024 SC 942
سٹیچوٹری گراؤنڈ پر ضمانت کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک انتہائی اہم اور تاریخ ساز فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

روحان احمد نامی ملزم کے خلاف چھبیس مئ دو ہزار بیس کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو پچانوے بی ، دو سو اٹھانوے سی ، ایک سو بیس بی ، ایک سو نو، چونتیس اور پیکا ایکٹ کے دفعہ گیارہ کے تحت اس وجہ سے ایف آئی آر کا اندراج کیا جاتا ہے کہ ملزم روحان پر یہ الزام ہوتا ہے کہ اس نے شکایت کنندہ کو نہ صرف موبائل ایس ایم ایس بلکہ واٹسپ پر بھی گستاخانہ مواد بھیجا بلکہ بعد میں ایف آئی اے کی جانب سے چھاپے کے دوران گستاخانہ مواد برآمد بھی ہوا۔ ایف آئی اے کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ملزم کو چھبیس مئ دو ہزار بیس کو ہی گرفتار کر دیا جاتا ہے جس کے خلاف ملزم عدالت سے رجوع کر کے درخواست ضمانت دائر کر دیتا ہے لیکن ملزم کی یہ درخواست عدالت کی جانب سے چھبیس اگست دو ہزار اکیس کو خارج کر دیتی ہے جس کے بعد ملزم عدالت عالیہ لاہور سے نہ صرف میرٹ پر بلکہ سٹیچوٹری گراؤنڈ پر بھی ضمانت کی استدعا کرتا ہے لیکن بائیس اگست دو ہزار تئیس کو ملزم کی یہ درخواست بھی کر دی جاتی ہے۔ عدالت عالیہ لاہور سے درخواست ضمانت خارج ہونے کے بعد ملزم کی جانب سے بدیں وجہ سپریم کورٹ میں لیو ٹو اپیل کی درخواست دائر کی جاتی ہے جس کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ بشمول جسٹس سید منصور علی شاہ صاحب ، جسٹس جمال مندوخیل صاحب اور جسٹس اطہر من اللہ صاحب کے سامنے مقرر کیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کا آغاز اس نکتے سے کیا ہے کہ ملزم کو پولیس کی جانب چھبیس مئ دو ہزار بیس کو گرفتار کیا گیا لیکن شومئی قسمت کہ ٹرائل کے دوران ملزم کی جانب سے ضابطہ فوجداری کے دفعہ دو سو پینسٹھ-سی کے تحت ایک درخواست جمع کی جاتی ہے کہ مجھے وہ تمام کاغذات مہیا کئے جائیں جن کا زکر پولیس رپورٹ میں ہے لیکن ٹرائل کورٹ ملزم کی یہ درخواست خارج کر دیتی ہے جس کے بعد ملزم ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ لاہور سے رجوع کرتا ہے جس پر عدالت عالیہ نے سات ستمبر دو ہزار اکیس کو درخواست پر فیصلے کی بجائے ملزم کے خلاف کارروائی کو عدالت عالیہ کے فیصلے تک ملتوی کرنے کا حکم دے دیتی ہے جس کے بعد اصل مسئلہ یہاں پر پیدا ہوا کہ ملزم کی اس درخواست پر ایک طرف عدالت عالیہ کی جانب سے سماعت نہیں ہورہی تو دوسری طرف ملزم کے ٹرائل کی کاروائی بھی ملتوی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے مسئلے کی تہ تک پہنچنے کے بعد ضابطہ فوجداری کے دفعہ چار سو ستانوے میں مذکور سٹیچوٹری گراؤنڈ پر آتی ہے جس کے تحت اگر کوئ ملزم کسی ایسے الزام میں قید ہو کہ جس کی سزا؛ سزائے موت ہو تو ایسی صورت میں اگر ملزم کے قید میں دو سال گزر جائیں اور اس کے خلاف ٹرائل کا اختتام نہ ہو اگر ٹرائل میں تاخیر ملزم کی جانب سے نہ ہوئ ہو تو ملزم کا یہ آئینی و قانونی حق ہے کہ ملزم کو فی الفور ضمانت پر رہا کیا جائے۔ یہاں پر جسٹس صاحب نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ملزم کو حاصل یہ حق صرف سٹیچوٹری نہیں بلکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل چار ، نو اور دس اے کے تحت یہ ملزم کا بنیادی آئینی حق ہے۔

مندرجہ بالا نکات کی صراحت کے ساتھ وضاحت کے بعد جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے ایک بحث اس موضوع پر باندھی ہے کہ وہ کونسے ایسے عوامل ہیں جن کی موجودگی میں ملزم کو سٹیچوٹری گراؤنڈ دستیاب نہیں ہوگا تو اس بابت سپریم کورٹ نے لکھا ہے کہ ملزم کے خلاف یہ ثابت کیا جائے گا کہ اس نے قصدا ٹرائل کو موخر کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے لئے یہ واضح کیا جائے گا کہ ملزم نے مسلسل نے ٹرائل کے اہم مواقع یعنی جرح وغیرہ کے وقت ٹرائل کو ملتوی کرنے کی درخواستیں دی ہیں۔ یہاں پر جسٹس صاحب نے ایک انتہائی اہم نکتہ بیان کیا ہے کہ صرف درخواستوں کو شمار کرنے سے کام نہیں ہوگا کہ کس نے زیادہ درخواستیں ٹرائل کو موخر کرنے کے لئے دی ہیں اور چونکہ اس کیس میں تاخیر عدالت عالیہ کی جانب سے ہوئ ہے کیونکہ عدالت عالیہ نے تین سال گزرنے کے بعد بھی ملزم کی جانب سے پیش کی جانے والی درخواست پر فیصلہ نہیں دیا۔ یہاں پر جسٹس صاحب نے عدالت عالیہ کے پاس کیسز کو ملتوی یعنی سٹے دینے کے اختیار کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر ایک طرف عدالت کے پاس یہ اختیار ہے تو اس اختیار کا استعمال نہایت احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے اور ایک دفعہ یہ اختیار استعمال کیا جائے تو پھر درخواست پر جلد از جلد فیصلہ دینا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے مندرجہ بالا امور واضح کرنے کے بعد ملزم کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے اس کیس کو نہ صرف رپورٹ کرنے کی منظوری دی بلکہ عدالت عالیہ لاہور کے زریعے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے سامنے رکھنے کا بھی حکم دیا تاکہ آئندہ ایسے امور میں بہتری آئے۔

فوجداری مقدمات میں سٹیچوٹری گراؤنڈ پر ضمانت پر ضمانت کے حوالے سے اس تاریخ ساز یعنی لینڈ مارک فیصلے کا خلاصہ یہ ہے کہ ضابطہ فوجداری کے دفعہ چار سو ستانوے کے تحت ملزم کو حاصل سٹیچوٹری گراؤنڈ کے اس حق کو آئین پاکستان کے آرٹیکل چار ، نو اور دس اے کے تناظر میں دیکھا جائے گا اور بدیں وجہ ملزم کو اس حق کے حصول سے صرف اس وجہ سے محروم نہیں کیا جائے گا کہ ملتوی کرنے کی درخواستوں کو شمار کیا جائے بلکہ ملزم کو اس حق سے محروم کرنے کے لئے لازمی ہے کہ ملزم کے خلاف یہ ثبوت ہوں کہ اس نے قصدا مسلسل کوششوں کے زریعے ٹرائل کے اہم تاریخوں پر کیس کو موخر کیا ہے۔

یہ انتہائی اہم فیصلہ، سپریم کورٹ کے جج ، جسٹس سید منصور علی شاہ صاحب نے لکھا ہے جس کو Crl.P.894-L/2023 پر پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے۔
PLD 2024 SC 942

23/08/2024

خانگی تقسیم (family settlement) کے موضوع پر انتہائی معلوماتی فیصلہ جس میں اس موضوع پر پاکستان، انڈیا اور ا نگلینڈ وغیرہ کے تمام قدیم ترین اور تازہ ترین فیصلہ جات کا حوالہ دیکر
خانگی تقسیم (family settlement) کے اصول وضوابط مرتب کیے گیے ہیں
General impact and significance of family settlement. .................
A family settlement involves members of the same family striving to resolve their differences and disputes to achieve lasting resolution. Through these arrangements, family members aim to bring about harmony and goodwill, settling conflicting claims or disputed titles to promote peace within the family. Courts recognise the special significance of family arrangements(Naeem) and uphold them when made in good faith. This principle has been developed by courts over a long period of time to discourage litigation driven by greed, particularly in cases involving the distribution of family estates, such as the one being considered here.

The principles governing family settlement or arrangements that may be deducted from the above referred survey of case law and the law books may be outlined in the following form:

(i) The family settlement has to be genuine, bona fide and must aim to resolve family disputes and conflicting claims by ensuring a fair and equitable distribution or allocation of properties among all family members.

(ii) When an agreement is entered into to preserve the honour of a family and is reasonable, the Court will seize any justifiable reason to enforce the agreement and promote peace within the family.

(iii) The settlement must be made willingly and should not be influenced by fraud, social or familial pressure, and undue influence.

(iv) Like an oral contract, family settlements may well also be oral and if it is, no registration of the settlement is necessary. is

(v) It is well established that registration of a family settlement is required only if the terms of the settlement are put into writing. However, it a important to distinguish between a document that includes the terms and details of family settlement and a simple memorandum created after the arrangement has been made, intended either for record purposes or for informing the Court to effect necessary mutation. In such cases, the memorandum does not create or extinguish any rights in immovable property and, therefore, does not fall under the requirements of the Registration Act, 1908 making it not subject to compulsory registration.

(vi) In cases where the parties are not inclined to divide property permanently, they cannot be forced to do so. The decision to distribute the property is based on their own preferences, and it is considered a personal and family matter. In such situations, there is no requirement for registering such an agreement.

(vii) The members involved in the family settlement must have a pre-existing title, claim, or interest, even a potential claim, in the property that is recognised by all parties to the settlement. If one party lacks a title but, under the arrangement, another party relinquishes all claims or titles in favour of that person and acknowledges them as the sole owner, a preexisting title will be assumed. Consequently, the family arrangement will be upheld, and the Courts will readily endorse it.

(viii) A genuine and bona fide family settlement can resolve disputes, whether current or potential, even if they do not involve legal claims. As long as the arrangement is fair and equitable, it is final and binding on all parties involved.

(ix) Courts tend to favour maintaining the family arrangement rather than disturbing it on technical or trivial grounds. Where the Courts find that the family arrangement suffers from a legal deficiency or a formal defect, the principle of estoppel is invoked and applied to turn down the plea of the person who, being a party to family arrangement, seeks to set aside a settled dispute, and claims to revoke the family arrangement under which he himself has received some material benefits.

C.A.197-L/2019
Bashir Ahmed (deceased) through his L.Rs., etc v. Nazir Ahmad, etc
Mr. Justice Shahid Waheed
19-08-2024

14 August Happy Independence Day Of Pakistan 🇵🇰Pakistan Zindabad ✊
13/08/2024

14 August

Happy Independence Day Of Pakistan 🇵🇰

Pakistan Zindabad ✊

Notification For Non Filers, They will be having Double Tax Deduction on Salary
20/07/2024

Notification

For Non Filers, They will be having Double Tax Deduction on Salary

Address

Office No. F1, 1st Floor, Elaf Arcade, Opposite Family Courts(Old Islamabad High Court), Street 35, G-10/1
Islamabad
44220

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 16:00
Saturday 09:00 - 16:00

Telephone

+923379738119

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Awais Haider Awan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share