21/04/2022
*گاڑی کی خریداری کے بعد ڈیلیوری میں تأخیر کا مسئلہ اور اس کا حل*
پاکستان میں یہ روایت عام ہوگئی ہے کہ گاڑی فروخت کرنے والی کمپنی یا اسکے مجاز ڈیلرز ہمشیہ بروقت گاڑی کی ڈیلیوری نہیں کرتے۔
ہوتا ہوں ہے کہ یہ کمپنیاں کسٹمر سے پوری پیمنٹ لے لیتی ہیں اور چند ماہ میں ڈیلیوری کا وعدہ کرتی ہیں اور پھر سالوں تک گاڑی کی ڈیلیوری نہیں کرتی۔ کسٹمر ان کے آفسز کا چکر لگا کر تھک جاتا ہے مگر اسے گاڑی بروقت نہیں ملتی۔
کمپنیوں کا یہ نظام کیسے چلتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ گاڑیاں تیار ہوتی ہیں اسٹاک میں پڑی رہتی ہیں اور کسٹمر انہیں بک کرالیتے ہیں بلکہ ہوتا یوں ہے کہ کمپنیاں یا ڈیلرز کسٹمر سے پیسے لیکر آگے مینوفیکچررز کو آرڈر دے دیتی ہیں اس دوران جتنا عرصہ لگتا ہے کمپنیاں ان پیسوں کو اپنے استعمال میں لاتی ہیں اگر آپ نے پچاس لاکھ پیمنٹ ایڈوانس میں کی ہے اور ایک سال تک آپ کو گاڑی نہیں مل رہی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ کمپنی ایک سال تک آپ کا پیسہ استعمال کر رہی ہے اور اس سے کمائی ان کو ہورہی ہے۔ یہ تأخیرہ حربے ہوتے ہیں دراصل سرمایہ کمانے کے لیے۔
ایک طرف کسٹمرز کو گاڑی نہیں ملتی دوسری طرف ان کا سرمایہ بھی کمپنیوں کے پاس رہتا ہے گویا دوہرا نقصان ہو رہا ہے۔
اس کا حل کیا ہے ؟
حل یہ ہے کہ ایف بی آر نے ایک عرصہ قبل ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جس میں یہ احکامات دیے گیے تھے کہ گاڑی بک ہونے کے بعد کمپنیاں ساٹھ دن کے اندر اندر گاڑی ڈیلیور کرنے کی پابند ہوں گی اگر ساٹھ دن کے اندر اندر گاڑی ڈیلیور نہیں ہوتی تو اس کے بعد کسٹمرز کو کمپنیاں kibore+3% per anum of total amount جرمانہ دینا ہوگا۔ اور یہ دینا لازمی ہے۔ ساتھ میں یہ ہدایات بھی دی گئی کہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں سال میں دو دفعہ متعلقہ اداروں میں جو ایف بی آئی کے ماتحت ہیں کے پاس اپنا ریکارڈ جمع کرائیں گی کہ انہوں نے کتنی گاڑیاں ساٹھ دن سے قبل ڈیلیور کی اور کتنی گاڑیاں ساٹھ دن کے بعد ڈیلیور کی۔
اب ایک اور بڑا مسئلہ پیش آرہا ہے کہ ساٹھ دن کے بعد اگر گاڑی ڈیلیور ہوتی ہے یا فرض کریں سال تک گاڑی ڈیلیور نہیں ہوتی اور اس دوران ٹیکس میں اضافہ ہوجاتا ہے یا ڈیوٹی بڑھ جاتی ہے تو وہ ٹیکس اور ڈیوٹی کون ادا کرے گا
اب تک عام پریکٹس یہ ہے کہ یہ اضافی ٹیکس اور ڈیوٹی کسٹمرز سے طلب کی جاتی ہے اور کسٹمر مجبورا ادا بھی کر دیتا ہے۔
فیڈرل ٹیکس اوبڈسمین Federal Tax Ombudsman نے حال ہی میں ایک فیصلہ دیا ہے جس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اب ایسا نہیں ہوگا یہ غیر قانونی ہے۔ کمپنی کو یا تو بروقت ڈیلیوری کرنی چاہیئے یا پھر تاخیر کی صورت میں جو بھی اضافی ٹیکس یا ڈیوٹی لگے گی وہ کمپنی کو خود ادا کرنا چاہیے یہ کسٹمر ادا نہیں کرے گا۔
یہ بہت ہی عام پریکٹس بنا ہوا ہے اور ہمارے کئی سارے کلائنٹس کے ساتھ یہی مسئلہ درپیش ہے۔
لہذا اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہورہا ہے تو آپ federal tax ombudsman میں ان کے خلاف جاسکتے ہیں اور ان کے خلاف عدالت میں ہرجانے کا دعویٰ بھی کرسکتے ہیں جس میں آپ کو kibore +3% ہرجانہ ادا ہوگا۔
For Detailed information, please contact at: +92 3156453004 / +92 301 8906288