29/01/2025
28 رجب 60 ہجری روانگی قافلہ حسینی ع از مدینہ ۔ ۔ آغاز سفر کربلاء 💔
یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ ایک دن قبل 27 رجب کو نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں مبعوث بہ رسالت ہوئے اور اس کے اگلے دن ساٹھ سال بعد نواسے نے اسی وحی الٰہی اور رسالت خداوندی کو بچانے کے لئے مکہ کا رخ کیا۔
یقینا یہ صرف اتفاق نہیں بلکہ انتظام خدا یہی ہے کہ نانا دین پہنچائے اور نواسہ اس دین کی حفاظت کرے ۔ کیونکہ یہی وہ نبوت کا اعلی گھرانہ ہے جسے اللہ نے اپنی نبوت اور اس کی ترویج و اشاعت کے لئے منتخب کیا ہے ۔
جس طرح وحی پہنچانے کے مرحلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشکلات و ہجرت ،تنہائی اور جنگوں کا سامنا کرنا پڑا ۔
اسی طرح حسین علیہ السلام کو بھی راہ خدا میں عظیم آزمائشوں سے گذرنا پڑا۔
نانا نے اللہ کی خاطر مکہ کو ترک کیا اور حسین نے نانا کے دین کے لئے مدینہ چھوڑا۔
مگر فرق یہ تھا کہ نانا کو ہجرت کے بعد آسانیاں عطا ہوئیں ۔ کفار و مشرکین عرب پر غلبہ ملا ۔ مکہ میں دوبارہ فاتحانہ داخل ہوئے
لیکن نواسے کی ہجرت شھادت عظمی میں بدل گئی۔ اہل بیت اسیر ہوئے اور دوبارہ جب یہ قافلہ مدینہ پہنچا تو حالت یہ تھی کہ جوانان بنی ہاشم حسین ۔ع۔ کے ساتھ کربلا میں شھید کیے گئے۔ اور خانوادہ نبوت کو درباروں میں پیش ہونا پڑا ۔
مگر اس شہادت میں اللہ نے حسین ۔ع اور ان کے اصحاب و اہل بیت کے لئے ایسی کرامت و عظمت رکھی کہ قیامت تک حسین۔ع شھیدوں کے سردار قرار پائے اور قرب الہی کے ان درجات تک پہنچے جہاں تک رسائی صرف شہادت سے ممکن تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔