Chachar Law Firm

Chachar Law Firm We provide legal services related to Service Matters, Corporate, family, civil and FIA

25/10/2023

2023 SCMR 1009

منشیات کے کیس میں جو پولیس اہلکار پارسل فرانزک سائنس لیبارٹری لے کر جاتا ہے اسکو بطور گواہ پیش کرنا لازم ہے بصورت دیگر ملزم بریت کا حقدار ہوگا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے صوبہ پنجاب بھر کی ماتحت عدالتوں کے اوقات کار موسم سرما کے لیے تبدیل کر دئیے۔۔۔ موسم سرما میں ...
25/10/2023

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے صوبہ پنجاب بھر کی ماتحت عدالتوں کے اوقات کار موسم سرما کے لیے تبدیل کر دئیے۔۔۔ موسم سرما میں ماہ نومبر سے ماہ اپریل تک عدالتی وقت صبح 9 سے سہ پہر 4 بجے تک ہوگا۔۔۔
نوٹیفکیشن

1997 MLD 1463 LAHORE-HIGH-COURT-LAHOREMUHAMMAD SHAFIQUE VS STATEProhibition (Enforcement of Hadd) Order 1979--3 , Prohib...
25/10/2023

1997 MLD 1463 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE

MUHAMMAD SHAFIQUE VS STATE
Prohibition (Enforcement of Hadd) Order 1979--3 , Prohibition (Enforcement of Hadd) Order 1979--4 ,
----Ss.497 & 51---Prohibition (Enforcement of Hadd) Order (4 of 1979), Art.3/4---Bail, grant of---Search for the second time was made by the police from the clothes worn by the accused for which there was no provision in S.51, Cr.P.C.---Nothing was available on record to show as to why at the first search in terms of S.51, Cr.P.C. alleged recovery of he**in was not effected and such recovery seemed to be an over-doing on the part of the police because the initial F.I.R. was registered under S.324/353, P.P.C. on the ground that accused had challenged the police party---Involvement of accused in the case, thus, was a matter of further inquiry and he was admitted to bail accordingly.

24/10/2023

سپریم کورٹ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم اور آئین کے منافی قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ کا 9 مئی سے متعلق کیسز کو عام فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم۔
آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 ون ڈی آئین پاکستان کے منافی قرار۔
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ سنا دیا۔

جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک لارجر بینچ میں شامل ہیں۔

سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل 5 رکنی بینچ نے متفقہ طور پر کالعدم قرار دیا۔

سپریم کورٹ نے سویلنیز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستیں منظور کر لیں۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ متفقہ طور پر فوجی عدالتوں کو کالعدم قرار دیتی ہے، جن 102 افراد کی فہرست عدالت میں پیش کی گئی ان کا ٹرائل کرمنل کورٹس میں کیا جائے، اگر کسی سویلین کا فوجی ٹرائل ہوا ہے تو وہ کالعدم قراردیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 ڈی ون آئین سے متصادم ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے آرمی ایکٹ کے سیکشنز غیرآئینی قرار دینے پر رائے محفوظ رکھی، سپریم کورٹ کا باقی فیصلہ 5 ججز کی اکثریت سے ہے، 9 اور 10 مئی کے واقعات میں زیرِ حراست تمام افراد پر فیصلے کا اطلاق ہو گا۔

فیصلے کو سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا: اعتزاز احسن

اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بہت اہم کیس میں اہم فیصلہ دیا ہے، فیصلہ سارے نظام کو مستحکم کرے گا، تاریخ میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا، فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کے خلاف تھے۔

انہوں نے کہا کہ 9 اور 10 مئی کے ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتے، 9 اور 10 مئی کے ملزمان کا ٹرائل سول عدالتوں میں ہو گا، سپریم کورٹ نے سب فریقین کو حوصلے سے سنا، سب کو موقع دیا، سپریم کورٹ نے بہترین فیصلہ دیا ہے۔

سماعت کا احوال
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، درخواست گزار کے وکیل خواجہ احمد حسین اور سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل خواجہ احمد حسین نے کہا کہ کچھ نئی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آخری آرڈر کے مطابق اٹارنی جنرل کے دلائل چل رہے تھے، اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہو جائیں پھر کیس چلانے کا طریقے کار دیکھیں گے۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل اس کیس کے فیصلے سے پہلے ہی شروع کر دیا گیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو دلائل مکمل کرنے دیں پھر سب کو سنیں گے۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کے دلائل
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا ایک سے ڈیرھ گھنٹہ لوں گا، عدالت کو آگاہ کروں گا کہ2015ء میں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں کیوں بنائی تھیں، یہ بھی بتاؤں گا کہ اس وقت فوجی عدالتوں کے لیے آئینی ترمیم کیوں ضروری نہیں، دلائل کے دوران عدالتی سوالات کے جوابات بھی دوں گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ماضی کی فوجی عدالتوں میں جن کا ٹرائل ہوا وہ کون تھے؟ کیا 2015ء کے ملزمان عام شہری تھے، غیر ملکی یا دہشت گرد؟

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بتایا کہ ملزمان میں ملکی و غیرملکی دونوں ہی شامل تھے، سال 2015ء میں جن کا ٹرائل ہوا ان میں دہشت گردوں کے سہولتکار بھی شامل تھے، ملزمان کا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی کے تحت ٹرائل کیا جائے گا، سوال پوچھا گیا تھا کہ ملزمان پر چارج کیسے فریم ہو گا؟ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں فوجداری مقدمے کے تمام تقاضے پورے ہوں گے، 9 مئی کے ملزمان کا ٹرائل فوجداری عدالت کی طرز پر ہو گا، فیصلے میں وجوہات دی جائیں گی اور شہادتیں بھی ریکارڈ ہوں گی، آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل کے تمام تقاضے پورے ہوں گے، ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیلیں بھی کی جاسکیں گی، 21 ویں آئینی ترمیم اس لیے کی گئی تھی کہ دہشت گرد آرمی ایکٹ کے دائرے میں نہیں تھے، دہشت گردوں کے فوجی ٹرائل کے لیے 21ویں آئینی ترمیم کی گئی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ دہشت گردوں کے ٹرائل کے لیے ترمیم ضروری تھی تو سویلینز کے لیے کیوں نہیں؟ کیا 21ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی ملزمان نے فوج یا تنصیبات پر حملہ کیا تھا؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ 21ویں ترمیم میں ممنوع علاقوں میں حملے والوں کے فوجی ٹرائل کی شق شامل کی گئی تھی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ جو ٹرائل فوجی افسران کو قابل قبول نہیں تھا وہ دوسروں کا کیسے کیا گیا؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی ترمیم کے کیس میں تعصب کا معاملہ ہی اٹھایا گیا تھا۔

جسٹس اعجازالاحسن استفسار کیا کہ سویلینز آرمی ایکٹ کے دائرے میں کیسے آتے ہیں؟

جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ آئین کا آرٹیکل 8 کیا کہتا ہے اٹارنی جنرل صاحب؟

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرٹیکل 8 کے مطابق بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی برقرار نہیں رہ سکتی۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ افواج میں نظم و ضبط کے قیام کے لیے ہے، افواج میں نظم وضبط کے قانون کا اطلاق سویلینز پر کیسے ہو سکتا ہے؟ 21ویں ترمیم کا دفاع کیسے کیا جاسکتا ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ افواج کا نظم وضبط اندرونی، افواج کے فرائض ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنا بیرونی معاملہ ہے، فوجی عدالتوں میں ہر ایسے شخص کا ٹرائل ہو سکتا جو اس کے زمرے میں آئے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جن قوانین کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ فوج کے ڈسپلن سے متعلق ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا بنیادی حقوق کی فراہمی پارلیمان کی مرضی پر چھوڑی جا سکتی ہے.

24/10/2023

دوران ٹرائل، تفتیشی جاۓ وقوعہ کی تفصیلات، غلط بیان کرے تو ٹرائل کورٹ زیرِ دفعہ 539B ض ف اس جگہ کا معائنہ کر سکتی ہے لیکن کسی دیگر کو کمیشن مقرر نہ کر سکتی ہے ۔
2016 SCMR 2084
زیرِ دفعہ(i)340 ض ف ملزم کو اس کی پسند کا وکیل مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔
2010 PCrLJ 812
تعلیمی نقصان سے بچانے اور امتحان میں Appear ہونے کی وجہ سے ملزم کو بر ضمانت رہا کیا گیا۔
2008 YLR 886
دفعہ 295A ت پ کیس میں مدعی بننے کا اختیار صرف سرکار کو ہے پرائیویٹ آدمی مدعی نہ بن سکتا ہے ۔ ضمانت منظور ہوئی۔
2007 PCrLJ 342
اگر جرم قابل ضمانت ہو تو تفتیشی بھی مچلکہ ضمانت پر ملزم کو رہا کر سکتا ہے ۔
2007 PCrLJ 1515

  (𝐒𝐞𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧 𝟏𝟓𝟏) 𝐈𝐧𝐡𝐞𝐫𝐞𝐧𝐭 𝐏𝐨𝐰𝐞𝐫𝐬 𝐨𝐟 𝐂𝐢𝐯𝐢𝐥 𝐂𝐨𝐮𝐫𝐭:-Inherent powers are those powers which the courts assume and exercise in...
23/10/2023



(𝐒𝐞𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧 𝟏𝟓𝟏) 𝐈𝐧𝐡𝐞𝐫𝐞𝐧𝐭 𝐏𝐨𝐰𝐞𝐫𝐬 𝐨𝐟 𝐂𝐢𝐯𝐢𝐥 𝐂𝐨𝐮𝐫𝐭:-

Inherent powers are those powers which the courts assume and exercise in the absence of any specific provision of law with the intention to meet the ends of justice.

𝐄𝐱𝐩𝐥𝐚𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧:-
Laws are general rules, they can not regulate for all time to come, so as to make express provision against all the cases, that may possibly happen. It can not be said that courts have no power to do justice or redress a wrong merely because no express provision of the code or no reported judgment can be found to meet the requirements of the case. Where the detailed manners of doing of some thing is not prescribed the courts are at liberty to interpret that the statutes by implication empowers that detail to be carried out.

𝐓𝐡𝐞 𝐩𝐫𝐨𝐯𝐢𝐬𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐒𝐞𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧 𝟏𝟓𝟏 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐛𝐞 𝐚𝐭𝐭𝐫𝐚𝐜𝐭𝐞𝐝:-
𝐅𝐢𝐫𝐬𝐭𝐥𝐲: Where the case in not covered by the provision of the code.

𝐒𝐞𝐜𝐨𝐧𝐝𝐥𝐲: Where the procedure is laid down and provided is being abused so as to obstruct the ends of justice.

➔ Section 151 does not confer any new power upon a court, but only save inherent powers.
➔ It is the provision of procedural law and can not be utilized where any provision of the code is expressly applicable.
➔ Section 151 applies only to exercise of jurisdiction where the matter is pending before the court and does not confer the jurisdiction to entertain the matter.
➔ The High Court can in appropriate cases convert an application U/s 151 CPC into writ petition.

𝐒𝐞𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧 𝟏𝟓𝟏 𝐢𝐬 𝐛𝐚𝐬𝐞𝐝 𝐮𝐩𝐨𝐧 𝐭𝐰𝐨 𝐢𝐦𝐩𝐚𝐫𝐭𝐢𝐚𝐥 𝐩𝐫𝐞𝐩𝐨𝐬𝐢𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬:-
𝟏. 𝐏𝐫𝐞𝐯𝐞𝐧𝐭 𝐚𝐛𝐮𝐬𝐞 𝐨𝐟 𝐩𝐫𝐨𝐜𝐞𝐬𝐬 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞 𝐜𝐨𝐮𝐫𝐭:- It is no where defined in CPC.
𝟐. 𝐀𝐛𝐮𝐬𝐞 𝐭𝐡𝐞 𝐩𝐫𝐨𝐜𝐞𝐬𝐬 𝐛𝐲 𝐭𝐡𝐞 𝐜𝐨𝐮𝐫𝐭:- Following are the examples of the abuse of process by the court which can be corrected in exercise of inherent powers:
>Dismissing a suit in default of the appearance of the plaintiff who in fact had died when the order was made.
>Dismissing a petition under a misapprehension.
>Failure of court officer to notify date of hearing.
>Dishonestly of an officer of the court.

𝐀𝐩𝐩𝐞𝐚𝐥:-
Not appealable

𝐑𝐞𝐯𝐢𝐬𝐢𝐨𝐧:-
Revision may lie.

حکومت پنجاب کی طرف سے نوٹیفکیشن جاریاب کوئی ملازم صحافت نہ کر سکے گا اور نہ ہی سوشل میڈیا کا استعمال
23/10/2023

حکومت پنجاب کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری
اب کوئی ملازم صحافت نہ کر سکے گا اور نہ ہی سوشل میڈیا کا استعمال

پاکستان میں رائج فیملی قوانین ایکٹ ١٩٦۴ میں " ہیگ کانونشن ١٩٨٠ " کے مطابق ایک ترمیم کر دی گئ ہے ۔۔کوئ ایک پیرنٹ اگر بچے ...
19/10/2023

پاکستان میں رائج فیملی قوانین ایکٹ ١٩٦۴ میں " ہیگ کانونشن ١٩٨٠ " کے مطابق ایک ترمیم کر دی گئ ہے ۔۔
کوئ ایک پیرنٹ اگر بچے کو دوسرے پیرنٹ سے جدا کر کہ ملک سے باہر لے جائے گا تو یہ بینالاقوامی اغوا تصور کر کہ بچہ واپس اپنے ملک میں لے کر آنے کی حکومت پابند ہو گی ۔۔

14/10/2023

نکاح کے لئے کم سے کم عمر کی شرط اور کم عمری کی شادی کے کیس میں ضمانت کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک اہم فیصلہ !
2022 PCrLJ 953
Abdul Razaq vs state
Judge: Amir Farooq
CrMcl No. 1269-B of 2022
Decided 13 January 2022
Offence: 365B

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

لائبہ نور نامی ایک لڑکی کے والد کی شکایت پر تھانہ سہالہ میں اس کیس کے پیٹیشنر عبد الرزاق کے خلاف مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ تین سو پینسٹھ (بی) کے تحت جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے مسمات لائبہ کو اغوا کرنے کی ایف آئی آر درج ہوئی جس کے بعد پیٹیشنر کو پولیس کی جانب سے گرفتار کیا گیا اور گرفتاری کے بعد اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج صاحب نے پیٹیشنر کی ضمانت کی درخواست بھی خارج کر دی جس کے بعد پیٹیشنر کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ۔

استغاثہ کی جانب سے پیٹیشنر پر یہ الزام تھا کہ پیٹیشنر نے مسمات لائبہ نور کو جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے اغوا کیا تھا جبکہ دوسری جانب پیٹیشنر کی جانب سے یہ دلائل دئے گئے کہ استغاثہ کا الزام بے بنیاد ہے کیونکہ پیٹیشنر نے مسمات لائبہ نور سے باقاعدہ نکاح کیا ہوا ہے اور اس بابت عدالت کے سامنے نکاح نامہ اور لڑکی کی جانب نکاح کے وقت دیا گیا ایک ایفی ڈیوٹ بھی جمع کرایا گیا اور ریسپانڈنٹس پر یہ الزام عائد کیا کہ لڑکی کا والد لڑکی کو جبرا ہراساں کر کے لڑکی کو نکاح سے انکاری ہونے کا کہ رہا ہے جبکہ ریاست کے وکیل اور ریسپانڈنٹس کے وکیل کی جانب سے یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ لڑکی قانون کی رو سے مائنر ہے اور اسی وجہ سے اس کی جانب سے کیا گیا نکاح صحیح نہیں ہے اور لڑکی کا عدالت میں دیا گیا وہ بیان بھی پیش کیا گیا جس میں لڑکی کا کہنا تھا کہ اس نے پیٹیشنر کے ساتھ نکاح پیٹیشنر کی جانب سے زور زبردستی اور جبر کے تحت کیا تھا ۔ ریسپانڈنٹس کی جانب سے لڑکی کے مائنر ہونے کے جواب میں پیٹیشنر کے وکیل کا کہنا تھا کہ ریکارڈ کے مطابق لڑکی کی عمر سولہ سال سے زیادہ اور وہ بالغہ بھی ہے تو اس وجہ سے اس کا نکاح صحیح ہے ۔

استغاثہ، پیٹیشنر اور ریسپانڈنٹس کے وکلاء کی جانب سے دلائل کے بعد عدالت نے لڑکی کے نکاح کے لئے کم سے کم عمر میں قانونی موشگافیوں کو دیکھتے ہوئے بیریسٹر ظفر اللہ خان کو عدالتی معاون مقرر کیا کہ وہ نکاح کے لئے لڑکی کے کم سے کم عمر کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کرے ۔

بیرسٹر ظفر اللہ خان صاحب کے جانب سے نکاح کے لئے لڑکی کی عمر کے قانون کے حوالے سے مندرجہ ذیل باتیں رکھیں گئیں کہ بالخصوص اسلام آباد میں نکاح کے لئے لڑکی کے عمر کا قانون واضح نہیں ہے بلکہ اس میں کئ شبہات ہیں ۔ اس کے بعد بیرسٹر صاحب نے سورہ نساء کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نکاح کے لئے صرف " بلوغت " کا ہونا کافی نہیں ہے بلکہ " رشد " کا ہونا لازمی ہے ۔ بیرسٹر صاحب نے اس کے بعد کہا کہ کئ ایک اسلامی ممالک نے نکاح کے لئے ایک خاص عمر مقرر کی ہے اور اس کے بعد کم عمری کی شادی کے نقصانات کے لئے میڈیکل ریسرچ کے حوالے بھی دیے اور آخر میں عدالت کے سامنے یہ بات رکھی کہ مندرجہ بالا دلائل کی روشنی میں نکاح کے لئے کم سے کم اٹھارہ سال عمر ایک بہتر عمر ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کا کہنا تھا کہ " چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ " میں نکاح کے لئے کم سے کم عمر سولہ سال ہے ۔ اس کے بعد بیرسٹر صاحب نے ڈی ایف ملا کی محمڈن لا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں نکاح کی عمر پندرہ سال ہے ۔ بیرسٹر صاحب کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ دونوں فریقین فقہ حنفی سے تعلق رکھتے ہیں تو امام ابو حنیفہ رح کی رائے میں نکاح کی عمر سترہ سال ہے ۔ اس کے بعد بیرسٹر صاحب نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے میں لڑکی کے لئے بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں لڑکی کا " سوئ جیورس " ہونا لازمی ہے ۔ مندرجہ بالا تمام دلائل دینے کے بعد بیرسٹر صاحب نے عدالت کے سامنے یہ بات رکھی کہ قانون میں لڑکی کے نکاح کے لئے کم سے کم عمر واضح نہیں ہے ۔

استغاثہ ، پیٹیشنر ، ریسپانڈنٹس اور عدالتی معاون کی طرف سے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلے کا آغاز سورہ نساء کی آیت کے ترجمے اور مولانا مودودی کی تفہیم القرآن سے کیا ہے کہ نکاح کے لئے صرف بلوغت نہیں بلکہ " رشد " کا ہونا بھی لازمی ہے۔ رشد کی تعریف کے لئے عدالت نے " ہینس ویہر " کی ڈکشنری کا حوالہ دیا ہے اور اس کے بعد لکھا ہے کہ بلوغت کے ساتھ فیصلہ سازی اور زہنی میچورٹی نکاح کے لئے شرائط ہیں اور اس کے لئے جسٹس صاحب نے ایک کتاب " تحقیق عمر حضرت عائشہ صدیقہ رض " سے بھی حوالہ دیا ہے جس کے مطابق لڑکے کے نکاح کے اٹھارہ سال اور لڑکی کا سترہ سال کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے بعد جسٹس صاحب نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ، ڈی ایف ملا کے حوالے بھی دیے اور سندھ حکومت کی جانب سے لڑکی اور لڑکے دونوں کے نکاح کے لئے اٹھارہ سال کا ہونا بھی زکر کیا ۔

مختلف قوانین اور مزاہب میں لڑکی کے نکاح کے لئے مختلف عمر کے زکر کے بعد جسٹس صاحب نے فیڈرل شریعت کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ اگر کوئ مباح کام جس کے کرنے سے معاشرے کو نقصان ہو تو ریاست اس کام کو بند کروا سکتی ہے ۔ اس کے بعد جسٹس صاحب نے اسلامی قانون کے ایک اہم اصول " سد الزرائع " کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ ریاست کسی بھی ایسے کام کو بند کروا سکتی ہے جس سے معاشرے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اور اس بابت جسٹس صاحب نے حضرت عمر فاروق رض کے دور کے ایک مشہور واقعے کا حوالہ بھی دیا ہے ۔

مندرجہ بالا تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد جسٹس صاحب نے لڑکی کے نکاح کے لئے اسلام آباد کی حد تک یہ صورت حال ہے کہ :

الف ) چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کے تحت سولہ سال سے کم عمر میں لڑکی کا نکاح کرانا جرم ہے ۔

ب) جو لڑکی اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچ گئی ہو اور وہ " سوئی جیورس " بھی ہو تو وہ ولی کے بغیر نکاح کر سکتی ہے۔

ج) فقہ حنفی کے مطابق لڑکی سترہ سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد نکاح میں داخل ہو سکتی ہے۔

د) ڈی ایف ملا کے مطابق لڑکی پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد نکاح کر سکتی ہے ۔

ح) نکاح کے لئے بلوغت کا ہونا کافی نہیں بلکہ رشد کا ہونا بھی لازمی ہے۔

مندرجہ بالا صورت حال واضح کرنے کے بعد جسٹس صاحب نے لکھا ہے کہ فیڈرل شریعت کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں وفاقی حکومت کو سندھ حکومت کی طرح نکاح کے لئے ایک خاص عمر مقرر کرنی چاہیے تاکہ لڑکی کے نکاح کے لئے کم سے کم عمر کے حوالے سے تمام شبہات ختم ہوسکیں اور ایسا کرنے پر شریعت کی جانب سے فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کوئ پابندی بھی نہیں ہے ۔

لڑکی کے نکاح کے لئے عمر کے مسئلے کو تفصیل سے زکر کرنے کے بعد جسٹس صاحب کیس کی طرف واپس آئے ہیں اور لکھا ہے کہ چونکہ لڑکی کی عمر نکاح کے وقت سولہ سال سے زیادہ تھی تو چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ اس پر لاگو نہیں ہوسکتا لیکن آئین کے آرٹیکل دو سو ستائیس کے مطابق فقہ حنفی لڑکی پر لاگو ہوتا ہے ۔ مزید برآں لڑکی سوئی جیورس بھی نہیں ہے تو ولی کا ہونا بھی لازمی تھا اور چونکہ پیٹیشنر کی جانب سے نکاح نامہ اور ایفی ڈیوٹ بھی جمع کرایا گیا ہے تو یہ کیس مزید انکوائری کا ہے اور اس وجہ سے پیٹیشنر کو ضمانت کا حقدار قرار دے کر ضمانت دی گئی ۔

Note : This Important Judgement Is Written By Justice Amir Farooq Of Islamabad High Court And It Can Be Searched And Cited As
2022 P Cr. L J 953 .

14/10/2023

سونے کے زیورات ہمیشہ خواتین کے پاس ہوتے ہیں جب تک کہ چھیننے کا الزام ثابت نہ ہو جائے
PLD 2023 Lahore 669

Gold ornaments - Scope - Gold ornaments are always possessed by females unless snatching is not only alleged but also proved .

نکاح نامہ کے کالم نمبر 15(جوکہ کے حق مہر کی ادائیگی کے بابت ہے) پر کراس لائن لگانے سے اسکا کیا اثر ہوگاThe nub of the ma...
14/10/2023

نکاح نامہ کے کالم نمبر 15(جوکہ کے حق مہر کی ادائیگی کے بابت ہے) پر کراس لائن لگانے سے اسکا کیا اثر ہوگا

The nub of the matter is the contest between the parties in respect of the prompt dower admittedly fixed as Rs.500,000/- and 25 tola gold ornaments in the light of Entry against Column No.15 of the nikahnama between the parties, which in the instant case has been crossed by putting an oblique/cross line. As per respondent's case, the prompt dower was paid at the time of marriage and nothing has been left as deferred or ?on demand' whereas as per learned counsel for the petitioner since Entry No.15 was crossed off, it means nothing was paid and the same was left to the demand of the petitioner. Held: This Court is of the opinion that it is only the deferred dower that becomes due upon certain exigencies, such as death and divorce, whereas once the mode of payment of some part of dower is settled by way of declaring it as prompt, in Column No.15, the obligation to pay prompt dower needs to be clearly mentioned as having been paid at the time of nikah or left payable on demand of the wife. Entry in respect of Column No.15 has been crossed off by putting an oblique line and the same cannot be interpreted to the disadvantage of the petitioner, for the reason that dower, in the context of Muslim marriage, is an obligation under the Holy Quran and Hadith. Burden to prove that said obligation has been discharged is on the husband. The said burden can only be discharged through leading positive evidence.
WP 35641/19
Hira Masood Vs Additional District Judge etc
Mr. Justice Anwaar Hussain
15-09-2023
2023 LHC 4933

13/10/2023

ڈی این اے رپورٹ کو بنیادی ثبوت کے طور پر نہیں مانا جا سکتا اور صرف تصدیق کے مقاصد کے لیے اس پر انحصار کیا جا سکتا
**e_DNA_report

2023 SCMR 1698

S . 376 --- R**e --- DNA report ---
Scope --- DNA report cannot be treated as primary evidence and can only be relied upon for the purposes of corroboration .

Address

Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 12:30
15:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 20:00

Telephone

+923002229387

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chachar Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chachar Law Firm:

Share

Category