ahq Law Associates

ahq Law Associates Legal Help Hyderabad,Sindh

03/02/2026

عدالت نے خرید و فروخت کے ہر ہتھکنڈے پر واضح لکیر کھینچ دی
مقدمہ چل رہا ہو تو جائیداد کی منتقلی محض کاغذی چال نہیں، بلکہ قانونی خطرہ ہے۔
فیصلہ واضح ہے: زیرِ سماعت مقدمے کے دوران خریدی گئی جائیداد کسی بھی تحفظ کی ضمانت نہیں بنتی۔

قانون ایسے خریدار کو معصوم نہیں، بلکہ مقدمے کا حصہ سمجھتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا:
مقدمہ پہلے، خریداری بعد میں؟ تو نتائج بھی ساتھ آئیں گے.

ہائی کورٹ نے اس اہم فیصلے میں واضح کر دیا کہ اگر کسی جائیداد کے بارے میں مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو اس دوران کی جانے والی خرید و فروخت قانوناً محفوظ نہیں سمجھی جائے گی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسی صورتحال میں خریدار یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتا کہ وہ نیک نیتی (bona fide purchaser) کے تحت جائیداد کا مالک بنا ہے، کیونکہ قانون کے مطابق زیرِ سماعت مقدمہ بذاتِ خود پوری دنیا کے لیے نوٹس تصور ہوتا ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ Lis Pendens کا اصول محض تکنیکی نکتہ نہیں بلکہ انصاف کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہے، تاکہ کوئی فریق مقدمہ کے نتائج سے بچنے کے لیے جائیداد کو منتقل کر کے عدالت کے اختیار کو ناکام نہ بنا سکے۔ اگر ایسے لین دین کو تحفظ دیا جائے تو نہ صرف عدالتی کارروائی بے معنی ہو جائے گی بلکہ اصل فریقِ دعویٰ کے حقوق بھی بری طرح متاثر ہوں گے۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ مقدمے کے دوران خریدی گئی جائیداد ہمیشہ مقدمے کے حتمی فیصلے کے تابع رہے گی، اور خریدار کو وہی انجام قبول کرنا ہوگا جو مقدمے میں طے پائے گا۔ عدالت نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اس قسم کی خرید و فروخت نہ تو دعویٰ کو کمزور کر سکتی ہے اور نہ ہی خریدار کو قانونی ڈھال فراہم کر سکتی ہے۔

یہ فیصلہ پراپرٹی ڈیلرز، سرمایہ کاروں اور عام خریداروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ جائیداد خریدنے سے قبل محض کاغذات نہیں بلکہ عدالتی ریکارڈ کی جانچ بھی ناگزیر ہے، کیونکہ زیرِ سماعت مقدمہ نظر انداز کرنا مستقبل کے بڑے قانونی تنازعات کو جنم دے سکتا ہے

02/02/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کا 2026 کا تازہ ترین اور تاریخی فیصلہ سامنے آ گیا ہے جس نے گرفتاری اور ضمانت کے حوالے سے قانون کی سمت واضح کر دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ بلاوجہ گرفتاری، محض دباؤ ڈالنے، ذلیل کرنے یا رسمی کارروائی پوری کرنے کے لیے کسی شہری کو جیل بھیجنا انصاف اور انسانی وقار کے منافی ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ قبل از گرفتاری ضمانت خارج ہونے کی صورت میں بھی ملزم بعد از گرفتاری ضمانت کا حقدار ہوگا، تو ایسی حالت میں ملزم کو جیل بھیجنا صرف ایک کاغذی کارروائی کے سوا کچھ نہیں، جس کا کوئی تعمیری یا قانونی مقصد نہیں بنتا۔ عدالت کے مطابق قانون کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ انصاف فراہم کرنا ہے، اور ٹرائل سے پہلے کسی شخص کو مجرم سمجھ لینا آئین اور قانون دونوں کی روح کے خلاف ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے یہ بھی کہا ہے کہ اکثر مقدمات میں پولیس یا مخالف فریق محض انتقامی جذبے یا دباؤ ڈالنے کے لیے گرفتاری کو استعمال کرتے ہیں، جبکہ ایسے کیسز میں بعد ازاں ضمانت ہو ہی جانی ہوتی ہے۔ اس طرح کی گرفتاری نہ صرف شہری کی عزتِ نفس مجروح کرتی ہے بلکہ عدالتی نظام پر بھی سوالیہ نشان بنتی ہے۔

یہ فیصلہ شہری آزادی، بنیادی حقوق اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کا مضبوط تحفظ ہے اور ماتحت عدالتوں و پولیس کے لیے واضح پیغام ہے کہ گرفتاری کو سزا یا ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کا یہ 2026 کا تازہ ترین فیصلہ محمد اختر بنام سرکار کیس میں دیا گیا ہے، جو مستقبل میں قبل از گرفتاری اور بعد از گرفتاری ضمانت کے معاملات میں ایک مضبوط نظیر کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

یہ فیصلہ نہ صرف بے گناہ شہریوں کو بلاوجہ جیل جانے سے بچائے گا بلکہ جیلوں پر بوجھ کم کرنے اور انتقامی مقدمات کی حوصلہ شکنی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ قانون سے آگاہی ہی اصل طاقت ہے
PLJ 2026 SC 21

Address

Hyderabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ahq Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ahq Law Associates:

Shortcuts

Share

Category