Justice Law Chamber

Justice Law Chamber We make highly quality legal solutions accessible and affordable to all.

We help individuals to get their legal questions answered consult lawyers on the phone, hire a lawyer for various fixed-price legal services, and to find a competent lawyer

19/02/2026
24/11/2025

تقسیمِ اراضی کی کارروائی میں نقشہ الف، نقشہ ب، نقشہ جیم — اور اس کے پہلے اور بعد کی تمام قانونی کارروائیاں (قانونی حوالہ جات کے ساتھ)

تقسیمِ وراثت، بٹوارہ یا ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں زمین تقسیم کرنے کی کارروائی کے دوران نقشہ الف، نقشہ ب، نقشہ جیم بنیادی اور قانونی حیثیت رکھنے والے نقشے ہیں۔ یہ تحصیلدار، قانون گو، پٹواری اور فیلڈ اسٹاف تیار کرتے ہیں۔ عدالتیں بھی انہی نقشوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں۔
(قانونی بنیاد: Punjab Land Revenue Act, 1967 — Sec. 135, 135-A & Punjab Land Revenue Rules 1968, Rules 18–27)

---

🔷 حصہ اول: تقسیم کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے کی کارروائیاں

(قانونی بنیاد: Sec. 135, 135-A PLRA + Punjab Land Revenue Rules 18–21)

1️⃣ درخواستِ تقسیم

درخواست تحصیلدار/Assistant Collector Grade-II کے سامنے دائر کی جاتی ہے۔

قانون میں اس کارروائی کو Partition Proceedings کہا جاتا ہے۔
(حوالہ: Sec. 135 PLRA)

2️⃣ ورثاء یا شرکاء کی تصدیق

تمام وارثان کی تصدیق ریونیو ریکارڈ سے کی جاتی ہے۔
(Rule 19, PLR Rules 1968)

3️⃣ ریکارڈ طلبی

پٹواری سے فرد، خسرہ، گرداوری اور کھیوٹ طلب کیا جاتا ہے۔
(Rule 20, PLR Rules)

4️⃣ نوٹس جاری کرنا

تمام شرکاء کو لازم نوٹس دیا جاتا ہے۔
(Rule 21, PLR Rules)

5️⃣ ابتدائی سماعت

اعتراضات اور دعوے اسی مرحلے پر سنے جاتے ہیں۔
(Sec. 135(4), PLRA)

---

🔷 حصہ دوم: تقسیم کے نقشے — نقشہ الف، نقشہ ب، نقشہ جیم

(قانونی بنیاد: Punjab Land Revenue Rules 22–27)

1️⃣ نقشہ الف (Overall Layout Map)

(Rule 22, Punjab Land Revenue Rules 1968)

اہمیت:

مکمل جائیداد کی حدبندی، کھیوٹ و کھاتہ، رقبہ اور موقع کی صورتِ حال دکھاتا ہے۔

بغیر اس کے تقسیم کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔

---

2️⃣ نقشہ ب (Proposed Partition Map / حصص کا نقشہ)

(Rule 23 & 24, PLR Rules)

اہمیت:

تجویز کردہ تقسیم (Proposed Mode of Partition) کہلاتی ہے۔

اسے قانون میں Mode of Partition کہا جاتا ہے۔
(حوالہ: Rule 23)

---

3️⃣ نقشہ جیم (Final Physical Partition Map)

(Rule 25, 26 & 27, PLR Rules)

اہمیت:

موقع پر عملی حدبندی اسی نقشے کے مطابق ہوتی ہے۔

یہی بھاگ بندی (Demarcation) کا قانونی نقشہ ہے۔

اسی کے مطابق انتقال اور قبضہ دیا جاتا ہے۔

---

🔷 حصہ سوم: نقشہ جات بننے کے بعد کی کارروائیاں (Post Partition)

(قانونی بنیاد: Sec. 135-A, PLRA + Rules 26–27)

1️⃣ عملی تقسیم (Demarcation)

فیلڈ اسٹاف حد بندی کرتا ہے۔
(Rule 26, PLR Rules)

2️⃣ قبضہ دینا

قانونی قبضہ دلوایا جاتا ہے۔
(Sec. 135-A(3), PLRA)

3️⃣ اعتراضات کی سماعت

اعتراضات موقع پر یا تحصیل میں سنے جاتے ہیں۔
(Sec. 135(5), PLRA)

4️⃣ تحصیلدار کا حتمی حکم

تحصیلدار/AC مکمل فیصلے کے ساتھ Final Partition Order جاری کرتا ہے۔
(Rule 27, PLR Rules)

5️⃣ انتقالِ تقسیم (Mutation of Partition)

تقسیم کے بعد الگ الگ انتقال درج ہوتا ہے۔
(Sec. 42 & 43, PLRA)

6️⃣ نئی فرد/کھاتہ کی تیاری

ہر شریک کے نام الگ فرد جاری ہوتی ہے۔

7️⃣ اپیل کا حق

ہر شریک کو حق حاصل ہے کہ:

AC Grade-I کے سامنے اپیل

Collector کے سامنے ریویژن

کمشنر/Board of Revenue میں مزید اپیل
(Sec. 161–172, PLRA)

---

🔷 مکمل قانونی خلاصہ (Flow + قانون)

درخواست (Sec. 135)
→ ورثاء کی تصدیق (Rule 19)
→ ریکارڈ طلبی (Rule 20)
→ نوٹس (Rule 21)
→ سماعت (Sec. 135(4))
→ نقشہ الف (Rule 22)
→ حصے طے کرنا (Rule 23)
→ نقشہ ب (Rule 23–24)
→ موقع پر تقسیم (Rule 26)
→ نقشہ جیم (Rule 25–27)
→ قبضہ (Sec. 135-A)
→ حتمی حکم (Rule 27)
→ نیا انتقال (Sec. 42–43)
→ نئی فرد
→ اپیل کا حق (Sec. 161–172)

14/11/2025

بالغ بیٹا اگر تعلیم حاصل کر رہا ہو تو اپنے والد سے خرچہ لے سکتا ہے
2025 PLD Lahore 152

12/10/2025

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان کا کم عمری کی شادی سے متعلق کیس میں 24 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 سالہ لڑکی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ کم عمری کی شادی شریعت میں باطل نہیں، مگر قانون کے تحت جرم ہے، مدیحہ بی بی نے عدالت میں دیے گئے بیان میں والدین کے پاس نا جانے اور شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی ، کرائسز سنٹر میں قیام کے دوران بھی لڑکی نے اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ رہنے کا کہا، اگرچہ شریعت کے مطابق بلوغت اور رضامندی کے بعد نکاح درست ہے۔

عدالت کا کہنا تھا اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے تحت 18 سال سے کم عمر میں شادی جرم ہے، نکاح نامے میں دلہن کی عمر تقریباً 18 سال درج کی گئی جبکہ نادرا ریکارڈ کے مطابق عمر 15 سال ہے۔

عدالتی فیصلے میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929، مسلم فیملی لاز آرڈی نینس 1961 کے حوالہ جات شامل کیے گئے اور کہا اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے تحت 18 سال سے کم عمری کی شادی جرم ہے۔

عدالت نے فیصلے میں سفارشات دیتے ہوئے اس کی کاپی تمام متعلقہ وزارتوں اور فیملی کورٹس ججز کو بھجوانے کی ہدایت کی۔

عدالت نے فیصلے میں سفارش کی کہ شادی، نابالغی اور فوجداری قوانین میں ہم آہنگی پیدا کی جائے،نکاح رجسٹراروں کو پابند کیا جائے کہ وہ 18 سال سے کم عمر کی شادی رجسٹرڈ نہ کریں، نادرا کے سسٹم کو اس طرح بہتر بنایا جائے کہ عمر کی تصدیق کے بغیر نکاح نامہ جاری نہ ہو۔

فیصلے میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ کم عمری کی شادی کے نقصانات سے بچا جا سکے۔

عدالت نے لکھا کہ فیصلے کی کاپی لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان ، وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق کو بھجوائی جائے، وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈی جی نادرا اور سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی فیصلے کی کاپی بھجوائی جائے۔
Whether the case of child marriage would fall within the definition of Sections 375 and 377A, P.P.C. thereby constituting "r**e"?

The consistent judicial position has been that a Muslim girl, who has attained puberty and freely consents to marriage, has the right to contract marriage, even if under sixteen years of age. These precedents clearly hold that while such a marriage may amount to an offence under the CMRA, 1929, it does not render the marriage invalid, nor can consummation within such a marriage be treated as “r**e” under Section 375 of the Penal Code. The element of lawful relationship and consent within marriage fundamentally distinguishes such cases from exploitative acts that Sections 375 and 377A PPC were designed to penalize.
W.P. NO. 2494 OF 2025
MUHAMMAD RIAZ VS LEARNED DISTRICT & SESSIONS JUDGE, (EAST) ISLAMABAD, ETC.

02/09/2025

PLJ 2025 Cr.C. 418
اگر گولی گھٹنے سے نیچے ماری جائے تو دفعہ 324 ت پ(اقدام قتل) کا اطلاق مزید تحقیق طلب ہوگا۔لیکن اگر گولی گھٹنے سے اوپر ران میں ماری جائے تو دفعہ 324 ت پ لاگو ہوگا کیونکہ ران میں خون اور آکسیجن سپلائی کرنے والی شریان ہوتی ہے جسکو نقصان پہنچنے کی صورت میں زیادہ خون بہہ جانے سے موت بھی ہوسکتی ہے یا ٹانگ کٹنے کا سبب بھی بن سکتی ہے
If injury has been caused below knee, then applicability of Section 324 PPC requires further probe/inquiry within the purview of sub-section 2 of Section 497 Cr.P.C., however, if injury has been caused above knee on the (naeem)leg at thigh, then situation is otherwise because femoral artery, which is major blood vessel, is located in thigh starting from groin coming to the back of knee and it supplies oxygen-rich blood to the lower parts of the body. So, femoral artery if damaged can cause lower limb ischemia leading to amputation of limb, compartment syndrome as well as death (naeem)due to severe blood loss from a major artery in the leg, hence if firearm injury has been caused at thigh, then prima facie section 324 PPC is attracted.
Bail refused.
Crl. Misc.1584/25
Nasrullah alias Nasru Vs The State etc.
Mr. Justice Farooq Haider
13-03-2025
2025 LHC 822

Justice Law Chamber

❤️
29/08/2025

❤️

14/08/2022
Happy independence day
14/08/2022

Happy independence day

Thanks for following us
14/08/2022

Thanks for following us

Address

Civil And Sessions Court Haroonabad Municipality, Punjab
Haroonabad Municipality
62100

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
18:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Justice Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share