Legal Solution's

Legal Solution's We make highly quality legal solution's accessible and affordable to all.

18/08/2026

AI reveals what lawyering actually is: not document review and contract drafting, but human judgment, empathy, and creative problem-solving that no algorithm can replicate.

13/08/2026
Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Fahim Afridi, Pti TaluqaCity Hyd Offical, Muzamil Khan, B...
08/08/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Fahim Afridi, Pti TaluqaCity Hyd Offical, Muzamil Khan, Babu S, Sipano Beach Lodge, Safdar Channar Safdar Channar, Malik Akber, Manzoor Ahmad

⚖️ خواتین کے حقِ وراثت کے تحفظ سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہوفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے C.P.L.A. No. 143-Q o...
08/08/2026

⚖️ خواتین کے حقِ وراثت کے تحفظ سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے C.P.L.A. No. 143-Q of 2025 (Mst. Bibi Amina and others v. Shamsullah and others) میں 04 جون 2026 کو خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے نہایت اہم قانونی اصول وضع کیے، جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی خاتون کو دھوکہ، دباؤ یا لاعلمی کے ذریعے اس کے قانونی حقِ وراثت سے محروم نہ کیا جا سکے۔

اہم قانونی اصول

1۔ خصوصی عدالتی جانچ
خواتین کے حقِ وراثت سے متعلق ہر دستبرداری، خاندانی تصفیہ، ہبہ، انتقال، رضامندی یا کسی بھی نوعیت کی دستاویز کو عدالتیں غیر معمولی احتیاط اور سخت قانونی جانچ کے بعد ہی قابلِ قبول سمجھیں گی۔

2۔ صرف دستخط یا رجسٹریشن کافی نہیں
کسی دستاویز پر دستخط، رجسٹریشن، انتقال یا ظاہری رضامندی موجود ہونے سے یہ خودبخود ثابت نہیں ہوتا کہ وہ قانونی طور پر درست ہے۔ لازمی ہے کہ رضامندی آزادانہ، مکمل آگاہی اور شعوری فیصلے کے تحت دی گئی ہو۔

3۔ ثبوت کی ذمہ داری فائدہ اٹھانے والے پر
اگر کسی شخص کو اس لین دین سے فائدہ حاصل ہو رہا ہو تو اسی پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ ثابت کرے کہ خاتون نے مکمل معلومات اور اپنی آزاد مرضی سے یہ فیصلہ کیا تھا۔

4۔ وراثتی حقوق سے مکمل آگاہی
یہ ثابت کرنا ضروری ہوگا کہ خاتون کو بخوبی علم تھا کہ متعلقہ دستاویز کے نتیجے میں اس کے کون سے قانونی اور وراثتی حقوق متاثر یا ختم ہو رہے ہیں۔

5۔ آزاد اور غیر جانبدار قانونی مشورہ
یہ بھی ثابت کیا جائے گا کہ خاتون کو کسی اہل، آزاد اور غیر جانبدار شخص سے مناسب قانونی مشورہ لینے کا حقیقی موقع فراہم کیا گیا تھا تاکہ وہ بغیر کسی دباؤ کے فیصلہ کر سکے۔

6۔ جبر یا ناجائز اثر و رسوخ کی جانچ
عدالت اس امر کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے گی کہ دستاویز جبر، دھوکہ، غلط بیانی، ناجائز اثر و رسوخ یا خاندانی و سماجی دباؤ کے تحت تو حاصل نہیں کی گئی۔

7۔ عوض یا ادائیگی کی تصدیق
اگر وراثتی حق سے دستبرداری کے بدلے رقم یا کوئی اور عوض دیا گیا ہو تو اس کا قانونی، حقیقی، مناسب اور واقعی وصول ہونا بھی ثابت کرنا ضروری ہوگا۔

8۔ دستاویز کی مکمل وضاحت
یہ ثابت کیا جائے گا کہ دستاویز کا متن خاتون کو ایسی زبان میں پڑھ کر سنایا، سمجھایا اور ضرورت پڑنے پر ترجمہ کیا گیا جسے وہ پوری طرح سمجھتی تھی۔

9۔ غور و فکر کے لیے مناسب وقت
خاتون کو فیصلہ کرنے اور مشورہ حاصل کرنے کے لیے مناسب مہلت دی گئی ہو۔ جلد بازی یا دباؤ میں حاصل کی گئی رضامندی کو عدالت خصوصی احتیاط سے جانچے گی۔

اہم قانونی نکتہ

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا ہے کہ خواتین کے حقِ وراثت سے دستبرداری یا اس حق کو محدود کرنے والی کسی بھی دستاویز کو صرف اس وجہ سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ رجسٹرڈ ہے، انتقال ہو چکا ہے یا اس پر خاتون کے دستخط موجود ہیں۔ اصل معیار یہ ہوگا کہ رضامندی آزادانہ، باخبر اور حقیقی تھی یا نہیں۔

نوٹ: عدالت نے ان اصولوں کے علاوہ بھی متعدد حفاظتی رہنما اصول وضع کیے ہیں، جن میں مشکوک حالات کی وضاحت، غیر منصفانہ یا یک طرفہ لین دین کی سخت جانچ، رضامندی سے متعلق واضح عدالتی اطمینان، اور ریونیو حکام کو انتقال کے مرحلے پر بھی یہی احتیاط اختیار کرنے کی ہدایت شامل ہے۔

️ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: صرف رقم کی وصولی کے لیے CNIC شناختی کارڈ بلاک نہیں کیا جا سکتااگر ڈگری صرف Money Decree (ر...
06/08/2026

️ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: صرف رقم کی وصولی کے لیے CNIC شناختی کارڈ بلاک نہیں کیا جا سکتا

اگر ڈگری صرف Money Decree (رقم کی وصولی) سے متعلق ہو تو Executing Court محض رقم کی وصولی کے لیے Judgment Debtor کا CNIC بلاک کرنے کا حکم نہیں دے سکتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ:

Section 51, Code of Civil Procedure (CPC)
عدالت کو ایسا اختیار نہیں دیتا کہ وہ محض رقم کی وصولی کے لیے شہری کا CNIC بلاک کرے۔

CNIC
آج کے دور میں ایک بنیادی شناختی دستاویز ہے، جس کے بغیر روزمرہ زندگی، بینکنگ، سفری معاملات، سرکاری و نجی خدمات اور دیگر قانونی امور شدید متاثر ہوتے ہیں۔

اگر CNIC بلاک کرنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر اسی منطق کے تحت بجلی، گیس اور پانی جیسی بنیادی سہولیات بھی بند کی جا سکتی ہیں، جو قانون اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔

عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد ضروری ہے، مگر اس کے لیے ایسے اقدامات اختیار نہیں کیے جا سکتے جو شہری کے بنیادی حقوق اور معمول کی زندگی کو غیر ضروری طور پر متاثر کریں
PLD 2026 SC 281

05/08/2026

*⬅️ کیا صرف کاغذ پر طلاق لکھ کر بھیجنے سے کوئی عورت طلاق یافتہ ہو جاتی ہے؟*

➡️ *Writ Petition No. 622 of 2025 decided on 26th May, 2025*

*2026 CLC 1*
[Islamabad]

Before Mohsin Akhtar Kayani, J

BUSHRA HUSSAIN
Vs
CHAIRMAN, ARBITRATION COUNCIL, ISLAMABAD

⬅️ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس اہم سوال کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک تاریخی اور انقلابی فیصلہ دیا ہے جسٹس محسن اختر کیانی نے اس فیصلے میں قانون کی ایک لفظی باریکی کو اتنا اہم قرار دیا کہ اس سے فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کی زندگیاں متاثر ہوں گی ۔

⬅️ بشریٰ حسین اور ان کے شوہر ارسلان عبداللہ دونوں فقہ جعفریہ سے تعلق رکھتے تھے۔ 2 فروری 2020 کو شادی کے بعد گھریلو اختلافات پیدا ہوئے تو بیوی نے نان و نفقہ کا دعویٰ دائر کر دیا۔ جواب میں شوہر نے طلاق کے نوٹس جاری کر دیے بعد میں میاں بیوی میں صلح ہوگئی اور وہ دوبارہ اکٹھے رہنے لگے تاہم شوہر نے یہ حقیقت آربیٹریشن کونسل کو نہیں بتائی اور طلاق مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا

⬅️ بیوی نے عدالت کا رخ کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ دونوں فقہ جعفریہ سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے طلاق بھی اسی فقہ کے مطابق ہونی چاہیے تھی جس میں عربی صیغۂ طلاق دو اہل مسلمان گواہوں کی موجودگی میں ادا کرنا لازمی ہے

*⬅️ 2021 کی قانونی ترمیم* فقہ جعفریہ کے لیے نیا دور ۔

عدالت نے اس فیصلے میں 2021 کی اہم قانونی ترمیم کو مرکزی حیثیت دی اس ترمیم کے تحت فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے طلاق کا الگ طریقۂ کار مقرر کیا گیا

*⬅️ فقہ جعفریہ میں طلاق کی چار لازمی شرائط ۔*

1 آزاد مرضی طلاق صرف شوہر کی اپنی آزاد مرضی سے ہو غصے یا زبردستی کی طلاق قابل قبول نہیں

*2 بذریعہ شوہر یا وکیل شوہر* خود یا اس کا مجاز وکیل طلاق دے

*3 عربی صیغۂ طلاق* مخصوص عربی الفاظ زبان سے ادا کرنا فرض ہے محض تحریری نوٹس کافی نہیں
4 دو گواہان کی موجودگی کم از کم دو عادل مسلمان مرد گواہ موقع پر موجود ہوں

عدالت نے واضح کیا کہ ان شرائط کی تکمیل کے بغیر طلاق مؤثر نہیں ہوگی چاہے کتنے ہی کاغذی نوٹس بھیج دیے جائیں

*⬅️ آئندہ کے لیے اہم ہدایات*

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام چیئرمین آربیٹریشن کونسلز کو ہدایت دی کہ

· 2021 کی ترمیم پر مکمل عمل درآمد کیا جائے

· عربی صیغۂ طلاق کی تصدیق کی جائے

· دو اہل مسلمان گواہوں کی موجودگی کی تصدیق کی جائے

· ان شرائط کی تکمیل کے بغیر طلاق مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ ہرگز جاری نہ کیا جائے

⬅️ اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے پہلے جاری کردہ سرٹیفکیٹ کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ نیا سرٹیفکیٹ اسی تاریخ سے جاری کیا جائے جس دن فقہ جعفریہ کے مطابق تمام شرعی اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے عربی صیغۂ طلاق ادا کی گئی تھی۔

⬅️ یہ فیصلہ پاکستان میں فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے طلاق کے طریقۂ کار سے متعلق ایک رہنما نظیر کی حیثیت رکھتا ہے ۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Frank Dickson Chumvi, Adv Qalbali Abbas Dhudi, Birhanu Ab...
16/07/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Frank Dickson Chumvi, Adv Qalbali Abbas Dhudi, Birhanu Abrha, Dauglas Ateya, Asim Rajpoot, Muhammad Bux, Terkosu Dominic Mne, Saad Ahmed

Address

Office No: 89/90, Muhammah Ali Jinnah Lawyer PlazaDistrict Bar Association Haripur, KPK
Haripur
22800

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923145286572

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Solution's posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Legal Solution's:

Shortcuts

Share