11/10/2020
ہری پور تھانہ خان پور کی حدود کوھالہ بالا سے 15،16 ماہ قبل پرسرار طور پر لاپتہ ہونے والے فضل کریم کی کھوپڑی، موبائل فون سم اور کپڑے نجف پور کے جنگل سے برامد، تھانہ خان پور کی پولیس اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئی۔ جنھوں نے فضل کریم کی باقیات اکھٹی کر کے میڈیکل کے لیے ہسپتال منتقل کر دیں۔
15 ،16 ماہ قبل فضل کریم کو اغواء کیا گیا تھا۔ فضل کریم کے والد محبوب سکنہ کوہالہ نے اپنے بیٹے کے اغواء کی ایف آئی آر میں محمد یونس ولداقبال سکنہ نجف پور عمیر ولد یونس مسعود ولد اختر، عامر، مسعود ،مقصودولد اختر سکنہ کوھالہ بالا کو نامزد کیا تھا۔ 16 جون 2019 کو نجف پور کے علاقے سے ہی لاپتہ ہونے والے فضل کریم کی 15 ماہ بعد نجف پور کے جنگل سے ہی باقیات مل گئیں۔ فضل کریم 16جون 2019 کو نجف پور میں ایک شادی کی تقریب میں ایا تھا۔ جہاں سے واپسی پر اسے اغواء کر کے قتل کیا گیا۔ ملزمان باآثر ہونے کی وجہ سے تھانہ خان پور پولیس نے ایف ائی ار درج نا کی۔ جس پر اغواء شدہ فضل کریم کے والد نے مسنگ پرسن کمیشن میں درخواست دائر کی۔ جہاں سے درخواست انے پر ڈی پی او ہری پور نے انکوائری کمیٹی مقرر کی۔ جس میں ایس ایچ او خان پور، ڈی ایس پی خان پور، انچارج ڈسٹرکٹ سیکیورٹی ، و دیگر افسران شامل تھے جس پر انھوں 21/2/2020 کو مسنگ پرسن کی چھٹی پر ایف ائی ار درج کی۔ جس پر 5 نامزد ملزمان کے خلاف ایف ائی ار درج کی گئی۔ تمام ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری کروا لی۔ جو کہ ائندہ پیشی 16/10/2020 مقرر ہوئی۔اج علاقے کے چند بچے جنگل میں لکڑیاں کاٹنے گئے جنھوں نے جنگل میں فضل کریم کی پھٹی قمیض، ہڈیاں کھوپڑی، موبائل دیکھا۔ جس پر عمائدین علاقہ کو اطلاع کی گی۔ علاقہ نے پولیس کو اطلاع کی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تمام باقیات قبضے میں کر کے ڈی این اے کے لیے خیبر میڈیکل کالج پشاور روانہ کر دیں۔ موبائل فون اور سم کے ذریعے مقتول فضل کریم کی شناخت اور ورثاء سے رابطہ ہوا۔