Law world

Law world my page is about the fresh law points, references and discussion on legal issues either civil, criminal and family

28/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 2026 MLD 318

🏛️ سوشل میڈیا پر دھمکی اور سائبر دہشت گردی

🔴 اہم قانونی اصول

سوشل میڈیا پر کسی کو آن لائن دھمکیاں دینا یا خوف و ہراس پھیلانا ازخود سائبر دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

⚖️ عدالت نے قرار دیا کہ محض کسی سوشل میڈیا پوسٹ یا بیان کی بنیاد پر اسے دہشت گردی کے زمرے میں لانے کے لیے ٹھوس اور آزادانہ شواہد ضروری ہیں۔

🔹 ایسی پوسٹ یا آن لائن عمل اسی صورت میں دہشت گردی کے قانون کے تحت آ سکتا ہے جب وہ حقیقتاً عوام میں شدید خوف و ہراس پیدا کرنے کا سبب بنے۔

📌 محض سوشل میڈیا پوسٹ کافی نہیں؛ دہشت گردی کے الزام کے لیے اس کے حقیقی اثرات اور قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہیں۔

ROOHI IRAM CH ADV
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS
SESSION COURT GUJRANWALA

27/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 2025 SCMR 1357

🏛️ رَب نواز بنام شہزاد حسن
⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان

🔴 ضمانت منسوخی کے اہم اصول

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ ضمانت منظور کرنے کے حکم میں اپیلیٹ عدالت صرف اسی صورت میں مداخلت کر سکتی ہے جب:

🔹 حکم بادی النظر میں Perverse ہو، یعنی ریکارڈ پر موجود اہم مواد کو نظر انداز کیا گیا ہو، وجوہات بیان نہ کی گئی ہوں یا من مانی سے کام لیا گیا ہو۔

🔹 ضمانت دینے کے طے شدہ قانونی اصولوں کو واضح طور پر نظر انداز کیا گیا ہو۔

⚖️ ضمانت کے مرحلے پر شہادت کا گہرا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ عدالت صرف ابتدائی طور پر یہ دیکھتی ہے کہ ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کے معقول اور قابلِ اعتبار شواہد موجود ہیں یا نہیں۔

📌 اصول:
صرف اختلافِ رائے کی بنیاد پر ضمانت منسوخ نہیں کی جا سکتی؛ مداخلت کے لیے واضح قانونی خرابی یا ضمانت کے مسلمہ اصولوں سے انحراف ضروری ہے۔

ROOHI IRAM CH ADV
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS, SESSION COURT GUJRANWALA

27/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 2020 SCMR 1115

🏛️ سپریم کورٹ آف پاکستان

🔴 ضمانت منسوخی کی وجوہات

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ کسی ملزم کی منظور شدہ ضمانت درج ذیل حالات میں منسوخ کی جا سکتی ہے:

🔹 ضمانت کا حکم صریحاً غیر قانونی، غلط یا حقائق کے منافی ہو اور اس سے انصاف متاثر ہوا ہو۔

🔹 ملزم نے ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کیا ہو۔

🔹 ملزم نے استغاثہ کے گواہوں کو راضی کرنے، دھمکانے یا دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہو۔

🔹 ملزم کے مفرور ہونے کا قوی امکان ہو۔

🔹 ملزم نے تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہو۔

🔹 ملزم نے ضمانت پر رہائی کے دوران کسی دوسرے جرم کا ارتکاب کیا ہو۔

🔹 تفتیش کے دوران نئے حقائق یا ایسا نیا مواد سامنے آیا ہو جو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہو۔

⚖️ اہم اصول:
ضمانت منسوخی کے لیے محض اختلافِ رائے کافی نہیں؛ قانون میں تسلیم شدہ وجوہات اور حالات کا موجود ہونا ضروری ہے۔

ROOHI IRAM CH ADV
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS, SESSION COURT GUJRANWALA

25/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 2026 LHC 5308

🏛️ محمد اشفاق عرف اشتیاق بنام سرکار وغیرہ

⚖️ لاہور ہائی کورٹ، لاہور
👨‍⚖️ جسٹس سید فرہاد علی شاہ
📅 فیصلہ: 19 اگست 2026ء

🔴 غیر تصفیہ طلب جرم اور راضی نامہ — ضمانت پر اثر

⚖️ عدالت نے قرار دیا کہ غیر تصفیہ طلب جرم میں فریقین کا باہمی راضی نامہ جرم کو ختم نہیں کرتا، تاہم ضمانت کی درخواست پر راضی نامہ ایک اہم اور مؤثر عنصر ہو سکتا ہے۔

🤝 اگر مدعی عدالت میں آ کر بیان دے کہ اب کوئی تنازع باقی نہیں رہا، وہ مقدمہ کی پیروی نہیں کرنا چاہتا اور ملزم کی ضمانت پر اسے کوئی اعتراض نہیں، تو عدالت ضمانت کے فیصلے میں اس صورتحال کو مدنظر رکھ سکتی ہے۔

📌 اہم قانونی اصول:
راضی نامہ جرم ختم نہیں کرتا، لیکن ضمانت کے مرحلے پر ایک اہم Persuasive Factor ہو سکتا ہے۔

⚖️ THE LAW JUSTICE
قانونی آگاہی — عدالتی فیصلے — قانونی اصول

22/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 قانونی فکری ارتقاء: ایف آئی آر کے اخراج (Quashment of FIR) کے پرانے ستون، جدید عدالتی اصول اور تازہ ترین فیصلے

پاکستانی فوجداری قانون میں FIR کا اخراج (Quashment of FIR) ہائیکورٹ کا ایک غیر معمولی اور انتہائی محدود اختیار ہے۔ یہ اختیار بنیادی طور پر آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 اور ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کی دفعہ 561-الف کے قانونی اصولوں کے تناظر میں استعمال ہوتا ہے۔

قانونی نظائر (Precedents) وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے فیصلے انہی بنیادی اصولوں کی مزید تشریح اور تطبیق کرتے ہیں۔ اسی لیے ایف آئی آر کے اخراج کے معاملے میں پرانے بنیادی فیصلے + نئے عدالتی فیصلے ایک مکمل اور مضبوط قانونی فریم ورک تشکیل دیتے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🟢 STEP 1 — عدالتی بنیادیں: بنیادی اور کلاسیکی فیصلے

یہ وہ اہم فیصلے ہیں جنہوں نے ایف آئی آر کے اخراج، بدنیتی، تفتیش میں عدالتی عدم مداخلت اور غیر معمولی دائرہ اختیار کے بنیادی اصول وضع کیے۔

🏛️ 1۔ Mirza Naseem Baig v. Muhammad Iqbal — 1981 SCMR 315

🔹 قانونی اہمیت:
یہ اہم فیصلہ اس اصول کی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ اگر کسی فوجداری کارروائی کے پیچھے بدنیتی (Malafide) یا دشمنی کارفرما ہو اور قانونی عمل کا غلط استعمال سامنے آئے تو عدالت غیر معمولی اختیار استعمال کرتے ہوئے مداخلت کر سکتی ہے۔

🔹 چنانچہ بدنیتی پر مبنی فوجداری کارروائی کے خلاف عدالتی تحفظ کا اصول اس نوعیت کے مقدمات میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🏛️ 2۔ Muhammad Mansha v. SHO City Chiniot — PLD 2006 SC 598

🔹 قانونی اہمیت:
ایف آئی آر کا اخراج ایک Extraordinary Remedy ہے۔

🔹 ہائیکورٹ روزمرہ کے معاملات میں پولیس کی تفتیش میں مداخلت نہیں کرتی۔

🔹 مداخلت اسی وقت مناسب ہوتی ہے جب ریکارڈ سے واضح ناانصافی، قانونی اختیار کا غلط استعمال یا غیر معمولی صورتِ حال سامنے آئے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🏛️ 3۔ Ghulam Mustufa v. State — 2008 SCMR 76

🔹 اہم اصول:
ہائیکورٹ خود Investigation Officer کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔

🔹 تفتیش کے دوران عدالت عام طور پر شواہد کی گہرائی میں جا کر Merits کا فیصلہ نہیں کرتی۔

🔹 بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ ایف آئی آر کے مندرجات اور دستیاب ابتدائی مواد کی بنیاد پر کیا کوئی قانونی جرم بنتا بھی ہے یا نہیں؟

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🟡 STEP 2 — FIR کے اخراج کا بنیادی قانونی امتحان

کسی ایف آئی آر کو خارج کرنے کے لیے درج ذیل بنیادی اصول انتہائی اہم ہیں:

🔸 1۔ کوئی Prima Facie Offense نہ بننا

اگر ایف آئی آر کے تمام الزامات کو بادی النظر میں درست تسلیم کر لیا جائے، تب بھی ان سے کوئی قانونی جرم تشکیل نہ پاتا ہو۔

🔸 2۔ بدنیتی (Malafide / Ulterior Motive)

اگر ثابت ہو جائے کہ فوجداری مشینری:

▪️ ذاتی دشمنی
▪️ انتقام
▪️ دباؤ ڈالنے
▪️ ہراساں کرنے
▪️ یا کسی ناجائز مقصد

کے لیے استعمال کی گئی ہے تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔

🔸 3۔ دیوانی تنازع کو فوجداری رنگ دینا

محض رقوم کی وصولی، کاروباری لین دین، معاہدے یا پراپرٹی کے تنازع کو دباؤ بڑھانے کے لیے فوجداری مقدمے کا رنگ دینا عدالتی جانچ کا باعث بن سکتا ہے۔

🔸 4۔ تفتیش میں غیر ضروری عدالتی مداخلت سے گریز

دفعہ 154 اور 156 Cr.P.C کے تحت پولیس کے قانونی فرائض میں عدالتیں عام طور پر مداخلت نہیں کرتیں، جب تک کوئی غیر معمولی، واضح اور سنگین قانونی خرابی سامنے نہ آئے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔵 STEP 3 — تکنیکی دائرہ اختیار: PLD 2023 SC 265

🏛️ PLD 2023 SC 265

یہ فیصلہ ایف آئی آر کے اخراج کے معاملے میں دائرہ اختیار اور طریقۂ کار کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔

🔹 جاری پولیس تفتیش اور خام (Raw) FIR کے مرحلے پر قانونی چیلنج کے لیے مناسب آئینی دائرہ اختیار آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ پٹیشن کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

🔹 دفعہ 561-الف Cr.P.C کا تعلق ہائیکورٹ کے Inherent Powers سے ہے اور اس کے استعمال کا مرحلہ اور دائرہ کار الگ قانونی اصولوں کے تابع ہے۔

🔹 جب مقدمہ ٹرائل کورٹ کے سامنے آ جائے اور پولیس دفعہ 173 Cr.P.C کے تحت رپورٹ/چالان پیش کر دے تو کارروائی کے اگلے مرحلے میں متعلقہ قانونی اختیار کا تعین کیا جاتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🟣 STEP 4 — جدید عدالتی تشریح: سال 2025

🏛️ The State through Prosecutor General, Punjab v. Chaudhry Mohammad Khan — PLD 2025 SC 254

یہ فیصلہ ایف آئی آر کے اخراج اور ہائیکورٹ کے غیر معمولی رِٹ اختیار کی حدود کے حوالے سے نہایت اہم جدید نظیر ہے۔

🔴 اہم اصول:

ہائیکورٹ آرٹیکل 199 کے تحت اپنے غیر معمولی رِٹ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے محض:

▪️ متوقع سزا
▪️ فیکچوئل تنازعات (Factual Controversies)
▪️ شواہد کی متنازعہ تشریح
▪️ یا ٹرائل کے متبادل کے طور پر

عام فوجداری طریقۂ کار کو بائی پاس نہیں کر سکتی۔

⚖️ Civil vs. Criminal Test

محض یہ حقیقت کہ فریقین کے درمیان کوئی متوازی دیوانی تنازع موجود ہے، فوجداری کارروائی کو خود بخود غیر قانونی یا کالعدم نہیں بناتی۔

اگر ابتدائی حقائق سے کوئی قابلِ دست اندازی پولیس جرم ظاہر ہوتا ہو تو پولیس کو قانون کے مطابق اپنی تفتیش مکمل کرنے کا حق حاصل ہے۔

🔴 کب مداخلت کی جا سکتی ہے؟

تفتیش کے ابتدائی مرحلے میں مداخلت صرف اس وقت مناسب ہے جب ریکارڈ سے واضح ہو کہ:

▪️ کوئی جرم بنتا ہی نہیں؛
▪️ کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے؛
▪️ قانونی عمل کا غلط استعمال ہو رہا ہے؛
▪️ یا ایف آئی آر قانونی جواز سے مکمل طور پر عاری ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🟠 STEP 5 — اسلام آباد ہائیکورٹ: W.P. No. 213-Q of 2025

🏛️ W.P. No. 213-Q of 2025

🔹 اہم نکتہ: دفعہ 561-الف Cr.P.C کی Inherent Powers

عدالت نے عدالتی عمل کے غلط استعمال (Abuse of Process) کو روکنے کی ذمہ داری پر زور دیا۔

🔹 اگر خالصتاً دیوانی یا تجارتی معاہدے (Commercial Contracts) کے تنازعات کو:

▪️ رقوم کی وصولی
▪️ ذاتی انتقام
▪️ دباؤ ڈالنے
▪️ یا فریقِ مخالف کو ہراساں کرنے

کے لیے فوجداری رنگ دے کر ایف آئی آر درج کرائی جائے تو عدالت اپنے قانونی اور آئینی اختیارات کے ذریعے مناسب مداخلت کر سکتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔴 STEP 6 — 2025 PCrLJ 541: سیاسی انتقام اور بنیادی حقوق

🏛️ 2025 PCrLJ 541

🔹 اہم اصول:
پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے آئینی حقوق کو محض فرضی، بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی فوجداری مقدمات کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

🔹 جہاں الزامات کے پیچھے بنیادی شواہد کا فقدان ہو اور کارروائی سیاسی محرکات یا ریاستی جبر پر مبنی ہو، وہاں عدالت انفرادی آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مداخلت کر سکتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🟢 STEP 7 — تمام فیصلوں کا مشترکہ قانونی اصول

پرانے اور نئے فیصلوں کو یکجا کرنے سے ایک واضح قانونی تصویر سامنے آتی ہے:

📌 پرانے فیصلے بنیادی ستون ہیں، جبکہ نئے فیصلے انہی ستونوں پر جدید قانونی عمارت کی مزید وضاحت کرتے ہیں۔

یعنی:

1981 SCMR 315
⬇️
بدنیتی اور غیر قانونی فوجداری کارروائی کے خلاف عدالتی تحفظ

PLD 2006 SC 598
⬇️
FIR Quashment ایک Extraordinary Remedy

2008 SCMR 76
⬇️
ہائیکورٹ Investigation Officer کا کردار ادا نہیں کرے گی

PLD 2023 SC 265
⬇️
دائرہ اختیار اور مناسب قانونی طریقۂ کار کی وضاحت

PLD 2025 SC 254
⬇️
آرٹیکل 199 کے غیر معمولی اختیار کی حدود اور Civil vs. Criminal Test

W.P. No. 213-Q of 2025
⬇️
Commercial/Civil Dispute کو Criminal Colour دینے کے خلاف اصول

2025 PCrLJ 541
⬇️
بنیادی حقوق، سیاسی محرکات اور ریاستی جبر کے خلاف عدالتی تحفظ

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

⚖️ STEP 8 — عملی قانونی چیک لسٹ

کسی ایف آئی آر کے اخراج کے لیے رِٹ پٹیشن یا قانونی کارروائی سے قبل درج ذیل امور کا جائزہ انتہائی ضروری ہے:

🔹 FIR میں کون سی PPC دفعات لگائی گئی ہیں؟

🔹 کیا ایف آئی آر کے مندرجات کو درست ماننے کے باوجود کوئی جرم بنتا ہے؟

🔹 کیا معاملہ بنیادی طور پر Civil / Property / Commercial Nature کا ہے؟

🔹 کیا فوجداری کارروائی بدنیتی، انتقام یا ہراسانی کے لیے استعمال کی گئی ہے؟

🔹 تفتیش کس مرحلے پر ہے؟

🔹 کیا چالان دفعہ 173 Cr.P.C کے تحت جمع ہو چکا ہے؟

🔹 کیا معاملہ ابھی جاری پولیس تفتیش کے مرحلے میں ہے؟

🔹 کیا عدالت سے شواہد کی گہرائی میں جا کر فیصلہ کرنے کی درخواست تو نہیں کی جا رہی؟

🔹 کیا واقعی کوئی غیر معمولی قانونی خرابی یا Abuse of Process موجود ہے؟

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔴 آخری قانونی اصول

FIR کا اخراج کوئی معمول کی کارروائی نہیں بلکہ ایک Extraordinary Remedy ہے۔

ہائیکورٹ پولیس کی تفتیش کا متبادل نہیں، نہ ہی وہ ہر فیکچوئل تنازع کو رِٹ دائرہ اختیار میں طے کرتی ہے۔

لیکن جہاں:

❌ کوئی Prima Facie Offense نہ بنتا ہو
❌ کارروائی بدنیتی پر مبنی ہو
❌ Civil/Commercial Dispute کو محض دباؤ کے لیے Criminal Colour دیا گیا ہو
❌ قانونی عمل کا واضح Abuse ہو
❌ یا بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہو

وہاں عدالت کا غیر معمولی اختیار انصاف، آزادی اور قانون کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

⚖️ قانونی فکری نتیجہ

پرانے فیصلے = قانونی بنیاد 🏛️
نئے فیصلے = جدید تشریح 📚
دونوں کا امتزاج = مضبوط قانونی دلیل ⚖️

اسی جامع قانونی فریم ورک کے تحت ایف آئی آر کے اخراج کے مقدمات میں Precedent، Jurisdiction، Malafide، Abuse of Process، Civil vs. Criminal Nature اور Fundamental Rights کو ایک مربوط انداز میں پرکھا جاتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

روحی ارم چوھدری ایڈووکیٹ
ROOHI IRAM CH ADV
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS
SESSION COURT GUJRANWALA

19/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 قانونِ شہادت آرڈر 1984 — آرٹیکل 22

🔎 شناخت پریڈ (TEST IDENTIFICATION PARADE)

قانونی حیثیت، ثبوتی اہمیت اور ضروری عدالتی ضوابط

📌 2025 SCMR 50 — Subha Sadiq v. The State

سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کیا کہ شناخت پریڈ آرٹیکل 22 قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے تحت ثبوت حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے، لیکن یہ بذاتِ خود بنیادی یا Substantive Evidence نہیں بلکہ محض Corroborative Evidence ہے۔

شناخت پریڈ ہر مقدمے میں لازمی نہیں۔ اگر چشم دید گواہ کی عدالت میں شناخت کے حوالے سے شہادت قابلِ اعتماد، واضح اور تمام اہم امور میں مستقل ہو اور اس کے بیان کے جھوٹا ہونے کا کوئی معقول سبب موجود نہ ہو تو صرف شناخت پریڈ نہ ہونے کی بنیاد پر استغاثہ کا مقدمہ لازماً ناکام نہیں ہوتا۔

اسی فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ اگر متاثرہ شخص نے ملزم کو قابلِ اعتماد طور پر شناخت کر لیا ہو تو ہر صورت میں الگ شناخت پریڈ کرانا ضروری نہیں۔

---

📌 2025 SCMR 50 — شناخت پریڈ میں تاخیر

سپریم کورٹ نے یہ اصول بھی واضح کیا کہ انسانی یادداشت وقت گزرنے کے ساتھ کمزور ہو سکتی ہے۔

لہٰذا وقوعہ اور شناخت پریڈ کے درمیان اگر غیر ضروری، غیر معمولی اور بلاجواز تاخیر ہو تو ایسی شناخت پریڈ کی قابلِ اعتماد حیثیت مشکوک ہو سکتی ہے۔

شناخت پریڈ کو ممکنہ حد تک وقوعہ کے فوراً بعد منعقد کیا جانا چاہیے تاکہ گواہ کی یادداشت تازہ ہو اور غلط شناخت کا امکان کم سے کم رہے۔

---

📌 2025 SCMR 50 — ملزم کو پہلے دکھائے جانے کا مسئلہ

اگر گواہ کو شناخت پریڈ سے قبل ملزم کو پولیس تحویل میں دیکھنے کا موقع مل جائے تو شناخت پریڈ کی غیر جانبداری اور قابلِ اعتماد حیثیت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد اسے جلد از جلد شناخت پریڈ کے لیے پیش کیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے گواہ کو پہلے سے ملزم دیکھ لینے کا امکان ختم ہو۔

یہ احتیاط اس لیے ضروری ہے کہ شناخت پریڈ کا مقصد گواہ کی حقیقی یادداشت کو جانچنا ہے، نہ کہ پہلے سے دیکھے ہوئے شخص کی محض تصدیق کروانا۔

---

📌 PLD 2019 SC 488 — Kanwar Anwaar Ali

سپریم کورٹ آف پاکستان نے شناخت پریڈ کے انعقاد کے لیے تفصیلی اور اہم حفاظتی اصول وضع کیے۔

اس فیصلے کے مطابق شناخت پریڈ میں مجسٹریٹ کا کردار محض خاموش تماشائی کا نہیں بلکہ اسے پورے عمل کی غیر جانبداری، شفافیت اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

مجسٹریٹ کو شناخت پریڈ کے دوران اختیار کیے گئے تمام اہم حفاظتی اقدامات، اعتراضات اور کارروائی کو مناسب طور پر ریکارڈ کرنا چاہیے۔

---

📌 PLD 2019 SC 488 — مشترکہ شناخت پریڈ (Joint Parade)

اگر ایک سے زیادہ ملزمان ہوں تو شناخت پریڈ اس انداز میں نہیں ہونی چاہیے کہ تمام ملزمان کو ایک ہی لائن میں اکٹھا کھڑا کر دیا جائے۔

سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنز کے مطابق ہر ملزم کی شناخت کا عمل اس انداز میں ہونا چاہیے کہ گواہ کو کسی خاص شخص کی طرف اشارہ یا انتخاب کرنے کے لیے کوئی suggestive indication نہ ملے۔

غیر محتاط یا مشترکہ شناخت پریڈ گواہ کے انتخاب کو مشکوک بنا سکتی ہے اور شناختی شہادت کی evidentiary value کو متاثر کر سکتی ہے۔

---

📌 PLD 2019 SC 488 — ملزم کا مخصوص کردار بتانا ضروری

شناخت پریڈ میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ "یہ وہ شخص ہے"۔

گواہ کو، جہاں حالات کا تقاضا ہو، یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ شناخت کیے گئے ملزم نے وقوعہ میں کیا مخصوص کردار ادا کیا تھا۔

مثلاً کس شخص نے فائرنگ کی، کس نے متاثرہ شخص کو پکڑا، کس نے گاڑی چلائی یا جرم میں اس کا کیا مخصوص کردار تھا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ملزم کے کردار کی وضاحت شناختی شہادت کی قابلِ اعتماد حیثیت جانچنے میں اہم ہے۔

---

📌 PLD 2019 SC 488 — گواہ کو پہلے سے ملزم نہ دکھایا جائے

شناخت پریڈ کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ گواہ واقعی اپنی یادداشت کی بنیاد پر ملزم کو شناخت کرتا ہے یا نہیں۔

اگر گواہ نے شناخت پریڈ سے پہلے ملزم کو پولیس اسٹیشن، عدالت، پولیس تحویل یا کسی اور ذریعے سے دیکھ لیا ہو تو شناخت کی غیر جانبداری پر سنگین سوال پیدا ہو سکتا ہے۔

اسی لیے سپریم کورٹ نے ملزم کو شناخت پریڈ سے قبل گواہ کی نظر سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر کی ہدایت کی ہے۔

---

📌 PLD 2019 SC 488 — شناخت پریڈ میں مجسٹریٹ کی ذمہ داری

مجسٹریٹ کو شناخت پریڈ کے تمام مراحل میں فعال اور محتاط کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس میں لائن اپ میں شامل افراد کا ریکارڈ، گواہوں اور ملزم کے اعتراضات، اختیار کی گئی احتیاطی تدابیر اور شناخت کے نتائج کو مناسب طور پر درج کرنا شامل ہے۔

سپریم کورٹ نے اس امر پر زور دیا کہ شناخت پریڈ کسی شخص کی آزادی اور زندگی پر اثر انداز ہونے والی شہادت سے متعلق ہے، اس لیے مجسٹریٹ کو غیر معمولی احتیاط اور قانونی بصیرت کے ساتھ کارروائی کرنی چاہیے۔

---

📌 2026 YLR 564 — جدید ٹیکنالوجی اور CCTV

جدید دور میں شناخت کے روایتی طریقوں کے ساتھ CCTV اور دیگر جدید تکنیکی شہادت بھی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

اگر کسی مقدمے میں ملزم کی موجودگی اور شناخت معتبر CCTV فوٹیج یا دیگر قابلِ قبول جدید شہادت سے واضح طور پر ثابت ہو جائے تو عدالت کو مجموعی شہادت کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھنا ہوگا کہ روایتی شناخت پریڈ واقعی ضروری ہے یا نہیں۔

یعنی شناخت پریڈ کو ہر مقدمے میں ایک mechanical یا لازمی رسمی کارروائی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا؛ اصل سوال یہ ہے کہ دستیاب مجموعی شہادت ملزم کی شناخت کو کس حد تک قابلِ اعتماد طور پر ثابت کرتی ہے۔

---

⚖️ اہم قانونی خلاصہ

شناخت پریڈ کا مقصد ملزم کو سزا دینا نہیں بلکہ گواہ کی شناخت کی صداقت جانچنا ہے۔

یہ Substantive Evidence نہیں بلکہ Corroborative Evidence ہے۔

یہ ہر مقدمے میں لازمی نہیں۔

لیکن جہاں شناخت پریڈ منعقد کی جائے وہاں اسے غیر جانبدار، شفاف، بروقت اور سپریم کورٹ کی مقرر کردہ حفاظتی گائیڈ لائنز کے مطابق منعقد کرنا ضروری ہے۔

ملزم کو پہلے سے گواہ کو دکھانا، غیر ضروری تاخیر کرنا، ناقص یا مشترکہ لائن اپ بنانا، یا گواہ سے ملزم کا مخصوص کردار واضح نہ کروانا شناختی شہادت کی قابلِ اعتماد حیثیت کو متاثر کر سکتا ہے۔

لہٰذا شناخت پریڈ کی قانونی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ گواہ نے ملزم کو پہچان لیا، بلکہ اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ گواہ نے اسے کس طریقے سے، کن حالات میں اور کس قانونی طریقۂ کار کے تحت شناخت کیا۔

⚖️ THE LAW JUSTICE

ROOHI IRAM CH ADV
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS
SESSION COURT GUJRANWALA

14/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 اہم عدالتی حوالے

PLD 2026 SC 75
2026 PCr.LJ 1175
Crl. Misc. No. 18217-B of 2021
2023 SCMR 1977
2023 SCMR 748

🏛️ سپریم کورٹ آف پاکستان / ہائی کورٹس

⚖️ دفعہ 489-F — PPC

چیک ڈس آنر کے مقدمات میں اگر چیک کے پیچھے موجود قرض، لین دین یا مالی ذمہ داری کا واضح ثبوت موجود نہ ہو، یا بنیادی لین دین متنازع ہو، تو معاملہ مزید تفتیش (Further Inquiry) کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

چونکہ دفعہ 489-F کی زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے اور یہ دفعہ 497 Cr.P.C. کی ممانعتی شق (Prohibitory Clause) میں شامل نہیں، اس لیے ایسے مقدمات میں ضمانت قاعدہ اور انکار استثناء ہے۔

🔹 چیک جاری کرتے وقت بدنیتی (Mens Rea) کا وجود بھی اہم ہے۔
🔹 ایف آئی آر کے اندراج میں غیر معمولی تاخیر بھی Further Inquiry کا باعث بن سکتی ہے۔
🔹 دفعہ 497(2) Cr.P.C. کے تحت مزید تفتیش کی صورت میں ضمانت دی جا سکتی ہے۔
🔹 دفعہ 489-F کو محض رقم کی وصولی کے لیے سول ریکوری کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

📌 اہم قانونی اصول:
دفعہ 489-F — PPC کے مقدمے میں بنیادی قرض یا مالی ذمہ داری کا واضح ثبوت نہ ہو تو ضمانت کے اصول کا اطلاق ہو سکتا ہے۔

ROOHI IRAM CH ADV
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS
SESSION COURT GUJRANWALA

13/08/2026
11/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 2026 SCP 180

سپریم کورٹ آف پاکستان

قانونِ انسدادِ منشیات 1997 — دفعہ 9(1)-6(c)
ضابطۂ فوجداری — دفعات 497(1)، 497(2) اور 491

فیصلے کا لبِ لباب

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ صرف منشیات کی ایسی مقدار کی برآمدگی جو دفعہ 497(1) ضابطۂ فوجداری کی ممانعتی شق کے دائرے میں آتی ہو، ملزم کو بعد از گرفتاری ضمانت سے محروم کرنے کے لیے کافی نہیں۔

اگر مقدمے کے ریکارڈ اور دستیاب شہادت میں ایسے بنیادی سوالات یا شکوک موجود ہوں جن کی مزید تحقیق ضروری ہو، تو معاملہ دفعہ 497(2) ضابطۂ فوجداری کے تحت مزید تحقیق کے زمرے میں آتا ہے۔

ایسی صورت میں بعد از گرفتاری ضمانت ملزم کا قانونی حق بن جاتی ہے، محض عدالت کی رعایت یا صوابدید نہیں۔

منشیات کی برآمدگی اور شعوری قبضہ

اس مقدمے میں تینوں ملزمان سے فی کس 1100 گرام میتھ ایمفیٹامین (آئس) برآمد ہونے کا الزام تھا، جبکہ ایک ملزم سے 30 بور پستول بھی برآمد کیا گیا۔

اگرچہ کیمیائی تجزیے کی رپورٹ مثبت تھی، لیکن سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ صرف کیمیائی رپورٹ مثبت آنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر ملزم کو منشیات کا علم بھی تھا اور اس پر اس کا شعوری اور حقیقی قبضہ بھی تھا۔

ہر ملزم سے الگ پیکٹ منسوب کیا گیا تھا، اس لیے یہ بنیادی سوال کہ متعلقہ پیکٹ پر اس ملزم کا شعوری قبضہ کس طرح ثابت ہوتا ہے، مزید تحقیق کا متقاضی تھا۔

عوامی مقام سے برآمدگی

مبینہ برآمدگی ایک عوامی مقام سے ہوئی، لیکن کسی آزاد شہری کو برآمدگی کا گواہ نہیں بنایا گیا۔

مزید برآں چھاپے اور برآمدگی کی نہ تصویر بنائی گئی اور نہ ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی۔

اس وجہ سے استغاثہ کے مؤقف کی آزادانہ تصدیق کا ایک اہم ذریعہ بھی موجود نہیں تھا۔

گرفتاری کی تاریخ میں اہم تضاد

دفاع کا مؤقف تھا کہ ملزمان کو حقیقتاً 17 ستمبر 2025 کو ہی کسی دوسرے تھانے کی پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔

ایک رشتہ دار نے ان کی بازیابی کے لیے 22 ستمبر 2025 کو دفعہ 491 ضابطۂ فوجداری کے تحت درخواست بھی دائر کی۔

لیکن پولیس ریکارڈ میں ان کی باقاعدہ گرفتاری 23 ستمبر 2025 کو ظاہر کی گئی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ گرفتاری کی تاریخ اور حالات میں یہ تضاد معمولی نوعیت کا نہیں بلکہ اس بنیادی سوال سے متعلق ہے کہ ملزمان کو حقیقتاً کب اور کن حالات میں گرفتار کیا گیا؟

اس سوال کا حتمی فیصلہ مکمل ٹرائل میں شہادت ریکارڈ ہونے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔

پستول کی برآمدگی

ایک ملزم سے پستول کی مبینہ برآمدگی بھی کسی آزاد اور غیر جانب دار شہادت سے مؤثر طور پر ثابت نہیں ہوئی۔

لہٰذا اسے بھی ایسا ناقابلِ تردید ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا جو اس مرحلے پر ضمانت سے انکار کے لیے کافی ہو۔

سابقہ سزا یا عادی مجرم ہونے کا ثبوت

استغاثہ یہ بھی ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ ملزمان:

پہلے کسی جرم میں سزا یافتہ تھے،
عادی مجرم تھے،
فرار ہونے کا حقیقی خطرہ رکھتے تھے،
یا گواہوں کو متاثر کرکے مقدمے کی شہادت میں مداخلت کرسکتے تھے۔

سپریم کورٹ کا بنیادی اصول

ہر ملزم کو بے گناہی کا قانونی مفروضہ حاصل ہوتا ہے اور شخصی آزادی ایک بنیادی قانونی حق ہے۔

لہٰذا صرف جرم کی سنگینی یا منشیات کی زیادہ مقدار کو بنیاد بنا کر ضمانت مسترد نہیں کی جاسکتی، جب استغاثہ کی اپنی شہادت ملزم کے خلاف مزید تحقیق کی ضرورت پیدا کررہی ہو۔

سنہری اصول

اگر مقدمے کے ریکارڈ سے یہ سوال پیدا ہو کہ ملزم واقعی جرم میں ملوث ہے یا نہیں، اور اس سوال کا جواب مزید تحقیق کے بغیر ممکن نہ ہو، تو دفعہ 497(2) ضابطۂ فوجداری کے تحت ضمانت ملزم کا قانونی حق بن جاتی ہے۔

ممانعتی شق میں جرم کا آنا بذاتِ خود ضمانت کی راہ میں حتمی رکاوٹ نہیں۔

📚 حوالہ: 2026 SCP 180

⚖️ THE LAW JUSTICE

Address

Session Court Civil Road
Gujranwala
131975

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law world posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Law world:

Shortcuts

Share