29/07/2026
**چھوٹے دکانداروں کے لیے بڑی خوشخبری: ایف بی آر نے SRO 1166(I)/2026 جاری کر دیا**
پاکستان میں چھوٹے کاروبار اور دکاندار ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی سہولت اور کاروباری ماحول کو آسان بنانے کے لیے وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے **SRO 1166(I)/2026** کے ذریعے ایک نیا اور آسان **"اسپیشل پروسیجر فار سمال شاپ کیپرز"** متعارف کرایا ہے۔
اس اسکیم کا مقصد چھوٹے دکانداروں کو پیچیدہ ٹیکس نظام سے نکال کر ایک سادہ، قابلِ فہم اور کاروبار دوست طریقہ کار فراہم کرنا ہے تاکہ وہ آسانی سے ٹیکس نظام کا حصہ بن سکیں۔
**اہم خصوصیات کیا ہیں؟**
🔹 یہ اسکیم ایسے انفرادی دکانداروں کے لیے ہے جن کا سالانہ کاروبار **20 کروڑ روپے (200 ملین روپے)** تک ہو۔
🔹 اسکیم مکمل طور پر **رضاکارانہ (Voluntary)** ہے۔ دکاندار چاہیں تو اس خصوصی طریقہ کار کے تحت ٹیکس ادا کریں یا معمول کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن فائل کریں۔
🔹 اہل دکانداروں کے لیے **POS سسٹم لگانا لازمی نہیں ہوگا۔**
🔹 **ڈیجیٹل انوائسنگ کی شرط بھی لاگو نہیں ہوگی۔**
🔹 خریداریوں پر **ودہولڈنگ ٹیکس کاٹنے کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔**
🔹 عام حالات میں **آڈٹ نہیں کیا جائے گا**، البتہ غیر معمولی لین دین یا ٹیکس سے بچنے کی واضح کوشش کی صورت میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔
🔹 دکانداروں کے لیے **سادہ اور مختصر ایک صفحے کا ریٹرن** متعارف کرایا گیا ہے جو اردو اور علاقائی زبانوں میں بھی دستیاب ہوگا۔
**ٹیکس کی شرح کیا ہوگی؟**
اس خصوصی اسکیم کے تحت دکاندار اپنے **مجموعی ٹرن اوور کا صرف 1 فیصد** ٹیکس ادا کریں گے۔ اس سے ٹیکس کا حساب کتاب آسان ہوگا اور کاروباری طبقے کو غیر ضروری پیچیدگیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
**رجسٹریشن کیسے ہوگی؟**
دکاندار FBR کے **IRIS پورٹل، موبائل ایپلیکیشن** یا قریبی ٹیکس دفتر کے ذریعے آسانی سے رجسٹریشن کروا سکیں گے۔
**اس اقدام کی اہمیت**
کاروباری برادری طویل عرصے سے ایک ایسے ٹیکس نظام کا مطالبہ کر رہی تھی جو چھوٹے تاجروں کے لیے آسان، شفاف اور قابلِ عمل ہو۔ SRO 1166(I)/2026 اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے جس سے نہ صرف ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا بلکہ چھوٹے دکانداروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
ایف بی آر کے مطابق اس اسکیم سے چھوٹے تاجروں کو کاروبار پر توجہ دینے کا موقع ملے گا جبکہ ٹیکس نظام میں شمولیت بھی آسان اور دوستانہ انداز میں ممکن ہوگی۔
**آئیں، ایک مضبوط، دستاویزی اور ترقی یافتہ معیشت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔**