M Asif Mughal Adv Law Chamber

M Asif Mughal Adv Law Chamber ❤️10+ Years of Experience❤️ and Topper of AJK PSC in Competitive Examinations of Civil Judges in 2022❤️ I try to provide maximum relief to the Clients.

No Fee for poor and needy Clients. Providing my best services under privacy.

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! M. Naseer Uddin Mughal, Mughal King, Muhammad Yaqoob Sabr...
12/11/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! M. Naseer Uddin Mughal, Mughal King, Muhammad Yaqoob Sabri, Asif Mumtaz Adv, Shakoor Mughal, Mushtaq Mughal, Muhammad Rashid Khan, ZA Khan, Skhawat Sadozai Kashmiri, Sardar Tehseen Ahmad, Hashir Mughal, Sardar Jahandad Khan Mughal, Asn Rajpoot

09/11/2025

اقبال ڈے۔

06/11/2025
06/11/2025

📘 آئینِ پاکستان 1973 — آرٹیکل 239

(ترمیم کا طریقہ)

---

شق (1):

پارلیمنٹ، آئین میں ترمیم، اضافہ، منسوخی یا تبدیلی آئینی بل کے ذریعے کر سکتی ہے۔

🟩 وضاحت:
ترمیم صرف “پارلیمنٹ” کے ذریعے ممکن ہے، کسی عدالت، گورنر یا صدر کے ذریعے نہیں۔

---

شق (2):

کوئی بھی ترمیمی بل کسی ایک ایوان — یعنی قومی اسمبلی یا سینیٹ — میں پیش کیا جا سکتا ہے،
اور جب وہ ایوان اس کو دو تہائی اکثریت سے منظور کر لے،
تو اسے دوسرے ایوان کو بھیجا جائے گا،
جہاں سے اس کو بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کیا جانا ضروری ہے۔

🟩 وضاحت:
دونوں ایوانوں (National Assembly & Senate) میں الگ الگ دو تہائی اکثریت لازمی ہے۔
ایک ایوان کی منظوری کافی نہیں۔

---

شق (3):

جب دونوں ایوان ترمیمی بل منظور کر لیں،
تو وہ صدرِ مملکت کو بھیجا جائے گا
اور صدر اس پر دستخط کریں گے۔
صدر کا دستخط کرنا لازمی ہے۔

🟩 وضاحت:
صدر کو اختیار نہیں کہ وہ بل واپس بھیج دے یا ویٹو کرے۔
یعنی دستخط ایک رسمی کارروائی ہے، انکار ممکن نہیں۔

---

شق (4):

اگر ترمیم کسی صوبے کی حدود یا نام سے متعلق ہو
تو یہ ترمیم اُس وقت تک مؤثر نہیں ہوگی
جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی نے اسے
اپنے اراکین کی اکثریت سے منظور نہ کر لیا ہو۔

🟩 وضاحت:
مثلاً اگر ترمیم بلوچستان کے علاقے یا نام سے متعلق ہے
تو بلوچستان اسمبلی کی منظوری لازمی ہے۔

---

شق (5):

آئین میں کی گئی کسی ترمیم کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

🟩 وضاحت:
یہ شق پارلیمنٹ کی بالادستی ظاہر کرتی ہے۔
تاہم، عدالتیں بعد میں بعض اوقات "Basic Structure Doctrine" کے تحت جائزہ لے چکی ہیں
(جیسے 18ویں اور 21ویں ترمیم کے مقدمات میں)۔

🕊️ History of Youm-e-Shuhada-e-Jammu & Kashmir (Kashmir Martyrs’ Day)📅 Date of Observance6th November every year is obse...
06/11/2025

🕊️ History of Youm-e-Shuhada-e-Jammu & Kashmir (Kashmir Martyrs’ Day)

📅 Date of Observance

6th November every year is observed as Youm-e-Shuhada-e-Jammu & Kashmir — Kashmir Martyrs’ Day.

---

⚔️ Historical Background

After the partition of British India in 1947, the princely state of Jammu and Kashmir faced a tragic and bloody episode.
When the people of the state demanded accession to Pakistan, the then ruler, Maharaja Hari Singh, with the help of extremist groups and Dogra forces, launched a brutal campaign against the Muslim population of Jammu region.

Between October and November 1947, hundreds of thousands of Muslims in Jammu were: Massacred, Displaced, or

Forced to migrate to Pakistan (particularly to Sialkot and Rawalpindi).

Estimates suggest that over 200,000 Muslims were killed in cold blood, and nearly 500,000 were forced to flee their homes.

---

🩸 Why It Is Called "Youm-e-Shuhada"

“Youm-e-Shuhada” means Day of Martyrs.
It honors the innocent Kashmiri Muslims who sacrificed their lives in November 1947 during the Jammu genocide.
They were martyred for their faith, identity, and their wish to join Pakistan.

---

Commemoration in Azad Kashmir and Pakistan 🇵🇰

Every year, on 6th November, people in Azad Jammu & Kashmir (AJK) and Pakistan organize:

Special prayers for martyrs,

Seminars, rallies, and speeches highlighting their sacrifice, and Renew their commitment to the Kashmir freedom struggle.

National and regional leaders issue messages of solidarity with the people of Indian-occupied Jammu and Kashmir.

---

✊ Message of the Day

Youm-e-Shuhada-e-Jammu Kashmir reminds the world that:

The massacre of November 1947 was not just a tragedy but an act of ethnic cleansing.

The struggle for the right of self-determination of Kashmiris continues.

Their sacrifices laid the foundation of the ongoing Kashmir freedom movement.

02/11/2025
21/11/2024

آزاد کشمیر میں صدارتی آرڈیننس اور عوامی احتجاج، خصوصاً راولاکوٹ اور کوٹلی میں۔

آزاد کشمیر میں عوامی اجتماعات پر پابندی کا قانون نافذ، خلاف ورزی کرنے والوں کو 7 سال قید کی سزا۔

**اسلام آباد (رضوان عباسی):** آزاد جموں و کشمیر کے صدر، بیرسٹر سلطان محمود نے صدارتی آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت غیر قانونی عوامی اجتماعات، ریلیوں اور مظاہروں کے لیے 7 سال قید اور فوری گرفتاری کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

یہ اقدام وفاقی حکومت کی جانب سے *پبلک آرڈر اینڈ پیس فل اسمبلی بل 2024* کے نفاذ کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے، جس میں اسلام آباد میں غیر مجاز عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ صدر کی منظوری کے بعد یہ قانون آزاد کشمیر میں نافذ العمل ہو گیا ہے، اور غیر مجاز اجتماعات کرنے والوں کے لیے 3 سال قید اور جرمانے کی سزا بھی متعارف کرائی گئی ہے۔

اس نئے قانون کے تحت صرف رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور یونینز کو مظاہرہ کرنے کی اجازت ہوگی، وہ بھی ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کی پیشگی منظوری کے بعد۔ غیر رجسٹرڈ گروپس یا تنظیموں کو کسی بھی عوامی اجتماع یا مظاہرے کی اجازت نہیں ہوگی۔

حکومتی ترجمان کے مطابق، اس آرڈیننس کا مقصد عوامی حقوق کا تحفظ اور امن و امان کی بحالی ہے۔

نئے قانون کے بعد، ڈی سی کو 3 سال قید اور 3 سے 10 دن کی نظر بندی جیسی سزائیں دینے کے اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ مظاہرہ کرنے کے خواہشمند افراد کو 7 دن پہلے اجازت نامہ (این او سی) کے لیے درخواست دینی ہوگی، جس میں شناخت، رابطہ نمبر، مقام، وقت اور شرکاء کی تفصیلات شامل ہوں گی۔

یہ نیا قانون ڈپٹی کمشنرز کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ کسی بھی علاقے کو "ریڈ زون" یا "ہائی سیکیورٹی زون" قرار دیں، جہاں عوامی اجتماعات اور مظاہروں پر سختی سے پابندی ہوگی۔ ایسے اجتماعات جو عوامی املاک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں یا روزمرہ کی زندگی میں خلل ڈال سکتے ہیں، ان پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

نئے صدارتی آرڈیننس کے تحت پرامن مظاہروں کی اجازت دی گئی ہے، لیکن ہتھیار، لاٹھیاں، یا اشتعال انگیز تقاریر سختی سے ممنوع ہیں۔ قانون کے مطابق، قومی سلامتی یا عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے کسی بھی اجتماع کو فوری طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔

مقررہ جگہ یا وقت کی خلاف ورزی کی صورت میں، ضلعی انتظامیہ کو اجتماع ختم کرنے اور گرفتاریاں کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ منتظمین اجازت یا دیگر احکامات کے خلاف کمشنر کے پاس اپیل دائر کر سکتے ہیں، اور کمشنر کے فیصلے کے خلاف مزید اپیل ہوم سیکریٹری کے پاس کی جا سکتی ہے۔ اپیل کرنے والے اتھارٹی کو 15 دن کے اندر فیصلہ سنانا ہوگا۔

Address

District Courts Kotli
Gam Kotli
11100

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 16:00
Saturday 08:00 - 16:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923465726371

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M Asif Mughal Adv Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to M Asif Mughal Adv Law Chamber:

Share