Advocate Mian Faraz Zahid

Advocate Mian Faraz Zahid I'm a lawyer

Ramadan Mubarik
01/03/2025

Ramadan Mubarik

It is said to steal from the one who truly loves you. Think a thousand times before. In today's age, sincere people are ...
01/11/2024

It is said to steal from the one who truly loves you. Think a thousand times before. In today's age, sincere people are very rare.

07/08/2024
بل گیٹس کو ایک ہائی سکول نے لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا تھا۔  وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچا، جیب سے کاغذ نکالا جہاں اس نے ...
15/07/2024

بل گیٹس کو ایک ہائی سکول نے لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا تھا۔ وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچا، جیب سے کاغذ نکالا جہاں اس نے گیارہ چیزیں لکھی تھیں۔ اس نے 5 منٹ سے بھی کم وقت میں سب کچھ پڑھ لیا، 10 منٹ سے زیادہ لوگوں نے نان اسٹاپ تالیاں بجائیں، شکریہ ادا کیا اور وہ اپنے ہیلی کاپٹر میں چلا گیا۔ جو لکھا ہے وہ بہت دلچسپ ہے، پڑھیں:

1. زندگی آسان نہیں ہے - اس کی عادت ڈالیں۔

2. دنیا کو آپ کی عزت نفس کی فکر نہیں ہے۔ اس سے پہلے کہ آپ اپنے بارے میں اچھا محسوس کریں دنیا آپ سے اس کے لیے کچھ مفید کام کرنے کی توقع رکھتی ہے۔

ایک سابق صفائی کرنے والی خاتون شیف بن گئی اور اپنا نامیاتی ریستوراں رکھنے کا خواب پورا کیا۔
سچی کہانی: سی ای او کی طرف سے مہربانی کا ایک سادہ (لیکن طاقتور) اشارہ

3. اسکول چھوڑنے کے بعد آپ ماہانہ $20,000 نہیں کمائیں گے۔ آپ کسی ایسی کمپنی کے نائب صدر نہیں ہوں گے جس کے پاس کار اور فون دستیاب ہو جب تک کہ آپ اپنی کار اور فون خریدنے کا انتظام نہ کر لیں۔

4. اگر آپ کو اپنا استاد بدتمیز لگتا ہے، تو انتظار کریں جب تک کہ آپ کا باس نہ ہو۔ وہ آپ پر افسوس بھی نہیں کرے گا۔

5. پرانے اخبارات بیچنا یا چھٹی پر کام کرنا آپ کی سماجی حیثیت کے نیچے نہیں ہے۔ آپ کے دادا دادی کے پاس اس کے لیے ایک مختلف لفظ ہے: وہ اسے موقع کہتے ہیں۔

6. اگر آپ ناکام ہو جاتے ہیں تو یہ آپ کے والدین کی غلطی نہیں ہے۔ اس لیے اپنی غلطیوں پر رونا مت، ان سے سیکھیں۔

7. آپ کی پیدائش سے پہلے، آپ کے والدین اتنے حساس نہیں تھے جتنے وہ اب ہیں۔ انہیں صرف آپ کے بل ادا کرنے، آپ کے کپڑے دھونے اور آپ کو یہ کہتے ہوئے سننے سے ملا کہ وہ "مضحکہ خیز" ہیں۔ اس لیے کرہ ارض کو اگلی نسل کے لیے بچانے سے پہلے جو آپ اپنے والدین کی نسل کی غلطیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں، اپنے کمرے کی صفائی کی کوشش کریں۔

8. آپ کے اسکول نے جیتنے والوں اور ہارنے والوں کے درمیان فرق کو دھندلا کر دیا ہو گا، لیکن زندگی ایسی نہیں ہے۔ کچھ اسکولوں میں، آپ ایک سال سے زیادہ پڑھانی نہیں دہراتے ہیں اور آپ کے پاس اتنے ہی امکانات ہیں جتنے آپ کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر حقیقی زندگی میں بالکل ایسا کچھ نہیں ہے۔ اگر آپ گیند پر قدم رکھتے ہیں، تو آپ کو برطرف کر دیا جائے گا... گلی!!! پہلی بار کام صحیح کیا کرو!

9. زندگی کو سمسٹرز میں تقسیم نہیں کیا جاتا۔ آپ کے پاس ہمیشہ گرمیوں کی چھٹی نہیں ہوگی، اور اس بات کا امکان نہیں ہے کہ دوسرے ملازمین ہر مدت کے اختتام پر آپ کے کاموں میں آپ کی مدد کریں گے۔

10. ٹیلی ویژن حقیقی زندگی نہیں ہے۔ حقیقی زندگی میں لوگوں کو بار یا کلب چھوڑ کر کام پر جانا پڑتا ہے۔

11. وہ طلباء جنہیں دوسرے گدھے سمجھتے ہیں۔ کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ ان میں سے کسی ایک کے لیے کام کریں گے۔

Copied.

Bill Gates was invited by a high school to give a lecture. He arrived by helicopter, took the paper from the pocket where he had written eleven items. He read everything in less than 5 minutes, was applauded for more than 10 minutes non-stop, thanked him and left in his helicopter. What was written is very interesting, read:

1. Life isn't easy — get used to it.

2. The world is not concerned about your self-esteem. The world expects you to do something useful for it BEFORE you feel good about yourself.

A former cleaning lady becomes a chef and fulfils her dream of having her own organic restaurant
True story: A simple (but powerful) gesture of kindness from a CEO

3. You will not earn $20,000 a month once you leave school. You won't be vice president of a company with a car and phone available until you've managed to buy your own car and phone.

4. If you find your teacher rude, wait until you have a boss. He will not feel sorry for you.

5. Selling old newspapers or working while on vacation is not beneath your social standing. Your grandparents have a different word for it: they call it opportunity.

6. If you fail, it's not your parents' fault. So do not whine about your mistakes, learn from them.

7. Before you were born, your parents weren't as critical as they are now. They only got that way from paying your bills, washing your clothes and hearing you say they're "ridiculous." So before saving the planet for the next generation wanting to fix the mistakes of your parent's generation, try cleaning your own room.

8. Your school may have blurred the distinction between winners and losers, but life isn't like that. In some schools, you don't repeat more than a year and you have as many chances as you need to get it right. This looks like absolutely NOTHING in real life. If you step on the ball, you're fired… STREET!!! Do it right the first time!

9. Life is not divided into semesters. You won't always have summers off, and it's unlikely that other employees will help you with your tasks at the end of each term.

10. Television is NOT real life. In real life, people have to leave the bar or the club and go to work.

11. Be nice to the CDFs (those students that others think are as****es). There is a high probability that you will work FOR one of them.”

Know these and know peace. I come in PEACE

سید زادی ثانیہ زہرا کے بہیمانہ قتل بارے چند بھیانک حقائق 🤐👇ملتان کی مرکزی امام بارگاہ کمہارانوالہ چوک کے متولی سید اسد ع...
14/07/2024

سید زادی ثانیہ زہرا کے بہیمانہ قتل بارے چند بھیانک حقائق 🤐👇

ملتان کی مرکزی امام بارگاہ کمہارانوالہ چوک کے متولی سید اسد عباس شاہ کی 20 سالہ بیٹی ثانیہ زہرا جس کی چار سال قبل بستی بلیل کے جیون شاہ کے بیٹے علی رضا شاہ سے شادی ہوئی ۔شادی کے وقت جیون شاہ اور اس کے بیٹے علی رضا نے سید اسد عباس شاہ کو دھوکہ دیا اور کہا کہ علی رضا کنوارہ ہے جبکہ علی رضا شاہ نے جیون شاہ کے مشورے سے پہلے ایک شادی کی ہوئی تھی جس سے ایک بیٹی بھی تھی جو شادی کے چھ ماہ بعد ظاہر ہوئی جس کے بعد معاملات کافی خراب ہوئے اور علی رضا شاہ نے ثانیہ زہرا کو مار پیٹ کر سید اسد عباس شاہ کے گھر بھیج دیا جہاں چار ماہ بعد ثانیہ زہرا کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کے بعد ثانیہ زہرا نے نان ونفقہ اور حق مہر میں جو ملتان جوئیہ پمپ کے سامنے والی گلی میں کوٹھی لکھی ہوئی تھی اس کے لیے دعویٰ دائر کیا۔

کیس چلتا رہا جب کیس ثانیہ زہرا کے حق میں ہونے لگا تو علی رضا یونیورسٹی میں زیر تعلیم ثانیہ زہرا کے پاس یونیورسٹی میں جا پہنچا اور منت سماجت کرنےلگا اور قسمیں کھا کر کہا کہ اس نے پہلی بیوی کو طلاق دے دی ہے اور وہ اب اسے کبھی مارے پیٹے گا نہیں نہ کسی اور کو گھر لے آئے گا جس پر ثانیہ زہرا نے اپنے ایک سال کے بیٹے کی خاطر قربانی دینے ہوئے شوہر کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا اور راضی نامہ کے بیان دے کر بیٹے کو لے کر شوہر کے ساتھ چلی گئی جس کے بعد علی رضا نے دوبارہ ثانیہ زہرا پر ظلم وستم شروع کر دیا مگر وہ گھر بچانے کے لیے سب برداشت کرتی رہی۔

حتی کہ اس کا دوسرا بیٹا جو اب 9 ماہ کا ہے وہ بھی پیدا ہوگیا اس دوران علی رضا شاہ نے ثانیہ زہرا کو اپنے ماں باپ سے کبھی بھی ملنے نہیں دیاحتی کہ سید اسد عباس شاہ کو ثانیہ زہرا کے دوسرے بیٹے کی پیدائش کا پتہ بھی ایک ماہ بعد لگا ۔علی رضا نے ثانیہ زہرا سے موبائل بھی چھین لیا تھا وہ اپنے باپ اسد عباس شاہ سے بات تک بھی نہیں کر سکتی تھی ۔سید اسد عباس شاہ کے اکلوتے بیٹے سید رضا عباس شاہ کی شادی پر بھی ان ظالموں جیون شاہ اور اس کے بیٹے علی رضا نے ثانیہ زہرا کو اپنے اکلوتے بھائی کی شادی برات ولیمہ میں ایک دن بھی نہ آنے دیا جبکہ چوک کمہارانوالہ سید اسد عباس شاہ کے گھر سے جوئیہ پمپ ان کے گھر کا فیصلہ آدھا کلو میٹر بنتا ہے۔

ثانیہ زہرا اپنے باپ کے گھر پیدل بھی جا سکتی تھی مگر ظالموں نے کبھی نہیں آنے دیا حتی کہ جب ثانیہ زہرا کاوہی نوبیاہتا اکلوتا بھائی سید رضا عباس شاہ کچھ عرصہ پہلے فوت ہوئے تو ثانیہ زہرا کو جنازہ کے بعد اسی دن واپس لے کر چلے گئے۔ ان ظالموں کو ذرہ بھی ترس نہ آیا کہ جس بہن کا اکلوتا 22 سالہ بھائی فوت ہو گیا ہے اس بہن کو بھائی کے جنازے کے بعد واپس لے کر آنے سے اس بہن بچاری پر کیا گزری ہو گی مگر وہ یہ سب ظلم اپنے بچوں کے لیے خاموشی سے سہتی رہی۔

سید اسد عباس شاہ کے اکلوتے بیٹے سید رضا عباس شاہ کی وفات کے پندرہ دن بعد جیون شاہ کے چند نوکر اسد عباس شاہ کے پاس آئے اور کہا کہ علی رضا کہہ رہا ہے کہ آپ کی اب دو بیٹیاں ہیں لہٰذا ایک بیٹی کا آدھا حصہ کی جتنی جائیداد اور دوکانیں ہیں وہ ہمارے حوالے کرو جس پر اسد عباس شاہ نے کہا کہ میرا سب کچھ میری بیٹیوں کا ہے مگر ابھی میں زندہ ہوں آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں جس پر علی رضا ثانیہ زہرا کو مزید ظلم و ستم کا نشانہ بنانے لگا ۔اسد عباس شاہ جب کبھی اپنی بیٹی کو کچھ دینے کے لیے بھیجتا تو آگے سے وہ گھر کا دروازہ بھی نہ کھولتے اور اسد عباس کے نوکروں کو برا بھلا کہتے جس پر اسد عباس شاہ اپنی بیٹی کے لیے خاموشی اختیار کر جاتے ۔۔۔۔

اب آتے ہیں اصل واقعہ کی طرف ۔۔۔۔ 2 محرم الحرام کو صبح 9 بجے SHO تھانہ نیو ملتان نے سید اسد عباس شاہ کو فون کیا کہ آپ جلدی جیون شاہ کے گھر پہنچو آپ کی بیٹی کی لاش پڑی ہے جس پر سید اسد عباس شاہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور سید اسد عباس شاہ کے ایک بھائی سید نوید عباس شاہ اور سید اسد عباس شاہ کی بیوی اور دوسری بیٹی اور ڈرائیور غلام عباس ایک گاڑی پر اور اسد عباس شاہ کے دوسرے بھائی ڈاکٹر محسن عباس شاہ ،چئیرمین سرائیکستان نوجوان تحریک مہر مظہر عباس کات، مبین مغل اور سید رضوان شاہ دوسری گاڑی پر فوری جیون شاہ کے گھر پہنچے ۔جب یہ سب ان ظالموں کے گھر پہنچے تو آگے دیکھ کر حیران ہو گئے کہ جیون شاہ اپنے بیٹے حیدر شاہ اور آٹھ دس بندوں کے ساتھ سامنے کمرے میں صوفوں پر بڑے آرام سے بیٹھے تھے اور سامنے کولڈ ڈرنک کے ٹن پیک پڑے تھے جبکہ ثانیہ زہرا کی اوپر والی منزل پر لاش اسی طرح لٹکی ہوئی تھی۔

جب یہ لوگ اوپر والی منزل پر گے جہاں SHO ،ASP اور SP بھی موجود تھے اور فرانزک کے لیے ٹیمیں بھی آ گئیں تھیں تو اس موقع پر چیئرمین سرائیکستان نوجوان تحریک SNT مہر مظہر عباس کات نے پولیس والوں سے کہا کہ سر اگر اس بچی کو اس بینچ پر کھڑا کیا جائے تو کیا اس کے ہاتھ پنکھے کے اس اوپر والے پائپ تک پہنچ سکتے ہیں جہاں اس مردانہ صافے سے باندھا گیا ہے اور جس طرح اس کو اس بینچ پر زانوں پر تشہد کی حالت میں بیٹھایا گیا ہے کیا اس طرح آج تک کسی نے بیٹھ کر بھی خودکشی کی ہے تو پولیس والوں نے کہا کہ آپ کے دونوں پوائنٹ میں وزن ہے۔

اس موقع پر سب نے دیکھا کہ کمرے میں کافی چیزیں ٹوٹی پڑیں تھیں جس سے لگ رہا تھا کہ ثانیہ زہرا پر کافی تشدد کیا گیا ہے ۔ساری کاروائی کے بعد لاش کو اتارا گیا اور باقی کاروائی کے بعد سید نوید عباس شاہ اور ڈاکٹر سید محسن عباس شاہ لاش کو ایمبولینس میں لے کر اپنے گھر چوک کمہارانوالہ پر لے گے ۔دکھ کی بات یہ ہے کہ ثانیہ زہرا کے پیٹ میں 5 ماہ کا بچہ بھی تھا ۔

پہلی بات جیون شاہ اور اس کے بیٹے اور گھر والے ہمیشہ اس معصوم سیدذادی پر ظلم کرتے تھے ۔۔دوسری بات جب ان ظالموں کے بقول اس نے مبینہ خود کشی کی تو ثانیہ زہرا کے والدین کو اطلاع کیوں نہ دی گئی اور لاش کو دیکھتے ہی انسانی فطرت کے مطابق فوری کیوں نہ اتارا گیا کہ شاید ہو سکتا ہے کہ کوئی سانس باقی ہو اور بچ جائے ۔۔۔۔یہ سب واضح ہے کہ ثانیہ زہرا کو 5 ماہ کے بچے سمیت قتل کر کے اس معصوم سیدذادی پر خودکشی کا الزام لگایا گیا ہے اور یہ ڈھونگ رچایا گیا ہے۔

جبکہ غسل کے وقت عورتوں نے بتایا کہ ثانیہ زہرا کے جسم پر تشدد کے نشان تھے ۔۔۔۔ سرائیکستان نوجوان تحریک ثانیہ زہرا اور اس کے 5 ماہ کے بچے کے نا حق قتل پر بھرپور احتجاج کریگی اور قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے تک کسی صورت خاموش نہیں بیٹھیں گے تاکہ کل کسی اور کی بیٹی اس طرح ظلم سے نہ ماری جائے ۔۔۔سب ثانیہ زہرا کے لیے آواز بلند کرو جو 5 ماہ کا بچہ پیٹ میں لے کر چلی گئی اور ایک 9 ماہ کا معصوم اور ایک 3 سال کا معصوم بچہ یتیم چھوڑ کر ظالموں کے ہاتھوں شہید ہو گئی۔۔۔۔۔۔

منقول

💔💔💔

12/07/2024

FOUR KEYS TO SUCCESS:

In this life and the Hereafter.

1. SABR: patience, steadfastness, ...endurance and accepting what Allah (سبحانه وتعالى) has destined for you. This will make you strong to face more hardship and will give you rewards in this life by lifting your troubles and with many goodness in the next life.

2. SHUKR: gratefulness, thankful to Allah (سبحانه وتعالى) for everything, feeling content with what Allah (سبحانه وتعالى) has given you. This will make you feel rich even if you don't have a thing and it will get you rewarded here by increasing your blessings here and in the hereafter.

3.TAQWA: piousness, righteousness, good character, doing what is prescribed and keeping away from forbidden deeds. This will make you loved by Allah (سبحانه وتعالى) , His angels and mankind and you will be rewarded in this life by always having a way out in this life and with Jannah.

4. TAWAKKUL: putting your total trust in Allah (سبحانه وتعالى) , leaving your affairs in His hands, realizing that everything goes as He has planned. This will give you peace of mind and heart...

Address

Faisalabad
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Mian Faraz Zahid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Mian Faraz Zahid:

Share