Raza Law Associates

Raza Law Associates ⚖️🆁🄰🅉🄰 🅻🄰🅆🅵🄸🅁🄼™️
فوری سستا انصاف سب کیلئے
WE DEAL IN CRIMINAL ,CIVIL, BANKING, CYBER CRIME ,TAXAT
🍏3008655306
☎0412625306
📨𝒓𝒂𝒛𝒂𝒍𝒂𝒘18@𝒈𝒎𝒂𝒊𝒍۔𝒄𝒐𝐦

JUSTICE for ALL
Our mission is to provide justice to the needy people and like to survive in the competitive environment,approximately give justifications ,polished the knowledge of law in the prevailing field of advocacy. This website is meant solely for the purpose of information and not for the purpose of advertising. We do not intend to solicit clients through this website. We do not take resp

onsibility for decisions taken by the reader based solely on the information provided in this page. This does not amount to advertising or solicitation and is meant only for his/her understanding about our activities and who we are and the information provided here are solely for education purpose.

04/06/2026
29/05/2026

پاکستان پینل کوڈ (PPC) کے تحت زخموں یا جسمانی چوٹوں کو "Hurt" کہا جاتا ہے، اور اس سے متعلقہ دفعات 332 سے شروع ہوتی ہیں۔ 1990 کے قصاص و دیت آرڈیننس کے بعد ان میں بڑی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔

زخموں کی نوعیت، ان کے متعلقہ سیکشنز اور دفعات کی تفصیل درج ذیل ہے:

1. اِتلافِ عُضو (Itlaf-i-Udw)

• تعریف: کسی شخص کے جسم کا کوئی عضو کاٹ دینا، الگ کر دینا یا مستقل طور پر بیکار کر دینا۔

• دفعہ: 333 PPC

• سزا (دفعہ 334): قصاص (اگر ممکن ہو)، ورنہ عرش (مالی معاوضہ) اور 10 سال تک قید۔

2. اِتلافِ صلاحیتِ عُضو (Itlaf-i-Salahiyyat-i-Udw)

• تعریف: عضو تو موجود رہے لیکن اس کے کام کرنے کی صلاحیت مستقل طور پر ختم ہو جائے (مثلاً بینائی، سماعت یا چلنے کی طاقت ختم ہونا)۔

• دفعہ: 335 PPC

• سزا (دفعہ 336): قصاص یا عرش، اور 10 سال تک قید۔

3. شجہ (Shajjah) - سر اور چہرے کے زخم

شجہ صرف سر یا چہرے پر آنے والے زخموں کو کہتے ہیں۔ اس کی چھ اقسام ہیں:

معذرت خواہ ہوں کہ ٹیبل کاپی کرنے میں دشواری ہوئی۔ میں اسی معلومات کو سادہ ٹیکسٹ (Text) کی صورت میں نیچے لکھ رہا ہوں تاکہ آپ اسے آسانی سے سلیکٹ (Select) کر کے کاپی اور پیسٹ کر سکیں۔

شجہ (سر اور چہرے کے زخموں کی تفصیل)

1. شجہ خفیہ (Shajjah-i-Khafifah)

تفصیل: ایسا زخم جس میں ہڈی نظر نہ آئے۔

دفعہ: 337-A(i)

2. شجہ موضحہ (Shajjah-i-Mudihah)

تفصیل: ایسا زخم جس میں ہڈی نظر آ جائے مگر ہڈی ٹوٹے نہیں۔

دفعہ: 337-A(ii)

3. شجہ ہاشمہ (Shajjah-i-Hashimah)

تفصیل: ایسا زخم جس میں ہڈی ٹوٹ جائے مگر اپنی جگہ سے نہ ہلے۔

دفعہ: 337-A(iii)

4. شجہ منقلہ (Shajjah-i-Munaqqilah)

تفصیل: ہڈی ٹوٹ جائے اور اپنی جگہ سے ہل (Dislocate) جائے۔

دفعہ: 337-A(iv)

5. شجہ آمہ (Shajjah-i-Ammah)

تفصیل: ایسا گہرا زخم جو دماغ کی جھلی (Membrane) تک پہنچ جائے۔

دفعہ: 337-A(v)

6. شجہ دامغہ (Shajjah-i-Damighah)

تفصیل: ایسا زخم جو دماغ کی جھلی کو پھاڑ دے یا دماغ کو نقصان پہنچائے۔

دفعہ: 337-A(vi)

غیر جائفہ (جسم کے دیگر حصوں کے زخم)

1. دامیہ (Damiyah)

تفصیل: جس زخم سے خون نکل آئے۔ (337-F-i)

2. باضعہ (Badiah)

تفصیل: جو گوشت کو کاٹ دے۔ (337-F-ii)

3. متلاحمہ (Mutalahimah)

تفصیل: جو گوشت کے اندر گہرا اتر جائے۔ (337-F-iii)

4. موضحہ (Mudihah)

تفصیل: جس میں ہڈی نظر آ جائے۔ (337-F-iv)

5. ہاشمہ (Hashimah)

تفصیل: جس میں ہڈی ٹوٹ جائے۔ (337-F-v)

6. منقلہ (Munaqqilah)

تفصیل: ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ چھوڑ دے۔ (337-F-vi)

ٹپ: آپ اس ٹیکسٹ پر اپنی انگلی تھوڑی دیر دبا کر رکھیں (Long Press)، پھر "Copy" کا آپشن منتخب کر لیں۔ کیا آپ کو ان دفعات کی سزاؤں یا کسی مخصوص کیس کے حوالے سے مزید معلومات چاہیے؟

4. جُرح (Jurh) - جسم کے دیگر حصوں کے زخم

سر اور چہرے کے علاوہ جسم کے کسی اور حصے پر ایسا زخم جو جلد کے اندر تک جائے، اسے "جرح" کہتے ہیں۔ اس کی دو بڑی اقسام ہیں:

(الف) جائفہ (Jaifah)

• تعریف: ایسا زخم جو جسم کے کسی ایسے خلا (Body Cavity) میں داخل ہو جائے جیسے پیٹ، سینہ یا کمر۔

• دفعہ: 337-C

• سزا: دمن (مالی معاوضہ) اور 10 سال تک قید۔

(ب) غیر جائفہ (Ghayr-Jaifah)

ایسا زخم جو جسم کے خلا میں داخل نہ ہو۔ اس کی مزید اقسام یہ ہیں:

• دامیہ (Damiyah): جس میں خون نکل آئے۔ (337-E)

• باضعہ (Badiah): جو گوشت کو کاٹ دے۔

• متلاحمہ (Mutalahimah): جو گوشت کے اندر گہرا اتر جائے۔

• موضحہ (Mudihah): جس میں ہڈی نظر آ جائے۔

• ہاشمہ (Hashimah): ہڈی ٹوٹ جائے۔

• منقلہ (Munaqqilah): ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ چھوڑ دے۔

5. دیگر اقسام

• اتلافِ غیر عمد (Itlaf-i-Ghayr-Amd): غلطی یا غفلت سے پہنچائی گئی چوٹ (دفعہ 337-L)۔

• زہر کے ذریعے نقصان: اگر کسی کو زہر دے کر نقصان پہنچایا جائے (دفعہ 337-J)۔

پاکستان میں کسی بھی فوجداری مقدمے، خاص طور پر لڑائی جھگڑے اور جسمانی چوٹ (Hurt) کے کیسز میں میڈیکل ایگزامینیشن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

1. میڈیکل کروانے کا متعلقہ سیکشن

پاکستان میں زخموں کے معائنے کے لیے عام طور پر درج ذیل دفعات اور قوانین کا سہارا لیا جاتا ہے:

• دفعہ 174 CrPC: اگرچہ یہ زیادہ تر ناگہانی موت یا خودکشی کے لیے استعمال ہوتی ہے، لیکن پولیس کسی بھی زخمی شخص کو طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتال بھیجنے کی پابند ہے۔

• Police Rules, 1934 (Chapter 25): پولیس رولز کے باب 25 کے تحت تفتیشی افسر کا یہ فرض ہے کہ وہ زخمی شخص کا فوری طور پر MLC (Medico-Legal Certificate) بنوائے۔

• دفعہ 54 CrPC (ترمیم شدہ): بعض صورتوں میں ملزم کے طبی معائنے کے لیے بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔

2. میڈیکل (MLR/MLC) کی قانونی اہمیت

عدالت میں زبانی گواہی سے زیادہ دستاویزی ثبوت یعنی Medico-Legal Report (MLR) کی اہمیت ہوتی ہے:

• جرم کا تعین: میڈیکل رپورٹ ہی طے کرتی ہے کہ ملزم پر PPC کی کون سی دفعہ لگے گی۔ مثلاً اگر ہڈی ٹوٹی ہے تو "ہاشمہ" (337-A-iii) لگے گی، اور اگر صرف معمولی خراش ہے تو "خفیہ" (337-A-i) لگے گی۔

• آلہ قتل/ضرب کا پتہ لگانا: ڈاکٹر یہ بتاتا ہے کہ زخم کسی کند آلے (Blunt Weapon) سے لگا ہے یا تیز دھار آلے (Sharp Edge) سے۔ اس سے مدعی کے بیان کی تصدیق یا تردید ہوتی ہے۔

• وقت کا تعین: ڈاکٹر رپورٹ میں لکھتا ہے کہ زخم کتنا پرانا ہے۔ یہ چیز وقوعہ کے وقت کو ثابت کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

3. میڈیکل میں تاخیر (Delay) کے قانونی اثرات

قانونی اصطلاح میں میڈیکل میں تاخیر مقدمے کے لیے "زہر" ثابت ہو سکتی ہے:

• شک کا فائدہ (Benefit of Doubt): اگر زخم لگنے اور میڈیکل کروانے میں غیر ضروری تاخیر ہو (مثلاً 24 گھنٹے سے زیادہ)، تو دفاعی وکیل یہ اعتراض اٹھاتا ہے کہ یہ زخم "خود ساختہ" (Self-inflicted) ہو سکتے ہیں یا وقوعہ کے بعد کہیں اور سے لگوائے گئے ہیں۔

• بیان میں تضاد: اگر ایف آئی آر میں تاخیر ہو اور میڈیکل میں بھی، تو عدالت اسے مشکوک سمجھتی ہے اور ملزم کو ضمانت ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

• توجیہ (Explanation): اگر تاخیر ہو جائے تو مدعی کو اس کی ٹھوس وجہ بتانی پڑتی ہے (مثلاً بے ہوشی، ہسپتال کا دور ہونا یا پولیس کی سستی)۔ اگر وجہ معقول نہ ہو تو کیس کمزور ہو جاتا ہے۔

4. اہم قانونی نکات (Legal Points)

• ماہر کی شہادت (Expert Opinion): قانونِ شہادت آرڈر (QSO) کے تحت ڈاکٹر ایک "ماہر" (Expert) ہے اور اس کی رپورٹ دفعہ 59 کے تحت قابلِ قبول شہادت ہے۔

• تضاد (Conflict): اگر میڈیکل رپورٹ اور چشم دید گواہ کے بیان میں واضح فرق ہو (مثلاً گواہ کہے کہ گولی لگی ہے اور میڈیکل کہے کہ ڈنڈا لگا ہے)، تو عدالت میڈیکل رپورٹ کو ترجیح دیتی ہے اور گواہ کو جھوٹا تصور کیا جا سکتا ہے۔

• پرائیویٹ میڈیکل: پرائیویٹ ہسپتال کا میڈیکل قانونی طور پر اس وقت تک مستند نہیں مانا جاتا جب تک کہ اسے سرکاری میڈیکل افسر (MS یا نامزد ڈاکٹر) کی تصدیق حاصل نہ ہو۔

خلاصہ: پولیس کا جاری کردہ "رقعہ" لے کر سرکاری ہسپتال سے فوری MLC بنوانا کیس کو مضبوط بنانے کا پہلا اور سب سے اہم مرحلہ ہے

پاکستان پینل کوڈ (PPC) کے تحت زخموں یا جسمانی چوٹوں کو "Hurt" کہا جاتا ہے، اور اس سے متعلقہ دفعات 332 سے شروع ہوتی ہیں۔ 1990 کے قصاص و دیت آرڈیننس کے بعد ان میں بڑی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔

20/05/2026

علاقہ مجسٹریٹ کی سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار
جب بھی کسی فوجداری مقدمے میں سرکار (State) کی طرف سے نامزد کردہ ملزم کو علاقہ مجسٹریٹ (Illaqa Magistrate) سزا سناتا ہے، تو قانونِ پاکستان کے تحت اس سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار درج ذیل ہے:
1۔ اپیل کہاں دائر ہوگی؟ (Forum of Appeal)
فورم: علاقہ مجسٹریٹ (خواہ وہ سیکشن 30 کا مجسٹریٹ ہو یا فرسٹ کلاس مجسٹریٹ) کی سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل سیشن کورٹ (Sessions Court) میں دائر کی جاتی ہے۔
قانونی دفعہ: یہ اپیل ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 408 (Section 408 CrPC) کے تحت سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں دائر ہوتی ہے۔
2۔ اپیل کتنے دنوں میں دائر کرنی ہوتی ہے؟ (Limitation Period)
میعادِ سماعت: علاقہ مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی قانونی مدت 30 دن ہے۔
قانونی حوالہ: قانونِ میعاد سماع (Limitation Act, 1908) کا آرٹیکل 154۔
وضاحت: یہ 30 دن اس تاریخ سے شروع ہوتے ہیں جس دن مجسٹریٹ نے فیصلہ سنایا ہو۔ فیصلے کی تصدیق شدہ نقل (Certified Copy) حاصل کرنے میں جو دن لگتے ہیں، وہ اس وقت میں سے نکال (Minus کر) دیے جاتے ہیں۔
3۔ اہم عدالتی نظائر (Relevant Judgements)
اپیل کے حق پر اصول (PLD 2018 Supreme Court 332):
اس فیصلے کے تحت اپیلٹ عدالت (سیشن کورٹ) پابند ہے کہ وہ مجسٹریٹ کی عدالت کے پورے ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات کا دوبارہ تفصیلی جائزہ لے۔
دورانِ اپیل سزا کی معطلی اور ضمانت (2021 SCMR 445):
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 (Section 426 CrPC) کے تحت سیشن کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپیل کا حتمی فیصلہ ہونے تک مجسٹریٹ کی سزا کو معطل کر کے ملزم کو ضمانت پر رہا کر دے۔
4۔ اپیل کے لیے ضروری دستاویزات (Checklist)
میمو آف اپیل (Memo of Appeal): جس میں مجسٹریٹ کے فیصلے کے قانونی نقائص اور گواہوں کے بیانات کے تضادات کو چیلنج کیا جاتا ہے۔
فیصلے کی مصدقہ نقل (Certified Copy of Judgement): علاقہ مجسٹریٹ کے اصل فیصلے کی نقلِ مطابقِ اصل۔
وکالت نامہ: کونسل/وکیل صاحب کا دستخط شدہ فارم۔
درخواست زیر دفعہ 426 CrPC: دورانِ اپیل سزا معطلی اور رہائی کے لیے۔

19/05/2026

⚖️ مقدمہ “عدم پیروی خارج” اور “داخل دفتر” ہونے میں فرق
عدالتوں میں اکثر دو اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں:
“عدم پیروی پر خارج” اور “داخل دفتر (Consigned to Record)”
لیکن ان دونوں کا مطلب ایک جیسا نہیں ہوتا۔
🔹 عدم پیروی پر خارج (Dismissed for Non-Prosecution)
✔ جب مدعی یا اس کا وکیل پیش نہ ہو
✔ عدالت مقدمہ خارج کر دیتی ہے
📌 یہ ایک عدالتی فیصلہ (Judicial Order) ہوتا ہے
📌 اس کے تحت مقدمہ ختم ہو جاتا ہے (Order IX CPC کے مطابق)
👉 یعنی:
مقدمہ قانونی طور پر ختم ہو جاتا ہے
جب تک کہ اس کی بحالی (Restoration) نہ کروائی جائے
🔹 داخل دفتر (Consigned to Record)
✔ یہ ایک انتظامی کارروائی (Administrative Action) ہے
✔ فائل کو ریکارڈ روم میں محفوظ کر دیا جاتا ہے
📌 یہ خود کوئی عدالتی فیصلہ نہیں ہوتا
📌 صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ فائل بند کر کے محفوظ کر دی گئی ہے
🔹 اہم فرق
❗ “عدم پیروی پر خارج” = مقدمہ ختم (Judicial effect)
❗ “داخل دفتر” = فائل محفوظ (Administrative effect)
👉 اکثر دونوں ایک ساتھ ہوتے ہیں،
لیکن اصل قانونی اثر Dismissal کا ہوتا ہے، نہ کہ صرف “داخل دفتر” کا۔
🔹

17/05/2026

جی بالکل، اپیلانٹ کورٹ (سیشن کورٹ) بھی دیوانی اپیل (Civil Appeal) خارج کرتے وقت **سیکشن 35-اے (Section 35-A of CPC)** کے تحت ہرجانے (Special Costs) کا حکم دے سکتی ہے۔
قانونی اصول یہ ہے کہ جو اختیارات ایک ٹرائل کورٹ (سول کورٹ) کے پاس ہوتے ہیں، مجموعہ ضابطہ دیوانی (CPC) کے **سیکشن 107** کے تحت وہی تمام اختیارات اپیلانٹ کورٹ کے پاس بھی ہوتے ہیں۔ اگر سیشن کورٹ یہ سمجھے کہ دائر کی گئی اپیل جھوٹی، من گھڑت یا محض وقت ضائع کرنے کے لیے تھی، تو وہ اسے خارج کرتے ہوئے دوسری پارٹی کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے کاسٹ لگا سکتی ہے۔
سیکشن 35-اے کے تحت عام طور پر زیادہ سے زیادہ حد 25,000 روپے ہے (جب تک کہ صوبائی ترامیم کے ذریعے اس میں اضافہ نہ کیا گیا ہو)۔
# # # مثال کے طور پر اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے (Judgments)
پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں (سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس) نے کئی فیصلوں میں اس بات کی توثیق کی ہے کہ اپیلانٹ فورم پر جھوٹی یا تنگ کرنے والی کارروائی پر سیکشن 35-اے کے تحت کاسٹ لگائی جا سکتی ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے اہم ججمنٹس کا حوالہ دیا جا رہا ہے جنہیں آپ اپنے کیس میں استعمال کر سکتے ہیں:
# # # # 1. **2021 CLC 1928 (Lahore High Court)**
* **خلاصہ:** اس کیس میں عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی فریق اپیلانٹ سٹیج پر بھی عدالت کا وقت ضائع کرتا ہے اور جھوٹا موقف اپنائے رکھتا ہے، تو عدالتِ اپیل (بشمول سیشن کورٹ/ایڈیشنل سیشن کورٹ) کے پاس پورا اختیار ہے کہ وہ سیکشن 35-اے کے تحت خصوصی اخراجات (Special Costs) عائد کرے۔
# # # # 2. **PLD 2017 Supreme Court 642**
* **خلاصہ:** معزز سپریم کورٹ نے جھوٹی اور بے بنیاد مقدمہ بازی (Frivolous Litigation) کی حوصلہ شکنی پر بہت زور دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر نچلی عدالتوں (بشمول اپیلانٹ کورٹس) کو لگے کہ مقدمہ یا اپیل بدنیتی پر مبنی ہے، تو انہیں سیکشن 35-اے کا استعمال کرتے ہوئے بھاری جرمانہ/کاسٹ عائد کرنی چاہیے تاکہ عدالتی وقت کا زیاں روکا جا سکے۔
# # # # 3. **2014 CLC 1120 (Karachi / Sindh High Court)**
* **خلاصہ:** اس فیصلے میں یہ اصول طے کیا گیا کہ اپیلانٹ کورٹ کو ضابطہ دیوانی کے سیکشن 107 کے تحت وہ تمام اختیارات حاصل ہیں جو ابتدائی عدالت (Trial Court) کو حاصل ہوتے ہیں۔ چنانچہ، اپیل خارج کرتے وقت سیکشن 35-اے کے تحت کاسٹ کا حکم بالکل قانونی ہے۔
# # # ججمنٹ استعمال کرنے کے لیے اہم نکتہ:
جب آپ سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں جائیں یا سیشن کورٹ میں بحث کر رہے ہوں، تو آپ **سیکشن 107 CPC** کو **سیکشن 35-اے** کے ساتھ ملا کر پڑھیں گے۔ سیکشن 107 واضح طور پر کہتا ہے:
> "اپیلانٹ کورٹ کو وہی اختیارات حاصل ہوں گے اور وہ تقریباً انہی فرائض کو انجام دے گی جو اس ضابطے کے تحت ابتدائی دائرہ اختیار کی عدالتوں پر لازم کیے گئے ہیے

Address

Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 13:00
Saturday 08:00 - 16:00

Telephone

+923008655306

Website

http://www.youtube.com/aliraza

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raza Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Raza Law Associates:

Share