Raza Law Associates

Call Directions Website Contact the business

Raza Law Associates ⚖️🆁🄰🅉🄰 🅻🄰🅆🅵🄸🅁🄼™️
فوری سستا انصاف سب کیلئے
WE DEAL IN CRIMINAL ,CIVIL, BANKING, CYBER CRIME ,TAX
🍏3008655306
☎0412625306
📨𝒓𝒂𝒛𝒂𝒍𝒂𝒘18@𝒈𝒎𝒂𝒊𝒍۔𝒄𝒐𝐦

JUSTICE for ALL
Our mission is to provide justice to the needy people and like to survive in the competitive environment,approximately give justifications ,polished the knowledge of law in the prevailing field of advocacy. This website is meant solely for the purpose of information and not for the purpose of advertising. We do not intend to solicit clients through this website. We do not take responsibility for decisions taken by the reader based solely on the information provided in this page. This does not amount to advertising or solicitation and is meant only for his/her understanding about our activities and who we are and the information provided here are solely for education purpose.

07/10/2026
26/09/2026

عدالت نے آپ کو باعزت بری کر دیا، مگر پولیس کا ریکارڈ اب بھی آپ کو ملزم لکھ رہا ہے؟ یہ ایک نوجوان کی آب بیتی ہے جس کا بیرونِ ملک جانے کا خواب ایک پتنگ کے مقدمے کی وجہ سے خطرے میں پڑ گیا، اور پھر لاہور ہائی کورٹ نے وہ فیصلہ سنایا جو آج ہزاروں لوگوں کے کام آ سکتا ہے۔
مقدمہ کی تفصیل: عبدالرحمٰن فریاد بنام حکومتِ پنجاب وغیرہ
رِٹ پٹیشن نمبر: 40844/2025 (فیصلہ مورخہ 18 جولائی 2025 - رپورٹ شدہ بطور 2025 LHC 5162)
اپریل 2024 کی ایک صبح لاہور میں عبدالرحمٰن فریاد نامی نوجوان اپنے ساتھی کے ساتھ رکشے میں جا رہا تھا کہ پولیس نے روک کر الزام لگایا کہ ان کے پاس پتنگیں اور ڈور ہیں۔ تھانہ نواں کوٹ میں پتنگ بازی کی ممانعت کے قانون کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ پولیس نے زیر دفعہ 173 ضابطہ فوجداری کے تحت چالان متعلقہ عدالت میں جمع کروایا جس کے بعد عدالت نے ملزمان پر فردِ جرم عائد کی، دورانِ ٹرائل ملزم عبدالرحمن فریاد نے دفعہ 249-A ضابطہ فوجداری کے تحت بریت کی درخواست دائر کی۔
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیا تو ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہ ملے اور یوں عدالت نے 20 دسمبر 2024 کو دونوں ملزمان کو بری کر دیا۔ قانون مجسٹریٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر الزام بے بنیاد لگے یا سزا کا کوئی امکان نہ ہو تو وہ پورا ٹرائل چلائے بغیر ہی ملزم کو بری کر دے۔ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل بھی نہیں کی، یوں یہ بریت حتمی ہو گئی۔
اصل مسئلہ تب شروع ہوا جب عبدالرحمٰن نے برطانیہ جانے کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ بنوایا۔ سرٹیفکیٹ تو مل گیا مگر اس پر وہی پرانی ایف آئی آر درج تھی۔ عدالت کی نظر میں وہ بے گناہ تھا، مگر سرکاری ریکارڈ پر اس کے نام کے ساتھ مجرمانہ ریکارڈ لکھا تھا۔ اس نے ہوم سیکرٹری پنجاب کو درخواست دی، جواب نہ آیا تو ہائی کورٹ گیا، عدالت نے 15 دن میں فیصلے کا حکم دیا، پھر بھی عمل نہ ہوا تو توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی۔
آخرکار محکمے نے انکار کر دیا اور کہا کہ ایف آئی آر کا ریکارڈ پولیس رولز کے تحت 60 سال تک محفوظ رکھنا لازمی ہے، اس لیے اسے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ عبدالرحمٰن نے ہمت نہ ہاری اور آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دوبارہ ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی۔ یہ وہ حق ہے جس کے تحت کوئی بھی شہری سرکاری ادارے کی زیادتی کے خلاف براہِ راست ہائی کورٹ جا سکتا ہے۔
18 جولائی 2025 کو جسٹس عبہر گل خان صاحبہ نے اس معاملے کی سماعت کی اور فیصلہ تحریر کیا۔
حکومت پنجاب کے وکیل نے پولیس رولز، 1934ء میں کی گئی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اب ایف آئی آر رجسٹر کو ڈیجیٹل شکل میں ایک مرکزی سرور پر محفوظ کیا جانا لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس بنیاد پر یہ استدلال پیش کیا گیا کہ کسی شخص کے خلاف درج ایف آئی آر سمیت اس کے مجرمانہ ریکارڈ کو، حتیٰ کہ اس شخص کے بری ہونے کی صورت میں بھی، حذف نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکم دیا کہ پولیس اپنے اندرونی ریکارڈ میں ایف آئی آر کا ریکارڈ رکھ سکتی ہے، مثلاً اعداد و شمار اور اداروں کے درمیان معلومات کے لیے، مگر یہ ریکارڈ کسی بری شدہ شخص کو بدنام کرنے یا نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔ جب عدالت کسی کو بری کر دے اور فیصلہ حتمی ہو جائے تو قانون کی نظر میں وہ الزامات سے مکمل طور پر آزاد ہے۔ بریت کے بعد بھی کریکٹر سرٹیفکیٹ پر ایف آئی آر لکھنا آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے، جو ہر پاکستانی کی عزت اور وقار کی ضمانت دیتا ہے۔
لہٰذا عدالت نے حکم دیا کہ عبدالرحمٰن کو نیا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے جس میں اس ایف آئی آر کا کوئی ذکر نہ ہو، اور فیصلے کی کاپی آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی بھیجی تاکہ اس پر سختی سے عمل ہو۔

22/09/2026

🔴 30 IMPORTANT CRIMINAL CASE LAWS

✍️1) Prosecution did not produce evidence even after 8 months of framing of charge.
Accused ACQUITTED . 2017 - SCMR - 19

✍️2) Accused involved in the murder case on account of joint extra judicial confession would be entitled to ACQUITTAL .2012 - PCRLJ - 258

✍️3) In murder case empty handed accused due to common intention would not be entitled to the confirmation of PRE ARREST BAIL.
2015 - PCRLJ - 1531

✍️4) Bail GRANTED to accused by following RULE of CONSISTENCY.
2017 - MLD - 349
2016 - YLR - 2507
2008 - SCMR - 173

✍️5) If weapon is recovered but NO empties were recovered then recovery of weapon will be useless .
2015 - MLD- 432
2013 - YLR - 272

✍️6) In dacoity case plea of alibi will not be considered at bail stage.
2014 - PCRLJ - 1002

✍️7) Even after completion of statutory period if delay is attributed to accused then he will not be entitled to concession of bail . 2016 - SCMR - 1538

✍️8) If evidence of a witness is contradictory to his statement recorded u/s 161 crpc then such evidence would not be believable.
2014 - YLR - 548

✍️9) Recovery of articles of the deceased from the accused at the time of their arrest sixteen days after the occurrence was not believable . 1996 - SCMR - 188 ( LB ) .

✍️10) Non recovery of some of the crime empties was not of much importance as the occurrence had taken place in a field.
2006 - SCMR - 672 ( LB ) .

✍️11) Recovery at JOINT POINTATION of two accused would have no evidentiary value.
2008 - SCMR - 1064

✍️12) EXTRA- JUDICIAL CONFESSION is a very WEAK type of evidence and no conviction can be awarded without its strong corroboration on the record . 2005 - SCMR - 277

✍️13) EXTRA JUDICIAL CONFESSION must be proved by evidence of very high and un impeachable character.
PLD - 2006 - SC - 538

✍️14) Unexplained delay of 10 / 11 hours in lodging of FIR . Such delay would lead to inference that occurrence was un- witnessed . 2008 - SCMR - 6 (LB ) .

✍️15) Site plan loses its evidentiary value if it is not prepared on the pointation of a witness .2001 - SCMR - 424

✍️17) S . 302 / 34 . Art 3 . Child witness . Evidence of child witness possessing sufficient understanding can be believed and relied upon for conviction . 1995 - SCMR - 1615

✍️20) No doubt the conviction can be based on the retracted confession alone but if it is found voluntary true and confidence inspiring . PLJ - 2014 - CRC - 791 (DB ) .

✍️22) S . 426 . S . 302 (b ) . For non fixation or non hearing of the appeal the petitioner can not be held responsible . He has earned a statutory right by now to be released on bail after suspension of sentence . PLJ - 2014 - CRC - 547 (a ) .

✍️23) Concealment of facts is also a type of FRAUD .2015 - CLC - 39

✍️24) Courts should not interfere in the policy matters of financial institutions . 2015 - SCMR - 445

✍️25) Due to NON PAYMENT of maintenance allowance right of defense struck off and suit decreed .2015 - CLC - 349

✍️26) It is the duty of the court to take notice of limitation although party has raised objection or not . 2015 - SCMR - 380

✍️27) If process fee is not deposited then due to this reason revision can not be dismissed . PLD - 1998 - Lah - 342

✍️28) S. 489 - F . Cheque was bounced . Offence with which accused was charged was punishable with imprisonment for three years or fine or with both . No useful purpose to be served by remitting petitioner into custody so as to be released on post arrest bail after expiry of some period . PLJ - 2016 - CRC - 547

✍️29) Two versions registered with the police both sides sustained injuries . There was no explanation in FIR regarding injuries sustained by petitioners side . Pre arrest bail confirmed . PLJ - 2016 - CRC - 546 (a ) .

✍️30) Although accused was armed with 12 bore pump action but he did not raise any lalkara nor caused any injury to anybody therefore it is matter of further inquiry . Bail allowed.
PLJ - 2016 - CRC - 483 (a)

لاہور ہائیکورٹ نے مسماۃ مصباح بی بی بنام ایڈیشنل سیشن جج وغیرہ میں قرار دیا کہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 491 Cr.P.C. کے تحت ...
15/09/2026

لاہور ہائیکورٹ نے مسماۃ مصباح بی بی بنام ایڈیشنل سیشن جج وغیرہ میں قرار دیا کہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 491 Cr.P.C. کے تحت عدالت کو نابالغ بچے کی تحویل کے معاملے میں محدود اور ہنگامی نوعیت کا اختیار حاصل ہے۔ یہ اختیار بنیادی طور پر ایسے معاملات میں عبوری/عارضی تحویل بحال کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جہاں نابالغ کو غیر قانونی یا نامناسب طور پر تحویل سے محروم کیا گیا ہو، جبکہ بچے کی مستقل تحویل، guardianship اور طویل المدتی custody کے معاملات کا فیصلہ Guardian Court نے Guardians and Wards Act, 1890 کے تحت کرنا ہوتا ہے۔

مقدمے میں ایڈیشنل سیشن جج نے تقریباً ایک سالہ نابالغ بچے کی تحویل اس کی حقیقی والدہ کو دیتے ہوئے دو شرائط عائد کی تھیں: پہلی یہ کہ والدہ 7 لاکھ روپے کا surety bond جمع کرائے اور دوسری یہ کہ وہ نابالغ کو عدالت کی territorial jurisdiction سے باہر نہ لے جائے، سوائے ہنگامی طبی ضرورت کے۔ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ یہ دونوں شرائط دفعہ 491 Cr.P.C. کے محدود دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتی ہیں، خصوصاً اس وقت جب کوئی ایسا مخصوص اور ریکارڈ شدہ جواز موجود نہ ہو جس سے یہ ثابت ہو کہ والدہ Guardian Court کے اختیار کو ناکام یا متاثر کرنے کی کوشش کرے گی۔

عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 491 Cr.P.C. اور Guardians and Wards Act, 1890 ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ اپنے اپنے الگ قانونی میدان رکھتے ہیں۔ دفعہ 491 کا اختیار summary، extraordinary اور emergent nature کا ہے، جبکہ نابالغ کی مستقل تحویل اور guardianship کا حتمی فیصلہ Guardian Court کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ لہٰذا Section 491 کے تحت custody بحال کرنے والی عدالت Guardian Court کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے کر ایسی مستقل یا وسیع پابندیاں عائد نہیں کرسکتی جو والدہ اور بچے کی نقل و حرکت اور آزادی کو غیر ضروری طور پر محدود کریں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر والد کو یہ خدشہ ہو کہ والدہ نابالغ کو Guardian Court کے علاقائی دائرۂ اختیار سے باہر لے جائے گی تو وہ متعلقہ Guardian Court سے مناسب قانونی remedy حاصل کرسکتا ہے۔ محض خدشہ Section 491 Cr.P.C. کے تحت ایسی indefinite یا perpetual restraint عائد کرنے کا قانونی جواز نہیں بن سکتا۔ کوئی بھی protective condition اگر حالات کے مطابق ضروری ہو تو وہ عارضی، متناسب اور اسی مقصد تک محدود ہونی چاہیے جس کے لیے اسے عائد کیا گیا ہو۔

لاہور ہائیکورٹ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ دفعہ 491 Cr.P.C. کو اس انداز میں وسیع نہیں کیا جاسکتا کہ وہ Guardian Court کے باقاعدہ دائرۂ اختیار سے متصادم ہوجائے۔ اگر Section 491 کے تحت عدالت نابالغ کی تحویل ایک والدین کو واپس کردیتی ہے تو اس کا کردار بنیادی طور پر stop-gap arrangement تک محدود رہتا ہے، جب تک فریقین Guardian Court سے مستقل یا مناسب عبوری relief حاصل نہ کرلیں۔

چنانچہ عدالت نے قرار دیا کہ 7 لاکھ روپے کا surety bond اور نابالغ کو عدالت کی territorial jurisdiction سے باہر لے جانے پر عائد پابندی، موجودہ حالات میں، دفعہ 491 Cr.P.C. کے قانونی دائرۂ اختیار سے باہر تھیں۔ لہٰذا لاہور ہائیکورٹ نے Constitutional Petition منظور کرتے ہوئے impugned order میں عائد مذکورہ دونوں شرائط کو set aside کردیا۔

📍۔Ratio Decidendi:

دفعہ 491 Cr.P.C. کے تحت عدالت کا اختیار نابالغ کی تحویل کے معاملے میں غیر معمولی، مختصر اور ہنگامی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد بنیادی طور پر غیر قانونی طور پر چھینی گئی تحویل کو عارضی طور پر بحال کرنا ہے۔ یہ اختیار Guardian Court کے دائرۂ اختیار کا متبادل نہیں بن سکتا۔ لہٰذا Section 491 Cr.P.C. کے تحت custody بحال کرتے وقت عدالت ایسی غیر ضروری، غیر متناسب یا مستقل نوعیت کی پابندیاں، مثلاً بھاری surety bond یا نابالغ کو territorial jurisdiction سے باہر لے جانے پر عمومی پابندی، عائد نہیں کرسکتی، جب تک ایسی پابندی کا واضح قانونی جواز اور مقدمے کے مخصوص حالات سے معقول nexus موجود نہ ہو۔ Permanent custody، guardianship اور long-term custody restrictions کا فیصلہ Guardians and Wards Act, 1890 کے تحت competent Guardian Court کرے گی۔

📍اہم قانونی اصول

۔1. Section 491 Cr.P.C. کا اختیار extraordinary اور summary nature کا ہے۔

2. اس اختیار کا استعمال real urgency کے معاملات میں کیا جانا چاہیے۔

۔3. Section 491 کے تحت custody عموماً interim/stop-gap arrangement ہوتی ہے۔

4. نابالغ کی permanent custody اور guardianship کا اختیار Guardian Court کے پاس ہے۔

۔5. Section 491 کی عدالت Guardian Court کے اختیارات اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی۔

6. محض apprehension کی بنیاد پر والدہ یا بچے کی آزادی پر indefinite restraint عائد نہیں کی جاسکتی۔

۔7. Protective condition ہو بھی تو وہ provisional، proportionate اور purpose-specific ہونی چاہیے۔

8. نابالغ کو territorial jurisdiction سے باہر لے جانے کی طویل المدتی پابندی Guardian Court کے دائرۂ اختیار سے متعلق معاملہ ہوسکتی ہے۔

۔9. Section 491 کو اس طرح وسیع نہیں کیا جاسکتا کہ وہ Guardians and Wards Act, 1890 کے mechanism سے متصادم ہوجائے۔

10. اگر کسی فریق کو بچے کے removal کا خدشہ ہو تو وہ competent Guardian Court سے مناسب relief حاصل کرسکتا ہے۔

📍متعلقہ نظائر: عدالت نے اپنے اصول کی تائید میں بالخصوص درج ذیل مقدمات کا حوالہ دیا:

Hussan Begum v. 1st Additional District & Sessions Judge, Karachi West — 2013 P.Cr.L.J. 1503

Nisar Muhammad and another v. Sultan Zari — PLD 1997 SC 852

Mst. Nadia Perveen v. Mst. Almas Noreen and others — PLD 2012 SC 758

Mst. Wafa Andaleeb v. Imran Bhatti and 6 others — 2015 P.Cr.L.J. 875

Mahak Bibi v. Additional Sessions Judge and 3 others — 2014 MLD 1718

📍مختصر قانونی نکتہ:

“Section 491 Cr.P.C. restores interim custody; it does not confer the jurisdiction of a Guardian Court.”

یعنی: “دفعہ 491 ضابطۂ فوجداری کے تحت عدالت عبوری تحویل بحال کرسکتی ہے، لیکن وہ Guardian Court کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے والدہ یا نابالغ پر مستقل نوعیت کی پابندیاں عائد نہیں کرسکتی۔”

15/09/2026

2026 YLR 2196
Bail, grant of---Further inquiry---Rule of consistency---Allegation against the petitioner was that he being Branch Manager in connivance with co-accused and other bank officials/co-accused, opened and operated a fake/bogus bank account in the name of father of co-accused with mala fide intentions---Record showed that co-accused had been extended the premium of pre-arrest bail by the Trial Court---Co-accused of the present petitioner, who was step son of aggrieved person, had already been admitted to post arrest bail in this case by the High Court---It was not disputed that the case of the present petitioner was not in any manner dissimilar to or distinguishable from the case of the said co-accused person---In such circumstances, there was no reason why the present petitioner might not be treated in the same manner in the matter of bail as his co-accused person who had already been admitted to bail---Principle of consistency was to be followed in order to maintain balance and the doctrine of an equality before law as enshrined in Arts. 4 and 25 of the Constitution of Islamic Republic of Pakistan, 1973, thus, the role of co-accused person was at par with the present petitioner, therefore, the petitioner was entitled to the same relief under the doctrine of parity---Entire prosecution case was based upon documentary evidence which was already in possession of the prosecution and as such there was no chance of tampering with the same therefore, in the circumstances, no useful purpose shall be served by keeping the petitioner behind the bars---Moreover, when accused becomes entitled for grant of bail as a matter of right, then he cannot be declined such relief due to abscondance which is matter of propriety---Further, it is better to err in granting bail than to err in refusal because ultimate conviction and sentence can repair the wrong resulted by a mistaken relief of bail

لاہور ہائیکورٹ کے روبرو درخواست گزار نے دفعہ 497 Cr.P.C. کے تحت بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی۔ مقدمہ FIR No.99...
15/09/2026

لاہور ہائیکورٹ کے روبرو درخواست گزار نے دفعہ 497 Cr.P.C. کے تحت بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی۔ مقدمہ FIR No.996/2024 مورخہ 22.08.2024، دفعات 376 اور 376(iii) PPC، تھانہ گوگیرہ، ضلع اوکاڑہ سے متعلق تھا۔ استغاثہ کے مطابق 15 اور 16 اگست 2024 کی درمیانی شب تقریباً 12 بجے درخواست گزار نے مبینہ طور پر پستول کے زور پر ایک نامعلوم شریک ملزم کے ہمراہ شکایت کنندہ کی تقریباً 12/13 سالہ بیٹی کے ساتھ زیادتی کی۔

درخواست گزار ایف آئی آر میں نامزد تھا اور استغاثہ کی جانب سے ضمانت کی مخالفت اس بنیاد پر کی گئی کہ الزام انتہائی سنگین ہے اور دفعہ 497 Cr.P.C. کی prohibitory clause کے اندر آتا ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ دفعہ 376 PPC کا الزام سنگین نوعیت کا ہے، تاہم قرار دیا کہ صرف جرم کی سنگینی ضمانت مسترد کرنے کے لیے کافی نہیں بلکہ عدالت کو تفتیش کے دوران جمع ہونے والے پورے مواد کا عبوری اور بامعنی جائزہ لینا ضروری ہے۔

ریکارڈ کے مطابق مبینہ وقوعہ کے تقریباً سات روز بعد متاثرہ کا طبی معائنہ Magistrate کے حکم پر کیا گیا۔ مزید یہ کہ MLR میں طبی معائنے کی تاریخ درج نہیں تھی اور Medical Officer نے حتمی رائے بعد میں، PFSA رپورٹ موصول ہونے کے بعد دی۔ طبی معائنے میں مختلف جسمانی حصوں پر tears، lacerations، bruises، abrasions، swelling اور hyperemia کے حوالے سے نتائج “Nil” تھے۔ H***n کے بارے میں “ruptured 1 finger” درج کیا گیا، لیکن Medical Officer نے اس rupture کی وجہ، تازگی یا عمر کے بارے میں کوئی مخصوص رائے نہیں دی اور نہ ہی اسے مبینہ وقوعہ سے طبی طور پر منسلک کیا۔

تفتیش کے دوران Punjab Forensic Science Agency (PFSA) کی رپورٹ مورخہ 29.05.2025 بھی سامنے آئی، جس میں tested evidence items پر seminal material detect نہیں ہوا۔ Medical Officer نے PFSA رپورٹ اور جسمانی معائنے کے نتائج کو یکجا کرنے کے بعد حتمی رائے دی کہ موجودہ طبی و فرانزک مواد کی بنیاد پر sexual offence کے ارتکاب کی تجویز دینے کے لیے کافی evidence موجود نہیں تھا۔ عدالت نے اس بات کو اہم سمجھا کہ یہ رائے خود prosecution record کا حصہ تھی۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ متاثرہ کا دفعہ 164 Cr.P.C. کے تحت بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ ان میں سے کسی ایک circumstance کو اکیلے prosecution case کے خاتمے کی بنیاد نہیں بنایا جا رہا، بلکہ تمام حالات کو مجموعی طور پر دیکھا گیا تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا ملزم کے خلاف guilt کے reasonable grounds موجود ہیں یا معاملہ further inquiry کا ہے۔

⚖️ اہم قانونی نکات (Legal Points)

پہلا اہم اصول یہ ہے کہ جرم کی سنگینی بذاتِ خود ضمانت سے انکار کی کافی وجہ نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ الزام سنگین ہو اور مقدمہ prohibitory clause میں آتا ہو، پھر بھی دفعہ 497 Cr.P.C. کے تحت عدالت کو prosecution material کا tentative assessment کرنا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں Habibullah v. The State (2025 YLR 1223) کا حوالہ دیا گیا۔

دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ Bail Stage پر Court deeper appreciation of evidence نہیں کرتی۔ حتمی طور پر شہادت کی credibility اور evidentiary value کا فیصلہ Trial Court کا کام ہے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ Bail Court تفتیش کے دوران سامنے آنے والے medical، forensic یا دیگر material کو نظرانداز کر دے۔ دفعہ 497 Cr.P.C. کے تحت tentative assessment meaningful اور entire available material کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

تیسرا اصول یہ ہے کہ Medical اور Forensic Evidence کو Bail Stage پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تفتیش کے دوران medical examination اور forensic report prosecution record کا حصہ بن چکے ہوں تو Bail Court انہیں بھی مجموعی طور پر دیکھ سکتی ہے۔ Abdul Ghaffar v. The State (2016 SCMR 1523) اور Haibat Khan v. The State (2016 SCMR 2176) میں بھی medical اور forensic material کو bail کے مرحلے پر relevant سمجھا گیا۔

چوتھا اہم نکتہ یہ ہے کہ prosecution اپنے ہی record کے کسی ایسے حصے کو selectively ignore نہیں کر سکتی جو accused کے حق میں جاتا ہو۔ موجودہ مقدمے میں Medical Officer نے PFSA report موصول ہونے کے بعد physical examination اور forensic material کو مجموعی طور پر دیکھ کر final opinion دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسی final medical opinion، چونکہ خود prosecution investigation کا حصہ ہے، tentative assessment کے وقت مکمل طور پر نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔

پانچواں اصول “Further Inquiry” سے متعلق ہے۔ دفعہ 497(2) Cr.P.C. اس وقت relevant ہوتی ہے جب available material کی tentative assessment سے accused کے involvement یا guilt کے بارے میں ایسا حقیقی اور معقول سوال پیدا ہو جو trial میں evidence record کیے بغیر حتمی طور پر resolve نہ ہو سکے۔ Fahad Hussain and another v. The State (2023 SCMR 364) میں Supreme Court نے further inquiry کا یہی بنیادی تصور واضح کیا۔

چھٹا اہم اصول یہ ہے کہ “Further Inquiry” کا مطلب Acquittal یا Innocence کا declaration نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ further inquiry صرف یہ ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ material پر accused کی guilt کے بارے میں reasonable doubt موجود ہے؛ حتمی فیصلہ Trial Court evidence ریکارڈ کرنے کے بعد کرے گی۔

ساتواں اصول Presumption of Innocence اور Personal Liberty سے متعلق ہے۔ ہر accused کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک competent Court اسے guilty قرار نہ دے۔ Akhtar v. Khawas Khan (2024 SCMR 476)، Gul Muhammad v. The State (2023 SCMR 857) اور Zaigham Ashraf v. The State (2016 SCMR 18) کے اصولوں کی روشنی میں عدالت نے قرار دیا کہ bail کا قانون کسی شخص کو conviction سے پہلے سزا دینے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

آٹھواں اہم نکتہ یہ ہے کہ Court نے تمام circumstances کو cumulative effect میں دیکھا۔ delayed medical examination، MLR میں examination date کا عدم اندراج، جسمانی معائنے کے findings، hymenal rupture کی freshness یا cause کے بارے میں مخصوص medical opinion کا نہ ہونا، seminal material کا detect نہ ہونا، Medical Officer کی final opinion اور section 164 Cr.P.C. کے تحت victim statement کا ریکارڈ نہ ہونا—ان تمام circumstances کو مجموعی طور پر دیکھنے سے Court کے نزدیک further inquiry کا معاملہ پیدا ہوا۔

نتیجہ: لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ prosecution material کی tentative assessment کے بعد ملزم کے خلاف guilt کے reasonable grounds کے بجائے section 497(2) Cr.P.C. کے تحت further inquiry کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ درخواست منظور کرتے ہوئے Aon Abbas کو post-arrest bail دے دی گئی، جس کے لیے Rs.1,000,000/- کے bail bonds اور اسی رقم کے دو sureties مقرر کیے گئے۔ عدالت نے ساتھ ہی واضح کیا کہ اس کے observations صرف bail کے فیصلے تک tentative ہیں اور Trial Court مقدمہ کا فیصلہ ریکارڈ پر آنے والی شہادت کی بنیاد پر آزادانہ طور پر کرے گی۔

Address

Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 13:00
Saturday 08:00 - 16:00

Telephone

+923008655306

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raza Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Raza Law Associates:

Shortcuts

Share