29/03/2026
**COMPANY (کمپنی)*
اسٹاک مارکیٹ میں مختلف کمپنیوں کے اسٹاکس جنکو عرف عام میں شیئرز کہا جاتا ھےکی trade/خریدوفروخت ھوتی ھے۔کمپنی کیا ھوتی ھے، اسکی کتنی اقسام ھیں، ان کمپنیوں کو کون ریگولیٹ کرتا ھے،شیئر ھولڈرز کون ھوتے ھیں,انکی ذمہ داری کیا ھوتی ھے، شیئر کی قیمت کا تعین کیسے ھوتا ھے، سرمایہ capital سے کیا مراد ان تمام باتوں سے مختصر آگاھی کے لئے آپ کی خدمت میں یہ تحریر پیش کی جارھی ھے۔ پاکستان میں "کمپنی" کی قانونی تعریف اور تفصیلات کمپنیز ایکٹ 2017 میں بیان کی گئی ھے۔ جسکے مطابق "کمپنی" سے مراد ایک ایسی قانونی شخصیت artificial person/corporate body ھے جوموجودہ یا سابقہ کمپنی قوانین کے تحت پاکستان میں تشکیل دی گئی ھواور اسے حسب ضابطہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے پاس رجسٹرڈ کروایا گیا ھو۔اور یہ کمیشن SECPھی اس کمپنی کو عملی طور پر ریگولیٹ کرتا ھے۔
کمپنی اپنے مالکان/ شیئر ھولڈرز سےالگ قانونی وجودکی حامل ھوتی ھے یعنی یہ اپنے مالکان/شیئر ہولڈرز سے الگ قانونی حثیت رکھتی ھے۔
کمپنی اپنے نام پر جائیداد خرید سکتی ھے، معاہدے کر سکتی ھے،
مقدمات لڑ سکتی ھے یا اس پر مقدمات دائر کیے جا سکتے ہیں،
کمپنی کی زندگی اس کے مالکان کی زندگی یا موت سے متاثر نہیں ہوتی۔
الغرض کمپنی کو ایک "شخص" کی طرح دیکھا جاتا ھے جو اپنے شیئر ھولڈرز یا ڈائریکٹرز سے الگ ھے یعنی کہ اگر کمپنی قرض لیتی ھے تو اس قرضہ کی ادائیگی کمپنی نے ھی کرنی ھوتی ھے نہ کہ اس کے شیئرھولڈرز نے۔اگر کمپنی قرضہ کی ادائیگی میں ناکام ھو جائے تو کمپنی کی جائیداد ھی قرق ھو گی نہ کہ اس کمپنی کے شیئر ھولڈرز کی ذاتی جائیداد۔ شیئر ھولڈرز کی ذاتی جائیداد محفوظ رہتی ھے۔کمپنی کے شیئر ھولڈرز کی ذمہ داری صرف ان کے شیئرز کی قیمت تک محدود ھوتی ھے۔ اگر کمپنی دیوالیہ ھو جائے تو شیئر ہولڈرز کو اپنی ذاتی جائیداد سے قرض ادا نہیں کرنا پڑتا۔
کمپنی کی زندگی اس کے مالکان کی تبدیلی یا موت سے ختم نہیں ھوتی بلکہ جاری رھتی ھے جب تک کہ کمپنی کوقانونی تقاضے پورے کرتے ھوئے ختم wind up نہ کیا جائے۔
پاکستان میں کوئی بھی کمپنی جب SECPکے پاس رجسٹرڈ ھونے کے لئے اپنے دستاویزات جو میمورنڈم اینڈ آرٹیکل آف ایسوسی ایشن پر مشتمل ھوتے ھیں پیش کرتی ھیں ان میں کمپنی کی ابتداء کرنے والے افرادیعنی promoters کے نام وکوائف، کمپنی کے سرمایہ اور اس سرمایہ کو شیئرز میں تقسیم کرکے کل رقم سرمایہ اور قیمت فی شیئر اور کل شیئر کی تعداد درج ھوتی۔ کمپنی بغیر منظوری اپنے ظاھر شدہ سرمایہ سے زائد سرمایہ اکٹھا نہیں کرسکتی۔جب کمپنی رجسٹرڈ ھو جائے اسے SECP کے پاس اپنے سالانہ اکاؤنٹس، آڈٹ اور دیگر رپورٹس جمع کروانی ھوتی ھیں۔
پاکستان میں اس وقت نافذ العمل کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت مختلف نوعیت/اقسام کی درج ذیل کمپنیاں تشکیل دی جا سکتی ھیں
1.پرائیویٹ لیمیٹڈ کمپنی /Private Limited Company
یہ کمپنی عام طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے رجسٹرڈ کروائی جاتی ھے ایسی کمپنی میں کم از کم 1 اور زیادہ سے زیادہ 50 شیئر ہولڈرز ھو سکتے ھیں۔ ایسی کمپنی کےشیئرز کو عوام/پبلک میں نہیں بیچا جا سکتا اس لئے ایسی کمپنیاں اسٹاک مارکیٹ میں ان لسٹ نہیں جو سکتی۔ ان کمپنیوں کو اپنے نام کے ساتھ private (Limited)لکھنا ضروری ھوتا ھے۔
2.پبلک لیمیٹڈ کمپنی/Public Limited
Company
اس طرح کی کمپنی بڑے کاروبار کے لیے رجسٹرڈ کروائی جاتی ھے ایسی کمپنی میں شیئر ھولڈرز کی کم از کم تعداد 3 اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد/ تعداد متعین نہ کہ گئی ھے۔ ایسی کمپنی عام عوام/پبلک کو اپنے شیئرز فروخت کرسکتی ھے اور صرف ایسی کمپنی ھی اسٹاک مارکیٹ میں ان لسٹ ھو سکتی ھے۔ایسی کمپنی اپنے نام کے آخر میں لفظ Limited لکھتی ھے۔
3.سنگل ممبر کمپنی (Single Member Company -
ایسی کمپنی ایک ھی شخص کی ملکیت ھوتی یہ کمپنی بھی پرائیویٹ لیمیٹڈ کی طرح ھوتی ھے لیکن اسکو اپنے نام کے ساتھ SMC (Pvt) Limited لکھنا ضروری ھوتا ھے۔
4.کمپنی لیمیٹڈ بائی گارنٹی/Company Limited by Guarantee
ایسی کمپنی سرمایہ کی بجائے ممبران کی گارنٹی پر رجسٹرڈ ھوتی ھے۔ عام طور پر بغیر منافع والے مقاصد کے لیے استعمال ھوتی ھے۔
5.غیر محدود ذمہ داری والی کمپنی/Unlimited Company
ایسی کمپنی میں شیئر ھولڈرز کی ذمہ داری لامحدود ھوتی ھے اگر کبھی کمپنی ڈیفالٹ کر جائے تو ایسی کمپنی کے شیئر ھولڈرزکی ذاتی جائیداد بھی خطرے میں آ جاتی ھےاس لئے اس طرح کی کمپنیاں بہت کم رجسٹرڈ ھوتی ھیں۔
6. بغیر منافع والی کمپنی /Non Profitable Association
رفاھی کاموں خصوصا سائنسی، تعلیمی یا سماجی یا دیگر فلاحی مقاصد کے لیے ایسی کمپنی کو رجسٹرڈ کروایا جاتا ھے ایسی کمپنی اپنے نام کے ساتھ لفظ "لیمیٹڈ" کا اضافہ نہیں کرسکتی عام طور پر کسی NGOکی رجسٹریشن اسی طرح ھوتی ھے۔
7.فارن کمپنی /Foreign Company
اگر کوئی کمپنی پاکستان سے باھر کسی دیگر ملک میں رجسٹرڈ ھو اور وہ پاکستان میں بھی اپنا کاروبار کرنا چاھتی ھواور وہ کمپنی، کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت رجسٹرڈ ھو جائے تو اسے فارن کمپنی کہا جاتا ھے