A&R Law Associates District Courts Faisalabad

A&R Law Associates District Courts Faisalabad We deal with: Criminal cases, Civil cases, ,Family cases, Guardianship cases, Cyber Crime,FIA cases,Anti Narcotics cases, Labour Laws.....

29/05/2026

چالان اور دفعہ 173 ضابطہ فوجداری کے متعلق اہم PLD اور SCMR نظائر درج ذیل ہیں:
1. Falak Sher v. The State
اصول: عدالت پولیس کی رائے کی پابند نہیں، کالم نمبر 2 میں شامل ملزمان کو بھی طلب کر سکتی ہے۔

2. Muhammad Khan v. I.G. Police
اصول: عبوری (Incomplete) چالان کے بعد الگ مکمل چالان لازمی نہیں۔

3. PLD 1985 Supreme Court 62
اصول: مجسٹریٹ مثبت یا منفی چالان کے باوجود کیس منسوخ یا کارروائی جاری رکھ سکتا ہے۔

4. PLD 2006 Supreme Court 316
اصول: پولیس رپورٹ صرف رائے ہوتی ہے، اصل اختیار عدالت کے پاس ہے کہ ٹرائل ہونا چاہیے یا نہیں۔

5. PLD 2010 Lahore 114
اصول: چالان صرف دفعہ 173 Cr.P.C کے تحت ہی جمع ہو سکتا ہے۔

6. PLD 2013 Sindh 423
اصول: اے، بی اور سی کلاس چالان کی قانونی حیثیت اور مجسٹریٹ کے اختیارات بیان کیے گئے۔

7. PLD 2018 Supreme Court 178
اصول: دفعہ 173 کی رپورٹ بذاتِ خود قابلِ شہادت نہیں۔

8. 2019 SCMR 2029
اصول: عدالت پولیس کو کسی مخصوص شخص کے خلاف لازماً چالان دینے کا حکم نہیں دے سکتی۔

9. 2016 SCMR 1325
اصول: پولیس کی رائے عدالت پر لازم نہیں، عدالت اختلاف کر سکتی ہے۔

10. PLD 1962 Lahore 405
اصول: عبوری چالان پر ٹرائل شروع ہونے کی صورت میں عدالت cognizance لے سکتی ہے۔

2025 CLC 1158ہبہ کو ثابت کرنے کے لیے آٹھ لازمی شرائطعدالتِ عالیہ کے سامنے ایک ایسا مقدمہ آیا جس میں ایک بھائی نے اپنے وا...
19/03/2026

2025 CLC 1158
ہبہ کو ثابت کرنے کے لیے آٹھ لازمی شرائط

عدالتِ عالیہ کے سامنے ایک ایسا مقدمہ آیا جس میں ایک بھائی نے اپنے والد کی جائیداد سے بہن کو اس کے شرعی حق سے محروم کرنے کے لیے ہبہ (Gift) کا جعلی دعویٰ کیا۔ ابتدائی عدالت اور اپیلٹ کورٹ نے بھائی کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ اس کے حق میں دے دیا، تاہم ہائی کورٹ نے دونوں فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بہن کے حق میں فیصلہ صادر کیا۔

عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ جو فریق کسی معاملے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہو، اسی پر اس معاملے کو ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ چونکہ بھائی ہبہ کا بینیفشری تھا، اس لیے اس پر لازم تھا کہ وہ ہبہ کو قانونی اور قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرے۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی ہبہ کو قانونی طور پر ثابت کرنے کے لیے درج ذیل آٹھ بنیادی شرائط کا پورا ہونا ناگزیر ہے:

1. ایجاب (Offer): ہبہ کرنے والے کی جانب سے واضح اور غیر مبہم اعلان۔

2. قبول (Acceptance): ہبہ لینے والے کی جانب سے صریح قبولیت۔

3. قبضہ (Delivery of Possession): جائیداد کا حقیقی قبضہ ہبہ لینے والے کے سپرد ہونا۔

4. ہبہ کنندہ کی نیت (Donor’s Intention): ہبہ خلوصِ نیت پر مبنی ہو، فراڈ یا فریب پر نہیں۔

5. آزادیٔ ارادہ (Free Consent): ہبہ کسی دباؤ، جبر یا دھوکے کے بغیر کیا گیا ہو۔

6. گواہان کی موجودگی (Witnesses): ایجاب و قبول معتبر گواہوں کے روبرو ہوا ہو۔

7. محکمہ مال میں درست اندراج (Mutation in Revenue Record): لینڈ ریونیو ایکٹ کے مطابق انتقال کا اندراج کیا گیا ہو۔

8. شہادت میں مطابقت (Consistency in Evidence): گواہان کے بیانات اور سرکاری ریکارڈ میں کوئی تضاد موجود نہ ہو۔

عدالت کے مشاہدات کے مطابق بھائی کے پیش کردہ گواہوں کے بیانات آپس میں متضاد تھے۔ روزنامچہ واقعاتی (Roznamcha Waqiati) اور ایجاب و قبول کے وقت کے بارے میں بھی واضح تضاد پایا گیا۔ مزید یہ کہ بیٹے کی بطور گواہ شہادت ناقابلِ قبول قرار دی گئی کیونکہ وہ ایجاب و قبول کے وقت موجود ہی نہیں تھا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967 کی دفعہ 42 کے تحت انتقال کا عوامی اعلان (Public Attestation) ثابت نہیں کیا جا سکا، جو ہبہ کے قانونی ثبوت کے لیے ایک لازمی تقاضا ہے۔

2025 CLC 1158

Eight Essential Ingredients Required to Prove a Valid Gift

The High Court dealt with a case in which a brother, in order to deprive his sister of her lawful Islamic share in their father’s property, put forward a false and fabricated claim of gift (Hiba). The trial court as well as the appellate court had decided the matter in favour of the brother. However, the High Court set aside both judgments and decreed the suit in favour of the sister.

The Court observed that the burden of proof lies upon the party who seeks to derive benefit from a particular fact. Since the brother was the beneficiary of the alleged gift, it was incumbent upon him to establish the gift through credible and lawful evidence.

The High Court held that for a gift to be legally proved, the following eight essential ingredients must be strictly fulfilled:

1. Offer: A clear and unequivocal declaration by the donor.

2. Acceptance: An explicit acceptance by the donee.

3. Delivery of Possession: Actual transfer of possession of the property to the donee.

4. Donor’s Intention: The gift must be genuine and bona fide, free from fraud or deception.

5. Free Consent: The gift must be made voluntarily, without coercion, undue influence, or misrepresentation.

6. Witnesses: The offer and acceptance must take place in the presence of credible witnesses.

7. Mutation in Revenue Record: Proper mutation must be sanctioned in accordance with the Land Revenue Act.

8. Consistency in Evidence: There must be no contradiction between the statements of witnesses and the official revenue record.

While evaluating the evidence, the Court found that the statements of the witnesses produced by the brother were mutually contradictory. Clear inconsistencies were also noticed regarding the Roznamcha Waqiati and the timing of offer and acceptance. Furthermore, the testimony of the son was held to be unreliable and inadmissible, as he was not present at the time of the alleged offer and acceptance.

The Court further held that the mandatory requirement of public attestation of mutation under Section 42 of the Land Revenue Act, 1967, was not proved, rendering the alleged gift legally unsustainable.

*OVERSEAS DIVORCE*بیرون ملک سے طلاق کا طریقہ کارWhat is the procedure,if a husband wants to get separation from his wife...
15/03/2026

*OVERSEAS DIVORCE*
بیرون ملک سے طلاق کا طریقہ کار

What is the procedure,if a husband wants to get separation from his wife but he is living abroad?
This procedure has been prescribed in a recent Judgement by Lahore High Court Lahore.

1.Husband will send a power of attorney to his lawyer.

2. Power of attorney should be attested from the Pakistani embassy or consulate of the country where he is residing.

3. Where a lawyer receives the power of attorney, he will proceed according to law.

4. Proceedings of overseas divorce in Pakistan are conducted in Arbitration council.

5. Minimum 90 days proceedings will be
conducted by lawyer in arbitration council.

6. After the proceedings of overseas divorce in
Pakistan, a divorce certificate will be issued by
NADRA through arbitration council and this certificate is considered as sole and only proof of divorce.

2025 MLD 1973"Doctrine of Limine Control"  "اسٹے آرڈر" (Stay Order) اور عدالتی طریقہ کار کے حوالے سے اہم قانونی نکات وضع...
08/02/2026

2025 MLD 1973
"Doctrine of Limine Control"
"اسٹے آرڈر" (Stay Order) اور عدالتی طریقہ کار کے حوالے سے اہم قانونی نکات وضع کیے ہیں۔
​​اس کیس میں اپیل کنندگان نے ایک دعویٰ (تعینِ حقوق، ریکوری اور حکم امتناعیِ دوامی) کے ساتھ آرڈر 39 رول 1 اور 2 کے تحت حکم امتناعی کی درخواست دی تھی۔ ٹرائل کورٹ (سول جج) نے اس درخواست کو مسترد کرنے کے لیے لفظ "Turned Down" استعمال کیا تھا۔
​اہم قانونی نکات:
​غیر قانونی اصطلاح کا استعمال: عدالتِ عالیہ نے قرار دیا کہ دیوانی قوانین (CPC) میں "Turned Down" کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عدالت یا تو درخواست کو منظور (Accept) کرے گی یا مسترد (Dismiss) کرے گی۔
​وجوہات کا فقدان: ٹرائل کورٹ نے بغیر کسی ٹھوس وجہ یا قانونی بنیاد کے حکم امتناعی کی استدعا کو "ٹھکرا" دیا تھا، جو کہ قانون کی نظر میں ایک Legal Lacuna (قانونی سقم) ہے۔
​عدالت کا اختیار: ہائی کورٹ نے وضاحت کی کہ آرڈر 39 رول 1 اور 2 کے تحت عدالت مخصوص شرائط (جیسے وقت کا تعین، سیکورٹی یا حساب کتاب رکھنا) کے ساتھ حکم امتناعی جاری کر سکتی ہے تاکہ کسی فریق کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
​فیصلہ: ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم (Set-aside) قرار دے کر درخواست کو دوبارہ سماعت کے لیے واپس بھیج دیا تاکہ قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔
​2. اہم قانونی لغت (Legal Terminology) کی وضاحت
​اس فیصلے میں درج ذیل اصطلاحات کو خاص اہمیت دی گئی ہے:
​Doctrine of Limine Control (ڈاکٹرائن آف لیمنی کنٹرول): یہ ایک ایسا قانونی نظریہ ہے جس کے تحت عدالت کیس کے بالکل ابتدائی مرحلے (at the threshold) پر دستیاب ریکارڈ کو دیکھ کر فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس کا مقصد "سستے اور فوری انصاف" کا فروغ ہے تاکہ دوسرے فریق کو نوٹس جاری کیے بغیر (جہاں ضرورت نہ ہو) وقت اور پیسے کے ضیاع سے بچایا جا سکے۔
​Legal Lacuna (قانونی سقم): جب کسی عدالتی فیصلے یا قانون میں کوئی ایسی خامی یا خلا رہ جائے جس کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے نہ ہو رہے ہوں، تو اسے قانونی سقم کہا جاتا ہے۔
​Ad-interim Relief (عبوری ریلیف): مقدمے کے حتمی فیصلے تک عارضی طور پر دیا جانے والا ریلیف (جیسے اسٹے آرڈر)۔
​Impugned Order (مطعونہ حکم): وہ حکم جس کے خلاف اپیل کی گئی ہو یا جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا ہو۔
​Order XLIII Rule 1(r): سی پی سی کی وہ دفعہ جس کے تحت حکم امتناعی (Stay) کی درخواست

خارج یا منظور ہونے پر اپیل دائر کی جاتی ہے۔

عنوان: ⚖️ اسٹے آرڈر (Stay Order) کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ!
​سول کورٹس اب آپ کی اسٹے کی درخواست کو صرف "Turned Down" (ٹھکرا) نہیں سکتیں!
​لاہور ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے [2025 MLD 1973] میں ایک بہت بڑا قانونی نکتہ واضح کر دیا ہے۔ جسٹس جواد حسن صاحب نے قرار دیا ہے کہ:
​1️⃣ عدالتوں کے لیے "Turned Down" کی اصطلاح استعمال کرنا غیر قانونی ہے۔
2️⃣ جج صاحب کو اسٹے آرڈر کی درخواست پر واضح طور پر "Accept" یا "Dismiss" لکھنا ہوگا اور اس کی ٹھوس وجوہات دینی ہوں گی۔
3️⃣ بغیر وجوہات کے اسٹے کی استدعا مسترد کرنا ایک "قانونی سقم" (Legal Lacuna) ہے جسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
​وکلاء بھائیوں کے لیے اہم نکتہ: عدالت نے "Doctrine of Limine Control" پر بھی زور دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہائی کورٹ ابتدائی مرحلے پر ہی ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر سکتی ہے تاکہ سائل کا وقت اور پیسہ ضائع نہ ہو۔
​اگر آپ کا اسٹے آرڈر بھی بغیر کسی ٹھوس وجہ کے "ٹرن ڈاؤن" ہوا ہے، تو یہ فیصلہ آپ کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے!

*سول پریکٹیشنرز کے لیے ایک بہترین تفصیلی جائزہ سیکشن 9 CPC....*سیکشن 9 آف دی سول پروسیجر کوڈ (CPC) سول عدالتوں کے دائرہ ...
23/01/2026

*سول پریکٹیشنرز کے لیے ایک بہترین تفصیلی جائزہ سیکشن 9 CPC....*

سیکشن 9 آف دی سول پروسیجر کوڈ (CPC) سول عدالتوں کے دائرہ اختیار (jurisdiction) سے متعلق ہے۔ یہ سیکشن ان اصولوں کی وضاحت کرتا ہے جن کی بنیاد پر سول عدالتیں کسی مقدمے کی سماعت کر سکتی ہیں۔ اس پر مکمل جامع نوٹس ہر پہلو سے درج ذیل ہیں:

سیکشن 9 سی پی سی: متن
The courts shall have jurisdiction to try all suits of a civil nature excepting suits of which their cognizance is either expressly or impliedly barred."
اہم نکات:
دائرہ کار کا اصول (General Rule of Jurisdiction):

سول عدالتیں ان تمام مقدمات کی سماعت کر سکتی ہیں جو "سول نوعیت" (civil nature) کے ہوں۔
صرف وہی مقدمے خارج ہیں جنہیں کسی مخصوص قانون کے تحت ممنوع قرار دیا گیا ہو۔
سول نوعیت کے مقدمے:

ایسے مقدمے جن کا تعلق نجی حقوق (private rights) اور واجبات (obligations) سے ہو، جیسے:
جائیداد کے تنازعات
کنٹریکٹ کے مسائل
خاندان کے معاملات (وراثت، تقسیم)
سول نوعیت کے مقدمے میں کسی فریق کو انصاف کے لیے عدالت میں آنے کا حق ہوتا ہے۔
بارڈ مقدمات (Barred Suits):

دو قسم کے بارڈ مقدمات:
ایکسپریس بارڈ (Expressly Barred): قانون واضح طور پر ان مقدمات کی سماعت سے روکتا ہے، جیسے:
ٹیکس معاملات جن کے لیے ٹربیونلز مقرر ہیں۔
فوجی معاملات جو عدالتِ مارشل کے دائرے میں آتے ہیں۔
امپلائیڈ بارڈ (Impliedly Barred): ایسے مقدمات جو کسی مخصوص قانون کے دائرہ کار میں آتے ہیں یا پبلک پالیسی کے خلاف ہوں، جیسے:
مذہبی رسوم یا عقائد پر مبنی مقدمات۔
اصولی حدود:

اگر سول نوعیت کے مقدمے کو کوئی مخصوص فورم تفویض کیا گیا ہے، تو سول عدالتوں کا دائرہ کار محدود ہو جاتا ہے۔
عدالت کا دائرہ کار تبھی روکا جا سکتا ہے جب واضح قانون یا مخصوص حالات موجود ہوں۔
اہم عدالتی نظائر (Case Laws):
مہاراجہ دھیرجہ کرشنا سنگھ کیس:
عدالت نے وضاحت کی کہ کسی تنازع کے "سول نوعیت" ہونے کا فیصلہ اس کے حقائق پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ اس کے دعوے پر۔
موٹس موہن لال کیس:
عدالت نے کہا کہ اگر مقدمہ کسی کے قانونی حق کو متاثر کرتا ہے، تو وہ سول نوعیت کا ہے۔
عبدالغنی و دیگر بنام فضل الرحیم
اس مقدمے میں وضاحت کی گئی کہ "ایکسپریس بارڈ" اور "امپلائیڈ بارڈ" کا اطلاق کن حالات میں ہوگا۔
اہم پہلو:
1. سیکشن 9 کا مقصد:
افراد کو انصاف فراہم کرنا اور ان کے قانونی حقوق کا تحفظ کرنا۔
عدالت کے دائرہ کار کو وسیع کرنا تاکہ انصاف تک رسائی ممکن ہو۔
2. سیکشن 9 اور خصوصی قوانین:
بعض معاملات میں، خصوصی قوانین کے تحت خصوصی ٹربیونلز قائم کیے جاتے ہیں، جیسے:
لیبر قوانین کے تحت لیبر کورٹ۔
ٹیکس قوانین کے تحت ٹیکس ٹربیونلز۔
ان معاملات میں سول عدالتیں مداخلت نہیں کر سکتیں۔
3. ریلیف کی نوعیت:
اگر مقدمہ ریلیف طلب کرتا ہے جو قانون کے مطابق ہو، تو عدالت اسے سن سکتی ہے۔
غیر قانونی یا پبلک پالیسی کے خلاف ریلیف سول عدالتیں فراہم نہیں کر سکتیں۔
4. متوازی عدالتی نظام:
سیکشن 9 خصوصی اور عمومی عدالتی دائرہ کار کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔
خلاصہ:
سیکشن 9 سی پی سی سول عدالتوں کے دائرہ کار کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
یہ قانون واضح کرتا ہے کہ تمام سول نوعیت کے مقدمے سول عدالت کے دائرہ کار میں آتے ہیں، جب تک کہ انہیں کسی قانون کے تحت ممنوع نہ کیا گیا ہو۔
عدالت کو مقدمے کے سول نوعیت کے ہونے کا تعین کرنے کے لیے حقائق اور حالات کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔
یہ سیکشن انصاف کی فراہمی میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور قانونی نظام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے.

🔴 30 IMPORTANT CRIMINAL CASE LAWS ✍️1)  Prosecution did not produce evidence even after 8 months of framing of charge.Ac...
21/01/2026

🔴 30 IMPORTANT CRIMINAL CASE LAWS

✍️1) Prosecution did not produce evidence even after 8 months of framing of charge.
Accused ACQUITTED . 2017 - SCMR - 19

✍️2) Accused involved in the murder case on account of joint extra judicial confession would be entitled to ACQUITTAL .2012 - PCRLJ - 258

✍️3) In murder case empty handed accused due to common intention would not be entitled to the confirmation of PRE ARREST BAIL.
2015 - PCRLJ - 1531

✍️4) Bail GRANTED to accused by following RULE of CONSISTENCY.
2017 - MLD - 349
2016 - YLR - 2507
2008 - SCMR - 173

✍️5) If weapon is recovered but NO empties were recovered then recovery of weapon will be useless .
2015 - MLD- 432
2013 - YLR - 272

✍️6) In dacoity case plea of alibi will not be considered at bail stage.
2014 - PCRLJ - 1002

✍️7) Even after completion of statutory period if delay is attributed to accused then he will not be entitled to concession of bail . 2016 - SCMR - 1538

✍️8) If evidence of a witness is contradictory to his statement recorded u/s 161 crpc then such evidence would not be believable.
2014 - YLR - 548

✍️9) Recovery of articles of the deceased from the accused at the time of their arrest sixteen days after the occurrence was not believable . 1996 - SCMR - 188 ( LB ) .

✍️10) Non recovery of some of the crime empties was not of much importance as the occurrence had taken place in a field.
2006 - SCMR - 672 ( LB ) .

✍️11) Recovery at JOINT POINTATION of two accused would have no evidentiary value.
2008 - SCMR - 1064

✍️12) EXTRA- JUDICIAL CONFESSION is a very WEAK type of evidence and no conviction can be awarded without its strong corroboration on the record . 2005 - SCMR - 277

✍️13) EXTRA JUDICIAL CONFESSION must be proved by evidence of very high and un impeachable character.
PLD - 2006 - SC - 538

✍️14) Unexplained delay of 10 / 11 hours in lodging of FIR . Such delay would lead to inference that occurrence was un- witnessed . 2008 - SCMR - 6 (LB ) .

✍️15) Site plan loses its evidentiary value if it is not prepared on the pointation of a witness .2001 - SCMR - 424

✍️17) S . 302 / 34 . Art 3 . Child witness . Evidence of child witness possessing sufficient understanding can be believed and relied upon for conviction . 1995 - SCMR - 1615

✍️20) No doubt the conviction can be based on the retracted confession alone but if it is found voluntary true and confidence inspiring . PLJ - 2014 - CRC - 791 (DB ) .

✍️22) S . 426 . S . 302 (b ) . For non fixation or non hearing of the appeal the petitioner can not be held responsible . He has earned a statutory right by now to be released on bail after suspension of sentence . PLJ - 2014 - CRC - 547 (a ) .

✍️23) Concealment of facts is also a type of FRAUD .2015 - CLC - 39

✍️24) Courts should not interfere in the policy matters of financial institutions . 2015 - SCMR - 445

✍️25) Due to NON PAYMENT of maintenance allowance right of defense struck off and suit decreed .2015 - CLC - 349

✍️26) It is the duty of the court to take notice of limitation although party has raised objection or not . 2015 - SCMR - 380

✍️27) If process fee is not deposited then due to this reason revision can not be dismissed . PLD - 1998 - Lah - 342

✍️28) S. 489 - F . Cheque was bounced . Offence with which accused was charged was punishable with imprisonment for three years or fine or with both . No useful purpose to be served by remitting petitioner into custody so as to be released on post arrest bail after expiry of some period . PLJ - 2016 - CRC - 547

✍️29) Two versions registered with the police both sides sustained injuries . There was no explanation in FIR regarding injuries sustained by petitioners side . Pre arrest bail confirmed . PLJ - 2016 - CRC - 546 (a ) .

✍️30) Although accused was armed with 12 bore pump action but he did not raise any lalkara nor caused any injury to anybody therefore it is matter of further inquiry . Bail allowed.
PLJ - 2016 - CRC - 483 (a)

Bail (ضمانت) VS Acquittal (بریّت)Bail (ضمانت) کیا ہے؟ضمانت کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کو عارضی طور پر جیل سے رہائی دی جاتی ہے...
19/01/2026

Bail (ضمانت) VS Acquittal (بریّت)

Bail (ضمانت) کیا ہے؟

ضمانت کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کو عارضی طور پر جیل سے رہائی دی جاتی ہے، جبکہ مقدمہ ابھی عدالت میں زیرِ سماعت ہوتا ہے۔
ضمانت ملنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملزم بےگناہ ثابت ہو چکا ہے۔

Acquittal (بریّت) کیا ہے؟

بریّت اس وقت ہوتی ہے جب عدالت مکمل ٹرائل کے بعد یہ فیصلہ دے کہ الزام ثابت نہیں ہوا، اور ملزم کو مستقل طور پر بری کر دیا جائے۔

Copied.

*سول پریکٹیشنرز کے لیے ایک بہترین تفصیلی جائزہ سیکشن 9 CPC....*سیکشن 9 آف دی سول پروسیجر کوڈ (CPC) سول عدالتوں کے دائرہ ...
18/01/2026

*سول پریکٹیشنرز کے لیے ایک بہترین تفصیلی جائزہ سیکشن 9 CPC....*
سیکشن 9 آف دی سول پروسیجر کوڈ (CPC) سول عدالتوں کے دائرہ اختیار (jurisdiction) سے متعلق ہے۔ یہ سیکشن ان اصولوں کی وضاحت کرتا ہے جن کی بنیاد پر سول عدالتیں کسی مقدمے کی سماعت کر سکتی ہیں۔ اس پر مکمل جامع نوٹس ہر پہلو سے درج ذیل ہیں:

سیکشن 9 سی پی سی: متن

The courts shall have jurisdiction to try all suits of a civil nature excepting suits of which their cognizance is either expressly or impliedly barred."
اہم نکات:
دائرہ کار کا اصول (General Rule of Jurisdiction):

سول عدالتیں ان تمام مقدمات کی سماعت کر سکتی ہیں جو "سول نوعیت" (civil nature) کے ہوں۔
صرف وہی مقدمے خارج ہیں جنہیں کسی مخصوص قانون کے تحت ممنوع قرار دیا گیا ہو۔
سول نوعیت کے مقدمے:

ایسے مقدمے جن کا تعلق نجی حقوق (private rights) اور واجبات (obligations) سے ہو، جیسے:
جائیداد کے تنازعات
کنٹریکٹ کے مسائل
خاندان کے معاملات (وراثت، تقسیم)
سول نوعیت کے مقدمے میں کسی فریق کو انصاف کے لیے عدالت میں آنے کا حق ہوتا ہے۔
بارڈ مقدمات (Barred Suits):

دو قسم کے بارڈ مقدمات:
ایکسپریس بارڈ (Expressly Barred): قانون واضح طور پر ان مقدمات کی سماعت سے روکتا ہے، جیسے:
ٹیکس معاملات جن کے لیے ٹربیونلز مقرر ہیں۔
فوجی معاملات جو عدالتِ مارشل کے دائرے میں آتے ہیں۔
امپلائیڈ بارڈ (Impliedly Barred): ایسے مقدمات جو کسی مخصوص قانون کے دائرہ کار میں آتے ہیں یا پبلک پالیسی کے خلاف ہوں، جیسے:
مذہبی رسوم یا عقائد پر مبنی مقدمات۔
اصولی حدود:

اگر سول نوعیت کے مقدمے کو کوئی مخصوص فورم تفویض کیا گیا ہے، تو سول عدالتوں کا دائرہ کار محدود ہو جاتا ہے۔
عدالت کا دائرہ کار تبھی روکا جا سکتا ہے جب واضح قانون یا مخصوص حالات موجود ہوں۔
اہم عدالتی نظائر (Case Laws):
مہاراجہ دھیرجہ کرشنا سنگھ کیس:
عدالت نے وضاحت کی کہ کسی تنازع کے "سول نوعیت" ہونے کا فیصلہ اس کے حقائق پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ اس کے دعوے پر۔
موٹس موہن لال کیس:
عدالت نے کہا کہ اگر مقدمہ کسی کے قانونی حق کو متاثر کرتا ہے، تو وہ سول نوعیت کا ہے۔
عبدالغنی و دیگر بنام فضل الرحیم
اس مقدمے میں وضاحت کی گئی کہ "ایکسپریس بارڈ" اور "امپلائیڈ بارڈ" کا اطلاق کن حالات میں ہوگا۔
اہم پہلو:
1. سیکشن 9 کا مقصد:
افراد کو انصاف فراہم کرنا اور ان کے قانونی حقوق کا تحفظ کرنا۔
عدالت کے دائرہ کار کو وسیع کرنا تاکہ انصاف تک رسائی ممکن ہو۔
2. سیکشن 9 اور خصوصی قوانین:
بعض معاملات میں، خصوصی قوانین کے تحت خصوصی ٹربیونلز قائم کیے جاتے ہیں، جیسے:
لیبر قوانین کے تحت لیبر کورٹ۔
ٹیکس قوانین کے تحت ٹیکس ٹربیونلز۔
ان معاملات میں سول عدالتیں مداخلت نہیں کر سکتیں۔
3. ریلیف کی نوعیت:
اگر مقدمہ ریلیف طلب کرتا ہے جو قانون کے مطابق ہو، تو عدالت اسے سن سکتی ہے۔
غیر قانونی یا پبلک پالیسی کے خلاف ریلیف سول عدالتیں فراہم نہیں کر سکتیں۔
4. متوازی عدالتی نظام:
سیکشن 9 خصوصی اور عمومی عدالتی دائرہ کار کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔
خلاصہ:
سیکشن 9 سی پی سی سول عدالتوں کے دائرہ کار کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
یہ قانون واضح کرتا ہے کہ تمام سول نوعیت کے مقدمے سول عدالت کے دائرہ کار میں آتے ہیں، جب تک کہ انہیں کسی قانون کے تحت ممنوع نہ کیا گیا ہو۔
عدالت کو مقدمے کے سول نوعیت کے ہونے کا تعین کرنے کے لیے حقائق اور حالات کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔
یہ سیکشن انصاف کی فراہمی میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور قانونی نظام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے... کاپی

Criminal Investigation, inquiry, and Trial.
16/01/2026

Criminal Investigation, inquiry, and Trial.

PLD 2025 SC 40استغاثہ میں الزام علیہہان کو بطور ملزم طلب کرنے کیلیے ٹرائل کورٹ کو کون سے عوامل مدنظر رکھنے ضروری ہیں۔سپر...
13/01/2026

PLD 2025 SC 40

استغاثہ میں الزام علیہہان کو بطور ملزم طلب کرنے کیلیے ٹرائل کورٹ کو کون سے عوامل مدنظر رکھنے ضروری ہیں۔
سپریم کورٹ کا تازہ ترین رہنما فیصلہ
The provisions of Sections 202, 203, and 204 of the Cr.P.C. require trial courts to conduct a thorough examination of the evidence supporting allegations made against individuals. In this context, the trial court must consider not only the factual basis for the accusations but also the underlying purpose of bringing those charges forward. This includes evaluating whether there is a legitimate objective behind the allegations or if they serve to unjustly target or harass the accused. Moreover, the trial court should assess the possibility of victimization, ensuring that individuals are not subjected to legal actions that could lead to unnecessary distress or humiliation.

A careful analysis of the provisions of Sections 201 and 202 of the Cr.P.C. reveals that the purpose of inquiry or investigation under Section 202 Cr.P.C. is to enable the Court to scrutinize allegations thoroughly, with the aim of protecting a person complained against from being summoned to face frivolous accusations. Section 202 of the Cr.P.C is, in fact, an enabling provision that empowers the Court to conduct an effective inquiry into the truthfulness or otherwise of the allegations presented in the complaint. This inquiry serves to help the Court form an opinion as to whether there are sufficient grounds to proceed further. Therefore, the inquiry or investigation under Section 202 of the Cr.P.C is not a futile exercise and must be considered by the Court when deciding whether or not to issue process.

Criminal Petition No. 165-K/2022
Muhammad Rajar Versus The State

Address

District Courts Faisalaba
Faisalabad

Telephone

+923362709393

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when A&R Law Associates District Courts Faisalabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category