22/05/2026
کیا ہمارے ڈاکٹرز، ہسپتالوں اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے درمیان مالی تعلقات عوام کے سامنے ہونے چاہئیں؟
امریکہ نے 2014 میں “Sunshine Act” کے ذریعے یہ لازمی قرار دیا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیاں ڈاکٹرز اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کو دی جانے والی ادائیگیوں، تحائف اور دیگر فوائد کا ریکارڈ عوامی سطح پر ظاہر کریں۔ برطانیہ میں بھی کلینکس، ہسپتالوں اور ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے گفٹس، سیمپلز اور دیگر مراعات کا ریکارڈ رکھنا ضروری ہے تاکہ مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کو کنٹرول کیا جا سکے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں آج بھی ایسا مؤثر قانون موجود نہیں جو اس اہم مسئلے کو ریگولیٹ کر سکے۔ جب کم معیار کی مہنگی ادویات تجویز کرنے پر غیر قانونی فوائد، کیش، غیر ملکی دورے، گاڑیاں اور دیگر مراعات حاصل ہونے لگیں تو مریض کا مفاد پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں غیر ضروری ادویات، مہنگا علاج اور خطرناک سائیڈ ایفیکٹس جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں بھی فوری طور پر شفاف قانون سازی کی جائے اور متعلقہ ادارے اس پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ عوام کو اربوں روپے کی کرپشن اور صحت کے شعبے میں مفادات کے ٹکراؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔