27/09/2026
⚖️ پردہ نشین بوڑھی عورت سے جائیداد ہبہ لینا کیوں مشکوک ہے؟ سپریم کورٹ کے 5 لازمی اصول
PLD 2026 Peshawar 53
Before: Muhammad Faheem Wali, J
*RUSTAM KHAN --- Petitioner versus Mst. PATHANI through Legal Heirs and others --- Respondents*
Civil Revision No. 178-D of 2020, decided on 12th June, 2023.
📌 مختصر حقائق:
مسماۃ پٹھانی (ایک بوڑھی، ان پڑھ، پردہ نشین خاتون) نے دعویٰ دائر کیا کہ گفٹ انتقال نمبر 1723 مورخہ 23.02.2000 جعلی، فراڈ اور بوگس ہے۔ اس کا موقف تھا کہ وہ نہ کبھی ریونیو آفیسر کے سامنے پیش ہوئی، نہ بیان دیا اور نہ ہی انگوٹھا لگایا۔ جبکہ مدعا علیہ نے اسی زمین کا ایک حصہ اسی خاتون سے بطور "تحفہ" لینے کے بعد آگے رستم خان (پٹیشنر) کو منتقل کر دیا تھا۔ رستم خان نے خود کو انتقال کا گواہ ہونے کے ساتھ ساتھ *Transfer of Property Act دفعہ 41* کے تحت تحفظ کا دعویٰ کیا۔
ٹرائل کورٹ (Civil Judge-II Paharpur, http://D.I.Khan 21.09.2019) اور اپیلٹ کورٹ (ADJ Paharpur 26.08.2020) نے خاتون کے حق میں انتقال کو منسوخ کر دیا، جس کے خلاف ہائی کورٹ میں نگرانی دائر ہوئی۔
📜 پشاور ہائی کورٹ نے کیا قرار دیا؟ [Pp. 56, 59] A & F
(a) ہبہ ثابت کرنے کے لیے وقت، تاریخ، جگہ اور گواہ بتانا لازمی ہے:
> Being beneficiary, a heavy burden was lying upon the defendants to prove the episode of alleged gift by giving details of offer and acceptance besides telling time, date, place and witnesses of such offer and acceptance---Mere entry and attestation of the gift mutation does not ipso facto overcome the need of evidence for the proof of offer and acceptance.
عدالت نے قرار دیا کہ ہبہ کا فائدہ لینے والے پر بھاری بوجھ ہوتا ہے کہ وہ ثابت کرے کہ *پیشکش (Offer) اور قبولیت (Acceptance)* کب، کہاں، کس وقت اور کن گواہوں کے سامنے ہوئی۔ محض انتقال کا اندراج اور اس کی تصدیق اس ثبوت کی جگہ نہیں لے سکتی۔ انتقال کے گواہان کو ہبہ کی پیشکش و قبولیت کا گواہ تصور نہیں کیا جا سکتا، وہ صرف انتقال کے گواہ ہیں۔ اس کیس میں مدعا علیہ/ہبہ گیر خود عطیہ دہندہ اور پٹیشنر انتقال کا تصدیقی گواہ تھا، لیکن دونوں نے اپنے تحریری بیان میں وقت، تاریخ، جگہ کا کوئی ذکر نہیں کیا اور ان کی شہادت بھی اس بارے میں خاموش تھی۔
(b) زبانی ہبہ کے دو حصے اور 3 لازمی اجزاء [P. 57] B
> A transaction which is based on an oral gift has two parts, namely the fact of the oral gift which has to be independently established by proving through cogent and reliable evidence the three necessary ingredients of a valid gift i.e. (1) declaration of gift, (2) acceptance of the gift and (3) delivery of the possession of the subject of the gift;
دوسرا حصہ خود انتقال ہے، جسے Land Revenue Act اور Qanun-e-Shahadat Order 1984 کے تحت الگ سے ثابت کرنا لازم ہے۔ اس کیس میں Patwari Halqa (PW-2) نے 18.07.2016 کو بیان دیا کہ مسماۃ پٹھانی اور موجودہ پٹیشنر سال 2004 تک بھی قبضہ میں نہیں تھے اور ریکارڈ میں قبضہ تبدیلی کا کوئی اندراج بھی نہیں۔ لہٰذا تیسرا جز *Delivery of Possession* بھی موجود نہیں تھا۔
حوالہ جات: Mrs. Khalida Azhar v. Viqar Rustam Bakhshi 2018 SCMR 30 and Peer Baksh through LRs v. Mst. Khanzadi 2016 SCMR 1417 ref.
(c) پردہ نشین عورت سے لین دین کی اضافی شرائط [Pp. 58, 59] C & F
عدالت نے قرار دیا کہ مدعیہ ایک بوڑھی، شادی شدہ، 4 بیٹوں والی پردہ نشین خاتون تھی، لیکن انتقال میں اس کی شناخت کے لیے محرم رشتہ داروں میں سے کسی کو شامل نہیں کیا گیا، دونوں گواہان اس کے رشتہ دار بھی نہیں تھے۔ ریکارڈ اس بارے میں خاموش تھا کہ کیا اس ان پڑھ خاتون کو کسی قریبی عزیز یا وکیل سے *آزادانہ مشورہ (Independent Advice)* دیا گیا؟ کیا اسے سمجھایا گیا کہ جس دستاویز پر وہ انگوٹھا لگا رہی ہے، اس سے وہ اور اس کے بیٹے ہمیشہ کے لیے جائیداد سے محروم ہو جائیں گے؟
> The beneficiary of any transaction involving parda nasheen and illiterate women has to prove that it was executed with free consent and will of the lady; that she was aware of the meaning, scope and implications of the document she was executing.
حوالہ: Ghulam Muhammad v. Zohran Bibi 2021 SCMR 19 ref.
(d) مردوں کے معاشرے میں پردہ نشین عورتوں کے لیے 5 لازمی شرائط [P. 58] D
یہ اس فیصلے کا سب سے اہم حصہ ہے:
> In a male dominated society where the female legal heirs are consistently deprived even of their 'Sharai' shares in inheritance matters, like sisters, the principle of caution in protecting the legitimate rights of the illiterate parda observing lady must be applied vigorously and rigidly.
عدالت نے قرار دیا کہ بوڑھی، ان پڑھ، دیہاتی پردہ نشین خاتون سے قیمتی جائیداد کے لین دین کو تب ہی درست مانا جائے گا جب یہ 5 شرائط شفاف طریقے سے اور اعلیٰ درجے کے ثبوت سے پوری ہوں:
(i) خاتون کو لین دین کی نوعیت اور اس کے ممکنہ نتائج کا مکمل علم ہو؛
(ii) اسے کسی قابلِ اعتماد ذریعہ/شخص سے آزادانہ مشورہ حاصل ہو تاکہ وہ لین دین کو پوری طرح سمجھ سکے؛
(iii) لین دین کے گواہان اس کے قریبی رشتہ دار ہوں یا اسے اچھی طرح جانتے ہوں اور ان کا اس سے کوئی مفادات کا ٹکراؤ نہ ہو؛
(iv) اگر بیع ہے تو زرِ ثمن اسی طرح خاتون کو ادا اور وصول ہوا ہو؛
(v) لین دین کی نوعیت اسے اس کی اپنی زبان میں سمجھائی گئی ہو اور دستاویز/رسید کے مندرجات سے اسے آگاہ کیا گیا ہو۔
حوالہ: Phul Peer Shah v. Hafeez Fatima 2016 SCMR 1225 ref.
(e) اضافی شہادت (O. XLI, R. 27 CPC) کی درخواست مسترد [P. 59] E & F
پٹیشنر نے اس مرحلے پر تحصیلدار (جس نے انتقال کی تصدیق کی تھی) کو بطور اضافی شہادت پیش کرنے کی اجازت مانگی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ تاخیر سے کی گئی استدعا قابلِ قبول نہیں، اور اگر اسے اجازت دے بھی دی جائے تو جب اصل ہبہ ہی ثابت نہیں، اور خاتون کی شناخت کسی قریبی رشتہ دار نے نہیں کی اور نہ اسے آزاد مشورہ دیا گیا، تو تحصیلدار کا بیان بھی کیس کا فیصلہ نہیں بدل سکتا۔
⚖️ عدالت کا حتمی حکم:
> High Court maintained the concurrent findings passed by both the Courts below---Revision, filed by defendant, was dismissed, in circumstances.
دونوں نچلی عدالتوں کے متفقہ فیصلوں میں کوئی غیر قانونی یا بے ضابطگی نہ پائے جانے پر ہائی کورٹ نے نگرانی *خارج (Dismissed)* کر دی اور گفٹ انتقال نمبر 1723 کی منسوخی کا فیصلہ برقرار رکھا۔
📢 نوٹ: مزید اہم قانونی فیصلوں، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی تازہ ترین اپڈیٹس اور قانونی معلومات کے لیے ہمارے پیج کو فالو کریں۔