02/08/2026
📌 **حقِ شفعہ (Pre-emption) اور محض تبادلہ — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ**
🔹 کیا محض زمین کے تبادلے پر بھی حقِ شفعہ کا دعویٰ بن سکتا ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 27 جولائی 2026 کو اس سوال پر فیصلہ کن رائے دے دی۔
🔹 کیس کی تفصیل:
▪️ فریقین: سلطان احمد وغیرہ (اپیل کنندگان) بمقابلہ محمد اعظم (متوفی بذریعہ ورثاء)
▪️ کیس نمبر: Civil Appeals No. 28-L, 29-L اور 30-L of 2011
▪️ بینچ: جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن
🔹 عدالتی سفر:
▪️ ٹرائل کورٹ نے مدعی کا دعویٰ خارج کیا
▪️ اپیلٹ کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ بدل کر مدعی کے حق میں ڈگری جاری کر دی
▪️ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا
🔹 سپریم کورٹ کے فیصلہ کن نکات:
▪️ حقِ شفعہ ایک کمزور حق (Weak Right) ہے اور صرف بیع (فروخت) پر لاگو ہوتا ہے، تبادلہ (Exchange) پر نہیں۔ اگر انتقال میں تبادلہ درج ہو تو عدالتیں اسے از خود بیع تصور نہیں کر سکتیں — یہ ثابت کرنا مدعی (شفیع) کی ذمہ داری ہے۔
▪️ مدعی طلبِ اشہاد کے نوٹس کی قانونی تعمیل ثابت نہ کر سکا، اور تعمیل سے انکار پر ڈاکیا (Postman) کو بطور گواہ پیش نہ کرنا دعوے کے لیے تباہ کن قرار پایا۔
▪️ مدعی یہ بھی ثابت نہ کر سکا کہ جائیداد کی قیمتِ فروخت کا علم اسے کہاں سے ہوا، جو قانونِ شفعہ کے تحت لازمی ہے۔
🔹 نتیجہ: سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا اور مدعی کا حقِ شفعہ کا دعویٰ مکمل طور پر خارج کر دیا۔
📌 حقِ شفعہ کا دعویٰ دائر کرنے سے پہلے اپنے کیس کے حقائق پر ماہر وکیل سے مشورہ ضرور کریں۔
❓ آپ کے خیال میں کیا حقِ شفعہ جیسے قدیم قانون کو موجودہ دور میں مزید محدود ہونا چاہیے؟