Latest Law Of Pakistan

Latest Law Of Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Latest Law Of Pakistan, Legal, 171-D NDVHS, Dera Ghazi Khan.

⚖️ Latest Law of Pakistan
Your go-to source for Pakistani court rulings, legal updates & government policies — simplified.
📌 Family Law | Service Law | Constitutional Law
🔗 Follow for daily legal awareness

📌 **حقِ شفعہ (Pre-emption) اور محض تبادلہ — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ**🔹 کیا محض زمین کے تبادلے پر بھی حقِ شفعہ کا دعویٰ ب...
02/08/2026

📌 **حقِ شفعہ (Pre-emption) اور محض تبادلہ — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ**

🔹 کیا محض زمین کے تبادلے پر بھی حقِ شفعہ کا دعویٰ بن سکتا ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 27 جولائی 2026 کو اس سوال پر فیصلہ کن رائے دے دی۔

🔹 کیس کی تفصیل:
▪️ فریقین: سلطان احمد وغیرہ (اپیل کنندگان) بمقابلہ محمد اعظم (متوفی بذریعہ ورثاء)
▪️ کیس نمبر: Civil Appeals No. 28-L, 29-L اور 30-L of 2011
▪️ بینچ: جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن

🔹 عدالتی سفر:
▪️ ٹرائل کورٹ نے مدعی کا دعویٰ خارج کیا
▪️ اپیلٹ کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ بدل کر مدعی کے حق میں ڈگری جاری کر دی
▪️ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا

🔹 سپریم کورٹ کے فیصلہ کن نکات:
▪️ حقِ شفعہ ایک کمزور حق (Weak Right) ہے اور صرف بیع (فروخت) پر لاگو ہوتا ہے، تبادلہ (Exchange) پر نہیں۔ اگر انتقال میں تبادلہ درج ہو تو عدالتیں اسے از خود بیع تصور نہیں کر سکتیں — یہ ثابت کرنا مدعی (شفیع) کی ذمہ داری ہے۔
▪️ مدعی طلبِ اشہاد کے نوٹس کی قانونی تعمیل ثابت نہ کر سکا، اور تعمیل سے انکار پر ڈاکیا (Postman) کو بطور گواہ پیش نہ کرنا دعوے کے لیے تباہ کن قرار پایا۔
▪️ مدعی یہ بھی ثابت نہ کر سکا کہ جائیداد کی قیمتِ فروخت کا علم اسے کہاں سے ہوا، جو قانونِ شفعہ کے تحت لازمی ہے۔

🔹 نتیجہ: سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا اور مدعی کا حقِ شفعہ کا دعویٰ مکمل طور پر خارج کر دیا۔

📌 حقِ شفعہ کا دعویٰ دائر کرنے سے پہلے اپنے کیس کے حقائق پر ماہر وکیل سے مشورہ ضرور کریں۔

❓ آپ کے خیال میں کیا حقِ شفعہ جیسے قدیم قانون کو موجودہ دور میں مزید محدود ہونا چاہیے؟

📌 **اسلام آباد فیملی کورٹ کا اہم فیصلہ — غیر حضانتی باپ کے حقِ ملاقات پر**🔹 اسلام آباد فیملی کورٹ نے طلاق کے بعد ایک غیر...
02/08/2026

📌 **اسلام آباد فیملی کورٹ کا اہم فیصلہ — غیر حضانتی باپ کے حقِ ملاقات پر**

🔹 اسلام آباد فیملی کورٹ نے طلاق کے بعد ایک غیر حضانتی (Non-Custodial) باپ کے حق میں اہم فیصلہ سنا دیا۔

🔹 عدالت نے 3 سالہ بچے کے لیے گھر پر ملاقات کا مکمل شیڈول مقرر کیا:
▪️ ہر ماہ گھر پر دو ملاقاتیں
▪️ عیدین پر 24 گھنٹے نائٹ اوور اسٹے (بچہ رات باپ کے ساتھ گزار سکے گا)
▪️ باپ اور بچے دونوں کی سالگرہ پر گھر میں خصوصی ملاقات

🔹 یہ فیصلہ اس عام تاثر کو رد کرتا ہے کہ طلاق کے بعد غیر حضانتی باپ کو بچے سے صرف عدالتی احاطے یا مختصر وقت کے لیے ملاقات ملتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بچے کی فلاح و بہبود کے لیے دونوں والدین سے مؤثر تعلق ضروری ہے۔

📌 ہر کیس کے حقائق مختلف ہوتے ہیں، ملاقات یا حضانت کے معاملے میں اپنے وکیل سے ضرور رجوع کریں۔

❓ آپ کی رائے میں کیا حضانت کے فیصلوں میں باپ کو مناسب حقِ ملاقات ملتا ہے؟

📢 **تقسیمِ اراضی کیسز میں تاخیر اب مہنگی پڑے گی — پارٹیشن افسران کے خلاف کارروائی شروع**🔹 بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب س...
02/08/2026

📢 **تقسیمِ اراضی کیسز میں تاخیر اب مہنگی پڑے گی — پارٹیشن افسران کے خلاف کارروائی شروع**

🔹 بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے ایک اہم اقدام سامنے آیا ہے جس کے تحت پارٹیشن (تقسیمِ اراضی) کے کیسز میں غیر ضروری تاخیر کرنے والے ریونیو افسران کے خلاف سختی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

▪️ رپورٹس کے مطابق جو تحصیلدار اور نائب تحصیلدار پارٹیشن کیس کو 60 دن کے مقررہ وقت میں فیصل نہیں کریں گے، ان کے خلاف پنجاب ایمپلائیز ایفیشنسی ڈسپلن اینڈ اپیل ایکٹ (PEEDA) 2006 کے تحت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

▪️ اس اقدام کا مقصد اراضی کے تنازعات، خصوصاً وراثتی و شراکتی زمینوں کی تقسیم کے کیسز کو تیزی سے نمٹانا اور عوام کو غیر ضروری چکروں سے بچانا بتایا جا رہا ہے۔

▪️ ماضی میں پارٹیشن کیسز برسوں تک زیرِ التوا رہنے کی شکایات عام رہی ہیں، جس سے فریقین کو مالی و ذہنی پریشانی کا سامنا رہا۔

⚠️ نوٹ: یہ نوٹیفکیشن/اقدام ابھی میری جانب سے کسی سرکاری ذریعے سے مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں ہو سکا۔ حتمی تفصیلات کے لیے بورڈ آف ریونیو پنجاب کی آفیشل ویب سائٹ یا نوٹیفکیشن ملاحظہ کریں۔

📌 اگر آپ کا پارٹیشن کیس بھی زیرِ التوا ہے تو تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے اپنے متعلقہ ریونیو آفس یا وکیل سے رجوع کریں۔

کیا آپ کا کوئی پارٹیشن کیس بھی تاخیر کا شکار ہے؟ 🤔

#تحصیلدار

📢 پنجاب حکومت کا بڑا انتظامی فیصلہ: 101 تحصیلوں میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر تعیناتحکومتِ پنجاب نے صوبے کے انتظامی ڈھانچے کو...
01/08/2026

📢 پنجاب حکومت کا بڑا انتظامی فیصلہ: 101 تحصیلوں میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر تعینات

حکومتِ پنجاب نے صوبے کے انتظامی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے 101 تحصیلوں میں اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

🔹 فیصلے کے اہم نکات
▪️ تحصیل سطح پر انتظامی بوجھ کم کرنے کے لیے ایک اضافی افسر کی تعیناتی
▪️ عوامی مسائل کے فوری حل اور فائلوں کی روانی تیز کرنے کا مقصد بیان کیا جا رہا ہے
▪️ ریونیو، لینڈ ریکارڈ اور انتظامی امور میں دوہری نگرانی ممکن ہوگی

🔹 اس کے ممکنہ اثرات
▪️ شہریوں کے کام تحصیل دفاتر میں زیادہ تیزی سے ہونے کی توقع
▪️ اسسٹنٹ کمشنر کی غیر موجودگی میں بھی امور معطل نہیں ہوں گے
▪️ سرکاری افسران کی نگرانی اور جوابدہی میں بہتری کا امکان

📌 نوٹ: یہ خبر عمومی ذرائع پر گردش کر رہی ہے؛ سرکاری نوٹیفکیشن یا باضابطہ اعلامیے کی تفصیلات کے لیے متعلقہ ضلعی انتظامیہ یا S&GAD کی آفیشل ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔

کیا آپ کے علاقے میں یہ تعیناتی ہو چکی؟ نیچے کمنٹ میں بتائیں 👇

⚖️ اگر بیوی خود بچے چھوڑ جائے تو قانون کیا کہتا ہے؟🔹 پاکستان میں بچوں کی کسٹڈی کا معاملہ Guardian and Wards Act 1890 اور...
31/07/2026

⚖️ اگر بیوی خود بچے چھوڑ جائے تو قانون کیا کہتا ہے؟

🔹 پاکستان میں بچوں کی کسٹڈی کا معاملہ Guardian and Wards Act 1890 اور اسلامی اصولوں (حضانت) کے تحت طے ہوتا ہے۔

🔹 اگر ماں خود بچوں کو چھوڑ کر چلی جائے، تو یہ اس کے حضانت کے حق کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، اور والد فیملی کورٹ میں سیکشن 25 گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ کے تحت مکمل کسٹڈی کی درخواست دے سکتا ہے۔

🔹 والد بہرصورت بچے کا "قانونی سرپرست" (Natural Guardian) تصور ہوتا ہے، جبکہ ماں کو عموماً "حضانت" یعنی جسمانی نگہداشت کا حق حاصل ہوتا ہے — مگر یہ حق مشروط ہے۔

🔹 عدالت ہر معاملے میں صرف اور صرف بچے کی فلاح و بہبود (Welfare of the Minor) کو مقدم رکھتی ہے، نہ کہ ماں یا باپ کی خواہش کو۔

🔹 اگر دونوں والدین دستیاب نہ ہوں یا نااہل قرار پائیں، تو کسٹڈی دادا/دادی یا دیگر قریبی رشتہ داروں کو دی جا سکتی ہے۔

📌 نوٹ: ہر کیس کے حالات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے قانونی رائے کے لیے متعلقہ فیملی کورٹ کے وکیل سے ضرور رجوع کریں۔

❓آپ کے خیال میں کیا موجودہ قوانین بچوں کے مفاد کا مکمل تحفظ کرتے ہیں؟

📢 **کمپنی رجسٹر میں فراڈ — کیا وقت گزرنے سے دھوکہ "قانونی" بن جاتا ہے؟ سپریم کورٹ کا فیصلہ**سپریم کورٹ آف پاکستان کے پان...
31/07/2026

📢 **کمپنی رجسٹر میں فراڈ — کیا وقت گزرنے سے دھوکہ "قانونی" بن جاتا ہے؟ سپریم کورٹ کا فیصلہ**

سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بینچ نے کارپوریٹ لاء کے ایک نہایت اہم سوال کا جواب دے دیا۔

🔹 **سوال کیا تھا؟**
اگر کسی شیئر ہولڈر کا نام دھوکہ دہی سے کمپنی کے "رجسٹر آف ممبرز" سے ہٹا دیا جائے، تو کیا تین سال بعد یہ فراڈ "لیمیٹیشن" کی بنیاد پر ناقابلِ اصلاح ہو جاتا ہے؟

🔹 **عدالت کا جواب**
Abdul Razzaq v. Registrar of Companies, SECP و دیگر (C.A 125/2025) میں عدالت نے واضح کیا: **نہیں**۔ کمپنیز ایکٹ 2017 کی سیکشن 126 کے تحت رجسٹر کی اصلاح کے دعوے پر کوئی لیمیٹیشن پیریڈ لاگو نہیں ہوتا۔

🔹 **بنیادی وجوہات**
▪️ کمپنیز ایکٹ ایک مکمل، خودمختار قانون ہے — جہاں مقننہ نے وقت کی حد مقرر کرنی تھی، وہاں کی، سیکشن 126 میں جان بوجھ کر نہیں کی
▪️ رجسٹر کی اصلاح کی درخواست "پٹیشن" ہوتی ہے، نہ کہ سوٹ یا اپیل — اس لیے Limitation Act کی عمومی شق لاگو نہیں ہوتی
▪️ یہ محض نجی تنازع نہیں بلکہ رجسٹر کی سالمیت کا معاملہ ہے، جس پر کمپنی کی قانونی حیثیت اور کنٹرول کا انحصار ہوتا ہے

🔹 **حقیقی زندگی میں اثر کس پر؟**
پاکستان میں اکثر فیملی کمپنیوں میں یہی ہوتا ہے: خاندان کی کوئی خاتون کا حصہ خاموشی سے ٹرانسفر یا "منظم" کر دیا جاتا ہے، اور اسے برسوں بعد پتا چلتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے متاثرین کے لیے ریلیف کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔

🔹 **کاروباری اداروں کے لیے سبق**
بورڈز اور کمپنی سیکرٹریز کے لیے یہ ایک مستقل ذمہ داری بن گئی ہے — رجسٹر کبھی بھی دوبارہ چیلنج ہو سکتا ہے، اس لیے شیئر ٹرانسفر دستاویزات کی حفاظت اور تصدیق ناگزیر ہے۔

📌 یہ عمومی قانونی معلومات ہیں، مکمل فیصلے اور اس کے قانونی نکات کے لیے متعلقہ قانونی ماہر سے رجوع کریں۔

آپ کے خیال میں کیا اس فیصلے سے کمپنیوں میں شفافیت بڑھے گی، یا پرانے تنازعات دوبارہ کھلنے سے کاروباری غیریقینی بھی بڑھے گی؟ 🤔

⚖️ **شوہر بحالیِ حقوقِ زوجیت کا دعویٰ کہاں دائر کرے؟**🔹 **کون سی عدالت میں؟**بحالیِ حقوقِ زوجیت (Restitution of Conjugal...
31/07/2026

⚖️ **شوہر بحالیِ حقوقِ زوجیت کا دعویٰ کہاں دائر کرے؟**

🔹 **کون سی عدالت میں؟**
بحالیِ حقوقِ زوجیت (Restitution of Conjugal Rights) کا دعویٰ **فیملی کورٹ** میں دائر ہوتا ہے۔ ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے تحت اس معاملے پر فیملی کورٹس کو exclusive جیورسڈکشن حاصل ہے۔

🔹 **کون سی فیملی کورٹ — جیورسڈکشن کا اصول؟**
دعویٰ اُس فیملی کورٹ میں دائر ہوگا جس کی حدود میں cause of action مکمل یا جزوی طور پر پیدا ہوا ہو، یعنی عموماً:
▪️ جہاں بیوی اس وقت رہائش پذیر ہو
▪️ یا جہاں میاں بیوی آخری بار اکٹھے رہ رہے تھے

🔹 **مقصد کیا ہوتا ہے؟**
جب بیوی بلا کسی جائز وجہ کے گھر چھوڑ دے تو شوہر عدالت سے یہ ڈگری طلب کرتا ہے کہ بیوی دوبارہ ازدواجی زندگی بحال کرے۔

🔹 **ضروری نکتہ**
2002ء کی ترمیم کے بعد، اگر بیوی نے پہلے سے کوئی دعویٰ دائر کر رکھا ہو (مثلاً خلع یا نان و نفقہ)، تو شوہر بحالیِ حقوقِ زوجیت کا مطالبہ اپنے تحریری جواب (written statement) میں بھی کر سکتا ہے — الگ سے نیا دعویٰ دائر کرنا ضروری نہیں۔

🔹 **عملی حقیقت**
عدالت بیوی کو زبردستی گھر واپس جانے پر مجبور نہیں کر سکتی؛ ڈگری پر عمل نہ ہونے کی صورت میں نان و نفقہ اور جائیداد سے متعلقہ نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

📌 یہ عمومی قانونی معلومات ہیں۔ ہر کیس کے حقائق مختلف ہوتے ہیں، اس لیے اپنے کیس کی نوعیت کے مطابق کسی فیملی لاء ماہر سے مشورہ ضرور کریں۔

آپ کی رائے میں کیا عدالت کو بیوی کو واپس جانے پر مجبور کرنے کا اختیار ہونا چاہیے، یا صرف مالی نتائج ہی کافی ہیں؟ 🤔

⚖️ اگر پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کرے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟🔹 پہلے یہ جانیں: پولیس صرف "قابلِ دست اندازی" (cognizable) جر...
30/07/2026

⚖️ اگر پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کرے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

🔹 پہلے یہ جانیں: پولیس صرف "قابلِ دست اندازی" (cognizable) جرائم میں دفعہ 54 ضابطہ فوجداری کے تحت بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتی ہے
🔹 غیر قابلِ دست اندازی جرائم میں بغیر وارنٹ گرفتاری غیر قانونی ہے — میجسٹریٹ کا وارنٹ لازمی ہوگا
🔹 حق نمبر 1: گرفتاری کی وجہ اور الزام فوری طور پر بتانا پولیس پر لازم ہے (دفعہ 54)
🔹 حق نمبر 2: 24 گھنٹے کے اندر (سفر کا وقت شامل کیے بغیر) نزدیکی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا آئینی تقاضا ہے (آرٹیکل 10)
🔹 حق نمبر 3: آپ کو اپنی پسند کے وکیل سے رابطے کا حق حاصل ہے
🔹 حق نمبر 4: بلاجواز طاقت یا ہتھکڑی کا استعمال غیر قانونی ہے، جب تک مزاحمت یا فرار کا خطرہ نہ ہو (دفعہ 46)
🔹 حق نمبر 5: طبی معائنہ کروانے کا حق حاصل ہے، خصوصاً تشدد کی صورت میں ثبوت کے لیے
🔹 خواتین کے لیے: گرفتاری خاتون پولیس افسر کرے گی، تلاشی بھی خاتون ہی لے گی، اور غروبِ آفتاب کے بعد گرفتاری سے اجتناب برتا جائے گا
🔹 اگر 24 گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کیا جائے تو یہ غیر قانونی حراست تصور ہوگی اور اس کے خلاف چیلنج کیا جا سکتا ہے

📌 نوٹ: یہ عمومی معلومات ہیں، اپنے مخصوص کیس کی نوعیت کے مطابق فوری طور پر وکیل سے رابطہ کریں۔

❓ کیا آپ کو یا آپ کے کسی جاننے والے کو کبھی ایسی صورتحال کا سامنا ہوا؟

⚖️ 5 اگست، مینارِ پاکستان جلسہ: پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی🔹 ڈی سی لاہور کی خاموشی کے بعد پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ کا در...
30/07/2026

⚖️ 5 اگست، مینارِ پاکستان جلسہ: پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی

🔹 ڈی سی لاہور کی خاموشی کے بعد پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا

🔹 درخواست پی ٹی آئی لاہور کے صدر میاں اکرم عثمان کی جانب سے دائر کی گئی

🔹 ڈپٹی کمشنر لاہور اور حکومتِ پنجاب کو فریق بنایا گیا

📢 پارٹی موقف:
🔸 مینارِ پاکستان پر پرامن جلسے کے لیے این او سی کی درخواست دی گئی تھی
🔸 ڈی سی لاہور کا اس پر فیصلہ نہ کرنا بنیادی آئینی حقوق سے انحراف ہے
🔸 آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 16 ہر شہری کو پرامن اجتماع کا حق دیتا ہے
🔸 آئین سیاسی سرگرمیوں، جلسے جلوس اور عوامی رابطہ مہم کی مکمل ضمانت دیتا ہے

⚖️ عدالت سے استدعا:
1️⃣ ڈی سی لاہور کو فوری این او سی جاری کرنے کا حکم دیا جائے
2️⃣ جلسے کے دن مکمل سیکیورٹی اور انتظامی سہولیات یقینی بنائی جائیں

📌 نوٹ: یہ رپورٹ ابتدائی میڈیا اطلاعات پر مبنی ہے، حتمی عدالتی فیصلے کے لیے آفیشل نوٹیفکیشن کا انتظار کریں۔

🗳️ کیا عدالتی مداخلت کے بغیر پرامن اجتماع کا حق یقینی نہیں بنایا جا سکتا؟ رائے دیں۔

⚖️ خلع کیس میں جھوٹے الزامات، اب عزت کا دعویٰ بھی ممکن🔹 اگر خلع کی کارروائی کے دوران فریق پر بلاجواز، جھوٹے اور بے بنیاد...
30/07/2026

⚖️ خلع کیس میں جھوٹے الزامات، اب عزت کا دعویٰ بھی ممکن

🔹 اگر خلع کی کارروائی کے دوران فریق پر بلاجواز، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے جائیں تو متاثرہ فریق ازالۂ حیثیت عرفی (Defamation) کا دعویٰ دائر کر سکتا ہے

🔹 عدالتی کارروائی میں دیے گئے بیانات کو "مطلق استثنیٰ" حاصل نہیں، اگر وہ بدنیتی پر مبنی اور غیر متعلقہ ہوں

🔹 عزت اور ساکھ کا تحفظ ہر شہری کا بنیادی حق ہے، چاہے معاملہ خاندانی عدالت میں ہی کیوں نہ زیرِ سماعت ہو

📚 حوالہ: PLD 2006 Lah 401

📌 نوٹ: اس کیس کا مکمل متن پڑھنے یا حتمی قانونی رائے کے لیے متعلقہ وکیل یا سرکاری لاء رپورٹ سے رجوع کریں۔

🗳️ کیا خاندانی تنازعات میں جھوٹے الزامات کے خلاف قانونی چارہ جوئی مؤثر روک تھام ثابت ہو سکتی ہے؟ اپنی رائے دیں۔

Address

171-D NDVHS
Dera Ghazi Khan
32200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Latest Law Of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share