01/05/2026
*میری تنخواہ ایک مزدور کے برابر مقرر کی جائے اگر میرا گزارا نہ ہوا تو مزدور کی اجرت بڑھا دُونگا۔*
`خلیفہ اوّل حضرت ابوبکرصدیق رضہ`
*یوم مزدور پر اس سے بڑا پیغام کوئی نہیں۔*❤️❤️
*یکم مئی کی عالمی بنیاد شکاگو میں 1886 کی مزدور تحریک پر قائم ہے جہاں ہزاروں مزدوروں نے “آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے آرام، آٹھ گھنٹے اپنی زندگی کے لیے” کا مطالبہ کیا۔ اس وقت سرمایہ دار مزدوروں سے سولہ سولہ گھنٹے کام لیتے تھے۔ احتجاج شدت اختیار کر گیا تو پولیس نے فائرنگ کی، مزدور رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور کئی کو پھانسی دی گئی، مگر ان کا خون رائیگاں نہ گیا۔ یہی قربانی بعد میں عالمی یومِ مزدور کی بنیاد بنی اور پوری دنیا کے محنت کشوں کے لیے امید کی علامت بن گئی۔*
*یکم مئی صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ دنیا بھر کے محنت کشوں کے خون، پسینے، قربانیوں اور شعوری بغاوت کی ایک عظیم علامت ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ کے ہر بڑے انقلاب کے پیچھے مزدور کا ہاتھ، کسان کا پسینہ اور محکوم طبقات کی اجتماعی مزاحمت موجود رہی ہے۔ جموں کشمیر کے شال باف مزدوروں کی 29 اپریل 1865 کی بغاوت سے لے کر Haymarket affair شکاگو 1886 تک، مزدور تحریک نے دنیا کو بدلنے کی مسلسل جدوجہد کی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام ہمیشہ سے محنت کش انسان کو صرف ایک پیداواری مشین سمجھتا آیا ہے، جبکہ کارل مارکس نے پہلی بار مزدور کو تاریخ کا حقیقی معمار قرار دیا۔*
*”دنیا کے محنت کشو! ایک ہو جاؤ، تمہارے پاس کھونے کو صرف زنجیریں ہیں“*
*صرف ایک سیاسی اعلان نہیں بلکہ پوری انسانی تاریخ کے طبقاتی شعور کا خلاصہ ہے۔*
*علامہ محمد اقبال مزدوروں کے دکھ کو اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا کہ*
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات!